روزہ

250

تزكيہ نفس اور اس كى پاك كرنے اور خودسازى كے لئے ايك بہت بڑى عبادت كہ جس كے بہت زيادہ اثرات پائے جاتے ہيں وہ روزہ ہے_ روزے يك فضيلت ميں بہت زيادہ احاديث وارد ہوئي ہيں جيسے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ‘ روزہ جہنم كى آگ سے حفاظت كرنے والى ڈھال ہے_(522)امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ خدا فرماتا ہے كہ روزہ ميرے لئے ہے اور ميں ہى اس كى جزاء دونگا_ (523)امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ روزہ ركھنے والا بہشت ميں پھرتا ہے اور فائدہ حاصل كرتاہ ے اس كے لئے فرشتے افطار كرنے تك دعا كرتے ہيں_ (524)پيغمبر عليہ السلامم نے فرمايا ہے كہ ‘ جو شخص ثواب كے لئے ايك مستحبى روزہ ركھے اس كے لئے بخشا جانا واجب ہے_ (255 ) حضرت صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ روزہ دار كا سونا بھى عباد ہے اور اس كا چپ رہنا تسبيح ہے_ اور اس كا عمل مقبول اور اس كى دعا قبول كى جاتى ہے_ (526)
رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا ہے كہ ‘ اللہ تعالى فرماتا ہے نيكبندوں كے اعمال دس برابر سے سات سو برابر ثواب ركھتے ہيں سوائے روزے كہ جو ميرے لئے مخصوص ہو تو اس كى جزاء ميں دونگا پس روزے كا ثواب صرف خدا جانتا ہے_ (527)امير المومنين عليہ السلام نے روايت كى ہے كہ رسول خدا نے معراج كى رات فرمايا _ ‘اے ميرے خالق_ پہلى عبادت كونسى ہے تو اللہ تعالى نے فرمايا كہ پہلى عبادت ساكت رہنا اورروزے _ پيغمبر عليہ السلام نے عرض كى اے ميرے خالق روزہ كا اثر كونسا ہے؟ اللہ تعالى نے فرمايا كہ روزے كا اثر دانائي ہے اور دانائي معرفت كا سبب ہوتى ہے_ اور معرفت يقين كا سبب بنتى ہے اور جب انسان يقين كے مرتبے تك پہنچتا ہے تو پھر اس كو كوئي پرواہ نہيں كہ وہ سختى ميں يا آرام ميں زندگى كرے_ (528)
روزہ ايك خاص عبادت ہے كہ جس ميں دو پہلو نفى اور ثبات موجود ہوتے ہيں پہلا اپنے نفس كو كھانے پينے اور عزيز لذت سے جو شرعا جائز ہے روكنا اور محافظت كرنا_ اسى طرح خدا اور رسول پر جھوٹ نہ باندھنا اور بعض دوسرى چيزوں كو ترك كرنا ہوتا ہے_ دوسرا_ قصد قربت اور اخلاص كو جو در حقيقت اس عبادت كے روح كے بمنزلہ ہے_ روزے كى حقيقت نفس كو روكنا اورمادى لذات سے حتمى طور سے قصد قربت سے محافظت كرنا ہوتا ہے_ كھانا پينا جنسى عمل خدا اور رسول پر جھوٹ باندھنا روزے كو باطل كرديتے ہيں فقہى كتابوں ميں روزے كى يوں تعريف كى گئي ہے كہ اگر كوئي ان امور يعنى كھانے پينے جماع خدا اور رسول پر جھوٹ باندھے _ انزال مني_ حقنہ كرنا_ غسل ارتماسى _ جنابت پر باقى رہنا كو قصد قربت سے ترك كرے تو اس كى عبادت صحيح ہے اور اس كى قضاء اور كفارہ نہيں بتلايا گيا ہے بلكہ روزہ اس سے زيادہ وسيع معنى ميں بيان كيا گيا ہے_ حديث ميں آيا ہے كہ روزہ صرف كھانے پينے كے ترك كرنے كا نام نہيں ہے بلكہ حقيقى روزہ دار وہ ہے كہ حس كے تمام اعضاء اور جوارح گناہوں كو ترك كريں يعنى آنكھ آنكھوں كے گناہوں سے اسى طرح زبان اور كان ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء اپنے اپنے گناہوں كو ترك كريں ايسا روزہ اللہ كے خاص بندوں كا ہے_اس سے بلند اور بالا ايك وہ روزہ ہے جو خاص الخاص لوگوں كا روزہ ہے اور وہ ان چيزوں كے ترك كرنے كے علاوہ اپنے دل كو ہر اس خيال اور فكر سے فارغ كردے جو خدا كى ياد سے روكے اور ہميشہ خدا كى ياد ميں رہے اور اسے حاضر اور ناظر جانے اور اپنے آپ كو خدا كا مہمان جانے اور اپنے آپ كو خدا كى ملاقات كے لئے آمادہ كے_ نمونے كے طور پر اس حديث كى طرف توجہ كيجئے امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں روزہ صرف كھانے اور پينے كو ترك كرنے سے حاصل نہيں ہوتا_ جب روزہ ركھے تو پھر كان اور آنكھ اور زبان اور شكم اور شرمگاہ كو بھى گناہوں سے محفوظ كرے اور ساكت رہے سوائے نيكى اور مفيد كلام كے بات كرنے سے ركا رہے اور اپنى خدمت كرنے والوں اور نوكروں سے نرمى كرے جتنا ہو سكتا ہے ساكت رہے سوائے خدا كے ذكر كے اور اس طرح نہ ہو كہ روزے والا دن اس طرح كا ہو كہ جس دن روزہ نہ ركھا ہوا ہو _ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے اپنے خطبہ ميں فرمايا ہے جو شخص ماہ رمضان كا روزہ ساكت ہو كر ركھے اور كان اور آنكھ اور زبان اور شرمگاہ اور دوسرے بدن كے اعضاء كو جھوٹ اور حرام اور غيبت سے اللہ كے تقرب كى نيت سے روكے ركھے تو وہ روزہ اس كے تقرب كا اس طرح سبب بنے گا كہ گويا وہ حضرت ابراہيم عليہ السلام كا ہم نشين ہو_
امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ روزہ صر ف نہ كھانے اور پينے كا نام نہيں ہے_ (529) بلكہ اس كے شرائط ہيں كہ ان كى محافظت كرنى چاہئے تا كہ روزہ كامل اور تام ہو سكے وہ ہے سكوت اور چپ رہنا_ كيا تم نے حضرت مريم عليہا السلام كى بات نہيںسنى كہ جو آپ نے لوگوں كے جواب ميں كہا تھا كہ ميں نے اللہ تعالى كے لئے نذر كى ہوئي ہے كہ آج كے دن كسى سے بات نہ كروں يعنى چونكہ روزے سے ہوں مجھے چپ رہتا چاہئے لہذا جب تم روزہ ركھو تو اپنى زبان كو جھوٹ بولنے سے روكو_ اور غصہ نہ كرو_ گالياں نہ دو برى باتيں نہ كرو_ جھگڑا اور لڑائي نہ كرو_ ظلم اور ستم سے پرہيز كرو_ جہالت اور بد اخلاقى اور ايك دوسرے سے دورى سے پرہيز كرو_ اللہ تعالى كےذكر اور نماز سے غافل نہ رہو_ سكوت اور تعقل اور صبر و صدق اور برے لوگوں سے دورى كا خيال كرو_ باطل كلام جھوٹ بہتان دشمنى سوء ظن غيبت چغل خورى سے اجتناب كرو_ اور آخرت كى طرف توجہ ركھو اور اس دن كے آنے كے انتظار ميں رہو كہ جس دن خدا كا وعدہ پورا ہوگا اور اللہ تعالى كى ملاقات كا سامان مہيا كرو_ آرام اور وقار خشوع خضوغ ذلت كہ جب كوئي بندہ اپنے مولى سے ڈرتا ہے اس كى رعايت كرو_ خوف اور اميد خوف اور ترس كى حالت ميں رہو اور اگر اپنے دل كو عيبوں سے اور باطل كو دھوكا دينے سے اور بدن كو كثافت سے پاك اور صاف كرو_ اللہ تعالى كے علاوہ ہر ايك چيز سے بيزارى كرو_ اور اللہ كى حكومت كو روزے كے وسيلے سے اور ظاہر اور باطن كو جس سے خدا نے منع كيا ہے خالى كرنے سے قبول كر ليا اور اللہ تعالى سے خوف اور خشيت كو ظاہر اور باطن ميں ادا كيا اور روزہ كے دنوں اپنے نفس كو خدا كے لئے بخش ديا اور اپنے دل كو خدا كے لئے خالى كر ديا اور اسے حكم ديا تا كہ وہ اللہ تعالى كے احكام پر عمل كرے اگر اس طرح اور اس كيفيت سے روزہ ركھا تو پھر تو واقعا روزہ دار ہے اور اپنے وظيفہ پر عمل كيا ہے اور ان چيزوں ميں جتنى كمى اكرو گے اتناہى تيرا روزہ ناقص ہوجائيگا كيونكہ روزہ ركھنا صرف نہ كھانے اور پينے سے نہيں ہوتا بلكہ خدا نے روزے كو تمام افعال اور اقوال جو روزے كو باطل كرديتے ہيں حجاب اور مانع قرار ديا ہے پس روزے ركھنے والے كتنے تھوڑے ہيں اور بھوكے رہنے والے بہت زيادہ ہيں_ (530)
اپنے آپ كو سنوار نے ميں روزے كا كردار
اگر روزے كو اسى طرح ركھا جائے كہ جس طرح پيغمبر اسلام نے چاہا ہے اور اسى كيفيت اور شرائط سے بجالا جائے كہ جو شرعيت نے معين كيا ہے تو پھر روزہ ايك بہت بڑى قيمتى اور مہم عبادت ہے اور نفس كے پاك كرنے ميں بہت زيادہ اثر كرتا ہے روزہ ہر حالت ميں نفس كو گناہوں اور برے اخلاق سے خالى كرنے اور نفس كو كامل اورزينت ديئے جانے والے اور اللہ تعالى كے اشراقات سے استفادہ كرنے ميں كامل طور سے موثر ہوتا ہے_ روزہ ركھنے والا گناہوں كے ترك كرنے كے وسيلے سے نفس امارہ پر كنٹرول كر كے اپنے قابو ميں ركھتا ہے_ روزے كے دن گناہوں كے ترك كرنے سے نفس كى رياضت اور عملى تجربے كا زمانہ ہوتا ہے_ اس زمانے ميں نفس كو گناہوں اور كثافت سے پاك كرنے كے علاوہ جائز لذات كھانے پينے سے بھى چشم پوشى كرتا ہے اور اس وسيلے سے اپنے نفس كو صفا اور نورانيت بخشتا ہے كيونكہ بھوك باطن كے صفا اور خدا كى طرف توجہہ كا سبب ہوتى ہے_ انسان بھوك كى حالت ميں غالباً خوش حالى كى حالت پيدا كر ليتا ہے كہ جو پيٹ بھرى حالت ميں اسے حاصل نہيں ہوتي_ خلاصہ روزہ تقوى حاصل كرنے ميں بہت زيادہ تاثير ركھتا ہے اسى لئے قرآن مجيد ميں تقوى حاصل كرنے كو روزے كے واجب قرار دينى كى غرض بتلايا گيا ہے_ قرآن ميں ہے _ ‘اے وہ لوگو جو ايمان لے آئے روزہ تم پر واجب كيا گيا ہے جيسے كہ پہلے لوگوں پر واجب كيا گيا تا كہ تھا تم اس وسيلے سے صاحب تقوى ہو جاؤ_ (531) جو شخص ماہ رمضان ميں روز ركھے اور چونكہ روزہ دار پورے مہينے ميں گناہوں اور برے اخلاق سے پرہيز كرتا ہے اور اپنے نفس پر قابو پاليتا ہے تو وہ ماہ رمضان كے بعد بھى گناہوں كے ترك كرنے كى حالت كو باقى ركھے گا_يہاں تك جو كچھ كہااور لكھا گيا ہے وہ روزے كا نفس انسانى كے پاك كرنے اور نفس كو گناہوں اور كثافتوں سے صاف كرنے كا اثر ليكن روزہ كچھ مثبت اثرات بھى ركھتا ہے جو نفس كو كمال تك پہنچنے اور باطن كے خوشمنا ہونے اور ذات الہى تك تقرب كا موجب اور سبب بنتا ہے _ جيسے_1_ روزہ يعنى نفس كو مخصوص مفطرات سے روكنا ايك ايسى عبادت ہے كہ جس ميں اخلاص اور قصد قربت سے نفس كى تكميل اور تربيت ہوتى ہے اور قرب الہى كا دوسرى عبادتوں كى طرح سبب بنتى ہے_
2_ گناہوں اور اور لذات كے ترك كرنے سے روزہ دار كا دل صاف اور پاك ہو جاتاہے اور خدا كے سوا ہر فكر اور ذكر سے فارغ ہوجاتا ہے اس وسيلے سے اللہ تعالى كے اشراقات اور افاضات اور القاء اللہ كى استعداد اور قابليت پيدا كر ليتا ہے اور اس حالت ميں اللہ تعالى كے الطاف اور عنايات اسے شامل حال ہو جاتے ہيں اور اللہ تعالى كے جذبے سے قرب الہى كو حاصل كر ليتا ہے_ اسى لئے احاديث ميں وارد ہوا ہے كہ روزے دار كا سانس لينا اور سونا بھى ثواب اور عبادت ہے_3_ روزے كے دن عبادت اور نماز اور دعا اور قرآن پڑھنے ذكر اور خيرات اور مبرات كے بہترين دن ہوتى ہيں كيونكہ نفس حضور قلب اور اخلاص اور اللہ تعالى كى طرف توجہ كرنے كے لئے دوسرے دلوں سے زيادہ آمادہ اور حاضر ہوتا ہے_ ماہ رمضان عبادت كى بہار اور خدا كى طرف توجہ كرنے كے لئے بہترين وقت ہوا كرتا ہے اسى لئے احاديث ميں ہے كہ جب ماہ رمضان آتا تھا تو امام جعفر صادق عليہ السلام اپنے فرزند سے سفارش كرتے تھے اور فرماتے تھے كہ ‘ عبادت كرنے ميں كوشش كرو كيونكہ اس مہينے ميں رزق تقسيم كيا جاتا ہے_ اور اجل اور موت لكھى جاتى ہے_ اس ميں وہ لوگ جو خدا كے پاس جائيں گے لكھے جاتے ہيں_ ماہ رمضان ميں تك ايك رات ايسى كہ جس ميں عبادت كرنا ہزار مہينے سے زيادہ افضل ہے_ (532) اميرالمومنين نے لوگوں سے فرياد كہ ‘ ماہ رمضان ميں دعا زيادہ كياكرو اور توبہ اور استغفار كرو كيونكہ دعا كے وسيلے سے تم سے مصيبتيں دور كى جائيں گى اور توبہ اور استغفار كے ذريعے سے تمہارے گناہ مٹ جائيں گے_ (533)
اميرالمومنين نے روايت كى ہے كہ ‘ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے ايك دن ہمارے لئے خطبہ بيان كيا اور اس ميں فرمايا لوگو_ ماہ رمضان كا مہينہ بركت اور رحمت اور مغفرت كى ساتھ تمہارے طرف آيا ہے يہ مہينہ دوسرے مہينوں سے خدا كے نزديك بہترين مہينہ ہے_ اس كے دن دونوں سے بہترين دن ہيں اور راتيں راتوں ميں سے بہترين راتيں ہيں اس كى گھڑياں گھڑيوں ميں سے بہترين گھڑياں ہيں يہ ايسا مہينہ ہے كہ جس ميں تم خدا كى طرف اس ميں دعوت ديئے گئے ہو اور اللہ تعالى كى نزديكصاحب كرامت قرار ديئے گئے ہو_ اس ميں تمہارا سانس لينا تسبيح كا ثواب ركھتا ہے اور تمہارا سونا عبادت كا ثواب ركھتا ہے_ اس مہينے ميں تمہارے اعمال قبول كئے جاتے ہيں اور تمہارى دعائيں قبول كى جاتى ہيں پس تم سچى نيت اور پاك دل سے خدا كو پكارو كہ اس نے تمہيں اس ميں روزہ ركھتے اور قرآن پڑھنے كى توفيق عنايت فرمائي ہے كيونكہ بدبخت اور شقى ترين وہ شخص ہے جو اس بزرگ مہينے ميں اللہ تعالى كے بخشنے جانے سے محروم رہے اس ميں اپنى بھوك اور پياس سے قيامت كى بھوك اور پياس كو ياد كرو_ فقراء اور مساكين كو صدقہ دو اور بڑوں كا احترام كرو اور اپنے سے چھوٹوں پر رحم كرو_ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمى كرو_ اپنى زبان كى حفاظت كرو اور حرام چيزوں سے اپنى آنكھوں كو بندہ كرو اور كانوں كو احرام كے سننے سے بند كرو_ يتيموں پر رحم اور مہربانى كرو_ اور اپنے گناہوں سے توبہ كرو_ اور نماز كے اوقات ميں اپنے ہاتھوں كو دعا كرنے كے لئے بلند كرو كيونكہ يہ وقت بہترين وقت ہے كہ خدا لوگوں پر رحمت كى نگاہ ڈالتا ہے اور ان كى مناجات كو قبول كرتا ہے اور ان كى پكار پر لبيك كہتا ہے جب كوئي سوال كرے اسے عطا كرتا ہے اور اس كى دعا كو قبول كرتا ہے_ لوگو تمہارى جانيں تمہارے اعمال كے مقابلے ميں گروہى ميں پس استغفار كے ذريعے انہيں آزاد كراؤ_تمہارى پشت گناہوں كى وجہ سے سنگين ہوچكى ہے طويل سجدوں سے اس بار سنگين كو ہلكار كرو اور جان لو كہ خدا نے اپنے عزت كى قسم كھا ركھى ہے كہ نماز پڑھنے اور سجدہ كرنے والوں كو عذاب نہ كرے اور ان كو قيامت كے دن جہنم كى آگ سے ڈرائے_
لوگو جو شخص اس مہينے ميں روزہ دار كو افطارى كرائے اسے ايك بندے كے آزاد كرنے كا ثواب ديا جائيگا اور گذرے ہوئے گناہوں كو معاف كرديا جائيگا_ كہا گيا_ يا رسول اللہ_ ہم تمام افطارى دينے پر قدرت نہيں ركھتے _ آپ نے فرمايا كہ دوزخ كى آگ سے بچو خواہ ايك ٹكڑا يا پانى كا ايك گھونٹ پلانا ہى كيوں نہ ہو _ لوگو جو شخص اس مہينے ميں اپنے اخلاق كو اچھا كرے قيامت كے دل پل صراط سے عبور كرے گا_ اور خدااسے آزاد كرے گا_ جو شخص اس مہينے ميں كسى بندے كے كام كو آسان كردے خداوند عالم قيامت كى دن اس كے كام كو آسان كردے گا_ جو شخص اس مہينے ميں اپنى برائي كو لوگوں سے روكے خدا قيامت كے دن اپنے غضب كو اس سے روكے گا_ جو شخص كسى يتيم كى عزت كرے خدا قيامت كے دن اسے اپنى رحمت سے متصل كرے گا جو شخص قطع رحمى كرے خدا قيامت كے دن اس سے اپنى رحمت كو قطع كردے گا_ جو شخص اس مہينے ميں مستحب نمازيں پڑھے خدا اس كے لئے جہنم سے برات لكھ دے گا_ جو شخص اس مہينے ميں مجھ پر زيادہ درود بھيجے خدا اس كے نامہ اعمال كے ترازو كو بھارى قرار دے گا_ جو شخص اس مہينے ميں قرآن كى ايك آيت پڑھے اس كو ايك قرآن كے ختم كرنے كا جو دوسرے مہينوں ميں پڑھے گا ثواب ديا جائيگا_ لوگو اس مہينے ميں جنت كے دروازے كھول ديئے جاتے ہيں اللہ تعالى سے طلب كرو كہ وہ تم پر بند نہ كرے _ اس مہينے ميں دوزخ كے دروازے بند كرديئےاتے ہيں_ خدا سے طلب كرو كہ وہ تم پر كھول نہ ديئے جائيں_ اس مہينے ميں شيطانوں كو زنجيروں ميں بند كر ديا جاتا ہے خدا سے طلب كرو كہ ان كو تم پر تسلط اور غلبہ نہ ديا جائے_امير المومنين عليہ السلام فرماتے ہيں كہ ميں نے آپ كى خدمت ميں عرض كيا_ يا رسول اللہ اس مہينے ميں سب سے بہترين عمل كونسا ہے؟ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا اے ابوالحسن_اس مہينے ميں محرمات سے پرہيز كرنا سب سے زيادہ افضال عمل ہے_ (534)
جيسے كہ ان حاديث سے معلوم ہوتا ہے يہ ہے كہ ماہ رمضان پر بركت اور بافضيلت مہينہ ہے يہ عبادت اور اپنے آپ كو بنانے دعا اور تہجد نفس كى تكميل اور تربيت كا مہينہ ہے_ اس مہينے ميں عبادت دوسرے مہينوں كى نسبت كئي برابر ثواب ركھتى ہے يہاں تك كہ اس مہينے ميں مومن كا سانس لينا بھى عبادت ہے_ اس مہينے مين جنت كے دروازے مومنين كے لئے كھول ديئے جاتے ہيں اور جہنم كے دروازے بند كر ديئے جاتے ہيں_ اللہ تعالى كے فرشتے خدا كے بندوں كو عبادت كى طرف بلاتےرہتے ہيں بالخصوص سحرى اور شب قدر كہ جس ميں جاگتے رہنا اور عبادت كرنا ہزار مہينے سے افضل ہے خدا نے اس مہينے ميں عام دربار لگايا ہے اور تمام مومنين كو اپنى طرف مہمانى كے لئے بلايا ہے اس دعوت كا پيغام پيغمبر عليہم السلام لائے ہيں_ميزبان جواد مطلق ہے _ اللہ كے مقرب فرشتے مہمان مومنين كے خدمت گزار ہيں_ اللہ تعالى كى نعمتوں كا عام دسترخوان بچھا ہوا ہے_ مختلف قسم كى نعمتيں اور جوائز كہ جنہيں نہ كسى آنكھ نے ديكھا ہے اور نہ كسى كان نے سنا ہے_ اور نہ كسى كے دل پر خطور كيا ہے مہيا كر دى گئي ہيں_ رمضان كا مہينہ پر بركت اور با فضيلت مہينہ ہے_اللہ تعالى كى توفيق ہر طرف سے آمادہ اور مہيا ہے_ ديكھيں كہ ہمارى ہمت اور لياقت كتنى ہے اگر ہم نے غفلت كى تو قيامت كے دن پشيمان ہونگے ليكن اس دن پشيمانى كوئي قائدہ مند نہ ہوگي_ ماہ رمضان كى دعائيں مفاتيح الجنان اردو اور دوسرى دعاؤں كى كتابوں ميں موجود ہيں جيسے مفاتيح الجنان جديد و غيرہ_ خلوص اور توجہہ كے ساتھ اللہ تعالى كے تقرب اور سير و سلوك كے لئے ان سے استفادہ كيا جا سكتا ہے_آخر ميں بتلا دينا چاہتا ہوں كہ باقى تمام عبادات بھى نماز اور روزے ذكر اور دعا كى طرح اپنے آپ كو بنانے اور سنوارنے اور تكميل اور تربيت نفس ميں مفيد اور موثر ہوتے ہيں چونكہ ہمارى بنا اختصار پر تھى لہذا ان كو توضيح اور تشريح سے صرف نظر كيا ہے_
———————-522_ قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: الصوم جنة من النار _ وسائل ، ج 7 ص 289_523_ عن ابى عبداللہ عليہ السلام قال : ان اللہ تعالى يقول : الصوم لى و انا اجزى عليہ _ وسائل ، ج 7 ص 290_524_ قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ : من صام يوما تطوعا ابتغاء ثواب اللہ وجبت لہ المغفرة وسائل ، ج 7 ص 293_526_ عن ابى عبداللہ عليہ السلام قال : نوم الصائم عبادة و صمتہ تسبيح و عملہ متقبل و دعائہ مستجاب _ وسائل ، ج 7 ص 294_526_ عن ابى عبداللہ عليہ السلام قال: نوم الصائم عبادة و صمتہ تسبيح و عملہ متقبل و دعاء ہ مستجاب _ وسائل ، ج 7 ص 294_527_ قال رسو اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: قال اللہ عزّ و جل : كلّ اعمال ابن آدم بعشرة اضعافہا الى سبعماة ضعف الاّ الصبر فانّہ لى و انا اجزى بہ ، فثواب الصبر مخزون فى علم اللہ و الصبر الصوم وسائل ، ج 7 ص 295_528_امير المؤمنين عليہ السلام عن النبى صلى اللہ عليہ و آلہ انہ قال: فى ليلة المعراج يا ربّ ما اوّل العبادة؟ قال : اوّل العبادة الصّمت و الصوم _ قال ياربّ و ما ميراث الصوم؟ قال يورث الحكمة و الحكمة تورث المعرفة و المعرفة تورث اليقين فاذا استيقن العبد لا يبالى كيف اصبح بعسر ام بيسر _ مستدرك ، ج 1 ص 590_529_ قال ابو عبداللہ عليہ السلام : ليس الصيام من الطعام و الشراب ان لا ياكل الانسان و لا يشرب فقط و لكن اذا صمت فليصم سمعك و بصرك و لسانك و بطنك و فرجك و احفظ يدك و فرجك و اكثر السكوت الاّ من خير و ارفق بخادمك _ وسائل ، ج 7 ص 118_
530_ عن ابى عبداللہ عليہ السلام قال: ان الصيام ليس من الطعام و الشراب وحدہ ، انّما للصوم شرط يحتاج ان يحفظ حتى يتمّ الصوم و ہو الصمت الداخل ، اما تسمع قول مريم بنت عمران ، انّى نذرت للرحمان صوما فلن اكلّم اليوم انسيا، يعنى صمتا_ فاذا صمتم فاحفظوا السنتكم عن الكذب و غضّوا ابصاركم و لا تنازعوا و لا تحاسدوا و لا تشاتموا و لا تنابزوا و لا تجادلو ا ولا تبادوا و لا تظلموا و لا تسافہوا و لا تزاجروا و لا تغفلوا عن ذكر اللہ و عن الصلاة والزموا الصمت و السكوت و الحلم و الصبر و الصدق و مجانبة اہل الشر و اجتنبوا قول الزور و الكذب و الفراء و الخصومة و ظنّ السوء و الغيبة و النميمة و كونوا مشرفين على الاخرة منتظرين لا يّامكم ، منتظرين لما وعدكم اللہ متزوّدين للقاء اللہ و عليكم السكينہ و الوقار و الخشوع و الخضوع و ذلّ العبد الخائف من مولاء راجين خائفين راغبين راہبين قد طہّرتم القلوب من العيوب و تقدّست سرائركم من الخبّ و نظفت الجسم من القاذورات ، تبرّا الى اللہ من عداہ و واليت اللہ فى صومك بالصمت من جميع الجہات مما قد نہاك اللہ عنہ فى السرّ و العلانية و خشيت اللہ حق خشيتہ فى السرّ و العلانية ووہبت نفسك اللہ فى ايام صومك و فرغت قلبك لہ و نصبت قلبك لہ فيما امرك و دعاك اليہ ، فاذا فعلت ذلك كلہ فانت صائم اللہ بحقيقة صومہ صانع لما امرك و كلّما نقصت منہا شيئا مما بيّنت لك فقد نقص من صومك بمقدار ذلك (الى ان قال) ان الصوم ليس من الطعام و الشراب انما جعل اللہ ذلك حجابا مما سواہا من الفواحش من الفعل و القوم يفطر الصوم _ ما اقل الصوّام و اكثر الجوّاع ؟ _ وسائل ، ج 7 ص 199_531_ يا ايہا الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلّكم تتّقون _ بقرہ ، 183_532_ ان ابا عبداللہ عليہ السلام يوصى ولدہ اذا دخل شہر رمضان : فاجتہدوا انفسكم فان فيہ تقسم الارزاق و تكتب الاجال و فيہ يكتب وفد اللہ الذى يفدون اليہ و فيہ ليلة العمل فيہا خير من الف شہر _ وسائل، ج 7 ص 221_533_ قال امير المؤمنين عليہ السلام : عليكم فى شہر رمضان بكثرة الدعاء و الاستغفار فاما الدعاء فيدفع بہ عنكم البلاء و اما الاستغفار فتمحى بہ ذنوبكم _ وسائل ، ج 7 ص 223_534_ على عليہ السلام قال: ان رسول اللہ خطبنا ذات يوم فقال: ايہا الناس انہ قد اقبل اليكم شہر اللہ بالبركة و الرحمة و المغفرة _ شہر ہو عند اللہ افضل الشہور و ايامہ افضل الايام و لياليہ افضل الليالى و ساعاتہ افضل الساعات ، ہو شہر دعيم فيہ الى ضيافة اللہ و جعلتم فيہ من اہل كرامة اللہ انفاسكم فيہ تسبيح و نومكم فيہ عبادة و عملكم فيہ مقبول و دعائكم فيہ مستجاب ، فاسالوا اللہ ربّكم بنيات صادقة و قلوب طاہرة ان يوفقكم لصيامہ و تلاوة كتابہ ، فان الشقى من حرم غفران اللہ فى ہذا الشہر العظيم واذكروا بجوعكم و عطشكم فيہ جوع يوم القيامة و عطشہ ، و تصدّقوا على فقرائكم و مساكينكم ، ووقّروا كباركم وارحموا صغاركم وصلوا ارحامكم واحفظوا السنتكم و غضّوا عمّا لا يحلّ النظر اليہ ابصاركم و عمّا لا يحلّ الاستماع اليہ اسماعكم و تحنّنوا على ايتام الناس يتحنن على ايتامكم وتوبوا الى اللہ من ذنوبكم وارفعوا اليہ ايديكم بالدعاء فى اوقات صلاتكم فانہا افضل الساعات ينظر اللہ عزّ وجل فيہا بالرحمة الى عبادہ ، يجيبہم اذانا جوہ و يلبيہم اذا نادوہ و يعطيہم اذا سالوہ و يستجيب لہم اذا دعوہ … …
ايہا الناس ان انفسكم مرہونة باعمالكم ففكّوہا باستغفاركم ، و ظہوركم ثقيلة من اوزاركم فخفّفوا عنہا بطول سجودكم واعملوا ان اللہ اقسم بعزّتہ ان لا يعذّب المصلّين والساجدين و ان لا يروعہم بالنار يوم يقوم الناس لربّ العالمين _ ايہا الناس من فطر منكم صائما مؤمنا فى ہذا الشہر كان لہ بذلك عند اللہ عتق نسمة و مغفرة لما مضى من ذنوبہ _ قيل يا رسول اللہ فليس كلّنا نقدر على ذلك ، فقال صلى اللہ عليہ و آلہ : اتقوا النار و لو بشقّ تمرة ، اتقوا النار و لو بشربة من مائ، ايہا الناس من حسّن منكم فى ہذا الشہر خلقہ كان لہ جوازاعلى الصراط يوم تزلّ فيہ الاقدام و من خفف فى ہذا الشہر عما ملكت يمينہ خفّف اللہ عليہ حسابہ و من كفّ فيہ شرّہ كفّ اللہ عنہ غضبہ يوم يلقاء و من اكرم فيہ يتيما اكرمہ اللہ يوم يلقاہ و من وصل فيہ رحمہ و صلہ اللہ برحمتہ يوم يلقاہ و من قطع فيہ رحمہ قطع اللہ عنہ رحمتہ يوم يلقاہ و من تطوّع فيہ بصلاة كتب اللہ برائة من النار و من ادّى فيہ فرضا كان لہ ثواب من ادّى سبعين فريضة فيما سواہ من الشہور و من اكثر فيہ الصلاة عليّ ثقّل اللہ ميزانہ يوم تخفّ الموازين و من تلا فيہ آية من القرآن كان لہ مثل اجر من ختم القرآن فى غيرہ من الشہور_ ايہا الناس ان ابواب الجنان فى ہذا الشہر مفتّحةفاسالوا ربّكم ان لا يغلقہا عليكم و الشياطين مقلولة فاسئلوا من ربكم ان لا يسلّطہا عليكم ، قال امير المؤمنين عليہ السلام فقمت فقلت: يا رسول اللہ ما افضل الاعمال فى ہذا الشہر؟ فقال: يا ابا الحسن افضل الاعمال فى ہذا الشہر الورع عن محارم اللہ _ وسائل ، ج 7 ص 227_
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.