قیام الحسین (ع﴾ فی الکلام الحسین (ع)

367

 
جنگ جمل کے دوران لشکر علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ایک نوجوان نے مخالف لشکر میں طلحہ و زبیر جیسے بزرگوں کو دیکھنے کے بعد امیر المومنین علی علیہ السلام سے سوال کیا کہ ہم دونوں لشکروں میں سے حق پر کون ہے۔؟ امیر کائنات نے نوجوان کی ذہنی الجھن کا ادراک کرتے ہوئے اسے اس مخمصے سے نکالا۔ آپ نے ایک ہی جملے میں عدل کا وہ اساسی قانون فراہم کیا کہ اگر امت اس پر عمل کرتی تو کبھی افتراق کا شکار نہ ہوتی۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا اعرف الحق تعرف اھلہ حق کو پہچانو تم خود بخود اہل حق کو پہچان لو گے۔ امت مسلمہ کا اس نوجوان کی مانند ہمیشہ سے یہ مسئلہ رہا ہے کہ ہم نے حق کو افراد کے ذریعے پہچاننے کی کوشش کی۔ انتہائی معذرت کے ساتھ ہم ہمیشہ سے یہ دیکھتے آئے ہیں کہ فلاں صاحب کا کسی خاص معاملے میں کیا موقف تھا، فلاں صاحب کا ووٹ کس طرف تھا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب معاشرے کی ذہنی استعداد کا یہ عالم تھا جو کہ تاہنوز ہے تو شارع مقدس نے امت کو افتراق سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسا انتظام کیوں نہ کیا کہ امت اپنی سطح فکری کے مطابق ہی حق کو پہچان لیتی۔ ہر مسلمان کا اس بات پر ایمان ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات حق و باطل کی تمیز تھی، یعنی آپ حق کا میزان تھے۔ آپ کا موقف، کسی معاملے میں آپ کی رضایت اس معاملے کے حق ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھی۔ جسے آج مسلمان سنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے جانتے ہیں۔   مانا کہ رحلت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اکثر مسائل میں رسول خدا ص کی باتیں معاشرے کو حق کے تعین میں راہنمائی فراہم کرتی تھیں؛ تاہم اس وقت کیا کیا جائے کہ جب نئے مسائل وقوع پذیر ہوں، جن پر معاشرہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات کے باوجود راہ حل متعین نہ کر سکے۔ مثلا جنگ جمل کو ہی لے لیجئے، جب دو جلیل قدر اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ام المومنین ایک تیسرے صحابی کے مد مقابل آ کھڑے ہوئے، ایسی صورت میں ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کس کو حق پر سمجھا جائے۔ یہی وہ سوال ہے جو اس نوجوان کے ذہن میں پیدا ہوا اور جس کا جواب دیا جانا ازحد ضروری ہے۔ شاید بعض افراد کا یہ نظریہ ہو کہ قرآن کی موجودگی میں اس قسم کے شخصی، معیار حق کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے، قرآن فرقان ہے، یعنی حق کو باطل سے جدا کرنے والا ہے تو انتہائی ادب کے ساتھ عرض ہے کہ اگر یہی فرقان کافی تھا تو معاذاللہ رسولوں کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ سیدھا سیدھا کتابیں نازل کی جاتیں اور لوگوں کو کہا جاتا کہ ان کو پڑھ لو اور جیسا سمجھ آئے ویسا عمل کرو۔ قرآن ہی کافی ہوتا تو عبیداللہ ابن زیاد اور یزید اسی قرآن کی آیات کے ذریعے لوگوں کو گمراہ نہ کرتے۔ ظالم و جابر حکمرانوں کی حکومتوں کو دوام بخشنے کے لیے یہ نہ کہا جاتا کہ آیا قرآن میں نہیں آیا کہ امیر کی اطاعت کرو چاہے وہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو۔  تاریخ اسلام گواہ ہے کہ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیھم کی خلافت سے صلح امام حسن علیہ السلام تک امت ہر معاملے میں ہمیشہ دو نظریاتی گروہوں میں منقسم رہی۔ تاہم حسین کا قیام ایسا اقدام ہے جس پر مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی امام عالی مقام کی عظمت کے قائل نظر آتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اسلامی معاشرے میں جس ہستی کے اقدام کو بلا تخصیص مسلک و گروہ حق سمجھا گیا، امام حسین علیہ السلام کی ذات والا صفات ہے۔ حسین علیہ السلام نے اپنے اقدام کے ذریعے حق کا وہ معیار قائم کیا، جو رہتی دنیا تک مینارہ نور کی مانند نسل انسانی کی ہدایت کا فریضہ سر انجام دیتا رہے گا۔ آج لفظ حق اور نام حسین علیہ السلام یوں مترادف ہو چکے ہیں کہ ان کے مابین تمیز کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ حسین علیہ السلام نے منافقت کے پردوں میں چھپے ہوئے باطل کو یوں آشکار کیا کہ وہ آج تک کسی بھی روپ میں حسین علیہ السلام کے روبرو ہونے سے خوفزدہ نظر آتا ہے۔ اس واقعہ کی عمومی پذیرائی اور تاثیر ہی ہے جس کے سبب طول تاریخ میں مورخین اور مفسرین نے اس واقعہ کے مختلف پہلوئوں کو زیر بحث لایا۔ کسی نے اس واقعہ کی سیاسی توجیہ کی، تو کسی نے اسے عشق خدا کی حکایت گردانا۔ اس مضمون میں میری کوشش ہو گی کہ میں اس تمام ماجرے کو حسین علیہ السلام کے کلام کے آئینہ میں دیکھوں اور جانوں کہ کیسے اور کیونکر حسین علیہ السلام اور ان سے متعلق ہر فرد، شے اور اقدام صرف حق ہی نہیں بلکہ حق کا معیار ٹھہرا۔ نواسہ رسول ص حسن مجتبٰی علیہ السلام کی رحلت کے بعد شیعان علی علیہ السلام اور بنو ہاشم کی سربراہی حسین علیہ السلام کے دوش پر آئی، امام حسین علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام اور امیر شام کے مابین ہونے والے معاہدہ صلح کو جاری رکھا۔ حالانکہ امام عالی مقام کے خطبات سے واضح ہوتا ہے کہ آپ امیر شام کی وعدہ خلافیوں، عہد شکنیوں سے سخت نالاں تھے۔ اسی مضمون پر مشتمل امام عالی مقام کے ایک خطبے کا اقتباس جو کہ آپ نے امیر شام کی وفات سے دو سال قبل حج کے موقع پر ارشاد فرمایا پیش قارئین ہے۔ اس خطبہ میں امام عالی مقام نے علماء و زعمائے ملت اسلامیہ کو یہ باور کرایا کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور ان ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا کیا انجام ہو سکتا ہے۔ امام عالی مقام فرماتے ہیں فاستخففتم بحق الائمۃ ، فاما حق الضعفاء فضیعتم ، و اما حقکم بزعمکم فطلبتم فلا مالا بذلتموہ ، ولا نفسا خاطرتم بھا للذی خلقہا ولا عشیرہ عادیتموھا فی ذات اللہ۔ (اے گروہ علماء تم نے امت کے حقوق کو نظرانداز کیا، معاشرے کے کمزور لوگوں کے حق کو ضائع کیا اور جسے اپنے زعم میں اپنا حق خیال کرتے تھے طلب کیا اور بیٹھ رہے۔ تم نے( حقوق کے معاملے میں) نہ تو کوئی مالی قربانی دی اور نہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور نہ اللہ کی خاطر کسی قوم و قبیلہ کا مقابلہ کیا۔   علی الاعلان فسق و فجور کرنے والے عاملین کی حکومت اور اقتدار کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: سلطھم علی ذالک فرارکم من الموت، واعجابکم بالحیاۃ التی ھی مفارقتکم ۔ ان کے (حکومت پر) قبضہ کرنے کی وجہ تمھارا موت سے فرار اور اور اس عارضی زندگی سے محبت ہے۔ امام عالی مقام اسی خطبے میں ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق نہ کہنے کے نتائج بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فاسلمتم الضعفاء فی ایدیھم فمن بین مستعبد مقھور و بین مستضعف علی معیشۃ مغلوب تم نے معاشرے کے کمزور لوگوں کو ان (امویوں) کے سپرد کر دیا، جن میں سے کچھ غلاموں کی مانند کچل دیئے گئے اور کچھ اپنی معیشت کے ہاتھوں بے بس ہو گئے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے صرف ساٹھ برس بعد امت کی حالت پر ان الفاظ سے تعجب فرماتے ہیں: فیا عجبا وما لی اعجب والارض من غاش غشوم و متصدق ظلوم و عامل علی المومنین بھم غیر رحیم تعجب ہے! اور کیوں نہ تعجب کیا جائے کہ زمین ایک دھوکہ باز ستم کار کے ہاتھ میں ہے اور اس کے عامل مومنین کے لیے بے رحم ہیں۔ خطبے کے آخر میں امام کے یہ دعائیہ کلمات امام کے اھداف و مقاصد کی ترجمانی کرتے ہیں اللھم انک تعلم انہ لم یکن ما کان منا تنا فسا فی سلطان ولا التماسا من فصول الخصام ، ولکن لنری المعالم من دینک و نظھرا الاصلاح فی بلادک ، ویامن المظلومون من عبادک ، ویعمل بفرائضک وسننک و احکامک۔ بارالہا تو جانتا ہے کہ ہمارا کوئی بھی اقدام نہ تو حصول اقتدار کے لیے رسہ کشی ہے اور نہ ہی مال کی زیادتی کے لیے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کریں اور تیری زمین پر بھلائی عام کریں، تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو اور تیرے فرائض، سنتوں اور احکام پر عمل ہو۔ فانکم الا تنصرونا تنصفونا قوی الظلمۃ علیکم، وعلموا فی اطفاء نور نبیکم۔ اے لوگو ! اگر آج تم نے ہماری مدد نہ کی اور ہم سے انصاف نہ کیا تو ظالم تم پر غالب آ جائیں گے اور تمھارے نبی کے نور (دین خدا) کو خاموش کرنے میں زیادہ متحرک ہو جائیں گے۔ و حسبنا اللہ، وعلیہ توکلنا والیہ انبنا والیہ المصیر1 ہمارے لیے خدا ہی کافی ہے، اسی پر ہم توکل کرتے ہیں، اسی کی جانب ہماری توجہ ہے اور اسی کی جانب ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ امیر شام یزید کی بیعت کی غرض سے مدینہ آیا جبکہ صلح امام حسن علیہ السلام کی اہم شق یہ تھی کہ امیر شام اپنے بعد کسی شخص کو اپنی جگہ متعین نہیں کرے گا۔ امیر شام نے بنو ہاشم اور مدینہ کے باقی قبائل کو اکٹھا کیا اور یزید کی صفات بیان کیں۔ امام عالی مقام نے امیر شام کے خطاب کے جواب میں فرمایا یا معاویہ فلن یودی القائل وان اطنب فی صفۃ الرسولصلی اللی علیہ وآلہ وسلم من جمیع جزء ا وقد فہمت ما لبست بہ الخلف بعد رسول اللہصلی اللی علیہ وآلہ وسلم من ایجاز الصفۃ والتنکب عن استبلاغ النعت۔ اے معاویہ! تعریف کرنے والا چاہے کتنی ہی تعریف کرے، صفات رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک جز بھی بیان نہیں کر سکتا۔ اور تم تو بخوبی جانتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد لوگوں نے آنحضرت کی صفات بیان کرنے میں کتنی کمی کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ثناء میں کیسا ظلم روا رکھا۔ امام عالی مقام اسی خطبے میں آگے چل کر فرماتے ہیں و فہمت ما ذکرتہ عن یزید من اکتمالہ و سیاستہ لامۃ محمدصلی اللی علیہ وآلہ وسلم ترید ان توھم الناس فی یزید کانک تصف محجوبا او تنعت غائبا اور تخبر عما کان مما احتویتہ بعلم خاص ، وقد دل من نفسہ علی موقع رایہ، فخذ لیزید فیما اخذ فیہ من استقرائہ الکلاب المہارشۃ عند التہارش، و الحمام السبق لا ترابہن ، و القیان ذوات المعازف و ضروب الملاھی تجدہ باصرا ودع عنک ما تحاول ۔2 جو کچھ تم نے یزید کے کمالات اور امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کی سیاست دانی کا ذکر کیا، اسکو میں سمجھتا ہوں۔ تم چاہتے ہو کہ یزید کے بارے میں لوگوں کو ایسے دھوکے میں رکھو گویا تم ان کے سامنے کسی پوشیدہ شخصیت والے کی صفت بیان کر رہے ہو اور کسی غائب کی تعریف کر رہے ہو یا تم کسی ایسی چیز کا ذکر کر رہے ہو جسے تم نے مخصوص ذرائع سے حاصل کیا ہے، حالانکہ اس (یزید) نے اپنا تعارف (اعمال سے) خود کرا دیا ہے۔ لہذا تم بھی یزید کے لیے وہی چیزیں اختیار کرو، جو اس نے خود اپنے لیے اختیار کی ہیں۔ جیسے لڑائی کے لیے کتوں کا پالنا، کبوتروں کی پرورش، گانے بجانے والیاں اور اسی قسم کے دیگر شغل۔ ہاں یزید ان شغلوں میں کافی مہارت رکھتا ہے ۔ اس (یزید کی بیعت کے) خیال کو اپنے سے دور کرو۔  بہتر ہو گا کہ اس مقام پر یزید کے کچھ بیانات قلمبند کیے جائیں، تاکہ قارئین کو معلوم ہو سکے کہ یہ شخص کس قماش کا انسان تھا اور امام عالی مقام اس کی بیعت کے کیوں مخالف تھے۔ ویسے تو یزید کا سر عام شراب پینا، بندروں سے کھیلنا، شکاری کتے پالنا؛ امام ع کے قبل ازیں درج کردہ خطبے سے واضح ہے۔ یزید کن نظریات کا حامل تھا، آئیں اسی کے اشعار سے سمجھتے ہیں۔ لما بدت تلک الرووس و اشرقت تلک الشموس علی ربی جیرون صاح الغراب فقلت صح او لا تصح فلقد قضیت من النبی دیونی جب وہ سر نمودار ہوئے اور سورج قصر جیرون پر نکلا تو کوے نے کائیں کائیں شروع کی۔ میں نے کہا تو کائیں کائیں کر یا نہ کر میں نے نبی سے اپنا قرض وصول کر لیا۔(3)   اسی طرح یزید کے سامنے جب سر حسین ع پیش کیا گیا تو یزید نے دندان حسین ع پر چھڑی ماری جس سے اہلبیت رسول ص نے بلند آواز سے گریہ شروع کیا تو یزید نے یہ اشعار پڑھے۔   لیت اشیاخی ببدر شھدوا جزع الخزرج من وقع الاسل لا حلو واستھلوا فرحا ثم قالوا یا یزید لا تشل لعبت بنی ہاشم بالملک فلا ن خبر جاءولا وحی نزل کاش بدر میں مارے جانے والے میرے بزرگ قبیلہ خزرج کی نیزہ لگنے سے آہ و زاری دیکھتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے، اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں، بنی ہاشم نے سلطنت حاصل کرنے کے لیے ایک ڈھونگ رچایا، نہ تو کوئی (غیب سے) خبر آئی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی (نعوذباللہ)۔ (4)   یزید کو امیر المومنین کہنے والوں کے لیے یہ اشعار آئینہ ہیں۔ تاریخ کہتی ہے کہ امیر شام نے مختلف حیلوں بہانوں اور سازشوں کے ذریعے یزید کی بیعت کا سلسلہ جاری رکھا۔ امیر شام کا بیعت لینے کا انداز امام ث کی زبانی ہی سنئے: ۔۔۔۔ الست القاتل حجر بن عدی اخا کندہ و اصحابہ المصلین العابدین ، کانوا ینکرون و یستفظعون البدع ویامرون بالمعروف ، و ینھون عن المنکر۔ولا یخافون فی اللہ لومة لائم ؟ کیا تو حجر بن عدی ان کے بھائیوں اور نماز گزار ساتھیوں کا قاتل نہیں ہےو جو تجھے ظلم کرنے سے روکتے تھے اور بدعتوں کے مخالف تھے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔؟ ۔۔۔۔او لست قاتل عمر و بن الحمق صاحب رسول اللہ العبد الصالح، الذی ابلتہ العبادہ فنحل جسمہ و ا صفر لونہ؟ کیا تو صحابی رسول عمرو بن حمق جیسے عبد نیک خصال کا قاتل نہیں ہے، جن کا جسم عبادت خدا کی وجہ سے نڈھال ہو چکا تھا اور کثرت عبادت کے سبب ان کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔؟ ۔۔۔ولقد نقضت عھدک بقتل ھو لاءالنفر الذین قتلتھم بعد الصلح والایمان ، و العھود و المواثیق فقتلتھم من غیر ان یکونوا قاتلو ا و قتلوا ، ولم تفعل بھم الا لذکر ھم فضلنا و تعظیمھم حقنا فقتلتھم مخافة امر لعلک لو لم تقتلھم مت قبل ان یفعلو او ماتوا قبل ان یدرکوا۔ یقیناً تو نے عہد شکنی کی، اس جماعت سے اور ان کو صلح کرنے، عہد کرنے اور اس کی توثیق کے بعد قتل کر ڈالا، تو نے ایسا نہیں کیا مگر فقط اس لیے کہ یہ لوگ ہمارے فضائل و مناقب بیان کرتے تھے اور ہمارے حق کو عظیم جانتے تھے، پس تو نے ان کو صرف اس لیے قتل کیا کہ مبادا تو ان کو قتل کیے بغیر مر نہ جائے۔ ۔۔۔ ولیس اللہ بناس لاخذک بالظنة ، وقتلک اولیاءہ علی التھم ، ونفیک اولیائہ من دورھم الی دار الغربة ، و اخذک للناس ببیعة ابنک غلام حدث ، یشرب الشراب ، و یلعب بالکلاب۔ خدا نہیں بھولا، ان گناہوں کو جو تو نے کیے، کتنوں کو محض گمان پر تو نے قتل کیا۔ کتنے اولیائے خدا پر تو نے تہمت لگا کر انہیں قتل کیا۔ کتنے اللہ والوں کو تو نے ان کے گھروں سے نکال کر شہر بدر کیا اور کس طرح تو نے یزید جیسے شرابی اور کتوں سے کھیلنے والے کے لیے لوگوں سے زبردستی بیعت لی۔ (5)   اس ایک خط میں امام عالی مقام نے امیر شام کے ایفائے عہد، اسلام دوستی، احترام میثاق کی قلعی کھول کر رکھ دیو اگرچہ یہ خط کافی طویل ہے اور اس کا ہر جملہ لکھے جانے کے قابل ہے، تاہم کچھ محنت قارئین کے ذمے بھی چھوڑتا ہوں کہ اس خط کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ وہ کیا حالات تھے جن کے سبب امام حسین ع قیام پر مجبور ہوئے۔ امیر شام کی موت کے بعد طے شدہ منصوبے کے تحت یزید تخت حکومت پر براجمان ہوا اور اس نے اپنے گورنروں کے ذریعے بیعت کا انکار کرنے والے افراد حسین ع، عبداللہ بن زبیر، عبداللہ ابن عمر اور عبداللہ ابن عباس سے بیعت کا تقاضا شروع کر دیا۔ مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ نے امام عالی مقام کو اس بیعت کے لیے دربار میں طلب کیا، بیعت کے سوال پر امام عالی مقام نے فرمایا: ایھا الامیر انا اھلبیت النبوة و معدن الرسالة و مختلف الملائکہ وبنا فتح اللہ و بنا ختم اللہ ۔ ویزید ! رجل فاسق ، شارب الخمر ، قاتل النفس المحترمةمعلن بالفسق ۔۔۔مثلی لا یباع بمثلة۔ اے حاکم (مدینہ) ! میں نبی کی اہلبیت ہوں، میں رسالت کی کان ہوں، ہمارا گھر ہی فرشتوں کی آماجگاہ ہے۔۔۔۔۔یزید! ایک فاسق شخص ہے، جو شراب پیتا ہے، صاحب حرمت انسانوں کا قاتل ہے، فسق و فجور کا کھلم کھلا ارتکاب کرتا ہے۔۔۔مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔ (6) مروان بن حکم نے جرات کی اور امام عالی مقام سے کہا کہ آپ کے لیے بہتر ہے کہ آپ یزید کی بیعت کر لیں۔ تو امام نے جواب دیا: ۔۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون ! و علی الاسلام السلام۔ ہم خدا کی جانب سے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اسلام پر سلام ہو۔ (7)   اب حسین ع کے لیے مدینہ جائے سکونت نہ رہا، آپ نانا کے روضہ پر جاتے ہیں اور انتہائی اندوہ کے ساتھ عرض کرتے ہیں: ۔۔۔با بی انت وامی یا رسول اللہ لقد خرجت من جوارک کرھاو فرق بینی و بینک واخذت قرھا ان ابائع یزید شارب الخمر وراکب الفجور۔ وان فعلت کفرت وان ابیت قتلت۔ اے رسول خدا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ میں آپ کے جوار سے بادل ناخواستہ جا رہا ہوں، میرے اور آپ کے مابین جدائی پیدا کی جا رہی ہے اور مجھ کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ میں یزید کی بیعت کروں جو کہ شرابی اور فاجر ہے۔ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو یہ کفر ہے اور اگر میں انکار کرتا ہوں تو قتل کر دیا جاﺅں گا۔ (8)  امام عالی مقام نے مدینہ سے مکہ کی جانب روانگی کے وقت اپنے بھائی محمد حنفیہ کو وصیت کی جس کے الفاظ درج ذیل ہیں: ۔۔۔انی لم اخرج اشرا ولا بطرا ولا مفسد ا ولا ظالما وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ارید امر بالمعروف و انھی عن المنکراسیر بسیرة جدی و سیرة علی ابن ابی طالب فمن قبلنی بقبول الحق فاللہ اولی بالحق وھو احکم الحاکمین۔ میں تکبر، خود خواہی یا فساد اور ظلم کے لیے نہیں نکلا، میرے خروج کا مقصد امت محمد کی اصلاح ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ انھیں نیکی کی تلقین کروں اور برائی سے منع کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے جد (رسول اللہ) اور (اپنے بابا) علی ابن ابی طالب ع کی سیرت کی پیروی کروں۔ جو میرے حق کو سمجھتے ہوئے اسے قبول کرے گا تو خدا حق کا زیادہ سزاوار ہے اور وہ ہی تمام فیصلے کرنے والوں میں بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (9) حالات کے تناظر میں حسین ع کو مدینہ سے روانگی کے وقت آپ کی ذات کی عظمت و اہمیت کا ادراک رکھنے والے ہر شخص نے روکا۔ جن میں آپ کے بھائی، چچا زاد سبھی شامل تھے۔ امام عالی مقام ع کے قبل ازیں درج کردہ خط کے تناظر میں جو امیر شام کے نام لکھا گیا؛ یہ بات عیاں ہے کہ حسین ع خود بھی اموی حکومت کی ریاستی دہشتگردیوں اور مظالم سے آگاہ تھے۔ حسین ع جانتے تھے کہ میرے اس انکار اور سفر کا کیا انجام ہو سکتا ہے، ملت اسلامیہ کی حالت بھی آپ سے پنہاں نہ تھی۔ ایسا نہیں کہ حسین ع اچانک ان حالات سے نبرد آزما ہوئے۔ آپ اپنے بابا علی ع اور بھائی حسن ع کا زمانہ دیکھ چکے تھے، امت مسلمہ کی دین اور اہلبیت رسول سے وفاداریوں سے بھی آگاہ تھے۔ آپ جانتے تھے کہ معاشرہ کن امراض کا شکار ہے۔ قبل ازین درج کردہ مکہ کا نہایت فصیح خطبہ انہی امور پر دلالت کرتا ہے۔ حسین ع جانتے ہیں کہ جس دشمن سے میرا سامنا ہے وہ انتہائی رذیل و بے رحم ہے، حسین ع جانتے ہیں کہ امت مسلمہ افتراق میں مبتلا ہے، حسین ع جانتے ہیں کہ امت رسول میں کوئی بھی شخص اتنی اخلاقی جرات نہیں رکھتا کہ اموی بربریت کے مقابل قیام کرے۔ شرفائے مکہ و مدینہ سید الشرفاء حسین ع کو سرحدی علاقوں کی جانب کوچ کرنے کی نصیحتیں کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بیعت نہ کریں، مگر حکومت سے متعارض بھی مت ہوں، تو کوئی یمن کی پہاڑیوں میں پناہ گزین ہونے کی بات کرتا ہے۔ قیام کے ظاہری وسائل کی عدم دستیابی کا ادراک رکھنے والے اشخاص اپنے آپ کو قافلہ حسین ع سے دور کرتے نظر آتے ہیں۔ موت کا خوف، زندگی کی آسائشوں سے دوری، اپنے گھر بار کی تاراجی کا وسوسہ سینوں کو تنگ و تاریک کرتا دکھائی دیتا ہے۔ حسین ع ان تمام خطرات کے باوجود 9 ذوالحجہ 60 ھ کو مکہ سے حج کی رسومات کو ترک کرتے ہوئے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔ حسین ع وارث انبیاء جانتے تھے کہ اگر آج میں نے خاموشی اختیار کی اور دین کو اسی طرح بے یارو و مدد گار چھوڑ کر اپنی راہ لی تو آدم تا خاتم الانبیاء تمام الہی نمائندوں کی ریاضتیں، شہدائے بدر و حنین کا خون بلکہ یوں کہوں کہ وحی و ہدایت کا تمام تر سلسلہ بے اثر ہو جائے گا، روح اسلام جاتی رہے گی۔ اذان تو ہو گی مگر ظلم کو ظلم کہنے والا کوئی نہ ہو گا، نمازیں تو پڑھی جائیں گی مگر روح نماز ایک معبود کی بندگی سے خالی ہو گی۔ عقیدہ توحید کی تمام تر حکمتیں شرک کی ایک نئی صورت تلے دب کر بے معنی ہو جائیں گی۔ مسیحی اور یہودی اقوام کی مانند اسلام فقط اخلاقیات اور عبادات کا مجموعہ رہ جائے گا۔ حسین ع کے جیتے جی یہ کیسے ممکن تھا کہ ان کے نانا کی شریعت خدا کا پسندیدہ دین اسلام، مسخ کر دیا جائے۔ حسین ع فتح یا شہادت ہر دو صورت میں یہ چاہتے ہیں کہ دین کی حقیقی تعلیمات کا احیاء کریں، خواہ اس کے لیے کیسی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے، آپ چاہتے ہیں کہ حق کا ایک ایسا معیار قائم کر جائیں، جس کو آنے والے دور کے انسان میزان سمجھیں۔ مقام ذوحسم پر آپ نے حر کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا: الا ترون ان الحق لا یعمل بہ وان الباطل لا یتناھی عنہ، لیرغب المومن فی لقاءاللہ محقا فانی لا اری الموت الا شھادہ ولا الحیاة مع الظالمین الا برما۔10…………… اے لوگو ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے پرہیز نہیں کیا جا رہا، ایسے میں مومن کو خدا سے ملاقات کا مشتاق ہونا چاہیے۔ میں موت کو شہادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو ننگ و عار سمجھتا ہوں۔  مقام بیضہ پر امام عالی مقام نے حر کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا : ایھا الناس ! ان رسول اللہ قال : من رای سلطانا جائرا مستحلا لحرام اللہ ناکثا عھدہ مخالفا لسنة رسول اللہ یعمل فی عباد اللہ بالاثم والعدوان فلم یغیر علیہ بفعل ولا قول ، کان حقا علی اللہ ان یدخلہ مدخلہ ۔ الا وان ھولاءقد لزموا طاعة الشیطان و ترکوا طاعة الرحمن و اظھروا الفساد و عطلو الحدود واستاثروا با لفی ءو احلو ا حرام اللہ و حرموا حلالہ وانا احق ممن غیر ……………….۔11 اے لوگو! رسول نے فرمایا: جو شخص ظالم بادشاہ کو خدا کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال قرار دیتے، خدا کے عہد کو توڑتے، سنت رسول ص کی مخالفت کرتے اور خدا کے بندوں پر ظلم روا رکھتے ہوئے دیکھے اور قول و فعل سے اس کی مخالفت نہ کرے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ انھوں (بنی امیہ) نے شیطان کے حکم کے تحت خدا کی اطاعت سے روگردانی کر لی ہے، فساد پھیلا رہے ہیں، خدا کی حدود کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کرتے، بیت المال کو خود سے مخصوص کر لیا ہے، خدا کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال سمجھ لیا ہے، انھیں ان بدکاریوں سے روکنے کا میں خود کو مستحق سمجھتا ہوں۔  کربلا میں امام ع نے لشکر یزید سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایھا الناس ! انسبونی من انا ثم ارجعوا الی انفسکم و عاتبوھا وانطروا ھل یحل لکم قتلی و انتھاک حرمتی؟ الست ابن بنت نبیکم وابن وصیة وابن عمہ والول المومنین باللہ والمصدق لرسولہ بما جاءمن عند ربہ؟ او لیس حمزة سید الشھداءعم ابی؟ اولیس جعفر الطیار عمی؟ اولم یبلغکم قول رسول لی ولاخی : ھذان سید ا شباب اھل الجنة12……………. اے لوگو ! میرا نسب یاد کرو، سوچو میں کون ہوں، ہوش میں آﺅ، اپنے نفسوں پر ملامت کرو اور غور کرو کیا مجھے قتل کرنا اور میری حرمت کو پامال کرنا تمھارے لیے روا ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کی بیٹی کا بیٹا اور رسول کے وصی اور چچا زاد کا بیٹا نہیں ہوں۔؟ کیا میں اس کا بیٹا نہیں ہوں، جو سب سے پہلے اللہ پر ایمان لایا اور جس نے رسول کی باتوں کی سب سے پہلے تصدیق کی۔؟ کیا سید الشہداء حضرت حمزہ میرے چچا نہیں ہیں۔؟ کیا جعفر طیار میرے چچا نہیں ہیں۔؟ کیا تم لوگوں تک رسول کا میرے اور میرے بھائی کے بارے میں یہ قول نہیں پہنچا کہ یہ دونو ں جوانان جنت کے سردار ہیں۔؟ حسین ع اپنے بابا اور بھائی کی مانند تاریخ کے وہ مظلوم ہیں جنھیں رسول ص کے واضح فرمودات کے باوجود مسلمان نہ پہچان سکے۔ رسول خدا نے حسن ع و حسین ع اور ان کے بابا کے بارے میں جو کچھ کہا یا تو مسلمانوں نے اسے فراموش کر دیا، یا پھر اس کی مختلف توجیہات کے ذریعے اس کی اہمیت کو گھٹا دیا۔ رسول ص نے کہا: علی مع الحق و الحق مع علی ولن یفترقاحتی یردا علی الحوض یوم القیامة۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔13. علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ، یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، حتٰی کہ مجھ سے روز قیامت حوض کوثر پر ملحق ہو جائیں۔ وما ینطق عن الھوی کی مصداق لسان صدق علی ع کو میزان حق و صداقت بیان کر رہی ہے، مسلمان مخمصے میں رہے کہ رسول کے اس ارشاد سے کیا مراد ہے۔ رسول نے کہا : اللھم ادر الحق معہ حیث دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔14 اے اللہ حق کو ادھر موڑ دے جدھر یہ (علی) مڑ جائے۔  کسی نے یہ نہیں سوچا کہ منصوص من اللہ رسول، جس کی معصومیت کا ہر مسلمان قائل ہے، جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے دوست کو آپ نے دوست رکھا، چاہے وہ حبشی ہی کیوں نہ تھا اور اللہ کے دشمن کو اپنا دشمن مانا چاہے اپنا سگا چچا ہی کیوں نہ تھا، جو مجیب الدعوات تھا اور ہے، کہ جس کی کوئی دعا رد نہ ہوتی تھی، کیسے اپنی کسی خونی نسبت کے سبب یہ دعا کر رہا ہے۔ رسول کی نسبت تصور کرنا کہ وہ معاذ اللہ اپنی خونی وابستگیوں کے سبب کچھ لوگوں سے بہت پیار کیا کرتے تھے، جس کا اظہار وہ اکثر عام مسلمانوں میں بھی کرتے رہتے تھے، رسول کی محنتوں کا کفران ہے۔ عام فہم انسان بھی جانتا ہے کہ میں اگر اپنے معتقدین کے سامنے کوئی عمل انجام دوں گا تو یہ لوگ بھی اس کی تقلید کریں گے۔ کجا سیدالمرسلین ! کہ جو ہدایت کی آخری کڑی ہیں، جنھیں تا قیام قیامت آنے والے انسانوں کے لیے مشعل راہ بننا ہے۔ اگر سیدالمرسلین کسی حلال شے کو وقتی طور پر ترک کر دیتے ہیں یا کسی بیوی کے پاس جانا چھوڑ دیتے ہیں تو قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور الرحیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔15. اے نبی! آپ خدا کی حلال کی ہوئی چیز سے اجتناب کیوں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ اسی رسول کے کندھوں پر حسین ع دوران سجدہ سوار ہوتے ہیں اور سجدہ طویل ہو جاتا ہے، مگر خدا کی جانب سے کوئی تنبیہ نہیں آتی کہ آئندہ یہ بچہ مسجد نہ آئے۔ دوران کار رسالت، حسین ع اپنے لباس سے الجھ کر مسجد نبوی کے دروازے پر گر کر بلکنے لگتے ہیں اور ختم الانبیاء کسی جاں نثار کو کہنے کے بجائے خود منبر چھوڑ کر حسین ع کی جانب دوڑتے ہیں۔ حسین ع کے لب و رخسار کا بوسہ لیتے ہیں اور دوبارہ اپنا وعظ شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی وعید نہیں آتی کہ اے رسول یہ کیا کرتے ہو، دین کے کام چھوڑ کر بچوں کو کھلار ہے ہو۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان سادہ ذہنوں پر جو رسول ص کے ان سوچے سمجھے افعال کو ان کی پدری شفقت پر محمول کرتے ہیں۔ نہ جانے فرقان حمید میں ارشاد رب العزت قل لا اسالکم علیہ اجرا الی المودة فی القربی کو یہ سادہ ذہن کس محبت کا شاخسانہ قرار دیں گے۔ حسین منی وانا من الحسین ……….۔16 حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ کے ارشاد ختمی المرتبت کو ہی لے لیجئے۔ کسی اہل دانش نے نہیں سوچا کہ چلو حسین ع کا رسول سے ہونا تو سمجھ آتا ہے، یہ رسول کا حسین ع سے ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ حسین ع نے جہاں ظالم اور ظلم کے خلاف قیام کیا، وہاں آپ کا یہ اقدام کئی اسیے مخمصوں کا حل بھی پیش کرتا ہے، جنھوں نے چودہ سال سے ذہن مسلم کو فکری و عقیدتی شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ حسین ع نے اپنے اس اقدام کے ذریعے ثابت کیا کہ رسول ص کا اعلان خم غدیر من کنت مولاہ فھذا علی مولا…….۔17 صرف روحانی یا علمی ولایت کا اعلان نہیں تھا، بلکہ یہ ولایت کلی کا اعلان ہے۔ تبھی تو کلام خدا میں ارشاد رب العز ت ہوا: الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا.18……… آج کے روز ہم نے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔ حسین ع کا قیام زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ نیابت رسول خدا یعنی امامت امت، اس کے سوا کیا ہے؟ مدینہ اور مکہ سے امام عالی مقام ع کی روانگی کے وقت سیاست مدار افراد کے مشورے، امت اسلامیہ کے ذہنوں میں بیٹھا ہوا بنو امیہ اور شامی افواج کا خوف، ظاہری کامیابی کے وسائل کی عدم دستیابی اور اسی قسم کے طرح طرح کے وساوس چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج اپنی فکری و اسٹریٹیجک اہمیت و افادیت کھو چکے ہیں۔ آج اگر کوئی چیز باقی ہے تو وہ حسین ع کا ذکر، آپ کی حمیت، آپ کی قربانی اور دین الہی کی حقیقی تعلیمات ہیں اور سب سے بڑھ کر حق و باطل کی وہ تمیز باقی ہے، جو حسین ع نے اپنے خون سے رقم کی۔ حوالہ جات 1۔تحف العقول طبع بیروت ،ص171 2۔الامامة و السیاسة،ج1,ص 186 3۔ازمة الخلافة الامامة ص 136 4۔ قمقام زخار ص 521 5۔ الامامة والسیاسة ج 1 ص 190 6۔لھوف ص 10 7۔لھوف ص 10 8۔مقتل ابی مخنف ص 15 9۔ مناقب ج 4 ص 88 10۔ تاریخ طبری ج 5 ص 403 11۔مقتل الحسین مقرم ص 184 12۔حیات الحسین ؑ ج 3 ص 184 13۔ تاریخ بغداد ج 14ص 320-321 ح7643 14۔الصحیح ترمذی ج 5 ص 592 ح 3714 15۔تحریم :1 16۔سنن ترمذی مناقب الحسن و الحسین 12، 245 17۔سیوطی ،تفسیر در منثور ج 2 ص 327 18۔المائدہ :3
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.