غائب امام کافائدہ اورصورت استفادہ

473

خداکی نشانیاں نظرآتی ہیں مگروہ خود نظرنہیں آتا پھرقیامت پر،حساب وکتاب پر، بہشت ودوزخ پر، بی دیکھے ایمان لانا ضرورہے پس ایسی تمام غیبی چیزوں پرایمان رکھنے والے ہرمنصف مزاج کوپس وپیش نہیں ہوسکتاجن کی موجودگی کی سنکڑوں دلیلیں موجود ہیں ۔موجودات عالم میں غیبت کے دوطریقہ ہیں ۔ایک یہ کہ و ہ چیزیں نظرہی نہ آتی ہوں جیسے کہ جنت یااصحاب کہف ۔اوردوسری صورت یہ ہے کہ وہ غائب ذاتیں نظرتوآتی ہیں مگران کی پہچان نہیں ہوتی جیسے کہ جنات یاحضرت خضریاحضرت الیاس وغیرہ ۔بس یہی صورت حجت علیہ السلام کی ہے کہ لوگ حضرت کودیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں اور اس غیبت کاصرف یہ مطلب ہے کہ امام زمانہ درپردہ منصب امامت کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔جنت درپردہ موجود ہے مگر نہ اس کی نعمتیں ہم تک آتی ہیں نہ ہم وہاں پہنچ سکتے ہیں پھربھی کوئی عاقل اس وقت اس کے وجود کوبے فائدہ نہیں کہہ سکتے اس لئے کہ اس کے تذکرے اطاعت الہی کی طرف متوجہ کرتے ہیں لہذا جب غیبت میں جنت کاوجود مفید ہے توکم ازکم اسی طرح بحالت غیبت امام زمانہ کاوجود مفید ہے ۔ خداکی بنائی ہوئی جنت کواس وقت لوگ نہیں دیکھتے لیکن اس کے بنائے ہوئے امام وحجت کوپہلے بھی دیکھیں گےا اوراب بھی خوش قسمت صاحبان زیارت سے مشرف ہوتے ہیں ۔ہرامام کاکام ۔دین وملت کی حفاظت ونگہداشت ہے وہی رہنمائے عالم ہوتا ہے لیکن اس رہنمائی کی دوصورتیں ہیں اگراس کودنیوی اقتداربھی حاصل ہے توکارہدایت حکومت کے ذریعہ سے انجام پائے گا اوراگر مخالف قوتوں کی مزاحمت سے ایساتسلط ہوگا تواس کارمنصبی کی تکمیل مخفی طریقے پرہوتی رہے گی جیسی کہ اس زمانہ میں ہورہی ہے کہ اصول اسلام وقانون شریعت محض فیوض امام سے باقی ہیں اورجزوی مسائل میں ہرشخص کے لئے حضرت کے احکام نافذنہ ہونے سے منصب امامت پرکوئی اثرنہیں پڑسکتا کیونکہ دنیاوالوں نے بدقسمتی سے اپنا یہ نقصان آپ کیاہے ۔ان کے مظالم اورکمزوریاں ہی اس پردہٴ غیبت کاباعث ہیں اوریہ سب ان کے کردارکانتیجہ ہے ۔انبیاٴہوں یا آئمہ ،جب سب کاتقررخداکی طرف سے ہوتاہے اوریہ دین دنیادونوںکے بادشاہ ہوتے ہیں کسی کی رعیت نہیںہوتے اگرکہیں دنیوی ریاست وحکومت پردوسرے لوگ قابض ہوجائیں تواس سے ان کی نبوت وامامت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔اسی طرح یہ حضرات حاضرہوںےاغائب ہوں ہرحالت میں نبی وامام رہتے ہیں۔حضوروعدم حضوریاغیبت وظہورسے شان نبوت وامامت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔انبیاٴ کی بھی غیبتیں ہوئی ہیں نبی تھے اورنبی رہی اسی طرح حضرت حجت علیہ السلام ہرحال میں امام ہیں اورحضرت کاوجود مبارک تمام عالم خداکے لئے رحمت ونعمت ہے۔ حضرت حجت علیہ السلام اسی نوررسول اللہ کے حامل ہیں جس سے خطاب الہی ہوا تھا : لولاک لماخلقت الافلاک یعنی تم نہ ہوتے تومیں آسمانوں کوپیدانہ کرتا پس عالم کی پیدائش جس پرموقوف ہے اسی پرعالم کابقاموقوف ہے اگریہ نہ ہوں توساری دنیاختم ہوجائے اسی لئے تواس نورکے حامل امام موجود ہیں اورہرقسم کی نعمتیں عام خلائق کے شامل حال ہیں آسمان سے بارش ہوتی ہے ،زمین سے دانااگتاہے ،درختوں میں پھل آتے ہیں ،عقلوں میں سمجھنے کی قوت ہے ،آنکھوں میںبصارت ہے ، کانوں میں سماعت ہے ۔زبان میں گوئی ہے اوران انعامات الہیہ کاذریعہ روئے زمین پر حجت خداکاوجود ہے جورحمة للعالمین کے فرزند ہیں ۔ جن کی برکت سے دنیا باوجود ان بدکرداریوں کے جوسابقہ امتوںپرنزول عذاب کا باعث ہوتی رہی ہیں ،عذابوں سے محفوظ ہیںاور پہلے کے عالم گیرعذاب مسخ وخسف ،غرق وحرق یعنی صورتوں کابدل جانا ،زمین میںدھنسنا ،پانی مین ڈوبنا ،آگ میں جلنا سب کے سب انھیں کے سبب سے رکے ہوئے ہیں۔کیونکہ عذاب نازل نہ ہونے کے دوسبب قرآن میں بیان ہوئے ہیںیارسول اللہ کی موجودگی ،یابندوں کااستغفاروماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون یعنی اے رسول ،جب تک تم ان میںموجود ہو خداان پرعذاب نہ کرے گا اورنہ ایسی حالت میںعذاب نازل فرمائے گا کہ لوگ استغفار کرتے رہیں ۔پس اب نہ رسول اللہ تشریف فرماہیںنہ سب بندے معافی کے خواہاں ہیں ،توبہ واستغفار مثل نہ ہونے کے ہے ۔پھرعذاب کیوں نازل نہیں ہوتا ؟ صرف اس لئے کہ قائم مقام رسول ہمنام رسول موجود ہیں جوفرزند رسول ہیں ،وارث رسول ہیں جن کافعل ،فعل رسول ہے ، جن کا وجود وجود رسول ہے ،جن کانور نور رسول ہے اوروہ اسی نورمبارک کے حامل ہیں جوغایت خلقت عالم اورسبب بقائے عالم ہے ۔یہی مطلب اس فرمان نبوی کاہےالنجوم امان لاھل السماء واھل بیتی امان لاھل الارض ۔یعنی ستارے اہل آسمان کے لئے امان کاسبب ہیں اورمیرے اہل بیت زمین والوں کے واسطے باعث امن وامان ہیں ۔ستارے نہ ہوں توآسمان والوں کے لئے مصیبت ہے اورمیرے اہل بیت میں سے کوئی نہ ہوتوزمین والوں کے لئے مصیبتیں ہیںیہ بھی حضرت کاارشاد ہے کہ اگرایک ساعت بھی روئے زمین حجت خدا سے خالی ہوجائے توساری زمین تباہ وبرباد ہوجائے گی ،اورحجت خدانہ ہونے کی صورت میںزمین اس طرح موجیںمارے گی جس طرح سمندر موج زنی کرتا ہے ۔جابر بن عبداللہ انصاری نے رسول اللہ سے سوال کیا تھاکہ آیا زمانہ غیبت میںقائم آل محمد سے دوستوںکوفائدہ پہنچے گا ؟ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ ” ہا ں ! اے جابراس خداکی قسم جس نے مجھ کونبی بناکر بھیجاہے ،یقینا ان کی غیبت میں وہ ان سے منتفع ہوں گے اوران کے نور ولایت سے اسی طرح روشنی حاصل کریںگے جس طرح لوگ آفتاب سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اگرچہ اس پربادل چھایاہوا ہو۔یہ پیغمبراسلام کامختصرکلام ہے جس میں حضرت نے اپنے فرزند کوآفتاب سے تشبیہ دی ہے اس جتنابھی غورکیاجائے اتناہی آنکھوں میں نوردل میںسرورپیداہوگا ۔جس طرح آفتاب سے دنےا روشن رہتی ہے وہ کائنات عالم کی زندگی کاذریعہ ہے اس کی روشنی سے مخلوقات کے کام نکلتے ہیں ، ضروریات پوری ہوتی ہیں ،حاجات برآتی ہیں ۔اسی طرح وجود عالم کی روشنی امام علیہ السلام سے ہے انھیں کے ذریعہ سے دنیامیں نورہدایت قائم ہے ،وہی علوم ومعارف کاوسیلہ ہیں ،ان کے توسل سے حاجت روائی ہوتی ہے ۔بلاؤمصیبت کی ایسے موقعوںپرکہ جب کوئی فریادرس نہ ہو،امیدوںکے دروازہ ہرطرف سے بندہوچکے ہوں ،مایوسی کاعالم ہو تووہی بارگاہ الہی میں شفاعت کرتے ہیں اور ساری بلائیں دفع ہوجاتی ہیں ۔ظاہرہے کہ جیسامکان ہوتاہے ویسی ہی اس میں روشنی پہنچتی ہے جتنابھی حائل ہونے والی چیزیں کم ہوں گی اتنی ہی اس میں دھوپ آئے گی جتنے وسیع دروازہ ہوں گے ،جتنے روشن دان ہوںگے ،اتنی ہی شعائیں کمرہ میں داخل ہوںگی اسی طرح انسان جس قدرعلائق جسمانیہ سے منزہ اورمعارف رحونایہ پرفائز ہوگااسی قدراس کاسےنہ امام علیہ السلام کے انوارامامت کی روشنی سے منورہوگا ۔ یہاں تک کہ اس شخص کی طرح ہوسکتاہے جوآسمان کے نیچے ہو،اورچاروں طرف سے آفتاب کی راحت رساں ،روح افزاشعاعیں اس پرپڑرہی ہوں ۔پھریہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ایک بستی میں سورج نظرنہ آئے تودوسری آبادی میں چھپارہے بلکہ بیک وقت کسی شہرمیں دھوپ ہوتی ہے کسی میںگھٹاہوتی ہے کسی ملک میں دن ہے کسی میںرات ہے ، کہیں دھوپ میں مصلحت ہے ۔جب آفتاب صاف دکھائی دے رہاہو توتھوڑی سی دیربھی آنکھیں کھول کر اس کیطرف نظرقائم نہیں رہتی اورایسی صورت سے ہرشخص اس کی روشنی کامتحمل نہیں ہوسکتا بلکہ بعض اوقات ایسے عمل سے بینائی جاتی رہتی ہے ۔اسی طرح یہ ایسا وقت ہے کہ اگرامام علیہ السلام ظاہرہوجائیں توبہت سے لوگ حضرت کودیکھنے سے بالکل اندھے اورحق سے منحرف ہوسکتے ہیں کیونکہ ان میں اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے وہ کمزوریاں پید ہوچکی ہیں کہ حقیقت حق کے تحمل کی قوت باقی نہیں رہی حالانکہ وہ بظاہر اس زمانہ غیبت میں اسلام پرقائم ہیں ۔اس وقت حضرت حجت علیہ السلام کی مثال آفتاب کی مثال ہے جب کہ وہ بادل میں پوشیدہ کہ ایسی حالت میں بھی اس کی روشنی سے دنیافائدہ اٹھاتی ہے اگرچہ بے بصارت آدمی محروم رہتاہے ۔اسی طرح امام علیہ السلام کے فیوض سے ایمان کی بینائی والے مستفیض ہورہے ہیں لیکن بے بصیرت لوگ محروم ہیں ۔اوریہ کہ باوجود ابرکے بھی بعض اہل نظرسورج کو اسی طرح دیکھ لیتے ہیں کہ یکایک ذرا بادل ہٹا اوران کی نگاہ اس پرپڑگئی مگردوسروں کودیکھائی نہیں دیتا ۔آفتاب کے مقابل ابرکاحصہ دفعتا ہلکاہوااورتیزنظر لوگوں نے قرص آفتاب کودیکھ لیا لیکن عام طور پڑسب لوگوں کی نظریں اس پرنہ پڑسکیں اسی طرح کچھ خوش قسمت لوگ موجودہ زمانہ ٴغیبت میں بھی امام علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں اوران کوشرف ملاقات ہوسکتاہے ۔ایمان بالغیب وانتظارظہورضروردشوراگزارمنزل ہے مگرایسی مبارک کہ جناب رسالتمآب نے اپنے اصحاب سے ارشادفرمایا تھا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جن میںایک شخص اجروثواب میں تمہارے پچاس آدمیوں کے برابرہوگا ۔انھوں نے عرض کےا کہ یاحضرت ہم نے توبدروحنین میں جہاد کئے ،ہمارے تذکرے قرآن میں ہیں ۔فرمایا کہ اگران کی جیسے مصائب وصعوبتیں پیش آئیں تو تم ان کی طرح صبرنہیں کرسکتے ۔جناب امیرالمومنین علیہ السلام کاارشاد ہے کہ ظہورکی منتظر رہنا کیونکہ خداکے نزدیک بہترین عمل انتظار ہے اورہمارے امرکا منتظر مثل اس شخص کے ہے جوراہ خدامیں شہید ہواوراپنے خون میں لوٹے۔
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.