دس دنوں کا مہمان۔۔۔غم حسین ع

299

مندرجہ بالا عنوان پر فخر کروں یا گریہ!۔۔۔۔۔حسین ع جنہوں نے انسانیت کو درس حیات دیا کا غم آج اپنے عروج پر ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں غم خواران حسین ابن علی ع مجالس، جلوس، ماتم، محافل، افکار، اشعار اور جذبات کے اظہار کے ذریعے تاریخ اسلام میں ہونے والے اس ظلم و بربریت پر اظہار افسوس کر رہے ہیں۔ عام مسلمان رسول اسلام کو ان کے نواسے اور خانوادے کی مظلومانہ شہادت پر پرسہ دے رہے ہیں تو شیعہ جو کہ حسین ع کے پیروکار ہونے کے دعویدار ہیں، رسول اللہ ص کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹی فاطمہ زہرا س، وصی رسول ص علی ابن ابی طالب ع، امام حسن ع اور آئمہ اثنا عشر ع کے اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔   ہندو، سکھ، عیسائی بھی اس اظہار غم میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ہندوستان کے ایک عالم دین کے مطابق بنارس کی ہندو عورتیں روز عاشور اپنے شیرخواروں کو اس وقت تک دودھ نہیں پلاتیں جب تک بابا حسین ع کا جلوس ان کی بستی سے گزر نہ جائے۔ روہڑی میں ہزاروں ہندو، سکھ تابوت حسین ع کو کندھا دینے کے لیے بیتاب ہیں۔ اس اظہار غم میں ادیب جو معاشرے کا سب سے زیادہ حساس جز ہیں کسی سے کیوں پیچھے رہیں۔ مجھے یہ بات سن کر انتہائی حیرت ہوئی کہ عصر عاشور پی ٹی وی پر نشر ہونے والا، سید ناصر جہاں کاپڑھا ہوا معروف کلام، ایک ہندو شاعر کی تصنیف ہے، جس کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔ :  جب ہو کے رہا قید سے گھر جائے گی زینب ع گھبرائے گی زینب ع، گھبرائے گی زینب ع   معروف ہندو شاعر بسوا ریڈی کہتا ہے:   قید ہندو کی ہے نہ مسلم کی دل پر درد میں ہے جائے حسین ع گو میں ہندو ہوں لیکن اے بسوا باخدا دل سے ہوں فدائے حسین ع ہندو شاعرہ دیوی روپ کمار کا نام تو مدح حسین ع کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جن کا یہ معروف کلام آج بھی محافل میں پڑھا جاتا ہے: نثار مرتضی ع ہوں، پنجتن سے پیار کرتی ہوں خزاں جس چمن پہ نہ آئے اس چمن سے پیار کرتی ہوں عقیدہ مذہب انسانیت میں کب ضروری ہے میں ہندو ہوں اور اک بت شکن سے پیار کرتی ہوں میں اس موضوع پر لکھنے بیٹھ جاﺅں تو سینکڑوں صفحات ناکافی ہوں۔ غیر مسلم دانشوروں، شعرا اور مفکرین کا بارگاہ حسین ع میں نذرانہ عقیدت کچھ نیا نہیں۔ کتاب خانے اس موضوع پر متعدد کتابوں سے پر ہیں۔ اس غم کی وجہ کیا ہے؟ دین کی قید سے ہٹ کر لوگوں کا اس موضوع پر اظہار کرنا انتہائی معنی خیز ہے۔ تاریخ اسلام میں اور بھی کئی شخصیات گزری ہیں، تاہم کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جوش عقیدت میں غیر مذہب نے ان کے بارے میں کچھ کہا ہو۔ شیعہ پر تو یہ تہمت ہے کہ وہ غلو کرتے ہیں اور واقعات کے بیان میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں، ان ہندوﺅں اور عیسائیوں کے اظہار غم کو کیا نام دیا جائے گا۔   مندرجہ بالا چند معروضات سے یہ بات تو ثابت ہے کہ حسین ع پر کسی خاص فرقے، مذہب، قوم یا نسل کا استحقاق نہیں، بلکہ حسین ع پوری انسانیت کے امام ہے۔ ہر فرد حسین ع سے تعلق کو افتخار سمجھتا ہے۔ حسین ع کا درد بقول بسوا ہر انسان کے لیے ساجھا ہے۔ دل خون کے آنسو روتا ہے جب دس دنوں کے بعد اس عالمی حماسہ کی بساط کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اپنے پرائے یکم محرم سے شروع ہونے والی انسانی بیداری کی اس تحریک کو روایتی طور پر ٹھنڈا کر کے سرخرو ہو جاتے ہیں۔ حسین ع اپنے مشن کی ترویج اور اشاعت کے لیے پہلے کی مانند یک و تنہا میدان کربلا میں ھل من ناصر ینصرنا کی صدا دیتا نظر آتا ہے۔   ہم دیکھتے ہیں کہ دل و دماغ کے مراکز سے اٹھنے والے جذبات کے اظہار کا یہ جنون، کم از کم شیعوں کو تو گھر میں نہیں بیٹھنے دیتا۔ عورت ہو یا مرد، بوڑھا ہو یا بچہ، عزاداری کی اس ثقافت میں شامل ہونے کے لیے گھروں سے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ مجالس، جلوس، ماتم میں شرکت کی جاتی ہے۔ جذبات کا یہ تلاطم دس محرم کو اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے، امیر، غریب کی شناخت کے بغیر سردی، گرمی کا خیال نہ رکھتے ہوئے، حسین ع کے محب میدان عمل میں اتر پڑتے ہیں۔ گولیاں، دھماکے اور موت کا خوف بھی اس جذبے کی راہ میں حائل ہونے سے قاصر ہے۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں چودہ سو سال سے اسی طرح قائم و دائم ہے۔ اس تحریک کے اسباب پر جتنا بھی غور کیا عقل سبب جاننے سے قاصر رہی۔ آخر کار پھر زبان وحی کا سہارا لینا پڑا کہ:   انالقتل الحسین ع حرارة فی قلوب المومنین لا تبرد ابدا یقینا قتل حسین کے لیے مومنوں کے دلوں میں ایک حرارت ہے جو کبھی ٹھندی نہیں ہو گی۔ المستدرک الوسائل۔المیرزا نوری ج 10ح12084 رسول صادق کا یہ قول صادق آج دنیا بھر میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ سائنس کے طالب علم جانتے ہیں کہ حرارت توانائی کی ایک قسم ہے اور ہر اہل دانش یہ بات جانتا ہے کہ کسی بھی توانائی کا استعمال مہارتوں کا متقاضی ہے۔ خدا کی جانب سے ودیعت ہونے والی اس روحانی قوت کو مختلف انسانوں اور اقوام نے مختلف انداز میں استعمال کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اقوام اس توانائی کو ویسے ہی خارج کر دیتی ہیں جیسے ان کے جسم میں داخل ہوتی ہے۔ یہ حرارت جب انہیں چین نہیں لینے دیتی، تو وہ اس کے اظہار کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ ماتم، نوحہ، گریہ، قمہ، زنجیر زنی، مجالس کا اہتمام، محافل کا انعقاد، اسی توانائی کے اظہار کے ذرائع ہیں۔  دس محرم کے بعد جب یہ لہریں دھیمی پڑ جاتی ہیں تو ہمارا غم حسین ع بھی ایک روایتی شکل اختیار کر لیتا ہے اور آٹھ ربیع الاول تک جاری رہنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ کلی طور پر عراقی، افغانی، شامی، پاکستانی اور دیگر کئی ممالک میں بسنے والے مومنین کی ایک بہت بڑی اکثریت اسی قسم کے افراد پر مشتمل ہے، تاہم مومنین کی ایک قسم وہ بھی ہے جو اس روحانی توانائی کو محفوظ کرنے اور اس سے درس حیات حاصل کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔ وہ ہر دن کو روز عاشورا اور ہر زمین کو زمین کربلا سمجھتے ہیں۔ میرا اشارہ بحیثیت قوم ایران اور لبنان کے شیعوں کی جانب ہے، جنہوں نے عاشورا کی درسگاہ سے تعلیم لینے کے بعد ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں پر نافذ کیا۔ امام خمینی نے ایک سوال کے جواب میں اسی بات کی جانب اشارہ کیا تھا: ما ہر چہ داریم از سالار شہیدان داریم ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے سید الشہدا ع کی وجہ سے ہے لبنان سے اسرائیل کے انخلا کے بعد شام میں عرب ممالک کے دانشوروں کی ایک کانفرنس میں لبنانی عربوں اور دیگر عرب ممالک کے عربوں کے مابین فرق واضح کرتے ہوئے ایک شامی دانشور نے کہا تھا کہ ان کے پاس کربلا ہے، جو ہمارے پاس نہیں۔ اس بات میں شک نہیں کہ حسین ع سب کا ہے اور ان کی تعلیمات سب کے لیے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ آیا حسین ع کا غم صرف اخروی نجات کے لیے ہی تھا۔؟ ہم سالہا سال سے یہ غم منانے میں مصروف ہیں، اپنی عقیدتوں اور محبتوں سے بھرپور جذبات اس خانوادے کو ہدیہ کرتے ہیں، لیکن کیا وہ ہماری اس غم خواری سے راضی بھی ہیں۔؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.