اهل بیت علیہم السلام کی معرفت کی ضرورت

927

اهل بیت علیہم السلام کی معرفت اور پہچان کی ضرورت اور ان حضرات کی پیروی (جیسا کہ پیغمبر اکرم نے آیہٴ مودت() کی بنیاد پر اپنی آخری عمر تک امت کو ان حضرات کی معرفت اور شناخت اور ان کے احکام کی پیروی کی تاکید فرماتے رہے ہیں) اور قرآن مجید اور صحیح اور متین روایات میں ان حضرات کی عظمت و مقام کی معرفت کی ایک ایسی حقیقت ہے کہ اگر انسان اس پر توجہ کرے تو دنیا و آخرت کی سعادت حاصل ہونے کا سبب بن جائے اور اگر اس سے غفلت کی جائے تو ابدی شقاوت و بدبختی اور ہلاکت کی سبب ہے اور انسان کے تمام اعمال اور زحمتیں رایگاں ہوجاتی ہیں۔

()سورہٴ شوری، آیت ۲۳، <ذَلِکَ الَّذِی یُبَشِّرُ اللهُ عِبَادَہُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی وَمَنْ یَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَہُ فِیہَا حُسْنًا إِنَّ اللهَ غَفُورٌ شَکُورٌ >

حضرت امام صادق علیہ السلام ”معلیٰ بن خُنیس“ سے فرماتے ہیں:

”یا معلی! لو ان عبد الله مائة عام بین الرکن والمقام یصوم النھار ویقوم اللیل حتی یسقط حاجباہ علی عینیہ، وتلقی تراقیہ ھرماً، جاھلاً لحقّنا، لم یکن لہ ثواب“.([1])

”اے معلی! اگر کوئی انسان رکن و مقام (خانہ کعبہ) میں خدا کی سو سال تک عبادت کرے، دن میں روزے رکھے اور رات پر نماز تہجد پڑھتا رہے، یہاں تک پڑھاپے کی شدت کی وجہ سے اس کی بھنویں..اس کی آنکھوں پر آجائیں اور اس کی گردن کی ہڈی اس کے سینے تک پہنچ جائے، لیکن وہ ہمارے حق سے جاهل ہو اور ہماری عظمت کو نہ پہچانتا ہو، تو ایسے شخص کو کوئی ثواب نہیں ملے گا“۔

اهل بیت علیہم السلام کی معرفت اور شناخت (البتہ ایسی شناخت جو قرآنی آیات اور معتبر روایات کے مطابق ہو) کے بعد اهل بیت علیہم السلام سے دور رکھنے والے باطل پردے درمیان سے اٹھ جاتے ہیں، اور ان کے وجودی آثار و برکات اور ان حضرات کی راہ و روش اور ان کی ثقافت انسانی زندگی پر بہترین نقش پیدا کرلیتے ہیں۔

یہ صحیح اورحقیقی شناخت ہی ہے جو ان حضرات کی عظمت سبھی کو عالم وجود اور انسانی زندگی کی ہر پہلو میں ان حضرات کی اطاعت اور پیروی کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔

جب ہم کو حقیقی طور پر یہ معلوم ہوجائے کہ قرآن مجید ، روایات اور اسلامی بلند تعلیمات میں جو بیان ہونے والے عناوین کا سب سے کامل و مکمل مصداق اهل بیت علیہم السلام ہی ہیں، جیسے اهل الذکر، صادقین، محسنین، متقین،مجاہدین، مومنین، صابرین، اولو الالباب، صراط، سبیل، ثار اللہ، وجہ اللہ، عین اللہ، جنب اللہ، اذن اللہ، لسان اللہ اور ولی اللہ،چنانچہ ان سے رابطہ اور ان کی سعادت بخش تعلیمات سے فیضیاب ہونے کا ایسا راستہ ہمارے لئے کھل جاتا ہے کہ ان حضرات کے علاوہ کسی غیر کو چراغ زندگی، کشتیٴ نجات اور حقیقی رہبر نہیں مانتے، اور دنیا و آخرت کی مشکلات، وسوسوں کے ہجوم اور گمراہیوں سے نجات نیز دینی شک و شبہات میں ان کے علاوہ کسی غیر کی طرف رجوع نہیں کرتے کیونکہ یہی حضرات ”راسخون فی العلم“ ()ہیں، اپنی عقل اور دل و جان کو ان کی تعلیمات کی شراب طہور سے سیراب ہوتے ہیں، کیونکہ انہی حضرات کی پیروی کا حکم ہوا ہے:

()سورہٴ آل عمران، آیت ۷.

< قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمْ اللهُ…>()

()سورہٴ آل عمران، آیت ۳۱.

لہٰذا مذکورہ آیہٴ شریفہ کے پیش نظر ہم اپنے پورے وجود سے ان کی پیروی کرتے ہیں تاکہ خداوندعالم کے محبوب قرار پائیں اور اهل بیت علیہم السلام کی خشنودی کے ذریعہ خداوندعالم ہم سے راضی و خوشنود ہوجائے۔

اهل بیت علیہم السلام کی معرفت اور شناخت خدا، قرآن اور کائنات کی شناخت ہے اور دل سے حقائق سے پردہ اٹھنے اور دل کے نورانی ہونے کا سبب ہے، تزکیہ نفس کی باعث اور ظاہری و باطنی طور پر تربیت کا سبب اور اخلاق حسنہ سے آراستہ ہونے کی باعث ہے، بے شک یہی اهل بیت علیہم السلام کی معرفت اور شناخت نار جہنم سے آزادی دلاتی ہے اور ان حضرات سے حقیقی محبت انسان پُل صراط سے گزرنے کا سرٹیفکٹ دیتی ہے اور ان حضرات کی ولایت اور امامت کو قبول کرنا عذاب (جہنم) سے جھٹکارا ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) ایک اہم روایت میں (جس کو شیخ سلمان قُندوزی حنفی نے معتبر سند کے ساتھ ذکر کیا ہے) فرماتے ہیں:

”معرفة آل محمد براء ة من النار، وحبّ آل محمد جواز علی الصراط، و الولایة لا ٓل محمد اٴمان مِن العذاب“.()

()ینابیع المودة، ج ۱، ص ۷۸، باب ۳، حدیث ۱۶؛ فرائد السمطین: ج ۲، ص ۲۵۶، باب ۴۹، حدیث ۵۲۵.

”آل محمد کی معرفت اور شناخت جہنم سے نجات کا باعث، آل محمد سے محبت اور دوستی پُل صراط سے گزرنے کا سرٹیفکٹ اور آل محمد کی ولایت عذاب سے امان ہے“۔

جی ہاں! اگر ہم اهل بیت علیہم السلام کو قرآن اور صحیح سنت نبوی کی زبانی پہچانیں تو ہم دنیا و آخرت کی سعادت اور کامیابی کا راستہ اپنے لئے کھول رہے ہیں، اور ہمیشگی شقاوت و بدبختی کا راستہ اپنے لئے بند کر رہے ہیں۔

شیخ سلیمان قُندوزی اور ابراہیم بن محمد جوینی جو اهل سنت کے برجستہ اور منصف مزاج علماء ہیں یہ روایت رسول اکرم (ص) سے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے بعد آنے والے ائمہ علیہم السلام کی معرفت اور شناخت کے بارے میں نقل کرتے ہیں:

یا علی! اٴنا مدینة العلم و اٴنت بابھا، ولن توتیٰ المدینة إلاَّ من قبل الباب، وکذب من زعم انہ یحبُّنی ویبغضک؛ لا نک منی وانا منک؛ لحمک من لحمی، و دمک من دمی، و روحک من روحی، وسریرتک من سریرتی، وعلانیتک من علانیتی، وانت امام امتی وخلیفتی علیھا بعدی. سعد من اطاعک وشقی من عصاک، وربح من تولاک وخسر من عاداک، و فاز من لزمک وھلک من فارقک. مثلک ومثل الائمة من ولدک بعدی مثل سفینة نوح، من رکبھا نجا ومن تخلف عنھا غرق؛ ومثلکم کمثل النجوم، کلمّا غاب نجم طلع الی یوم القیامة“.()

()ینابیع المودة، ج ۱، ص ۹۵، باب ۴، حدیث ۶؛ فرائد السمطین، ج ۲، ص ۴۲۳، حدیث ۵۱۷. جامع الاخبار، ص ۱۴، الفصل الخامس، اس حدیث کی وضاحت الامالی صدوق میں ۴۵ ویں جلسہ کی حدیث نمبر ۱۸، میں بیان ہوئی ہے لیکن ”مدینة العلم“ کے بجائے مدینة الحکمة ذکر ہوا ہے.

”یا علی! میں شہر علم ہوں اور آپ اس کا دروازہ، اور شہر میں صرف دروازہ سے ہی داخل ہوا جاتا ہے، جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے لیکن وہ آپ کا دشمن ہو تو اس نے میری دوستی کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے، کیونکہ آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے، تمہارا گوشت میرا گوشت، تمہارا خون میرا خون، تمہاری روح میری روح ، تمہارا باطن میرا باطن ہے اور آپ کا ظاہر میرا ظاہر ہے، اور آپ میری امت میں میرے جانشین اور میرے بعد میرے خلیفہ ہیں، جو آپ کی پیروی کرے وہ کامیاب ہے اور جو آپ کی نافرمانی کرے وہ بدبخت اور خانہ خراب ہے، جو آپ سے محبت کرتا ہے وہ فائدہ میں ہے اور جو آپ کا دشمن ہو وہ گھاٹے میں ہے، اور جو آپ سے وابستہ ہے وہ کامیابی تک پہنچ چکا ہے، اور جو آپ سے جدا اور الگ ہوگیا وہ ہلاکت کے دلدل میں پھنس گیا ہے، آپ کی اور آپ کی نسل سے آنے والے ائمہ کی مثال کشتی نوح کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جس نے اس سے روگردانی کی وہ غرق ہوگیا، اور تم اهل بیت کی مثال ستاروں کی طرح ہے کہ روز قیامت تک جب کوئی ستارہ غروب کرتا ہے تو دوسرا ستارہ طلوع کرتا ہے “۔

خداوندعالم نے اپنے بندوں کو ”ریسمان الٰہی“ سے متمسک ہونے کا حکم دیا ہے جس کا لازمہ یہ ہے کہ انسان ”حبل اللہ“ کی معرفت اور شناخت حاصل کرلے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

<وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُو…>()..

()آل عمران، آیت ۱۰۳.

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ”حبل اللہ“ کے بارے میں منقول ہے:

”آل محمد صلوات اللهعلیہم، ھم حبل الله المتین الذی اٴمر بالاعتصام بہ فقال: <وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُو…>()

()تفسیر عیاشی، ج ۱، ص ۱۹۴، حدیث ۱۲۳؛ تفسیر صافی ج ۱، ص ۳۶۵؛ بحار الانوار، ج ۶۵، ص ۲۳۳، باب ۲۴.

”اهل بیت علیہم السلام خداوندعالم کی مستحکم رسی ہے جن کے بارے میں خداوندعالم نے تمسک کا حکم دیا جیسا کہ خدا نے فرمایا: ترجمہ آیت بال..؟

جی ہاں ! یہ حضرات معرفت اور علم و عمل کا ٹھاٹے مارتا ہوا دریا ہے، اور تمام ہی فضائل و کمالات کے مالک ہیں، ان کی مثال کائنات میں نہیں ملتی، خداوندعالم کے حکم سے مقام امامت لئے مخلوق کے درمیان آگئے ہیں تاکہ ایک گروہ کو نار جہنم سے ڈرائیں اورایک گروہ کو ایمان و عمل کی شرط پر عالم آخرت میں جنت میں پہنچادیں اوربعض کوبہشت مثالی اور بعض کو جنت عقلانی اور ایک گروہ آسمان قداست و معنویت اور شائستہ لوگوں کو مقام یقین تک پہنچائیں۔

خدا اور قیامت کی حقیقی معرفت ، معنوی مفاہیم کا ادراک، قرآن کے حقیقی معنی تک رسائی، سنت نبوی سے آگاہی حاصل کرنا، فضائل اور کمالات کا حاصل کرنا ، دنیا و آخرت کی سعادت اور خوش بختی حاصل کرنا، شقاوت اور بدبختی سے نجات حاصل کرنا، نیکیوں سے آراستہ ہونا، برائیوں سے محفوظ رہنا، حضرت حق (خداوندعالم کے مقام قرب و لقاء پر پہنچنا،جنت میں داخل ہونے کی صلاحیت پیدا کرنا، اور آتش جہنم سے امان حاصل کرنا، شیطان کے بہکانے اور وسوسوں سے مقابلہ کرنا، عبادت کی لذت اور گناہوں سے دوری کے مزے کو چھکنا، حقیقت تقویٰ کو محسوس کرنا، ورع اور پاکدامنی ، پارسائی، صدق و صفا وغیرہ جیسی زینت سے مزین ہونا یہ تمام کی تمام اهل بیت علیہم السلام کی معرفت اور ان کے احکام کی پیروی کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

جی ہاں! اهل بیت علیہم السلام (جیسا کہ قرآنی آیات اور معتبر روایات و احادیث سے نتیجہ نکلتا ہے) تمام مادی اور معنوی برکتوں کا سرچشمہ ہے، جب تک انسان ان حضرات کی معرفت اور شناخت نیز ان کی پیروی نہ کرے اور ان سے وابستہ نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ کسی برکت تک نہیں پہنچ سکتا بلکہ تمام برکتوں سے محروم رہتا ہے۔

شیخ سلیمان قُندُوزی حنفی اور ابراہیم بن محمد جوینی حضرت علی علیہ السلام کے ذریعہ پیغمبر اکرم (ص)سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:

”یا علی! جو چیزیں آپ لکھائی جار ہی ہے اس کو لکھ لیں، میں نے کہا: یا رسول اللہ(ص)! کیا آپ کو ڈر ہے کہ میں بھول جاؤں گا؟ تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: نہیں، میں نے خداوندعالم سے طلب کیا ہے کہ آپ کو تمام ہی حقائق کا حافظ قرار دے، لیکن اپنے شریکوں کے لئے لکھ لیجئے ، میں نے کہا: یا رسول اللہ(ص)! میرے شریک کون ہیں؟ آنحضرت (ص) نے فرمایا: آپ کی نسل سے ہونے والے ائمہ،جن کی وجہ سے امت کے لئے بارش ہوتی ہے اور ان کی دعا قبول ہوتی ہے، خدا ان کے ذریعہ سے بلاؤں کو دور کرتا ہے، اور ان کے وجود کی برکت سے آسمان سے رحمت نازل کرتا ہے، اور یہ ان میں سے پہلے ہیں (اور امام حسن علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا) اور اس کے بعد فرمایا: یہ ان میں سے دوسرا ہے، اور پھر (امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا) اور فرمایا :اور حسین ﷼کے بعد دوسرے امام“۔()

()ینابیع المودة، ج ۱، ص ۷۳، باب ۳، حدیث ۸؛ فرائد السمطین، ج ۲، ص ۲۵۹، باب ۵۰، حدیث ۵۲۷.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.