کلام اقبال (رہ) اور کربلا

327

 
علامہ اقبال (رہ) نے رموز بےخودی میں’درمعنی حریت اسلامیہ و سیر حادثہ کربلا’ کے عنوان سے امام عالی مقام کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ علامہ اقبال اسلام کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کربلا کا تذکرہ کرتے ہیں۔ کچھ اشعار عقل و عشق کے ضمن میں ہیں اس کے بعد اقبال جب اصل موضوع پرآئے ہیں تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کردار حسین (ع) کو کس نئی روشنی میں دیکھ رہے ہیں اورکن پہلوؤں پرزور دینا چاہتے ہیں حسین (ع) کے کردار میں انہیں عشق کا وہ تصور نظر آتا ہے، جو ان کی شاعری کا مرکزی نقطہ ہے اور اس میں انہیں حریت کا وہ شعلہ بھی ملتا ہے جس کی تب و تاب سے وہ ملت کی شیرازہ بندی کرنا چاہتے تھے ۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ: ہرکہ پیماں با ھْوَالمَوجود بست  گردنش از بند ہرمعبود رست ‘جو شخص قوانین خداوندی کی اتباع کو مقصود زندگی قرار دے لے اور اسی طرح اپنا عہدوپیمان اللہ سے باندھ لے اس کی گردن میں کسی آقا کی غلامی اور محکمومی کی زنجیر نہیں رہتی۔’ پہلے شعر کے بعد علامہ نے عشق و عقل کا خوبصورت موازنہ پیش کیا ہے۔ امام عالی مقام کا یہ کارنامہ عقل کی بنا پر ظہور پذیر نہیں ہوا بلکہ یہاں عشق کی قوت کارفرما تھی۔  عشق را آرام جاں حریت است ناقہ اش را ساربان حریت است ‘عشق کو کامل سکون اور اطمینان آزادی ملتا ہے اس کے ناقہ کی ساربان حریت ہے۔’ آن شنیدیستی کہ ہنگام نبرد  عشق باعقل ہوس پرورچہ کرد اقبال تمہیدی اشعار کے بعد واقعہ کربلا کی طرف آتے ہیں اورکہتے ہیں’تم نے سنا ہے کہ کربلا کے میدان میں عشق نے ہوس پرور عقل کے ساتھ کیا کیا۔’ آں امام عاشقان پور بتول  سرد آزادے زبستان رسول اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر  معنی ذبح عظیم آمد پسر عاشقوں کے امام، حضرت فاطمہ کی اولاد اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلستان کے پھول ہیں حضرت علی ان کے والد بزرگوار ہیں اس میں’اللہ اللہ’وہ کلمہ تحسین ہے جو مرحبا اور شاباش کے معنوں میں آتا ہے اس کے بعد حضرت علی (ع) کو’بائے بسم اللہ’ سے یاد کیا گیا ہے یہ خود علامہ اقبال کی اہل بیت (ع)  شناسی پرایک دلیل ہے۔ امام حسین (ع) کو’ذبح عظیم’ کا مصداق قرار دیا ہے اور آپ قربانی امام حسین (ع) کو قربانی اسماعیل (ع) کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔  بہرآں شہزادہ خیرالملل دوش ختم المرسلین نعم الجمل روایت میں ہے کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں نواسوں کو کندھوں پرسوار کرکے کھلا رہے تھے حضرت عمر نے حسنین علیھما السلام سے مخاطب ہو کر کہا "نعم المرکب” کہ کیا خوب سواری پائی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب میں فرمایا: اے عمر: یہ کیوں نہیں کہتے "نعم الرَّاکب” کہ سوار کتنے اچھے ہیں۔ سرخ رو عشق غیور از خون او  شوخی ایں مصرع از مضمون او امام حسین کے خون کی رنگینی سے عشقِ غیور سرخ رو ہے، کربلا کے واقعہ سے اس موضوع میں حسن اور رعنائی پیدا ہوگئی ہے۔  درمیاں امت آں کیواں جناب  ہمچو حرف قل ھواللہ درکتاب امت محمدیہ میں آپ کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے قرآن مجید میں سورہ اخلاص کی ہے سورہ اخلاص میں توحید پیش کی گئی جوکہ قرآنی تعلیمات کا مرکزی نکتہ ہے اسی طرح امام حسین کوبھی امت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔  موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید  ایں دو قوت از حیات آید پدید زندہ حق از قوت شبیری است باطل آخر داغ حسرت میری است دنیا میں حق و باطل کی کشمکش شروع سے چلی آرہی ہے اس کشمکش میں مجاہدین کی قوت بازو سے حق کا غلبہ ہوتا ہے اور باطل شکست و نامرادی سے دوچار۔۔۔  چوں خلافت رشتہ از قرآن گسیخت  حریت راز ہر اندر کام ریخت خاست آں سرجلوہ خیرالامم  چوں سحاب قبلہ باراں درقدم برزمین کربلا بارید و رفت  لالہ در ویرانہ کارید رقت  جب خلافت کا تعلق قرآن سے منقطع ہوگیا اور مسلمانوں کے نظام میں حریت فکر و نظر باقی نہ رہی تو اس وقت امام حسین (ع) اس طرح اٹھے جیسے جانب قبلہ سے گھنگھور گھٹا اٹھتی ہے یہ بادل وہاں سے اٹھا کربلا کی زمین پربرسا اور اسے لالہ زار بنادیا۔ تاقیامت قطع استبداد کرد موج خون او چمن ایجاد کرد آپ نے اس طرح قیامت تک ظلم و استبداد کے راستے بند کر دیئے اوراپنے خون کی سیرابی سے ریگزاروں کو چمنستان بنا دیا۔ بہرحق درخاک وخوں غلطیدہ است پس بنائے لاالٰہ گرویدہ است آپ نے حق کے غلبہ کے لئے جان دے دی اوراس طرح توحید کی عمارت کی بنیاد بن گئے بنائے ‘لاالٰہ’میں تلمیح ہے خواجہ معین الدین چشتی رہ کے اس مصرع کی طرف:”حقا کہ بنائے لاالہ است حسین” مدعایش سلطنت بودے اگر  خودنکردے باچنیں سامان سفر دشمناں چو ریگ صحرا لاتعد  دوستان او بہ یزداں ہم عدد اگر آپ کامقصد حصول سلطنت ہوتا تواس بےسروسامانی میں نہ نکلتے بلکہ دیگر سامان و اسباب سے قطع، ساتھیوں کی تعداد کے اعتبار سے دیکھئے تویہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مخالفین کا لشکر لاتعداد تھا مگر آپ کے ساتھ صرف بہتر(72) نفوس تھے یہاں علامہ نے یزداں کے عدد’72’ کاحوالہ دیا ہے۔ سرابراہیم و اسماعیل بود  یعنی آں جمال راتفصیل بود کربلا کے واقع میں قربانی اسماعیل کی تفصیل ہے۔ تیغ بہرعزت دین است و بس  مقصد اوحفظ آئین است و بس مومن کی تلوار ہمیشہ دین کے غلبہ و اقتدار کے لئے اٹھتی ہے ذاتی مفاد کے لئے نہیں اس کا مقصد آئین اور قانون کی حفاظت ہوتا ہے۔ ماسوا اللہ را مسلمان بندہ نسبت پیش فرعونی سرش افگندہ نسبت مسلمان اللہ کے سوا کسی کا محکوم نہیں ہوتا اس کاسرکسی فرعون کے سامنے نہیں جھکتا۔ خون او تفسیر ایں اسرار کرد  ملت خوابیدہ را بیدار کرد امام حسین کے خون نے ان اسرار و رموز دین کی تفسیر کردی اور سوئی ہوئی ملت کو جگایا۔ تیغ لا چو ازمیاں بیروں کشید  از رگ ارباب باطل خوں کشید انھوں نے جب’لا’ کو بےنیام کیا تو باطل کے خداؤں کی رگوں سے خون جاری ہوگیا۔ نقش الا للہ برصحرا نوشت  سطر عنوان نجات ما نوشت باطل کے خداؤں کو مٹانے کے بعد انہوں نے سرزمین کربلا پرخدا کی توحید کا نقش ثبت کردیا وہ توحید جو ہماری نجات کا سرعنوان ہے۔ رمز قرآن از حسین آموختیم  بہ آتش او شعلہ ھا اندوختیم ہم نے قرآن کے رموز و اسرار امام حسین سے سیکھے ہیں ان کی حرارت ایمانی سے ہم نے شعلہ ہائے حیات کو جمع کیا ہے۔ شوکت شام و فربغداد رفت سطوت غرناطہ ہم از یاد رفت تار ما ازخمہ اش لرزاں ہنوز تازہ از تکبیر اوایمان ہنوز مسلمانوں کی کئی سلطنتیں قائم ہوئیں اورمٹ گئیں بنی امیہ کی سلطنت دمشق میں بھی اور اندلس میں بھی، بنی عباس کی حکومت، یہ اپنے پورے عروج کے بعد ختم ہوگئیں لیکن داستان کربلا ابھی تک زندہ ہے ہمارے تارحیات میں پوشیدہ نغمے اسی مضراب سے بیدار ہوتے ہیں امام حسین (ع)  نے تکبیر کی جو آواز بلند کی تھی اس سے ہمارے ایمانوں میں تازگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اے صبا اے پیک دور افتادگاں  اشک ما برخاک پاک او رساں (اے صبا! تو ہماری نم آلود آنکھوں کا سلام مرقد امام حسین تک پہنچا دے۔)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.