بحث امامت
1 .حضرت امام علي عليہ السلام
2 . حضرت امام حسن عليہ السلام
3 . حضرت امام حسين عليہ السلام
4 . حضرت امام علي بن حسين عليہ السلام
5 . حضرت امام محمد باقر عليہ السلام
6 . حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام
7 . حضرت امام موسي کاظم عليہ السلام
8 . حضرت امام علي رضا عليہ السلام
9 . حضرت امام محمد تقي عليہ السلام
11 . حضرت امام علي نقي عليہ السلام
12 . حضرت امام حسن عسکري عليہ السلام
13 . حضرت امام مہدي صاحب عصر والزمان عليہ السلام
يہ حضرات عليہم السلام اپنے اپنے وقت ميں زمين پر حجت خدا ہيں،سب کے سب نور نبوت کے پرتو ہيں.ان کا علم،حلم،عدل،اخلاق،عصمت تمام کي تمام صفات حميدہ نور نبوت سے ماخوذ ہيں.
غديرِ خم
رسول اکرم اپني زندگي کے اخري سال جب حجہ الوداع سے لوٹ رہے تھے تو ميدان (غدير خم) ميں آپ پر وحي نازل ہوئي کہ”اے رسول وہ چيز جو خدا نےآپ کودي ہے اس کو لوگوں تک پہچا ديں اور اگر آپ نے يسا نہيں کيا تو گويا کار رسالت انجام ہي نہيں ديا”يت 67 سورہ مائدہ
رسول نے قافلوں کو روکنے کا حکم ديا جو اگے بڑھ گيۓ تھے ان کو واپس بليا اور جو پيچھے تھے ان کا انتطار فرميا،لوگ حيران اور پريشان تھے،نماز ظہر پڑھنے کے بعد رسول کجاوں کے بنے منبر پر گئے اور خطبہ پڑھا:لوگوں ميں انقريب دعوت حق کو لبيک کہنے والا ہوں،ميں تمہارے درميان دو گراں قيمت چيزيں چھوڑے جا رہا ہوں يک کتاب خدا(قرآن) اور دوسرے ميرے اہل بيت،خدا نے مجھے خبر دي ہے کہ يہ دونوں يک دوسرے سے کبھي جدا نہيں ہونگے.
اس کے بعد آپ نے حضرت علي عليہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور ان کو بلند کيا يہاں تک کے آپ ان کے پيچھے چھپ گئے،اس کے بعد آپ کے تين بار فرميا:”جس جس کا ميں مولا ہوں اس اس کے علي بھي مولا ہيں”.
اس کے بعد آپ نے دعا کي اور پھر لوگوں کو خبر دي کے ابھي مجھ پر وحي نازل ہوئي کہ “دين کامل ہو گيا اور نعمتوں کو تم پر تمام کيا اور اسلام کو تم سے قبول کر ليا” يت 3 سورہ مائدہ.
اس واقعہ کو علامہ اميني نے اپني کتاب الغدير ميں شيعہ اور سني سندوں کے ساتھ تفصيل سے ذکر کيا ہے.
شيعہ يک اسمانى نام
يہ يک وابل توجہ بات ہے کہ لفظِ”شيعہ” قرآن ميں استعمال ہوا ہے اور اس کو جناب ابراہيم عليہ السلام کے ليۓ استعمال کيا گي.سورہ صافات يت 83.
اور پيغبر اسلام نے يہ نام حضرت علي عليہ السلام کے دوستوں اور پيروي کرنے والوں کے ليۓ استعمال کي.
جي ہاں،لفظ شيعہ کا استعمال خود زبان پياببر سے ہوا اور اس سلسلہ ميں جابر ابن عبداللہ انصاري سے رويت ہےکہ:يک دن رسول کي خدمت ميں تھا کہ علي آتے ہوۓ ديکھائي ديۓ،پيغبر نے کہا”ميرا بھائي آگيا” اس کے بعد کعبہ کي طرف رخ کر کے فرميا:”اس ذات کي قسم جس کے قبضہ قدرت ميں محمد صل اللہ عليہ و الہ و سلم کي جان ہے،علي اور ان کے شيعہ قيامت کے دن کامياب ہيں”.
يہ لقب رسول کے زمانہ ميں سلمان،ابوذر،مقداد اور عمار کے ليے استعمال ہوتا تھ.
رسول کی بیٹی:
نام:فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم
والدہ: جناب خدیجہ الکبری علیہماالسلام
ولادت:۲۰ جمادی الثآنی بعثت کے 5ویں سال۔
مقام ولادت:مکہ مکرمہ
شہادت:۳ جمادی الاول ۱۱ ہجری
مقام شہادت:مدینہ منورہ
مدفن:اپ کی عصیت کے مطابق آپ کو مخفیانہ طریقہ سے دفن کیا گیا،اہل بیت علیہم السلام کے علاوہ کسی کو آپ کی قبر نہیں معلوم۔لاحول و لاقوة الا بللہ۔
پیغبر اسلام نے آپ کو سیدة نسإِ العلمین کا لقب دیا۔یعنی تمام عورتوں کی سردار۔
رسول اکرم آپ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔آپ کے احترام میں کھڑے ہوتے تھے اور اپنی جگہ پر بیٹھاتے تھے۔اور اکثر فرماتے”خدا،فاطمہ کی خشی میں خش اور فاطمہ کی غم میں غضب ناک ہوگا”۔
آپ کے بطن مبارک سے امام حسن،امام حسین ،حضرت زینب اور حضرت ام کلثوم جیسی شخصیتیں اس دنیا کو ملیں۔
جناب محسن آپ کے بطن میں ہی ظالموں کے ظلم کا شکار ہویۓ اور اسی زخم کی وجہ سے آپ کی بھی شہادت ہوی۔
الھم لعن اوُل ظالم ظلم حق محمد و ال محمد و اخر تعبہ لہ۔۔۔۔
نام :علی ابن ابی طالب علیہ السلام
والدہ :فاطمہ بنت اسد
برادر و داماد نبی صلی اللہ علیہ و الیہ و سلم بعد رسول امت کے امام
القاب:امیر المومنین۔ابو تراب
آپ کی ولادت ۱۳ رجب ۳۰ عام الفیل مکہ مکرمہ مین کابہ کے اندر ہوٴی آپ رسول سے ۳۰ برس چھوٹے تھے۔
آپ کی شہادت :مسجد کوفہ میں سجدہ کی حالت میں ابن ملجم ملعون نے آپ کے سر پر تلوار سے وار کیا جس کے سبب آپ نے ۲۱ رمضان ۴۰ ہجری میں جام شہادت نوش کیا۔
آپ کو کوفہ کے پاس نجف میں دفن کیا گیا۔تجہیزوتکفین امام حسن اور امام حسین علیہ السلام نے انجام دیۓ۔
آپ کے فضاٴل بے شمار ہیں مرد میداں،سلار لشکر اسلام،علم کا یہ مقام کے رسول نے فرمایا:انا مدینہ العلم و علی بابھا”
حق کا ساتھ اس طرح سے دیا کی فرمایا:علی مع الحق و الحق مع علی”رعیت کے لیۓ عادل تھے تقسیم میں مساوات کے علمبردار،دنیا کے معملہ میں پرہیزگار مسکینوں پر رحم فرماتے اور ناداروں کے ساتھ بیٹھتے۔
سیرت و کردار میں نبی کے مثل تھے اللہ نے قران میں یوم مباہلہ آپ کو نفس نبی کی سند عطا کی۔
نام :حسن علیہ السلام
والد:علی علیہ السلام
مادر گرامی:فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و ال و سلم
ولادت:۱۵رمضان ۲/۳ ہجری
شہادت:۲۸صفر ۴۹ہجری
مقام شہادت:مدینہ منورہ
سبب شہادت:زہر
مدفن:جنت البقیع،مدینہ منورہ
آپ کے فضإل شمار سے باہر ہیں۔اپنے وقت میں آپ سب سے زیادہ عالم فاضل اور شبیہ رسول تھے۔
کرم اور حلم میں کوٕی آپ کا ثانی نہیں،ایک مرتبہ ایک شامی نے مدینہ کے بازار میں آپ کو دیکھ کر ناسزا کہا
آپ نے اس سے کہا کی میرا خیال ہے کی تم ایک مسافر ہو،اگر تم کو بھوکے ہو میں تجھے کھانا دونگا،اگر لباس کی ضرارت ہو ہم مہیا کر دیں اگر نادار ہے تو ہم تم کو مال دیں اگر کوٕی اور کام ہے تو ہم وہ بھی انجام دیں گے
وہ شخص یہ سن کر رونے لگا اور آپ کی قدم بوسی کرنے لگا ۔اس کے بعد اس نے کہا کی میں گواہی دیتا ہوں کی آپ حجت خدا ہیں۔
نام : حسین علیہ السلام
والد:علی علیہ السلام
مادر گرامی:فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و ال و سلم
ولادت:۳ شابان۳/۴ ہجری
مقام ولادت:مدینہ منورہ
شہادت:۱۰محرم ۶۱ہجری
مقام شہادت:کربلا
سبب شہادت:دشمنوں نے اپ کو تین دن کا بھوکا پیاسا شہید کیا آپ کے ساتھیوں کو قتل کیا اور حرم کو اسیر کیا ۔
مدفن:کربلا
آپ امت کے تیسرے امام اور اپنے بعد کے نو اماموں کے والد ہیں۔آپ کے متعلق رسول نے فرمایا:الحسین منی و انا من الحسین، اور یہ بھی فرمایا کی حسن اور حسین علیہماالسلام حالت جنگ اور امن میں امام امت ہیں۔
آپ علیہ السلام نے تاریخ اسلام میں اپنی بے نظیر جرات سے شریعت اسلامیہ کو دوبارہ زندگی دی ،بلکہ قیامت تک آنے والی ہر نسل کو خواب غفلت سے بیدار کیا۔
آپ علیہ السلام سید الشہدا اور اپنے بھإی کے بعد افضل الناس ہیں۔
نام:علی(زین العابدین)
والد:حسین ابن علی علیہما السلام
مادر گرامی: شاہ زنان بنت یزجرد(بادشاہ ایران)
ولادت: ۱۵جمادی الاول ۳۸ ہجری
مقام ولادت:مدینہ
شہادت:۲۵محرم ۹۵ ہجری
مقام شہادت:مدینہ
سبب شہادت:زہر
مدفن:جنت البقیع،مدینہ منورہ
عابد شب زندہ دار آپ علیہ السلام شب و روز میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے۔
مصیبت زدوں کی مدد میں آپ علیہ السلام بے مثال تھے۔
آپ کے زہد و تقوی کی دلیل لے لیۓ آپ کی دعاوں کا مجموعہ صحیفہ سجادیہ ہی کافی ہے۔
آپ تاریک راتوں میں چہرہ پر کپڑا ڈال کر مدینہ کے ناداروں کے دروازوں پر جا جا کر ان کی کفالت کرتے اور کسی کو بھی یہ علم نہ تھا کی یہ شخص کون ہے،آپ کی شہادت کے بعد جب یہ سلسلہ رکا تو لوگوں کو پتا چلا کی وہ کفالت کرنے والا حسین ابن علی کا بیٹا علی زین العابدین علیہ السلام تھے۔
وہ شخص یہ سن کر رونے لگا اور آپ کی قدم بوسی کرنے لگا ۔اس کے بعد اس نے کہا کی میں گواہی دیتا ہوں کی آپ حجت خدا ہیں۔
نام:محمد باقر علیہ السلام
والد:علی ابن الحسین ابن علی علیہم السلام
مادر گرامی: بنت امام حسن علیہ السلام
ولادت: ۱ رجب ۵۷ ھجری
مقام ولادت:مدینہ
شہادت:۷ ذی الحج ۱۱۴ ہجری
مقام شہادت:مدینہ منورہ
سبب شہادت:زہر
مدفن:جنت البقیع،مدینہ منورہ
آپ ماں اور باپ دونوں کی طرف سے حضرت علی اور جناب زہرا علیہما السلام کی اولاد سے تھے۔
آپ فضل و عظمت ،علم و حکمت،عبادت،تواضع ،دوستی اور اخلاق میں اپنے آباۓ کرام کی مجسم تصویر تھے۔
آپ علم کا موجزن سمندر تھے،جو بھی سوال کیا گیا آپ نے اسی وقت اس کا جواب دیا۔
ابن عطا مکی کا کہنا ہے کی میں نے جس قدر امام محمد باقر علیہ السلام کے سامنے علمإ کو پست قد دیکھا اس طرح کسی کے سامنے نہیں دیکھا۔
آپ ہر وقت ذکر خدا میں مصروف رہتے تھے۔امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں میں جب بھی آپ کے ساتھ جاتا آپ کو ہر وقت ذکر میں مصروف پاتا۔
نام:جعفر صادق علیہ السلام
والد:امام محمد باقر علیہ السلام
مادر گرامی: فاطمہ(ام فروہ)
ولادت: ۱۷ ربیع الاول ۸۳ ہجری
مقام ولادت:مدینہ
شہادت:۱۴۸ ہجری
مقام شہادت:مدینہ منورہ
سبب شہادت:زہر
مدفن:جنت البقیع،مدینہ منورہ
علم و فضل ۔حکمت و عفت،زہد و ورع،صدق و عدل،سیادت و عظمت،کرم و شجاعت اور دیگر فضإل میں آپ کا منفرد مقام تھا۔
شیخ مفید کے بقول آل محمد میں علمإ نے جس سے سب سے زیادہ روایت کی وہ امام جعفر صادق ابن امام محمد باقر علیہما السلام ہیں آپ سے روایت کرنے والوں میں مورد اطمینان لوگوں کی تعداد چار ہزار ہے۔
آپ نے کٕی نۓ علوم کی بنیاد ڈالی،معادن کے استخراج اور ان کا استعمال کا طریقہ، کیمسٹری جیسے علوم سے لوگوں کو اشنا کرایا۔
امام ابو حنیفہ آپ کے شاگرد تھے۔دیگر فرقہ کے امام بھی آپ ہی کے مکتب کے شاگرد تھے۔آپ کی غذا بہت سادی تھی اور آپ سرکہ اور زیتون نوش کرتے تھے۔آپ کا لباس سخت ہو تا اور آپ اپنے کام حتی کے کھیتی بھی خود کرتے تھے۔
نام:امام موسی کاظم علیہ السلام
والد:امام جعفر صادق علیہ السلام
مادر گرامی: حمیدہ (مصفاة)
ولادت: ۷ صفر۱۲۸ھجری
مقام ولادت:مدینہ
شہادت:۲۵ رجب
مقام شہادت:بغداد میں زندان ہارون مدت قید ۱۴ برس
سبب شہادت:زہر
مدفن:کاظمین
آپ غصہ کو پینے کی وضہ سے زمانے میں کاظم مشہور ہوۓ۔
علم ،حلم،سخاوت،شجاعت،کمالات اور عبادت میں آپ اپنے اجداد کی یادگار تھے۔
کتنے نصاری آپ سے علمی سوالات کرتے اور جواب پانے کے بعد حلقہ اسلام میں داخل ہو گۓ۔
ایک مرتبہ ایک سإیل نے آپ سے ایک ہزار درھم مانگے آپ نے اس کی معرفت کا اندازہ لگانے کے لیۓ ایک سوال کیا اس کا جواب سننے کے بعد آپ نے اس کو دو ہزار درہم دیۓ۔
آپ کی آواز بہت جاذب تھی۔
آپ ہارون کی قید میں سجدہ کی حالت میں شہید ہوۓ۔
نام: امام علی رضا
والد:امام موسی کاظم
مادر گرامی:نجمہ خاتون
ولادت:۱۱ذی قعدہ۱۴۸ہجری
مقام ولادت:مدینہ
شہادت :۲۹صفر۲۰۳ہجری
مقام شہادت:خراسان
مدقن:مشہد مقدس(خراسان۔ایران)
علم و فضل میں آپ اپنے اجداد کی طرح تھے۔مامون جب خلیفہ بنا تو اس نے سیاست کے تحت آپ سے اقتدار قبول کرنے کی درخواست کی لیکن آپ نے انکار کیا۔اس کے بعد اس نے آپ کو ولی عہد بننے پر مجبور کیا آپ نے ولی عہدی اس شرط پر قبول کی کہ امور مملکت میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔
مامون کی طرف سے مجلس مناظرہ کے انعقاد سے آپ نے غیر مسلم مذاہب کے علمإ سے مناظرہ کیا اور اپنے استدلال سے سب کو زیر کیا۔
آپ کی عبادت بے مثال تھی اور سخاوت کا سر چشمہ تھے۔
رات عبادت میں گزارتے اور اکثر دنوں میں روزہ رہتے۔
نام:امام محمد تقی
والد:امام علی رضا
مادر گرامی:سبیکہ خاتون
ولادت:۱۰رجب ۱۹۵ہجری
مقام ولادت:مدینہ منورہ
شہادت:۲۹ ذی قعدہ۲۲۰ہجری
مقام شہادت: :بغداد
مدقن:کاظمین
فصاحت، حسن خلق، حسن محفل، سخاوت، عبادت، ریاضت، زہد اور تقوٸ میں اپنے اجداد کی مکمل تصویر تھے۔
جب کبھی گھر سے نکلتے تو درھم و دینار کی تھلییاں ساتھ رکھتے اور جو بھی مانگتا اس کو عطا کرتے۔
علم کا یہ عالم تھا کی نو برس کی عمر میں ۸۰ مختلف مذاہب کے علمإ سے مناظرہ کیا اور ہر ایک کو جواب دیا۔اس مناظرہ کے چند دن بعد جب کچہ علمإ حج سے واپس آۓ تو آپ سے ایک ہی محفل میں ہزاروں سوال کیۓ،آپ نے سب کا اطمینان بخش جواب دیا۔
اس الی جوہر کو دیکھ کر مامون نے اپنی بیٹی ام الفضل آپ کی زوجیت میں دی۔
نام:امام علی نقی علیہ السلام
والد:امام محمد تقی علیہ السلام
مادر گرامی:سمانہ
ولادت:۲رجب ۲۱۲ ہجری
مقام ولادت:مدینہ منورہ
شہادت :۳رجب۲۵۴ہجری
مقام شہادت:سامرا
مدفن:سامرا(عراق)
صورت و سیرت،کردار و گفتار،علم وحلم عصمت و عظمت میں آپ اپمنے آباؤ اجداد کا عملی نمونہ تھے۔آپ کے کرم کا ایک واقعہ ابع عیسی ربلی نے نقل کیا ہے کہ دربار کی طرف سے آپ کو تیس ہزار درہم ملے۔آپ نے باغیر ہاتھ لگاۓ وہ تھیلی ایک عرب سإل کو دے دی اور فرمایا جاکر اپنا قرض ادا کردے،اہل و ایال کو کھلا،ہم تیری خدمت کا حق ادا نہیں کر سکے۔سإل نے کہا:اللہ ہی بہتر جانتا ہے کی اس منصب امامت کا اہل کون ہے۔
نام:امام حسن عسکری علیہ السلام
والد:امام علی نقی علیہ السلام
مادر گرامی:جِدہ
ولادت:۱۰ ربیع الثانی ۲۳۲ہجری
مقام ولادت:مدینہ منورہ
شہادت :۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری
مقام شہادت:سامرا
مدفن:سامرا
آپ فضل و عظمت ،علم و حکمت،عبادت،تواضع ،دوستی اور اخلاق میں اپنے آباۓ کرام کی مجسم تصویر تھے۔آپ کے مکارم اخلاق سے تاریخ لبریز ہے۔اخلاق میں لوگ آپ کو رسول اکرم سے تشبیہ دیتے تھے۔
آپ کے کرم کے واقعات بہت ہیں:ایک مرتبہ ایک شخص جس کو پانچ سو درھم کی ضرورت تھی آپنے بیٹے کے ساتھ آپ علیہ السلام کی خدامت میں اس کے بیٹے کو بھی تین سو درہم کی ضرورت تھی،اس سے پہلے کی وہ اپنے بات بیان کرتا آپ نے غلام کو حکم دیا اور دونوں کی حاجت کو پورا کیا۔
آپ کا یہ کرم صرف مسلمانوں کے ساتھ نہ تھا بلکہ غیر مسلم افراد بھی آپ کے کرم سے فیض اٹھاتے تھے،اسی وجہ سے اس زمانے کے عیساٸ اپ کو حضرت عیسی علیہ السلام سے تشبیہ دیتے تھے۔
نام:امام مہدی (م ح م د)علیہ السلام
والد:امام حسن عسکری علیہ السلام
مادر گرامی:نرجس (نرگس)
ولادت:۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری
مقام ولادت:سامرا
آپ امام زماں ہیں،روے زمین پر جدا کی آخری حجت ہیں،خدا نے اپنے ارادہ سے آپ کی عمر کو طولانی اور آپ کو لوگوں کی نظر سے چھوپا دیا ہے یہاں تک کے آپ اسے کے حکم سے ایک دن ظہور کریں گے اور اس دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
پیغبر اسلام اور إمہ اطھار نے آپ کے بارے میں لوگوں کو بار بار بتایا،کہ مہدی موعود ہم سے ہے اور خدا ان کے ذریعہ اسلام کو دوسرے دینوں پر جیت دیلاۓ گا۔
البتہ آپ کی غیبت کے زمانے میں شیعوں کے وظایف زیادہ ہو جاتے ہیں،جیسے آپ کو صحیح طرح پہچانا،آپ کے ظہور کا انتظار کرنا،اور اسی طرح آپ کے ظہور اور آپ کی سلامتی کے لیۓ دعا کرنا۔
ہم بارگاہ خداوند عالم میں دست بہ دعا ہیں کی ہم کو ان وظایف کو پورا کرنے والوں میں شامل کر اور آپ کے ظہور میں تعجیل کر۔انشإ اللہ