خاندان کی تعریف
مختلف نظریوں اورزاویوں سے خاندان کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں،جن میں سے بعض سطحی ہیں اور بعض عمیق۔ یعنی جس قدر ہماری معرفت اور شناخت خاندان کی نسبت زیادہ ہوگی اتنا ہی اس مقدس اجتماع میں ہم رونق پیدا کر سکیں گے اور ناپائیداری کا خاتمہ کرسکیں گے۔جیسا کہ بیان کرچکا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خاندانی تشکیل کا واحد سبب جنسی خواہشات ہے کہ مرد اور عورت صرف اسی سلسلے میں پابندہیں کہ ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کریں ۔اس کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔درحا لیکہ اسلام میں اس کی بنیاد اس سے کہیں اہم چیز پر استوار ہے۔جس کی معرفت اور پہچان بہت ضروری ہے۔ تاکہ مرد اور عورت دونوں اس اہم اصول سے منحرف نہ ہو۔
خاندان کی ضرورتمرد اور عورت کی سعادت اور خوشیاں اسی میں ہے کہ الہی سنت کے دائرے میں رہیں اور سطحی جذبات سے متأثر نہ ہوں۔اور دونوں کو جان لینا چاہئے کہ اب ایک جان دو قالب ہوگئے ہیں۔ اورہونے والی اولاد دونوں کا جگر کے ٹکڑے ہیں۔امام صادق سے روایت ہے کہ پیامبر اسلام (ص)نے ازدواجی زندگی کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَا بُنِيَ بِنَاءٌ فِي الْإِسْلَامِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنَ التَّزْوِيجِ۔ 1یعنی اسلامی نقطہ نگاہ سے ازدواج کی بنیاد سے بڑھ کر زیادہ پسندیدہ بنیاد نہیں ڈالی گئیکیونکہ ازدواج کی بنیاد عشق و محبت کی بنیاد ہے۔ اور اگر اسلامی معیاروں کے مطابق ہو تو یہ خاندان کبھی دربدر نہیں ہوگا ۔اور فرمایا7 :وہ بدترین شخص ہے جو غیر شادی شدہ مر جائے،اس کی پوری رات کی عبادت سے شادی شدہ کی دو رکعت نماز بہتر ہے۔اس با مقصد خاندان کی تشکیل دینے سے پہلے ضروری ہے کہ نیک اور با سیرت بیوی کا انتخاب ہو۔ کیونکہ پوری زندگی اور آنے والی نسلوں کی پرورش انہی کے ہاتھوں میں ہے۔اسی لئے بیوی کے انتخاب کرنے کا ایک معیار اس کی خاندان کی اصالت ہے۔ یعنی نہ صرف بیوی کا ایمان اور اخلاق دیکھا جائے بلکہ ان کے خاندان کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ کیونکہ خاندان کی صفات از طریق وراثت اولاد میں منتقل ہوتی ہے۔ اس لئے حقیقی ،با تقوی اور پسندیدہ صفات جیسے شجاعت و کرامت کے مالک خاندان میں شادی کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ پیامبر(ص)نے فرمایا: اخْتَارُوا لِنُطَفِكُمْ فَإِنَّ الْخَالَ أَحَدُ الضَّجِيعَيْنِ 2- یعنی ہمسر کا انتخاب میں خاندانی اصالت کا خیال رکھنا، کیونکہ اقرباء اور رشتہ دار تمھاری اولاد کی صفات میں تیرے شریک ہیں۔اسی طرح کم ذات خاندان میں شادی کرنے سےروکتے ہوئے فرمایا: قَالَ لِلنَّاسِ إِيَّاكُمْ وَ خَضْرَاءَ الدِّمَنِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَا خَضْرَاءُ الدِّمَنِ قَالَ الْمَرْأَةُ الْحَسْنَاءُ فِي مَنْبِتِ السَّوْءِ3- لوگو! تم لوگ خضراء دمن سے بچو ۔ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! خضراء دمن سے کیا مراد ہے؟! تو فرمایا: وہ خوبصورت عورت جو برے گھر اور ماحول میں پلی ہو۔
————1 ۔ روضةالمتقین ج٨،ص٨٢ا.من لا یحضرہ ج۳، ص۳۸۳۔2 ۔ مستدرک الوسائل ج١٤، ص۱۷۴.3 ۔ من لا یحضرہ الفقیہ ، ج۳، ۳۹۱