ضرورت امام از روئے عقل و قرآن

356

تمام اہل اسلام اوردیگررجملہ مذاہب کے نزدیک وجود ابلیس (شیطان) تسلیم شدہ ہے قرآن شریف میں اکثرمقامات پرتذکرہ ٴ شیطان موجود ہے جس میں بتاگیاہے کہ شیطان انسان کادشمن اورکھلم کھلاگمراہ کرنے والاہے نیز شیطان نے خودبھی دربار خداوندی اپنایہ چیلنج واضح کیا ہے کہ میں سوائے تیرے مخلص بندوں کے سب کوبہکاؤںگا اورراہ راست سے منحرف کروں گا چنانچہ و ہ انسانی رگوں میں خون کی طرح سرایت کرتے ہوئے ہرفرد کوبہکاتارہتاہے اورضلالت وگمراہی اس کامشغلہ ہے۔
مگریہ بھی حقیقت ہے کہ خالق شیطان خداہے اوراسی نے اس کووقت معلوم تک مہلت بھی عطاکی ہے ۔ اس لیے عقلاضروری ہے کہ جب تک کائنات میںایسے گمراہ کرنے والے کاوجود باقی ہے اس وقت تک اسی طرح کسی ہدایت کرنے والے کاوجود بھی ہواچاہیے ۔ ورنہ انسان اپنی فطری تخلیقی کمزوریوں کی بناٴ پر شرارت اورگناہ پر مجبورسمجھا جائے گا ۔ خداوند عالم کا شیطان کوموجود رکھنا اورمخلوق کوبغیرہادی چھوڑنا مخلوق پر ظلم کے مترادف ہوگا اورجب انسان فطرتا گناہ وگمراہی پرمجبورسمجھ لیا جائے گا توپھرجزاٴ وسزا وجود جنت ودوزخ سب بے کارہوجائے گا ۔
اسی لئے قدرت نے کائنات کوازابتداٴ کبھی کبھی بغیرہادی نہیں چھوڑا چنانچہ حضورصلعم کے متعلق ارشادہے کہ “اے پیغمبرتوبشیرونذیرہے اورہوقوم کے لیے ایک ہادی ہے۔” گویا ہدایت کانتظام من جانب اللہ ہمیشہ سے موجود ہے اورہمیشہ رہے گا ۔مگرظاہر ہے کہ وہ انسان جوخود محتاج ہدایت ہوہرگزہگز ہادی نہیں ہوسکتا بلکہ ہادی وہی ہوسکتاہے جوخود ہدایت یافتہ ہواورجس کا دامن گناہوں سے مبراہواورصرف وہ معصوم ہی ہوسکتاہے گمراہ اورخطاکارانسان ہرگز ہدایت کااہل نہیں ہوسکتاکیونکہ اوخویشتن گم است کرارہبری کند
اسی طرح یہ امرواضح ہوجاتاہے کہ ہادی وہی ہوگا جوبالفطرت ہدایت یافتہ ہواورجوہدایت یافتہ ہوگا اسی کو “مہدی ” کہتے ہیں اورکسی ایسے کے وجود سے عقلازمانہ کبھی خالی نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ تخلیق بشری کی ابتداء سے یہ سلسلہ جاری وساری ہے بلکہ پہلابشربھی بشکل ہادی ہی زینت زمین کاسبب بناہے اورازآدم تاخاتم سلسلہ ہدایت ونبوت جاری رہاہے جن میں ہرنبی کی معصوم زندگی ضرورت ہدایت کوپوری کرتی رہی ہے اس لیے بعدازختم نبوت جبکہ زمانہ باقی ہے اوراس کوقیامت تک باقی رہناہے توضرو ری ہے کہ ایساہی معصوم سلسہٴ ہدایت اب بھی جاری رہے مگردنیاجانتی ہے کہ ایسی معصوم شخصیتیں بعدازنبی اکرم علاوہ ذریت خاص وآل پیغمبرکے اورکوئی نہیں ہے کسی ظاہری راہ نمانے اپنے معصوم ہونے کادعوی کیاہے اسی لئے اس دورکے لیے بھی جملہ اہل اسلام متفق ہیں کہ اس زمانے کے امام حضرت مہدی علیہ السلام بھی ذریت پیغمبرہی سے ہوں گے جن کاوجودمسلم ومحقق ہے ذریت پیغمبرمیں جوسلسلہ امامت جاری رہاہے اس میں کے بارھویں امام حضرت حجت ابن الحسن العسکری علیہ السلام موجودہیں اورغائب ہیں آپ فریضہٴ ہدایت کوپوشیدہ رہ کر اسی طرح انجام دے رہے ہیں جس طرح شیطان پوشیدہ رہ کر گمراہی وبہکانے میں مصروف ہے۔
حدیث پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضورسرورکائنات کی مشہورحدیث “حدیث ثقلین ” جوحضورنے آخری حج کے موقع پرارشادفرمائی ۔ تقریبا جملہ اہل اسلام میںمتفق علیہ ہے اس حدیث میں حضورنے اپنے بعد کی ہدایت کا انتظام واضح کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی واھلبیتی ۔ الخ (اے مسلمانوں! میں اپنے بعدتمہارے درمیان ہدایت کے لیے دوگرانقدرچیزیںچھوڑرہاہوں جن میں ایک قرآن اللہ کی کتاب اوردوسری میری عترت واہلیبیت ہیں تم ان دونوں سے اپنارشتہ وابستہ رکھوگے توہرگزگمراہ نہ ہوگے اوریہ آپس میں ہرگزجدانہ ہوںگے یہان تک کہ حوض کوثرپرنہ پہنچ جائیں ) اس حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ بعد ازپیغمبرمسلمانوں کے لیے واجب الاتباع “اہلیبیت رسول ” اورواجب العمل کتاب اللہ (قرآن) ہے اوران سے تمسک کے بغیرنجات ممکن نہیں ہے اسی لئے ان کاقیام قیامت تک ساتھ رہناضروری نہیں ہے ظاہری طورسے کتاب اللہ یعنی قرآن تومسلمان کے پاس موجودہے مگراہلیبیت کی بہ ظاہرفرد نظرنہیں آتی لیکن یہ ارشاد اس ذات گرامی کاہی جس کی جانب دروغ اورجھوٹ کاشائبہ بھی نظرنہیں ہوسکتابلکہ اعلان قرآن کی روسے ان کاارشادخداکاارشاد ہے اس لیے عقلاوشرعا ماننا پڑے گا کہ اہل بیت پیغمبرمیںسے کسی بھی فرد کاباقی رہنااشدضروری ہے اوراس وقت تک ضروری ہے جب تک دنیامیںقرآن باقی ہے اوراہلیبیت پیغمبرمیں ایسی جوذات بھی ہوگی وہ ہادی ہوگی اورکوئی ہادی ہونہیں سکتاجب تک کہ مہدی نہ ہو ۔ اس لیے اگرآج کوئی ایسے امام کے وجود کامنکرہوگا جونسل اہلیبیت سے ہوتواس کووجود کتاب کابھی انکارکرناپڑے گا کیوں کہ حضورکاارشاد ہے کہ “یہ دونوں ہرگزجدانہیں ہوسکتے ” بلکہ ساتھ سا تھ رہیںگے لہذا واضح ہوگیا کہ جب قرآن موجود تواہلیبیت رسول میں سے کوئی نہ کوئی ایساوجود ضرورہے جوقرآن کے ساتھ ہو اوراہلیبیت رسول مع آنحضرت چہاردہ معصومین ہیں جنمیں علاوہ دخترپیغمبرجناب فاطمہ الزھراصلوات اللہ علیھا کے با رہ امام شامل ہیں ان میں سے آج تک گیارہ امام ازحضرت علی تا حضرت امام حسن عسکری گزرچکے ہیں اب صرف بارہوں فرزند یعنی صرف حضرت امام مہدی علیہ السلام باقی ہیں جن کاوجود کتاب خداکے ساتھ باقی ہے اورانھیں کی وجہ سے یہ قرآن باقی ہے ان کانظرنہ آنا موجود نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتا۔اس لیے جملہ اہل اسلام عقیدہ رکھتے ہیں کہ امام مہدی اہلیبیت رسول ہی سے ہیں اوروقت مقررہ پرظاہرہوں گے ان کے وجود سے انکارنہیںکیاجاسکتا۔
حدیث مذکورکی اسناد اس قدر کتب میںموجود ہیں مجھے اس کے متعلق کچھ تحریرکرنے کی ضرورت نہیں ۔ عام مسلمانوں کی کتابوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں علاوہ ازایں دیگراکثراحادیث وآیات قرآنی بطوردلیل اس بارے میں موجود ہیں ۔ کتاب ہذا کااختصارتفصیلی طورسے تحریرکرنے میں مانع ہے ،مطالعہ کے شوقین طالبان حق اورصاحبان ذوق وشوق ۔صراط السری فی احوال المہدی اورکفایتہالطالب محمدابن شافعی میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں بطورنمونہ صرف دوحدیثیں پیش کی جارہی ہیں
۱۔ ابن عباس ،انس ،جابر،ابن ماجہ ، احمدبن حنبل وغیرہم نے روایت کی کہ رسول اکرم نے ارشادفرمایا کہ اگرحیات دنیا میںصرف ایک ہی دن باقی رہ جائے توبھی ضروراللہ میرے اہلیبیت سے ایک شخص کوقائم کرے گا جوزمین کوعدل وانصاف سے اسی طرح بھردے گا ۔ جیساکہ وہ ظلم وجورسے پرہوچکی ہوگی ۔
نوٹ: اس حدیث پرجملہ اہل اسلام متفق ہیں ۔
۲۔ بخاری شریف صحیح مسلم اوردیگررکتابوں میں موجود ہے کہ حضورنے ارشاد فرمایا کہ “یکون بعدی اثناعشرامیرا کلھم من قریش
اوربعض نسخوں میں “من بنی ہاشم ” یعنی پیغمبرنے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد بارہ امیر ہوں گے جوکل قریش سے ہوں گے پھرتخصیص کے ساتھ فرمایا کہ بنی ہاشم سے ۔
یہ حدیث بخاری میں تین طرح صحیح مسلم میںنوطرح ،ابوداؤد میںتین طراح ترمذی میں ایک طرح حمیدی میں تین طرح اوردیگررمتعددکتابوں میں متعدد طریقوں سے مروی ہے اس لئے پتہ چلتاہے کہ پیغمبراکرم نے چندمرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی جس میں کہیں قریش فرمایااورکہیں تخصیص کرکے بنی ھاشممگربارہ کی قیدہرجگہ موجود ہے اب یہ بالکل واضح ہے کہ یہ بارہ امیر،خلیفہ ، حاکم یاامام علاوہ اہلیبیت رسول کے دوسرے نہیںہوسکتے کیونکہ نہ توکوئی دوسرے سلسلہ کاکوئی خلیفہ وامیرایساآج موجودہے جس کا وجود قرآن کے ساتھ تسلیم کیاجائے اورنہ کوئی حاکمی وامیری سلسلہ بارہ پرختم ہوجاتاہے رہے اصحاب رسول جوخلیفہ کہلائے وہ با رہ نے تھے نہ بنی امیہ کے تاجداروں میںیہ تعداد پوری ہوتی ہے اورنہ بنی عباس کے بادشاہوں میں اس درست صرف یہی ہے کہ ان امیروں سے مراد صرف بنی ہاشم اوراہلیبیت رسول میں سے بارہ امام ہی ہوسکتے ہیں جن کے اول علی اورآخری بارہویں امام مہدی علیہ السلام حجت خداورسول موجودہ ہیں ۔ جن کی وجہ سے اب تک دین محمدی ووجودعالم باقی وقائم ہے اورقیامت کوبھی انہیں کاانتظارباقی ہے ۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.