عالمي تناظر ميں قرآن کريم کي تعليمات

326

سوال يہ پيداہوتاہے کہ اس خطرناک اور پريشان کن عالمي تناظر اور ابر لود ماحول ميںقرن کريم کي تعليمات ہم سے کس بات کاتقاضہ کررہي ہیں ؟ قرآن کريم باتقويٰ لوگوں کیلئے سراسرہدایت ہے ۔
(ذٰلک الکتاب لاریب فيہ ھدي للمتقين ) سورہ بقرہ ٢۔
ہم اس کتاب پراحاطہ کامل کادعويٰ تو نہيں کر سکتے، ليکن جہاںتک مطالعہ اجازت ديتاہے سورہ بقرہ کي ان يات سے رہنمائي حاصل کرسکتے ہیں۔ قرن کريم سورہ بقرہ کي ابتدائي يات ميں جو منافقين کے بارے ميںنازل ہوئي ہیں، فرماتاہے کہ ان کي مثال اس شخص کي مانند ہے جواندھيرے ميں گ جلاتاہے۔ جب اس کے اطراف ميں روشني ہو جاتي ہے اوران کودکھائي دينے لگتاہے تو اللہ تعاليٰ اس روشني کوبجھاديتاہے اورانہيں اندھيروں ميں بھٹکتا ہوا چھوڑديتاہے (مثلھم کمثل الذي استوقد ناراً فلمااضاءت ماحولہ ذھب اللہ بنور ھم وترکھم في ظلمات لايبصرون ) سورہ بقرہ ١٧۔اس سے ملتي جلتي بات يہوديوںکے بارے ميں کہي گئي ہے ۔خداوندسورہ مائدہ ميں فرما تا ہے : ( کلمااوقدواناراًللحرب اطفآ ھااللہ) (سورہ مائدہ ٤ ٦) جب بھي يہ لوگ جنگ کیلئے گ جلاتے ہیں اللہ سبحانہ تعاليٰ اسے بجھاديتاہے ۔اسي سورہ بقرہ کي ذيل کي يات ميںمنافقوںکي سازشوںاورريشہ دوانيوں کوبيان کرتے ہوئے ان کي صورت حال واضح کرنے کيلئے ايک اورتشبيہ ذکرکي گئي ہے۔ جس ميں اللہ تعاليٰ کاانکارکرنے والي تمام طاقتوں کے بارے ميںقادرمطلق نے اپني قدرت کاملہ کے محيط ہونے کاذکرکرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:(اوکصیب من السمائ فيہ ظلمات ورعد وبرق يجعلون اصابعھم في ذانھم من الصواعق حذرالموت واللہ محيط بالکافرين ) سورہ بقرہ ١٩۔
يہ منافق اس شخص کي مانند ہیںجس کے اوپربادل چھاياہواورنيچے اندھيرا ہي اندھيراہو اورساتھ ساتھ بجلياںچمک رہي ہوں اوربادل کے کڑکنے اوراسکي گڑگڑاہٹ کي مہيب وازيںسنائي دے رہي ہوں۔صورکي مانند يہ خوف ناک اورمہيب وازاتني شديد اورتيزہے کہ انہوں نے مرنے کے ڈرسے اپنے کانوںميں انگلياںدي ہوئي ہیں۔يعني ان کي عقليںا?کے قہر اور قدرت کي نشانيوںکے گے جواب دے چکي ہیں ۔ اگران لوگوں ميں عقل ہوتي تووہ کہيںجاکرپناہ حاصل کرنے کي سوچتے، ليکن وہ اسي بادل کے نيچے خوف سے تھرتھرکانپ رہے ہیںاوربادلوںکے پس ميں ٹکرانے اوران سے پيداہونے والي مہيب صداوں سے ان کے وجودميںرعشہ طاري ہوگياہے۔ بعدميںارشادہوتاہے کہ انہي سے مخصوص نہيں اللہ تعاليٰ کي قدرت کاملہ کفروطاغوت کي ہرسرکش طاقت پراحاطہ کامل رکھتي ہے ۔وہ پروردگار جس نے اپني قدرت سے سمندرکوبني اسرائيل کيلئے خشک کردیا اور فرعون کي ہزارسالہ سلطنت کوچشم زدن ميںنيست ونابودکرديا،وہ خداجس نے امريکااورعالمي طاقتوں کے غرورکوخاک ميں ملادیااورطبس ميں اپني نشاني کو ظاہرکيااورامريکي طيارے طوفان کي نذر ہوگئے ۔يہ اس صدي اوراس دورکي نشاني ہے اس قدر ت کاملہ کوجوطبس ميںظاہرہوئي نہيںجھٹلايا جاسکتا ۔ اس لئے کہ گذشتہ نشانيوںکويہ کہہ کرمستردکردياجاتاہے کہ يہ پرانے زمانے ميںظاہرہوئي تھيںاورج سائنس اورٹيکنالوجي بہت ترقي کرچکي ہے ليکن پروردگارعالم نے اس نشاني کوظاہرکرکے يہ بتلاديا کہ جن فضاوں ميں تم اپنے جنگي طیارے اڑانا چاہتے ہووہ ہماري فضائيںہیںتمہاري ٹيکنالوجي ج بھي ہمارے قوانين کي محتاج ہے اورہم تم پرج بھي مکمل احاطہ یاٹوٹل کنٹرول رکھتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالي ٰ کي بنائي ہوئي يہ دنيابہت وسيع ہے اورکوئي طاقت کتني ہي بڑي کيوںنہ ہواورکتني ہي قدرت وسلطنت کيوںنہ حاصل کر لے، وہ پروردگارعالم کي قدرت وسلطنت کے گے ايک معمولي سي چيونٹي کے برابربھي نہيںہے جسے انسان اپني انگليوں سے مسل ديتاہے ۔کہاں گيا Grest Rome اور کياہوئي سلطنت عظيم برطانيہ جس کاسورج بھي غروب نہيں ہوتاتھا۔قرن کريم نے سورہ روم کے شروع ميںمسلمانوںکوپيشگوئي کي تھي کہ روم کي سپر پاوراپني تمام ترعظمت وطنطنے کے باوجود دس سال کي اندراندرشکست کھاجائے گي اورشکست کھانے کے بعدايک بارپھروہ وقت ئے گاجب وہ فتح وظفرکامنہ ديکھے گي۔اس کامطلب يہ ہے کہ عالمي طاقتيں اقتدار ميںتي جاتي رہیں گي ۔يہ کمزوراقتدارتونے جانے والي چيزہے ليکن وہ حقيقت جوہميشہ باقي رہنے والي ہے اوراسکے لئے فنانہيںہے وہ قادرمطلق کي ذات ہے جو ہميشہ تھااورہميشہ ہميشہ رہے گااوراپنے مکمل احاطہ اوراقتدار کامل کے ساتھ رہےگي اورکوئي ٹيکنالوجي چاہے کتني ہي عالي اورلطيف کيوں نہ ہوجائے اس لامتناہي ذات پربرتري نہيںحاصل کرسکتي، جوپوري کائنات پرمحيط ہے ( الم غلبت روم في ادنيٰ الارض وھم من بعد غلبھم سيغلبون في بضع سنين للہ الامرمن قبل ومن بعد ويومئذيفرح المومنون )سورہ روم ٤.ان يات کے خرميںجوکچھ کہاگیاہے کہ حکم صرف اللہ کیلئے ہے اور يہ اقتداروسلطنت اس شکست وظفرسے پہلے اوراس کے بعد بھي اللہ کيلئے ہے اوراس کے بعداس دن بھي،جس دن مومن خوشحال ہوجائيں گے ۔يہ دن اشارہ ہے اس دن کي طرف جب دنياميںحق تعاليٰ کي اورنيک لوگوں کي حکومت قائم ہوجائے گي۔
آج دنياتيزي سے اپناسفرطے کررہي ہے اورظلم واقتدارکے نشے ميںچورقوميںانسانيت کوتباہ بربادکرنے پرتلي ہوئي ہیں اور آج بھي انسان خون خرابہ کررہاہے اورجب دنياظلم وستم سے بھرچکي ہو گي اورلوگوںکي اميديںصرف رب العزت پر ہوں گي اورانسان کوان مشکلات ميںصحيح معني ميں خدا يادئے گااورجب ساري کشتياںغرق ہوچکي ہوں گي اس وقت جبکہ کرہ ارض پررہنے والاانسان، سنجيدگي کے ساتھ تبديلي کے لئے تيارہوگااور ظالموںسے نبردزماہوگا،اس وقت حق کے نمائندے امام مہدي خرالزماں ?کاظہورہوگااوروہ اس وعدہ کوپورا کريںگے جس کي بشارت ا?تعاليٰ نے زبور،انجيل ،اورقرن کريم ميںدي کہ زمين ميںان لوگوں کي حکومت قائم ہوجائے گي جنہيںاس سے قبل کمزورکردیاگیاتھااورظلم وستم کانشانہ بنا کر الگ تھلگ کردیاگیاتھا۔ايسے ميںہمارافريضہ بنتا ہے کہ خودکوحق کي اس بننے والي عالمي حکومت کے لئے تیار کریںاورساتھ ہي اس حکومت کي تشکيل کیلئے اس بنيادي شرط کو(کہ لوگ اس عالمي حکومت کيلئے تیارہوںاورتبدیلي چاہتے ہوں )فراہم کريں۔(و لقدکتبنافي الزبور من بعد الذکر ان الارض للہ يرثھاعبادي الصالحون ) (سورہ انبیائ ١٠٥) ش
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.