ہتک حرمت مساجد

435

ہر وہ عمارت جو مسجد کے نام سے کسی ایک دوسرے تمام اسلامی فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ذریعہ بنائی جائے اس کا احترام واجب ہے اورا س کی اہانت مثلاً خراب کرنا یا نجاست سے آلودہ کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ہر دین دار بدیہی طور بخوبی جانتا ہے کہ مسجد پروردگار عالم کی طرف منسوب ہے۔و ان المساجدللّٰہمساجد اللہ ہی کے لئے مخصوص ہیں۔ اس لئے اس کی اہانت خداوند تبارک و تعالیٰ کی اہانت ہے،عن ابی بصیر قال سئلت ابا عبد اللہ (علیہ السلام) عن العلتہ فی تعظیم المساجد فقال(ع) انما امر بتعمیر المساجد لانھا بیوت فی الارض(وسائل کتاب الصلوة باب ۸ ج۳ص۵۵۷)ابو بصیر راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت ابی عبد اللہ جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کیا سبب ہے کہ مساجد کے احترام کا حکم صادر ہواہے؟ آپ نے فرمایا اس کیوجہ یہ ہے کہ مسجدیں زمین پر اللہ کا گھر ہیں۔روایت ہے خداوند تبارک وتعالیٰ نے فرمایا مسجدیں زمین پر میرا گھر ہیں۔کتنے خوش نصیب ہیں وہ بندے جو میرے گھر میں وضو کر لیتے ہیں اور باطہارت میرے گھر میں میری زیارت کرتے ہیں ایسے میں صاحب خانہ پر لازم ہے کہ جو لوگ اس کی زیارت کو آئیں ان کا احترام کریں ۔جولوگ تاریکی شب میں مساجد جانے کے قصد سے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں ان کو اس نور کی بشارت دو جو روز قیامت ان کو فراہم کر دوں گا۔(وسائل الشیعہ کتاب الصلوة باب۲۹)اس کے علاوہ ہر صاحب ایمان ہتک حرمت مساجد کو گناہ کبیرہ تسلیم کرتے ہیں۔قرآن مجید میں مساجد کے خراب کرنے کو ہتک حرمت کی ایک قسم قرار دیا ہے اور ظلم کے مراتب میں سے بڑا ظلم شمار کرتے ہوئے فرمایا۔ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا(سورہ بقرہ آیت ۱۱۴)اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو خدا کی مسجدوں میں اللہ کا نام لینے سے روکے اور ان کی خرابی کے درپے ہو۔ہم ذیل میں مساجد سے متعلق کچھ احکام کو ان کی اسناد کا ذکر کئے بغیر بطور اختصار لکھ رہے ہیں۔
(۱)مسجد کا نجس کرنا حرام ہےمسجد کا نجس کرنا حرام ہے نیز کسی نجس العین چیز کا مسجد میں داخل کرنا بھی جس سے مسجد نجس ہونے کا اندیشہ ہو حرام ہے۔لیکن مسجد نجس نہ ہو اور ہتک ہو جائے تب بھی حرام ہے ۔عین نجس تو نہیں مگر متنجس(نجس شدہ چیز)بھی مسجد میں لے جانے کا حکم بھی یہی ہے چاہے وہ خشک ہی کیوں نہ ہو اور مسجد کی نجاست کا باعث بھی نہ بنے حرام ہے۔اگر مسجد نجس نہ ہو اور اس سے مسجد کی ہتک حرمت بھی لازم نہ آئے تو جائز ہے۔بنا بر احتیاط عین نجس کو کسی حالت میں مسجد میں داخل نہ کیا جائے۔
(۲)مسجد کی تطہیر واجب ہےمسجد سے نجاست دور کرنا اور فوری طور پاک کرنا واجب ہے تا کہ عرف میں یہ نہ کہا جاسکے کہ مسجد پاک کرنے میں تاخیر وغفلت ہوئی ہے۔واجب فوری سے مطلب یہ ہے کہ مثلاً اگر نماز کا وقت تنگ نہ ہو تو پہلے مسجد کو پاک کرنا چاہئے۔مسجد کی زمین،چھت،دیوار کسی اندورنی حصہ ،باہر اور فرش نجس ہونے کے بعد فوری طور پر پاک کرنے کے بارے میں کوئی خصوصی حکم نہیں بلکہ بغیر استثناء فوری طور پر پاک کرنے کے بارے میں کوئی خصوصی حکم نہیں بلکہ تمام مسلمانوں پر واجب کفائی ہے ۔اگر مال خرچ کرنا لازم ہو تو اس کا خرچ کرنا بھی واجب ہے۔اگر یہ کام اکیلا انسان انجام نہیں دے سکتا ہے تو دوسروں سے مدد لینا واجب ہے۔
(۳)مسجد میں جنابت ،حیض اور نفاس کی حالت میں ٹھہرناجنب شخص،حائض اورنفساء عورت کا مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔ ولاجب الاجنباالاعابری سبیل حتی تغسلوا (سورہ نساء آیت ۴۳)اور نہ جنابت کی حالت یہاں تک کہ غسل کرلو مگر صرف عبور کے لئے ۔یعنی ایک دروازے سے داخل ہوں اور دوسرے سے نکل جائیں۔لیکن مسجد الحرام اور مسجد النبی سے جنب شخص،حائض اور نفساء عورت کا گزرنا بھی جائز نہیں۔
(۴) مسجد کے مستحباتمسجد میں چراغ جلانا،پاک وپاکیزہ رکھنا،داخل ہوتے وقت پہلے سیدھے پاوٴں اور باہر نکلتے ہوئے پہلے بائیں پاؤں کر رکھنا مستحب ہیں۔ داخل ہوتے ہوئے اس بات کا اطمینان کر لو کہ جوتا نجس تو نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے مسجد نجس ہو جائے۔مسجد میں باطہارت(وضو اور غسل کے بعد)داخل ہو۔بہترین لباس پہن لو اور خوشبو لگا کر داخل ہو جاوٴ اور اندر داخل ہونے کے بعد دو رکعت نماز تحیت بجالاوٴ۔
(۵) مسجد کے مکروہاتمساجد سے عبور کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ دو رکعت نماز تحیت بجالانے کے بعد مسجد سے گزر جائے ساتھ ہی اگر دوسری نمازیں بھی ادا کرے تو کوئی مضائقہ نہیں۔مسجد میں ناک اور منہ کی آلودگی نہیں پھینکنا چاہیے مسجد میں سونا،اذان کے علاوہ مسجد میں آواز بلند کرنا۔کھوئی ہوئی چیزوں کا اعلان کرنا یا اس کو کسی سے طلب کرنا،ایسے اشعار کا پڑھنا جن میں وعظ و ہدایت نہ ہو مکروہ ہیں،مسجد میں دنیوی امور کی باتیں اور خرید وفروخت نہیں ہونا چاہئے ،پیاز ۔لہسن یا منہ سے بد بو پیدا کرنے والی چیزیں کھا کر مسجد نہیں جانا چاہئے۔اس کے علاوہ بچہ اور دیوانے کو مسجد میں جگہ نہ دو۔
فضیلت کے اعتبار سے مساجد کے مراتبمسجد میں سب سے زیادہ افضل و اشرف مسجد الحرام ہے اس میں پڑھنے والی ایک نماز دوسری جگہوں کی نسبت ایک لاکھ نمازوں کے ثواب کے برابر ہے۔اس کے بعد مسجد النبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہے جس میں ایک نماز کا ثواب دوسرے مقام پر پڑھی جانے والی دس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔پھر مسجد کوفہ اور مسجد اقصیٰ کے مراتب ہیں کہ جہاں پڑھی جانے والی نماز ایک ہزار نمازوں کے مساوی ہے جو دوسری جگہوں میں پڑھی جاتی ہے۔اس کے بعد ہر شہر کی جامع مسجد ہے جس کی نماز کا ثواب سو نمازوں کے برابر ہے۔پھر محلہ کی مسجد جس کی نماز پچیس نمازوں کی مانند ہے اور سب سے آخری درجہ اس مسجد کا ہے جو بازار میں واقع ہو اس مسجد میں ایک نماز پڑھنے کو ثواب دوسری نمازوں سے بارہ گنا زیادہ ہے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.