پیغام کربلا (2)

251

 
عاشور کے دن کارزار کے موقع پر حضرت امام حسین (ع) سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کرتے رہے۔ انہوں نے سماج کے امام اور رہبر ہونے کی حیثیت سے ہدایت و رہنمائی کے فرض کو کبھی بھلایا نہیں۔ اسی لئے آپ غفلت کے شکار لوگوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں،” اے اللہ کے بندوں! اللہ سے ڈرو اور دنیا سے بچ کر رہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالی نے دنیا کو ختم ہونے کے لئے بنایا ہے۔ اس کی نئی چیزیں پرانی اور نعمتیں زائل ہو جائیں گی اور اس کی خوشیاں غم و اندوہ میں بدل جائیں گی۔ اس لئے تم آخرت کے لئے زاد راہ تیار کرو اور سب سے بہتر زاد راہ تقوی اور خوف خدا ہے۔ اے لوگو! دنیا تم کو دھوکہ نہ دے۔ تم نے اس وقت ایک ایسے امر کا وعدہ کیا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی تم پر غضنباک ہے اور اس کی وجہ سے اس نے تم سے رخ پھیر لیا ہے۔ ”
حضرت امام حسین (ع) نے اپنے اس کلام میں دنیا کے فانی ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے۔ آپ نے اپنے خطبے کے اس حصے میں کوفہ کے لوگوں کے انحراف کا سبب بھی بیان فرمایا ہے اور ان کو اس نکتے کی جانب متوجہ کیا ہے کہ تم لوگ بنی امیہ کے وعدوں اور دھمکیوں کی وجہ سے اسلام، اللہ تعالی اور پیغمبر اکرم (ص) پر ایمان سے دستبردار ہو چکے ہو اور تم نے اپنے زمانے کے امام سے جنگ کی تیاری کرلی ہے اور تم فرزند پیغمبر کی قتل پر کمر بستہ ہو چکے ہو۔
حضرت امام حسین (ع) نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں اپنا تعارف کراتے ہوئے ان کو نصیحت کی ہے ۔ آپ نے فرمایا ہے،” اے لوگو! بتاؤ کہ میں کون ہوں؟ ہوش میں آؤ ، اپنی ملامت کرو اور سوچو کہ کیا میرا قتل تمہارے لئے جائز ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کی بیٹی کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا میں تمہارے نبی کے چچازاد بھائي اور وصی کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا میں اس ہستی کا بیٹا نہیں ہوں جس نے سب سے پہلے اللہ تعالی پر اپنے ایمان کا اظہار کیا اور سب سے پہلے رسول اکرم (ص) کی رسالت کی تصدیق کی؟ کیا سید الشہداء حمزہ میرے والد کے چچا نہیں تھے؟ کیا جعفر طیار میرے چچا نہیں ہیں؟ کیا تم نے میرے حق اور میرے بھائي کے حق سے متعلق پیغمبر اکرم (ص) کی حدیث نہیں سنی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ دونوں جوانان جنّت کے سردار ہیں؟ اگر تم کو میرے اور میرے بھائي سے متعلق پیغمبر اکرم (ص) کی حدیث کے بارے میں شک ہے تو کیا تم کو اس حقیقت میں بھی شک ہے کہ میں تمہارے نبی کی بیٹی کا بیٹا ہوں؟ اور ساری دنیا میں تمہارے اور دوسروں لوگوں میں پیغمبر اکرم (ص) کا میرے علاوہ کوئي اور بیٹا نہیں ہے؟ وائے ہو تم پر کیا میں نے تم میں سے کسی کو قتل کیا ہے کہ تم اس کے انتقام میں مجھے قتل کرنا چاہتے ہو؟ یا میں نے کسی کا مال چھینا ہے، یا کسی کو زخمی کیا ہے کہ تم مجھے سزا کا مستحق جانتے ہو؟
ان مضبوط دلائل کے بعد امام حسین (ع) کے ساتھ جنگ کرنے کے سلسلے میں یزیدی لشکر کے پاس کوئي بہانہ نہیں رہ گیا تھا لیکن قیس بن اشعث نے موضوع کو بدلتے ہوئے بلند آواز میں کہا کہ اے حسین آپ اپنے چچا زاد بھائي کی بیعت کیوں نہیں کرتے۔ امام حسین (ع) نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اللہ کی قسم میں ان کی طرف ہر گز ذلت کا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا اور نہ ہی غلاموں کی طرح میدان جنگ سے اور دشمنوں کے سامنے سے بھاگوں گا۔ حضرت امام حسین (ع)نے عاشور کے دن اور کربلا کے میدان میں اس وقت بھی ایک خطبہ دیا جب دونوں لشکر لڑنے کے لئے تیار تھے۔ کوفیوں کی فوج کے کمانڈر عمر سعد کے پرچم لہرا رہے تھے اور طبل جنگ بجا دیا گيا تھا۔ امام حسین (ع) اپنے ساتھیوں کے بیچ سے باہر آئے اور دشمن کی صفوں کے سامنے آکر ان سے خاموشی کے ساتھ اپنا خطبہ سننے کو کہا لیکن انہوں نے اس قدر شور و غل مچا رکھا تھا کہ آپ نے ان جملوں کے ساتھ ان کو خاموش ہونے کی دعوت دی۔
” وائے ہو تم پر! تم لوگ چپ کیوں نہیں ہو رہے ہو تاکہ میرا خطبہ جس میں تمہاری سعادت اور تکامل مضمر ہے۔ جو شخص بھی میری پیروی کرے گا وہ سعادت حاصل کرے گا اور جو بھی مخالفت کرے گا وہ برباد ہو جائے گا۔ تم سب سرکشی کر رہے اور میری باتوں کو توجہ سے سن نہیں رہے ہو۔ حرام ذرائع سے حاصل کردہ تحائف اور غذاؤں کی وجہ سے کہ جو تمہارے پیٹوں میں جمع ہو چکی ہیں، خدا تعالی نے تمہارے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ وائے ہو تم پر کیا تم خاموش نہیں ہوگے” جب دشمن کی فوج پر خاموشی چھا گئی تو آپ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ” اے لوگو! تم رسوا اور ذلیل ہو جاؤ اور حزن و افسوس تمہارا مقدر بن جائے کہ تم نے بہت زیادہ اشتیاق کے ساتھ ہمیں اپنی مدد کے لئے بلایا اور جب ہم تمہاری فریاد کو سن کر تیزی کے ساتھ تمہاری جانب آئے تو تم نے اپنی تلواریں ہمارے ہی خلاف سونت لیں اور تم نے فتنے کی اس آگ کو ہمارے خلاف بھڑکا دیا جو ہمارے مشترکہ دشمن یزید نے لگائي تھی۔ تم نے اپنے دشمنوں کی حمایت و مدد کی اور اپنے تم اپنے پیشواؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، بغیر اس کے دشمنوں نے قیام عدل کے لئے یا تمہارے مفاد میں کوئي قدم اٹھایا ہو یا ان سے کسی نیکی و بھلائي کی توقع کی جا سکتی ہو۔ تم نے صرف حرام لقمے اور ذلت آمیز زندگي کے مختصر عیش پر نظریں جما رکھی ہیں۔ ٹھہرے رہو۔ وائے ہو تم پر! تم نے ہم سے روگردانی کی۔ خدا تمہیں ذلیل کرے کہ تم اس امت کے سرکش اور باطل گروہ کی باقیات ہو، تم نے قرآن کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ تم ظالمو، کتاب میں تحریف کرنے والے اور پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت کو فراموش کرنے والے گروہ کا حصہ ہو، تم انبیاء کی اولاد کو قتل اور اوصیاء کی نسل کو ختم کرنے والے ہو۔
حضرت امام حسین (ع) نے اپنے اس خطبے کے اہم حصے میں کوفیوں کی مذمت کی ہے اور ان کی وعدہ خلافی کی یاد دہانی کرائي ہے کہ کس طرح ایک دن وہ بنی امیہ کے مظالم کی وجہ سے حضرت امام حسین (ع) کے گرد ایسے چکر لگاتے تھے جیسے پروانے شمع کے گرد، لیکن پھر اچانک بنی امیہ کی جانب سے خوف اور لالچ دیئے جانے کی وجہ سے انہوں نے اپنا موقف بدل دیا اور حضرت امام حسین (ع) کو اکیلا چھوڑ دیا اور آپ کے خلاف تلواریں اٹھا لیں۔ حضرت امام حسین (ع) نے وعدہ خلافی کرنے والی اس قوم کے انجام کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: ” آگاہ رہو ! اللہ کی قسم، اس جنگ کے بعد تم لوگوں کو اس سے زیادہ اپنی مراد کے مرکب پر سوار نہیں ہونے دیا جائے گا جس قدر ایک گھڑ سوار اپنے گھوڑے پر سوار رہتا ہے۔ یہاں تک کہ حالات کی چکی تمہارا رخ موڑ دے اور وہ چکی پاٹ کی کیل کی طرح تم کو مضطرب و پریشان کر دے۔ اس لئے تم اپنے ہم خیال افراد کے ساتھ تعاون کرو اور حق واضح ہو جانے کے بعد میرے بارے میں اپنے باطل فیصلے پر عملدرآمد کرو۔ میں اپنے اور تمہارے پروردگار پر توکل کرتا ہوں کیونکہ ہر حرکت کرنے والے کا اختیار اسی کے پاس ہے اور میرے خدا کا راستہ ہی سیدھا ہے۔ ”
اس کے بعد حضرت امام حسین (ع) نے اپنے دست مبارک آسمان کی جانب بلند کئے اور عمر سعد کے لشکر کے لئے ان الفاظ میں بددعا کی۔ ” خدایا ان پر بارش نہ برسا، اور اس کو حضرت یوسف کے زمانے جیسی قحط سالی سے دوچار کر دے کیونکہ انہوں نے ہمیں جھٹلایا ہے اور دشمن کے مقابلے میں ہماری نصرت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے، تو ہی ہمارا پروردگار ہے۔ ہم نے تجھ پر بھروسہ اور توکل کیا ہے اور ہماری بازگشت بھی تیری ہی جانب ہے۔ تاریخ میں آيا ہے کہ حضرت امام حسین (ع) کے ساتھیوں کی شجاعت اور شہادت کے بعد دشمن نے خیموں پر حملے کا فیصلہ کیا۔ تو اس وقت حضرت امام حسین (ع) نے بلند آواز میں فرمایا: ” اے ابو سفیان کے خاندان کی پیروی کرنے والو! اگر تم دین نہیں رکھتے ہو تو قیامت سے ہی ڈرو، کم از کم زندگي میں آزاد رہو اور انسانی شرافت کا پاس و لحاظ رکھو”
حضرت امام حسین (ع) کا یہ پیغام در حقیقت ایک عالمی منشور ہے جو کربلا سے دنیا کے تمام انسانوں اور ہر زمانے کے لوگوں کو دیا گيا ہے ۔ پیغام یہ ہےکہ اے دنیا بھر کے لوگو! اگر تم الہی اور آسمانی احکامات کے پابند نہیں ہو تو کم از کم انسانی اقدار کا ہی خیال رکھو۔حضرت امام حسین (ع) کے ساتھی اور خاندان کے افراد شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے ایک ایک کر کے شہید ہو گئے۔ تو پھر ساری تلواروں کے رخ حضرت امام حسین (ع) کی جانب ہوگئے۔ آپ نے انتہائی شجاعت و دلاوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے بہت سے فوجیوں کو واصل جہنم کیا اور پھر آپ خود زخموں سے چور چور ہوگئے۔ تاریخ میں آیا ہے کہ حضرت امام حسین (ع) نے اپنی زندگي کے آخری لمحات میں آنکھیں کھولیں اور آسمان کی جانب دیکھا اور آخری مرتبہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کیا۔
” خدایا تیرا مقام و مرتبہ بلند ہے، تیرا غضب شدید ہے، تیری طاقت ہر طاقت سے بڑھ کر ہے۔ میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں۔ اے پروردگار تیرے سوا کوئي معبود نہیں ہے۔ اے فریاد کرنے والوں کی فریاد سننے والے تیرے سوا میرا کوئي معبود نہیں ہے۔ جو تونے میرے لئے مقدر کیا ہے میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ اے ہر کسی کو اس کے اعمال کے ذریعے جانچنے والے میرے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کر کہ تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔” اس کے بعد آپ نے اپنی پیشانی زمین پر رکھی اور فرمایا: بسم اللہ و باللہ و فی سبیل اللہ و علی ملۃ رسول اللہمیں اللہ کے نام کے ساتھ ، اللہ کی یاد کے ساتھ ، اللہ کے راستے میں اور رسول اللہ کے دین پر شہید ہو رہا ہوں۔
یہ ہے ایک امام اور خدا کے نمائندے کی محبت و مہربانی کہ جو اپنے خونخوار دشمن کے مقابلے میں، حساس ترین حالات میں بھی انہیں دعوت حق دینے سے دستبردار نہیں ہوئے۔ امام (ع) نے روزعاشورا باوجودیکہ موقع نہیں تھا تاہم لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور اپنے راہنما ارشادات سے لوگوں کو حق سے آگاہ فرماتے رہے اور یہ کام آپ پیہم انجام دے رہے تاکہ شاید دشمن راہ راست پر آ جائیں۔ امام (ع) اپنے خطبے میں لشکر عمر سعد کو یہ بتاتے ہیں کہ کوفے اور عمر سعد کے لشکر کے افراد یہ نہ سوچ لیں کہ میں ان خطبوں اور وعظ و نصیحت کے ذریعے کسی ساز باز یا سمجھوتے کی بات کر رہا ہوں، نہیں۔ میرا ہدف و مقصد ان خطبوں اور بیانات سے یہ ہےکہ میں تم پر حجت تمام کر دوں اور کچھ ایسے حقائق اور مسائل ہیں کہ جنہیں امام کے لئے منصب امامت اور ہدایت و رہبری کے فرائض کے سبب لوگوں کو آگاہ کرنا اور انہیں ان سے باخبر کر دینا ضروری تھا۔ ہدایت و رہنمائی امام کا فریضہ ہے جبکہ اطاعت و پیروی ماموم کی ذمہ داری۔ کربلا آج بھی برپا ہے وقت کا امام آج بھی ھل من ناصر——کی صدائیں دے رہا ہے، کربلا میں عمرسعد کے سپاہی امام حسین (ع)کے الفاظ کو لشکر کے افراد تک پہنچنے دے رہے تھے لیکن آج مادیات اور دنیا داری کا شور ہمیں امام کا خطبہ سننے نہیں دے رہا ہے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.