علم ازلی خدا وند اور اختیار انسان

587

جبریوں کی ایک دلیل یہ ہے خدا وند تمام انسانوں کے افعال اور کردا رسے با خبر ہے کہ :• کافر کبھی ایمان نہیں لائے گا ، لیکن اگر کافر نے ایمان لایا تو علم خدا جہل میں بدل جائے گا۔ اور یہ ممکن نہیں ۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ شخص کافر سے ایمان کا صادر ہونا ممتنع ہے ۔ اور وہ مجبور ہے کہ ایمان نہ لائے ۔ ان کی اس ادعی کو خیام شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
من مے خورم وہرکہ چوں من اہل بودمے خوردن من ، بہ نزد وی سہل بودمے خوردن من حق زازل می دانستگر مے نہ خورم ، علم خدا جہل بود
ساتھ اس کا جواب بھی دیتے ہوئے کہتا ہے:
علم ازلی علت عصیان کردننزد عقلاء زغایت جہل بود• کسی علم کو علم اس وقت کہا جاتا ہے کہ معلوم کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو۔ لہذا اگر خدا کو معلوم تھا کہ کافر ایمان نہیں لائے گا (علم عدم ایمان) لیکن جب کافر نے ایمان لایا تو گویا وجود ایمان اور عدم ایمان دونوں جمع ہوگا ۔ اور یہ اجتماع نقیضین محال ہے ۔ پس اگر خدا کو علم تھا کہ ایمان نہیں لائے گا ، تو اس کا ایمان لانا محال ہوجائے گا ۔ لیکن اگر متعلق علم خدا وند ایمان لانا ہوگا تو اس کا ایمان نہ لانا ممتنع ہوجائے گا ۔ پس اس شخص کا یا ایمان لانا یا نہ لانا ضروری ہوگا ہر صورت میں انسان مسلوب الاختیار ہے ۔• خدا نے بعض لوگوں کے ایمان نہ لانے کی خبر پہلے ہی دے چکا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد فرما رہا ہے : إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ-1-۔اے رسول! جن لوگوں نے کفر اختیار کرلیا ہے ان کے لئے سب برابر ہے. آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ پس اگر ان لوگوں نے ایمان لایا تو اس کا لازمہ یہ ہے کی خدا وند جو یقینا صادق ہے نعوذباللہ من ذالک ،کاذب ہوجائے گا۔ او ریہ بھی محال ہے لہذا اس گروہ کا ایمان لانا بھی محال ہے۔جواب: معتزلہ کا کہنا ہے کہ قول اشاعرہ صحیح نہیں ہے کیونکہ قدرت خدا ، اختیار انسان پر دلالت کرتی ہے ۔ اگر علم خداافعال کے وجوب یا امتناع کا موجب بن جائے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا وند کسی بھی فعل پر قدرت نہیں رکھتا ۔ کیونکہ جس چیز پر خدا کا علم ہو ، کہ واقع ہوگی تو وہ ( واجب الوقوع ) ہوجائے گی ۔ اور کسی بھی علت یا قدرت الہی سے بے نیاز ہوجائے گی ۔ اور جس چیز کے عدم وقوع پر خدا کو علم حاصل ہو تو وہ ممتنع الوقوع ہوجائے گی ۔ اور اس سے قدرت الہی لا تعلق ہوجائے گی ۔ کیونکہ قدرت الہی صرف ممکنات سے متعلق ہوتی ہے۔
علم کا معلوم پر کوئی تأثیر نہیں:دلیل دوم کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی چیز پر علم ہونا یعنی اس شیی کی تمام حقیقی خصوصیات کیساتھ علم ہونا ہے ۔ اسی لئے اگر معلوم حقیقت میںممکن ہے تو بعنون امر ممکن جاناجاتا ہے ۔ اور اگرحقیقت میں واجب ہے تو بعنوان امر واجب جانا جائیگا ، اور یہ بھی معلوم ہے کہ ایمان اور کفر ذاتی طور پر ممکنات میں سے ہیں ۔ اور اگر علم خداسے متعلق ہونے کی وجہ سے واجب میں بدل جائے توعلم کا معلوم میں مؤثر ہونا لازم آتا ہے ۔ جسکی پہلی دلیل میں نفی کرچکا ہے ۔فخر رازی جواب دیتا ہے کہ علم خدا کا متعلق یہ ہے کہ افعال انسان ذاتا تو ممکن ہے لیکن قدرت اور ارادئہ الٰہی سے متعلق ہونے کی وجہ سے ایک زمان خاص میں واجب ہوجاتا ہے۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ ایک چیز ذاتا ممکن ہو اور بالغیر واجب ۔
اختیاری حرکت ہی جمادات اور انسان کے درمیان فرقاصحاب معتزلہ نے نفی جبر پر اس طرح دلیل پیش کی ہے : اگر علم خدا اور اس کا خبر دینا اختیار انسان کا مانع بنے تو انسان کیلئے اپنے افعال کی نسبت کوئی قدرت باقی نہیں رہتی ۔ کیونکہ وہ افعال تو علم خدا کی ضمن میں یا واجب ہوگا یا ممکن ۔ اور فعل واجب یا فعل ممتنع ، انسان کی قدرت سے خارج ہے ۔ پس اس کا لازمہ یہ ہے کہ انسانی حرکات و سکنات بھی جمادات کی حرکات و سکنات کی طرح ہے ۔ لیکن واضح ہے کہ یہ امر بھی باطل ہے کیونکہ اگر کسی نے دوسرے انسان کو عمدا قتل کیا تو اس قاتل کی مذمت کی جائے گی نہ اس خنجر کی ۔فخر رازی کہتا ہے: فعل انسان ، علم الٰہی کے متعلق ہونے کی وجہ سے واجب الوقوع نہیں ہوسکتا بلکہ خدا نے انسان میں قدرت اور انگیزہ خلق کیا ہے کہ افعال اسے ایجاب کرتی ہے۔ اس کے منتخب ہونے کی صورت میں فعل بھی واجب الوقوع میں بدل جاتا ہے۔پس علم خداوند ایجاب کنندہ فعل نہیں ہے بلکہ صرف اس فعل کا بعد میں واقع ہونے کو کشف کرتا ہے۔بالفاظ دیگر علم خدا کاشف وقوع فعل ہے نہ باعث انجام فعل۔
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.