قرآن مجید کی بے احترامی کرنا

1,468

فیما کان عظیما فی انفس اھل الشرعیعنی گناہ کبیرہ معین کرنے کا (چوتھا)طریقہ یہ ہے کہ جو گناہ اہل شرع کی نظر میں بڑا ہو اور جناب رسولِ خدا اور آئمہ اطہار (علیہم السلام) کے زمانے سے لے کر اب تک ہر دین دار کے نزدیک اس کا بڑا ہوناثابت ہو وہ گناہ کبیرہ کہلائے گا،دین میں ان محترم اور مقدس چیزوں کی بے حرمتی اور توہین جن کا احترام دین مقدس اسلام میں لازم اور ضروری ہو مثلاً قرآن مجید کی بے احترامی کعبہ معظمہ مکہ مکرمہ مساجد اور چھاردہ معصومین (علیہم السلام) کے مزارات منجملہ تربت شریفہ حضرت سید الشہداء (علیہ السلام) کا احترام واجب اور ان کی توہین و بے حرمتی حرام ہیں۔یہاں ان مقدسات کے متعلق مختصر احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔قرآن کا احترام مذ ہب کی ضروریات میں سے ایک ہےہر مسلمان بدیہی طور پر اچھی طرح جانتا ہے کہ قرآن مجید خلاق کائنات کا کلام پاک ہے۔عالم اسلام کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز و شریف اور لازم الاحترام کتاب ہے اور کوئی شئے اس سے زیادہ محترم وعزیزنہیں۔حضرت رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے قرآن کو ثقل اکبر(گرانبا)کے نام سے یاد کیا ہے چنانچہ فرمایا انی تارک فیکم ا لثقلین ان القران ھو الثقل الاکبر و ان وصی ھذ وابنای و من خلفھم من اصلال بھم ھم الثقل الاصغر(سفینہ البحار جلد اول ص۱۳۲)ٍ میں تم مسلمانوں کے درمیان دوگرانبہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ان میں قرآن ثقل اکبر ہے۔اور میرا یہ وصی (علی بن ابی طالب (علیہ السلام))اور میرے دو بیٹے(حضرت حسن اور حضرت حسین + اور سادات عظام) اور ان کی اولاد(نو امام (علیہم السلام) ) ثقل اصغر ہیں۔
بہترین ثوابحضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ایک طویل حدیث میں قرآن کی عظمت و شرافت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں قیامت کے دن قرآن کہے گاپرودگار تیرے کچھ بندوں نے میری حرمت کا مکمل خیال رکھا میری حفاظت کی اور میری کسی چیز کو ضائع ہونے نہ دیا لیکن کچھ دوسرے بندوں نے مجھے ضائع کیا ۔میرا حق ادا نہیں کیا اور جھٹلایا۔فیقول تعالیٰ و عزتی وجلالی و ارتفاع مکانی لاثیبین علیک الیوم احسن الثواب ولا عاقبن علیک الیوم الیم العقاب(اصول کافی جلد ۲ص۵۹۷)اس وقت خداوندعالم فرمائے گا مجھے میری عزت و بزرگی اور بلند مقام کی قسم آج میں بہترین ثواب تمہارے لئے اور بد ترین اور دردناک عذاب کو تمہارے خاطر مقرر کروں گا۔جناب امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے فیقول الجبار و عزتی وجلالی و ارتفاع مکانی لاکرمن الیوم من اکرمک ولا ھینن من اھانک(اصوک کافی فضل قرآن حدیث۱۴ج۲ص۶۰۲)خداوند جبار فرماتا ہے مجھے میری عزت وجلال اوربلندی مقام کی قسم آج میں اس کا احترام کروں گا جس نے تیرا احترام کیا اور اسے ضرور ذلیل کروں گا جس نے تجھے ذلیل کیا۔ہر مسلمان اس حقیقت سے واقف ہے کہ قرآن کی توہین کرنا گناہ کبیرہ ہے۔قرآن کی توہین گویا خداوند اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی توہین ہے۔قال رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) انا اول وافد علی العزیز الجبار یوم القیامتہ وکتابہ واھل بیتی ثم امتی ثم اسئلھم مافعلتم بکتاب اللّٰہ و باھل بیتی (اصول کافی فضل القرآن حدیث۴ص۶۰۰)جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوں گا میرے ساتھ میرا خاندان اور اس کی کتاب ہو گی اس کے بعد میری امت حاضر ہوگی پھر میں ا پنی امت سے پوچھوں گا کہ تم نے کتاب خدا اور میرے اہل بیت سے کیا سلوک روارکھا ۔
قرآن اور اس کے احکام کی توہین کے معنیاہانت کی تشخیص کے لئے عرف کی طرف رجوع کرنا چاہئے بنا بر ایں ہر وہ کردار و گفتار جو عرف عام میں قرآن کی تذلیل یا ھتک حرمت سمجھی جائے وہ کردار و گفتار حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔حرام اور گناہ کبیرہ اس صورت میں سمجھا جائے گا اگر ہتک حرمت قرآن اور اس کی تذلیل میں مرتکب شخص کا قصد دین اسلام اور شریعت حضرت سید المرسلین (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی توہین ہو بصورت دیگر اس کا یہ عمل کفر و ارتداد کا موجب ہو گا۔کیوں کہ توہین قرآن حرام ہے اور یہ ضروریات دین میں سے ایک ہے لہٰذا اگر کوئی جان بوجھ کر قرآن مجید کو پاوٴں تلے کچلے یا اسے نجس چیز میں پھینک دے تو بظاہر اس عمل سے دین کی اہانت اور حرمت قرآن سے انکار لازم آتا ہے۔اس صورت میں ایسا شخص کافر ہے اور اس کا خون بہانا مباح ہو گا۔مگر وہ تسلیم کرے کہ یہ عمل غصہ کی حالت میں اس سے سرزد ہوا اور یہ اقرار کرے کہ اس وقت میرے ہوش و حواس بر قرار نہ تھے۔اس موقع پر مناسب ہے کہ قرآن مجید کے احترام واجب اور اس کی اہانت حرام ہونے کے متعلق اہم نکات کی طرف توجہ مبذول کرائی جائے۔(۱) قرآن مجید کی جلد،غلاف،اس کے اوراق(یعنی وہ مقامات جہاں قرآنی حروف وکلمات نہ ہوں جیسے حواشی)اور حروف وخطوط کی توہین حرام ہے۔اسی طرح ان کا نجس کرنا بھی حرام ہے اگر ہتک حرمت قرآن ہو رہی ہو اس صورت میں اس کا پاک کرنا واجب ہے۔(۲) نجس سیاہی سے قرآن کا لکھنا حرام ہے اگر نجس سیاہی سے لکھا جائے یا لکھنے کے بعد نجس ہو جائے تو اس کا پاک کرنا واجب ہے اور اگر پاک نہ ہو سکے تو اسے محو کر دینا چاہیے۔(۳) کسی کافر کے ہاتھ میں قرآن کا دینا حرام ہے بشرطیکہ اس عمل سے قرآن کی بے حرمتی یا حروف کے چھونے کا موجب بنے ۔لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہے ایسی صورت میں کافر کے ہاتھ سے قرآن کا واپس لینا واجب ہے۔(۴) اگر قرآن مجید یا اس کا کوئی ورق یا معصوم کی روایت یا کوئی انگشتری جس پر خدا کا نام نقش ہو یا تربت سید الشہداء (علیہ السلام) یا اسی قسم کے دوسری اشیاء جو دین و مذہب کی نگاہ میں محترم ہوں ان کی توہین حرام اور احترام واجب ہے۔اگر خدانخواستہ پاخانے میں گر جائے تو فوراً نکالنا اور پاک کرناواجب ہے۔اگرچہ اس پر کتنا ہی خرچ آئے جب تک اسے باہر نہ نکالا جائے وہاں رفع حاجت کرنا حرام ہے اگر باہرنکالنا ممکن نہ ہو تو اسے بند کر دینا چاہئے تا کہ اس میں مزید رفع حاجت کا امکان باقی نہ رہے۔دینی قابل احترام چیزوں کا نجاست سے باہر نکالنا پاک کرنا وغیرہ کے واجب ہونے کا تعلق صرف مالک یا نجس کرنے والے ہی سے نہیں بلکہ ہر اس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جسے اس کے متعلق علم ہو۔لیکن یہ واجب کفائی ہے۔یعنی اگر کوئی ایک فرد اس کا انجام دے دے تو دوسروں پر وجوب ساقط ہو جائے گااور اگر سب کو معلوم ہو نے کے باوجود کوئی بھی اسے انجام نہ دے تو سب کے سب قابل مواخذہ اور جوابدہ ہوں گے۔(۵) محدث(یعنی وہ شخص جسے نماز پڑھنے کے لئے وضو یا غسل کرنا ہے کا قرآ ن کے حروف کو چھونا حرام ہے اس میں فرق نہیں کہ ہاتھ سے مس کرے یا لبوں سے بوسہ دے یا دوسرے اعضائے بدن سے بہر حالت حرام ہے۔اس حکم کے فروعات بہت زیادہ ہیں ان کو جاننے کیلئے کتاب عروة الوثقی فصل وضو مسئلہ ایک سے انیس تک کا مطالعہ فرمائیں۔(۶) جناب شیخ انصاری مکاسب محرمہ کے اختتام پر فرماتے ہیں کہ فقہاء کی ایک جماعت نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ قرآن مجید کی خرید وفروخت حرام ہے انہوں نے اس کی دلیل میں ایک روایت نقل کی ہے جس کے بیان کرنے کی گنجائش ان صفحات میں موجود نہیں۔بنا بر ایں صرف قرآن کی جلد اور اس کے صفحات و اوراق کی قیمت کی نیت سے خریدنا یا فروخت کرنا چاہیے یعنی قرآن کی قیمت قرار دنہ دے اور فروخت کرنے والا ہدیہ کے طور پر خریدنے والے کو پیش کرے۔
ایک ضروری یاد دہانیجو شخص معرفت الہٰی سے زیادہ فیضیاب ہو اور پروردگار کی عظمت جلال کا ادراک کسی قدر نصیب ہو اہو ایسے سعادت مند کی نگاہ میں کلام الہی قرآن مجید بے حد عظیم ہے اس لئے جس قدر ممکن ہو اس کے ادب و احترام اور تعظیم بجالانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔پھر بھی وہ اپنے آپ کو قصور وار ٹھرائے گا کہ کماحقہ کلام الہٰی کا حق اد انہ کرسکا۔ایسا انسان کبھی وضو کے بغیر قرآن کو ہاتھ لگانے کی جرات نہیں کرے گا یعنی حدث کی حالت میں قرآن کے جلد اور حواشی تک کو مس نہ کرے نجس شدہ ہاتھ سے چاہے خشک ہی کیوں نہ ہو قرآن کو نہ چھوئے اور حالت حدث میں اس کو اپنے ساتھ نہ رکھے۔اگر قرآن ہمیشہ ساتھ وہ تو ہمیشہ باوضو رہے۔بیٹھتے وقت قرآن کی طرف پشت نہ کرے۔اس کی طرف پاوٴں لمبے کر کے نہ بیٹھے کوئی اور چیز قرآن کے اوپر نہ رکھے ۔قرآن کی تلاوت کے وقت با ادب روبہ قبلہ بیٹھے حضور قلب ،نہایت آرام سے حکمت و موعظہ سے تاثر لیتے ہوئے غورفکر کے ساتھ تلاوت کرے چونکہ فرمان پروردگار ہے افلایتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا (سورہ محمد آیت۲۴) “کیا یہ لوگ قرآن میں (ذرا بھی)غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے ) ہیں۔”اگر کوئی دوسرا تلاوت میں مشغول ہو تو اسے سنے اور احتراماً خاموشی اختیار کرے جیسا کہ حکم خدا ہے واذا قرات القران فاستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون(سورہ اعراف آیت۲۰۴)” جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کے سنو اور چپ چاپ رہو تاکہ (خدا)تم پر رحم کیا جائے۔”اگر کسی ایسی مجلس میں حاضر ہو جہاں اہل مجلس آداب و احترام کو ملحوظ خاطر نہ رکھتے ہوں اور کان لگا کر نہیں سنتے ہوں تو وہاں قرآن کی تلاوت نہ کرے۔ کتاب گلزار اکبری گلشن اکیاون میں ابو الوفاء ہروی سے نقل کیا گیا ہے ۔وہ فرماتے ہیں میں بادشاہ وقت کے دربار میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا حاضرین نہیں سن رہے تھے اور باتوں میں مصروف تھے ،رات میں نے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہو اتھا مجھے خطاب کرتے ہوئے فرمایا “اتقراء القران بین یدی قوم وھم یتحدثون ولا یستمعون انک لا تقرابعد ھذالا ماشاء اللّٰہ”کیا تم قرآن کی تلاوت ایسے گروہ کی مجلس میں کرتے ہوجو آپس میں مصروف گفتگو رہتے ہیں اور نہیں سنتے ہیں۔اور بے شک تم آج کے بعد(آداب قرآن کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے )قرآن کی تلاوت نہ کر سکو گے مگرخدا کی مرضی شامل حال ہو۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے آپ کو گونگا پایا۔لیکن آپ نے فرمایا تھا الا ماشاء اللہ (مگر مرضی خدا کی شامل حال ہو)اس لئے امید تھی کہ میری گوئی بحال ہو جائے گی ،چارمہینے گزرنے کے بعد اسی جگہ جہاں میں نے پہلے خواب دیکھا تھا پھر جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو خواب میں دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔فرمانے لگے قدتبت یقینا تم نے توبہ کی ہے۔میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) من تاب تاب علیہ جو شخص تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے خدا بھی اس کی مغفرت کی طرف رجوع کرتا ہے۔بعد میں فرمایا اپنی زبان باہر نکالو میں نے باہر نکالا تو آپ نے اپنی اشارہ کی انگلی سے میری زبان کو مس کیا اور متنبہ کرتے ہوئے فرمایا “اذا کنت بین یدی قوم تقرء کلام فقطع قرائتک حتی یسمعوا کلام رب العزة “جب تم کسی جماعت کے درمیان قرآن پڑھو(اور وہ نہ سنے)تواپنی تلاوت کو روک دوجب تک اہل مجلس کلام ربّ العزت کو سننے کے لئے تیار نہ ہوں۔جب میں نیند سے بیدار ہواتو میری گویائی لکنت بحال ہوچکی تھی۔کتاب مذکور کے گلشن۸۰ میں دینی مقدسات کے احترام اور توہین کے بارے میں کچھ حکایتیں نقل کی ہے شائقین رجوع فرمائیں۔یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ جس طرح قرآن عظیم کی اہانت و استخفاف گناہ کبیرہ اور حرام ہے اسی طرح چہاردہ معصومین (علیہم السلام)سے منقول روایات اور احادیث کا مجموعہ جیسے صحیفہ سجادہ وغیرہ کی ہتک حرمت بھی حرام ہے۔مثلاً ان کو لا پراوہی سے زمین پھینک دینا یا ان پر پاوٴں رکھنا وغیرہ جو عرف عام میں توہین سمجھا جائے تو حرام ہے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.