تشکیل خاندان کے آداب
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُم بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ. 1اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں خاندانی مسائل کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا:”اے ایمان والو! ضروری ہے تمہاری کنیزیں اور وہ بچے جو ابھی حدّبلوغ کو نہیں پہنچے ہیں ،تین اوقات میں تم سے اجازت لیکرکمرے میں داخل ہوا کریں:فجر کی نماز سے پہلے ، دوپہر کو جب تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہواور عشاء کی نماز کے بعد، یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں ، اس کے بعد ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے میں نہ تم پر کوئی حرج ہے اور نہ ان پر۔اللہ تعالی اس طرح تمہارے لئے نشانیان کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور اللہ بڑا دانا ،حکمت والاہے”۔اور جب تمہارے بچےّ بلوغ کو پہنچ جائیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اجازت لیا کریں ۔جس طرح پہلے (ان سے بڑے ) لوگ اجازت لیا کرتے تھے۔ان آیات سے درج ذیل نکات حاصل ہوتے ہیں:1. جب بیوی کیساتھ خلوت میں بیٹھنے لگو تو بچوں کو بغیر اجازت اندر آنے سے منع کریں۔2. کبھی بھی ماں باپ نازک لباس(sleeping dress ) میں بچوں کے پاس نہ جائیں۔ نہ باپ کو حق پہنچتا ہے کہ نامناسب لباس پہن کربچوں کے سامنے آئے اور نہ ماں کو۔ تاکہ معمولی سی بھی تحریک آمیز منظر اولادوں کے سامنے پیدا نہ ہو۔امام صادق(ع) سے منقول ہے :لا یجامع الرجل امرئتہ وفی البیت صبی فانّ ذالک یورث الزنا-2 یعنی کسی شخص کو حق نہیں ہے کہ وہ ایسے کمرے میں بیوی کیساتھ ہمبستری کرے جس میں بچہ بیدار ہو، کیونکہ یہ منظر بچے کا فساد اور فحشاء کی طرف انحراف کا باعث بنتا ہے۔اور آپ پیامبرخدا (ص)سےنقل کرتے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ امْرَأَتَهُ وَ فِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ مُسْتَيْقِظٌ يَرَاهُمَا وَ يَسْمَعُ كَلَامَهُمَا وَ نَفَسَهُمَا مَا أَفْلَحَ أَبَداً إِذَا كَانَ غُلَاماً كَانَ زَانِياً أَوْ جَارِيَةً كَانَتْ زَانِيَة-3امام صادق نے پیامبر اسلام سے روایت کی ہے : اس ذات کی قسم جس کی قبضہٗ قدرت میں میری جان ہے ؛ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرے اور اس کمرے میں کوئی بچہ جاگ رہا ہو اور ان دونوں کو دیکھ رہا ہو اور ان دونوں کی آواز اور سانسوں کوسن رہا ہو، تو وہ پیدا ہونے والا کبھی نیک انسان نہیں ہوگا ، اگر وہ بچہ ہو تو زانی ہوگااور اگر بچی ہو تو زانیہ ہوگی۔
————1 ۔ سورہ نور، ۵۹ ۔۵۸ .2 ۔ وسائل الشیعہ،ج١٤،ص٩٤.3 ۔ الکافی ، ج۵، ص۵۰۰۔خاندان تشکیل دینے کے تین اصول
o شوہر اور بیوی کا باہمی عشق و محبتیہ چیز اللہ تعالی نے انسان کی فطرت میں پوشیدہ رکھا ہے۔ اور یہ ضرورت ہم دوسرے جانداروں میں بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ انسان اگر تنہائی میں زندگی کرنےپر مجبور ہوجائے تو زیادہ مغموم اورفکر مند ہوجاتا ہے .اسی لئے اپنے ہم نوع کے عطوفت و محبت کے سانچے میں اپنے آپ کو ڈالتا ہے۔خدا تعالی نے تشکیل خاندان سے پہلے میاں بیوی کے درمیان کچھ یوں محبت اور مودت ایجاد کی ہے کہ جس کے بغیردونوں کو سکون نہیں ملتا۔ یہی محبت ہے جس کی وجہ سے مرد اور عورت ازدواجی زندگی میں داخل ہونے کیلئے قدم اٹھاتے ہیں ۔ایک شخص نے حضرت رسولخدا (ص) کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ(ص)! اس ازدواجی کام نے مجھے تعجب میں ڈال دیا ہے کہ ایک اجنبی مرد اور اجنبی عورت ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں ہیں، جیسے ہی عقد ازدواج میں داخل ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کیلئے انتہائی محبت اور پیارکرنے لگتے ہیں۔رسولخدا (ص)نے فرمایا: ازدواجی امر کی بنیاد کو خدا نے انسانی فطرت میں رکھاہے جس کی ضرورت کو اپنے اندرشدت سے احساس کرتے ہیں ، اس کے بعد یہ آیہ شریفہ تلاوت فرمائی: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ . .1اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیاہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اورپھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبانِ فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں.الصَّدُوقُ فِي الْهِدَايَةِ، عَنِ النَّبِيِّ أَنَّهُ قَالَ مِنْ سُنَّتِي التَّزْوِيجُ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ۔2یہ عشق و محبت خدا تعالی کی عظیم عنایت ہے کہ جس پر رسولخدا (ص)نے فخر کرتے ہوئے فرمایا:نکاح میری سنت ہے جو بھی اس سنت سے منہ پھیرے گا وہ مجھ میں سے نہیں ہوگا۔ قرآن مجید نے بھی اس کام کی طرف شوق دلاتے ہوئے فرمایا: وَأَنكِحُوا الْأَيَامَى مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ -3 اور اپنے غیر شادی شدہ آزاد افراد اور اپنے غلاموں اور کنیزوں میں سے باصلاحیت افراد کے نکاح کا اہتمام کرو کہ اگر وہ فقیر بھی ہوں گے تو خدا اپنے فضل وکرم سے انہیں مالدار بنا دے گا کہ خدا بڑی وسعت والا اور صاحب علم ہے۔
————1 ۔ روم ۲۱.2 ۔ مستدرک الوسائل، ج۱۴، ص۱۵۲۔3 ۔ نور ٣٢.o خاندان میں مرد کا احساس ذمہ داریعلامہ طباطبائی(رح) فرماتے ہیں :فا لنساء ھن الرکن الاول والعامل الجوہری للاجتماع الانسانی-1 خواتین خاندانی اجتماع کی تشکیل اوراستحکام کی اصلی اور واقعی سنگ بنیاد ہیں، اس عظیم جاذبہ کو خدا نے عورت کے وجود میں قرار دیا ہے اور اسے آرام و سکون کا باعث قرار دیا ہے ۔ اور اس رکن اصلی کی حفاظت اور حراست کو مردوں کے ذمہ لگایا ہے،کیونکہ خدا نے مرد میں وہ توانائی اور قدرت پیدا کی ہے جس کے ذریعے وہ اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔قرآن مجید کہہ رہا ہے:الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ 2 ۔ مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خدا نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انھوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے ۔ پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے۔اس آیہ شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے۔اور ازدواجی زندگی میں مادی ضرورتوں کو پورا کرنا بھی مردوں کے ذمہ لگایا۔اور ناموس کی حفاظت اور دفاع بھی مرد پر واجب کردیا،جس کیلئے وہ اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتا.
————1 ۔ المیزان ،ج٤،ص٢٢٣.2 ۔ نساء ٣٤ .o دوام زندگی اور اس کی حفاظتسب جانتے ہیں کہ ایک کامیاب زندگی وہ ہے جس میں میاں بیوی دونوں ایک دوسرے پر راضی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں اپنے آپ کو برابر کے شریک جانتے ہوں۔ اور یہ رؤوف ورحیم اللہ کی انسانوں پر بہت بڑی مہربانی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان وہ محبت ڈال دی جس کی وجہ سے دونوں میں فداکاری کا جذبہ موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں میاں بیوی ان اسباب سے پرہیز کرتے ہیں جو ان میں جدائی کا باعث ہوں۔اور دونوں کی یہی خواہش رہتی ہے کہ اس رشتے کی بنیادیں مستحکم تر ہوں ، اور آیہ شریفہ( وجعل بینکم مودة و رحمة) کا مصداق بنیں۔آیہ شریفہ میں مودت سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین نے تین احتمال ذکر کئے ہیں 😮 مودت یعنی ازدواجی زندگی کے آغاز میں ایک دوسرے سے مرتبط ہونے کا شوق، لیکن ممکن ہے زندگی کو دوام بخشنے یا آخر تک پہنچانے میں دونوں میں سے کوئی ایک ناتوان اور ضعیف ہو جائے۔ اور دوسرے کی خدمت کرنے پر قادر نہ ہو۔ اس طرح رحمت بھی مودت کا جانشین بنے گی۔ یہ دونوں اس قدر ایک دوسرے سے عشق و محبت رکھتے ہیں کہ اگر کوئی اور آکر اس ناتوان کی مدد کرے تو اس مدد گار کا بھی احترام کرنے لگتے ہیں۔اور یہ دونوں ایک دوسرے کے خاطر اپنے آپ کو آب و آتش میں ڈال دیتے ہیں تاکہ دوسرا آرام و راحت میں رہے۔جبکہ اس وقت نہ خواہشات جنسی اور شہوانی درکار ہے اور نہ کوئی جوانی مسائل ۔ اس ضعف اور ناتوانی کے دور میں فقط ایک دوسرے کی حفاظت اور نگہداری ان کیلئے زیادہ اہم ہے۔o مودت بڑوں سے ہوتی ہے جو ایک دوسرے کی خدمت کرسکے لیکن رحمت چھوٹوں کیساتھ مربوط ہے کہ جو رحمت کے سائے میں پرورش پاتے ہیں۔چنانچہ رسولخدا (ص)نے فرمایا: ارحموا صغارکم۔تم اپنے چھوٹوں پر رحم کریں۔o مودت غالبا دو طرفہ ہوتی ہے لیکن رحمت یک طرفہ۔ لیکن کسی بھی معاشرہ ، اجتماع یا خاندان کی بقاء متقابل خدمات پر منحصر ہے جو مودت ہی سے ممکن ہے نہ محبت سے۔ 1
————1 ۔ تفسیر نمونہ،ج١٦،ص٣٩١