سنت محمدی کو زندہ کرنا

212

سنت محمدی کا احیاء( زندہ کرنا)
حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی قضاوت ،جدید احکام نیز جو آپ اصلاح کریں گے، اس کے متعلق بہت ساری روایات پائی جاتی ہیں؛ ایسے احکام جو موجودہ فقہی متون اور کبھی ظاہر روایات و سنت کے موافق نہیں ہیں بھائی کی میراث کا قانون عالم ذر میں شرابخور، بے نمازی کا قتل،جھوٹے کی پھانسی ، مومن سے سود لینا حرام ہے معاملات میں، مسجدوں کے مناروں کا خاتمہ مساجد کی چھتوں کو توڑدینا انھیں میں سے ہے، جو روش حضرت اپنے کاموں اور امور میں اختیار کریں گے جس کا بیان گذشتہ فصل میں ہو چکا ہے اس طرح ہے۔
روایات میں اس طرح عبارت کی تبدیلی سے جیسے جدید فیصلے ،نئی سنت ،نئی دعائیں ،نئی کتاب کے اسماء کا ذکر ہے کہ ہم اسے صرف سنت محمدی کو زندہ کرنے کانام دیتے ہیں ؛
لیکن دگر گونی و اختلاف کچھ اتنا ہوگا کہ دیکھنے والے لوگ دین جدید سے تعبیر کریں گے۔
جب ایسی روایتوں کا معصومین( علیہم السلام )سے صادر ہونا ثابت ہو جائے ،تو چند نکتوں کی جانب توجہ لازم و ضروری ہوگی :
۱۔بعض احکام الٰہی اگر چہ ان کا سر چشمہ خدا وند عالم ہی ہے لیکن اعلان و اجراء کے شرائط حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے زمانے میں فراہم ہوں گے اور ہی ہیںجو ان احکام کا اعلان اور اجراء کریں گے۔(۱)
۲۔مرور زمانہ سے طاقتوروں اور تحریف کرنے والوں کی جانب سے احکام الٰہی میں دگر گونی و تحریفیں واقع ہوئی ہیں حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کے بعد اسے صحیح و درست کردیں گے ۔
کتاب القول المختصر میں ہے کہ کوئی بدعت اور سنت ایسی نہیں ہوگی جس کا پھر سے احیاء نہ کر یں ۔(۲)
۳۔اس لئے بھی کہ جو فقہا ء نے حکم شرعی حاصل کیا ہے قواعد و اصول سے حاصل کیا ہے کبھی حاصل شدہ حکم شرعی واقع کے مطابق نہیں ہو تا، اگرچہ اس استنباط کا نتیجہ مجتہد اور مقلد کے لئے حجت شرعی ہے؛ لیکن امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنی حکومت میں حضرت احکام واقعی کو بیان کریں گے۔
۴۔بعض احکام شرعی خاص شرائط و اضطراری صورت اور تقیہ کے عالم میں غیر واقعی صورت میں بیان ہوئے ہیں جب کہ حضرت کے زمانہ میں تقیہ نہیں ہوگا اور احکام واقعی کی صورت میں بیان ہوں گے۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”جب ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تقیہ ختم ہو جائے گا اور حضرت، تلوار نیام سے باہر نکالیں گے تو لوگوں سے تلوار کا لین دین کریں گے اور بس“(۳)
 
مذکور بالا موارد سے متعلق چند روایت بیان کرتے ہیں :
امام جعفرصادق(علیہ السلام)ایک مفصل حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں: تم مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہمارے امر کے سامنے تسلیم رہو اور تمام امور کی بازگشت ہماری جانب کرونیز ہماری اور اپنی حکومت اور فرج کے منتظر رہو جب ہمارے قائم ظہور کریں گے اور ہمارا بولنے والا بولے گا نیز قرآن کی تعلیم دین و احکام کے قوانین نئے سرے سے تمہیں دیں جس طرح رسول خدا پر نازل ہوئے ہیں تو تمہارے علماء حضرت کی اس رفتار کا انکا ر کریں گے اور تم خدا کے دین اور اس کی راہ پر ثابت نہیں رہو گے، مگر تلوار کے ذریعہ جو تمہارے سروں پر سایہ فگن ہوگی۔
خدا وند عالم نے اس امت کے لئے گذشتہ امتوں کی سنت قرار دی ہے لیکن ان لوگوں نے سنت کو تبدیل کر دیا اور دین میں تحریف کر ڈالی کوئی لوگوں کے درمیان رائج حکم نہیں ہے مگر یہ کہ وحی شدہ کے احکام میں تحریف کر دی گئی ہے خدا تم پر رحمت نازل کرے جس چیز کی تمہیں دعوت دی جائے اسے قبول کرو تاکہ مجدددین آجائے “(۴)
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب حضرت قائم ظہور کریں گے، تو لوگوں کو نئے سرئے سے اسلام کی دعوت دیں گے اور انھیں اسلام کی راہنمائی کریں گے،جب کہ لوگ پرانے اسلام سے برگشتہ اور گمرا ہ ہو چکے ہوں گے۔(۵) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کسی نئے دین کی پیشکش نہیں کریں گے بلکہ چونکہ لوگ واقعی اسلام سے منحرف ہو چکے ہیں دوبارہ اسی دین کی دعوت دیں گے جس طرح رسول خد ا نے اس کی دعوت دی ہے ۔
امام جعفر صادق(علیہ السلام) نے برید سے کہا:”اے برید خدا کی قسم کوئی حریم الٰہی ایسی نہیں ہوگی جس سے تجاوز نہ کیا گیا ہو اور اس دنیامیں کتاب خدا وندی و سنت رسول خدا پر کبھی عمل نہیں ہوا اور جس دن امیر الموٴ منین(علیہ السلام) نے رحلت کی ہے اس کے بعد سے لوگوں کے درمیان حدود الٰہی کا اجراء نہیں ہوا“ اس وقت فرمایا:”قسم خدا کی روزو شب ختم نہیں ہوں گے مگریہ کہ خداوند عالم مردوں کو زندہ ،زندوں کو مردہ کرے گا اور حق اس کے اہل کو لوٹا دے گا اور اپنے آئین کو جو اپنے اوررسول خدا کے لئے پسند کیا ہے باقی رکھے گا۔ تمہیں مبارک ہو مبارک، کہ حق صرف اور صرف تمہارے ہاتھ میں ہے “(۶)
یہ روایت بتاتی ہے کہ دگر گونی و تغیرزیادہ تر شیعوں کے علاوہ ان کے مخالفین کے لئے ہے لیکن بعض موارد میں شیعوں کے لئے بھی۔
اس فصل میں تغیرات ،اصلاحات ،کا امام زمانہ کے زمانے میں تین حصہ میں : احکام جدید، اصلاحات اورعمارتوں کی تجدید اور نئے فیصلوں کا بیان کریں گے۔
الف) احکام جدید
۱۔زنا کار اور زکوة نہ دینے والوں کو پھانسی
ابا ن بن تغلب کہتے ہیں : کہ امام جعفر صادق(علیہ السلام) نے مجھ سے کہا: ”اسلام میں حکم خدا وندی کے مطابق دو خون حلال ہے، نیز اس وقت تک اس کا کوئی حکم نہیں دے گا جب تک کہ خداوند عالم ہمارے قائم کو نہ بھیج دے وہ خدا کے حکم کے مطابق حکم دیں گے اور کسی سے گواہ و شاہد کے طالب نہیں ہوں گے ۔حضرت زنائے محصنہ کرنے والوں (زن دار مرد،اور شوہر دار عورت) کو سنگسار کریں گے اور جو زکوة نہیں دے گا اس کی گردن مار دیں گے “(۷)
امام جعفر صادق و امام موسیٰ کاظم( علیہما السلام) فرماتے ہیں : ”جب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو تین ایسا حکم دیں گے کہ آپ سے پہلے کسی نے ایسا حکم نہ دیا ہوگا ۔ آنحضرت بوڑھے زنا کار مرد کو پھانسی دیں گے اور زکوة نہ دینے والوں کو قتل کردیں گے ایک برادردینی کی میراث دوسرے برادر دینی کودیں گے (یعنی جو عالم ذر میں باہم بھائی رہے ہوں گے)“(۸)
علامہ حِلّی زکوة نہ دینے والے کی پھانسی کے بارے میں کہتے ہیں: مسلمان ہر زمانہ میں زکوة کے وجوب پر متفق اور زکوة کو اسلام کے پنجگانہ ارکان میں سے ایک جانتے ہیں۔ لہٰذاجو اس کے وجوب کو قبول نہ کرے جبکہ فطری مسلمان ہو اور مسلمانوں کے درمیان نشو ونما پائی ہو، تو اسے بغیر توبہ کے پھانسی دیدیں گے اور اگر مسلمان ملی ہوگا تواسے تین بار مرتد ہونے کے بعد، توبہ کی مہلت دیں گے اس کے بعد پھانسی دیدیں گے۔
یہ احکام اس صورت میں ہیں جب آگاہ و باشعور انسان وجوب کے بارے میں علم رکھتا ہو لیکن اگر وجوب سے ناواقف ہو تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگے گا“(۹ )
مجلسی اول، اس روایت کی شرح میں بعض وجوہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : شاید مراد یہ ہو کہ حضرت ان دو مورد میں اپنے علم کے مطابق حکم اور قضاوت کریں گے اور شاہد کی ضرورت نہیں ہوگی جیسا کہ یہی روش حضرت کے دیگر فیصلوں میں بھی ہوگی ان دو مورد سے اختصاص دینے کا راز اہمیت کے لحاظ سے ہے ۔(۱۰)
۲۔قانون ارث
امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں : خدا وند عالم نے، جسم سے دس ہزارسال قبل ارواح کو خلق فرمایا۔ان میں سے جو ایک دوسرے سے آسمان پر آشنا و متعارف رہے ہیں وہ زمین پر بھی آشنارہیں گے اور جو ایک دوسرے سے اجبنی رہا ہے، زمین پر بھی ایسا ہی ہوگا جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو برادر دینی کو میراث تو دیں گے لیکن نسبی برادر کو محروم کر دیں گے یہی معنی ہیں خداوند عالم کے قول کے سورہ مومنون میں : <فَاِذَاْ نُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَلاَ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِیذٍ وَلَاْ یَتَسَائَلُوْنَ>(۱1)جب صور پھونکاجائے گا تو اس وقت لوگوں کے درمیان کوئی نسب نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کی علت دریافت کریں گے۔(1۲)
امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” خدا وندعالم نے جسم کی خلقت سے دس ہزار سال قبل ،ارواح کے درمیان بھائی چارگی قائم کی لہٰذا جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو برادران دینی جن کے درمیان برادری قائم ہے ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور نسبی بھائی جو ایک ماں باپ سے ہوں گے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے“(1۳)
 
۳۔جھوٹوں کا قتل
امام جعفرصاد ق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”جب حضرت قائم ظہور کریں گے تو سب سے پہلے جھوٹے شیعوں کا تعاقب کریں گے اور انھیں قتل کر ڈالیں گے۔“(1۴) احتما ل ہے کہ شایداس سے مراد منافقین اور مہدویت کے مدعی اور بدعت گذار افراد ہوں جو دین سے لوگوں کے منحرف ہونے کا سبب بنے ہیں ۔
 
۴۔حکم جزیہ کا خاتمہ
حضرت امیر الموٴ منین(علیہ السلام) فرماتے ہیں: ”خدا وند عالم دنیا کا اس وقت تک خاتمہ نہیں کرے گا، جب تک حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام نہ کریں اور ہمارے دشمنوں کو نیست و نابود اور جزیہ قبول نہ کریں اور صلیب و بتوں کونہ توڑدیں نیز جنگ کا زمانہ ختم ہوگا اور لوگوں کو مال ودولت لینے کے لئے آواز دیں گے اور ان کے درمیان اموال کو برابر سے تقسیم کریں گے اور لوگوں سے عادلانہ رفتار رکھیں گے“(۱5)
رسول خدا نے صلیبوں کے توڑنے اورسوروں کے قتل کرنے کے بارے میں (کہ اس کا مطلب جزیہ کا حکم اور مسیحیت کا دور ختم ہونا ہے) فرماتے ہیں :” حضرت مہدی ایک منصف فرمانروا کی حیثیت سے ظہور کریں گے صلیبوں کو توڑ اور سوروں کو قتل کر ڈالیں گے نیز اپنے کار گذاروں کو حکم دیں گے،مال ودولت لئے شہروں کا چکر لگائیں تاکہ نیاز مند اسے لے لیں؛ لیکن کوئی نیاز منداور محتاج نہیں ملے گا“ (16)شاید یہ حدیث مسیحیت اور اہل کتاب کے آخری دور کی طرف اشارہ ہو۔
 
۵۔ امام حسین (علیہ السلام) کے باقی ماندہ قاتلوں سے انتقام
ہروی کہتے ہیں : میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے عرض کیا: یابن رسول اللہ!امام جعفر صادق(علیہ السلام) کی اس بات کا آپ کی نظر میں کیا مطلب ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ”جب حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو امام حسین (علیہ السلام) کے قاتلین کے باقی ماندہ افراد اپنے اباوٴ اجداد کے گناہ کی سزا پائیں گے “کیا ہے؟حضرت امام رضا(علیہ السلام) نے کہا:” یہ بات ٹھیک ہے۔پھر میں نے ان سے کہا کہ اس آیت< وَلاَ تَزِر ُوَاْزِرَة َوِزْر َاُخْرَیٰ> (7 ۱) ”کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “کے کیا معنی ہیں ؟
توآپ نے کہا: جو خدا نے کہا ہے وہ درست ہے لیکن امام حسین (علیہ السلام) کے قاتلین کے باقی ماندہ افراد اپنے آباوٴ اجداد کے رویہ سے خوشحال ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں اور جوکوئی کسی چیز سے خوش ہو تو وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے انجام دیا ہو اگر کوئی شخص مشرق میں قتل کیا جائے اور دوسرا مغرب میں رہ کر اس قتل پر اظہار خوشی کرے خدا وند عالم کے نزدیک قاتل کے گناہ میں شریک ہے۔
اور حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) امام حسین(علیہ السلام) کے قاتلوں کے باقی ماندہ افراد کو نیست و نابود کریں گے؛ اس لئے کہ وہ اپنے آباوٴ اجداد کے کردار پر اظہار خوشی کرتے ہیں“
میں نے کہا : آپ کے قائم سب سے پہلے کس گروہ سے شروع کریں گے ؟ آپ نے کہا: ”بنی شیبہ سے ان کے ہاتھوں کو قطع کریں گے اس لئے کہ وہ مکہ معظمہ میں خانہٴ خدا کے چور ہیں “( 18)
 
۶۔رہن و وثیقہ کا حکم
علی کہتے ہیں کہ میرے والد ،سالم نے امام جعفرصادق(علیہ السلام) سے حدیث ”جو کوئی
رہن اور وثیقہ حوالہ کرنے پر برادر مومن سے زیادہ مطمئن ہو میں اس سے بیزار ہوں “کے بارے میں میںنے سوال کیا ۔
توامام جعفر صادق(علیہ السلام) نے کہا:” یہ مطلب قائم اہل بیت (علیہم السلام) کے زمانے میں ہے “(19)
 
۷۔ تجارت کا فا ئد ہ
سالم کہتا ہے : میں نے امام جعفرصاد ق(علیہ السلام) سے کہا : ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ مومن کابرادر مومن سے سود لینا حرام اور رباہے؟حضرت نے کہا: ”یہ مطلب ہمارے اہل بیت( علیہم السلام) قائم کے ظہور کے وقت ہوگا؛ لیکن آج جایز ہے کہ کوئی شخص کسی مومن سے کچھ فروخت کرے اور اس سے فائدہ حاصل کرے تو جائز ہے۔(۲0)
مجلسی اول اس روایت کی سند کو قوی جاننے کے بعد فرماتے ہیں : اس روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ جو روایات کسی مومن سے فائدہ لینے کو مکر وہ سمجھتی ہیں اور اسے ربا کہتی ہیں ،مبالغہ نہیں ہے ممکن ہے کہ فی الحال مکروہ ہو، لیکن حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں حرام ہو جائے،(21) لیکن مجلسی دوم اس روایت کو مجہول قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں : شاید ان دو مورد میں حرمت ،حضرت حجت کے قیام کے زمانے سے مقید ہو۔(22)
۸۔برادران دینی کا ایک دوسرے کی مدد کرنا
اسحاق کہتے ہیں : میں امام جعفرصاد ق (علیہ السلام)کی خدمت میں تھا کہ حضرت نے برادر مومن کی مدد و تائید کی بات چھیڑدی اوراس وقت کہا-”جب قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)ظہور کریں گے تو برادران مومن کی مدد اس وقت واجب ہو جائے گی اور چاہئے کہ ان کی مدد کریں“(23)
 
۹۔قطایع کا حکم (غیر منقول اموال کا مالک ہونا)
امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :”قطایع حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے قیام کے وقت نیست و نابو د ہو جائیں گے ؛اس طرح سے کہ پھر کوئی قطایع کا وجود نہیں ہوگا“(۲4)
قطایع ۔یعنی بہت بڑا سرمایہ ،جیسے دیہات میں بے شمار زمینیں اور قلعے ہیں جسے باد شاہوں اور طاقتور افرا د نے اپنے نام درج کرا لیا ہے ساری کی ساری امام زمانے(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے وقت ان کی ہو جائیں گی۔
 
۱۰۔دولتوں کا حکم
معاذ بن کثیر کہتا ہے کہ امام جعفر صادق(علیہ السلام)نے فرمایا:” ہمارے خوشحال شیعہ آزاد ہیں کہ جو کچھ حاصل کریں راہ خیر میں خرچ کردیں، لیکن جب قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے تو ہر خزانہ دار پر اسی کا ذخیرہ حرام ہو جائے گا مگر یہ کہ اسے حضرت کی خدمت میںلائے تاکہ اس
کے ذریعہ دشمن سے جنگ میں مدد حاصل کریں یہی خدا وند عالم فرماتا ہے کہ <وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھْبَ وَالْفِضَّةَ وَلَاْ یُنْفِقُوْنَھَاْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَاْبٍ اَلِیْمٍ>(25)
”جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں لیکن اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے انھیں دردناک عذاب کی بشارت دیدو۔“(26)
 (۱)کتاب الخمس ،موسوعة الفقہیہ،ایة الخوئی،ج۵،ص۲۰
 (2)قیل -”لایترک بدعة الا ازالھا ولا سنة الاا حیاھا“القول المختصر، ص۲۰
(3)تاویل الآیات الظاہرہ، ج۲،ص۵۴۰؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۶۴
(4)کشی ،رجال، ص۱۳۸؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۶۰؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۲۴۶؛العوالم، ج۳، ص۵۵۸
(5)مفید ،ارشاد ،ص۳۶۴؛روضةالواعظین، ج۲،ص۲۶۴؛اعلام الوری، ص۴۳۱؛بحار الانوارج، ۵۱ ، ص۳۰
(6)التہذیب، ج۴،ص۹۶؛ملاذ الاخیار، ج۶، ص۲۵۸
(7)کافی، ج۳،ص۵۰۳؛الفقیہ، ج۲،ص۱۱؛کمال الدین، ج۲،ص۶۷۱؛وسائل الشیعہ، ج۶، ص۱۹؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۲۵
(8)صدوق ،خصال، باب ۳،ص۱۳۳ ؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۴۹۵
(9)تذکرة الفقہاء، ج۵،ص۷کتا ب زکات ؛ملاحظہ ہو:مراٴ ة العقول ،ج۱۶،ص۱۴
(10)روضة المتقین، ج۳،ص۱۸
(1۱)سورہٴ مومنون آیت ۱۰۱
(1۲)دلائل الامامہ، ص۲۶۰؛تفسیر برہان ،ج۳،ص۱۲۰؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۴۰۲
(1۳)الفقیہ، ج۴،ص۲۵۴؛صدوق ،عقاید، ص۷۶؛حصینی، ہدایہ، ص۶۴،۸۷؛مختصر البصائر، ص۱۵۹؛روضہ المتقین، ج۱۱،ص۴۱۵؛بحار الانوار، ج۶،ص۲۴۹وج۱۰۱،ص۳۶۷
(1۴)کشی، رجال، ص۲۹۹؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۶۱
 (۱5)اثبات الہداة ،ج۳،ص۴۹۶
(16)عقدالدرر، ص۱۶۶؛القول المختصر ،ص۱۴
(۱7)سورہٴ کہف آیت ۹
(18)علل الشرائع، ج۱،ص۲۱۹؛عیون اخبار الرضا، ج۱،ص۲۷۳؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۱۳؛اثبات الہداة، ج۳، ص۴۵۵
(۱9)من لایحضرہ الفقیہ، ج۳،ص۲۰۰؛التہذیب، ج۷، ص۱۷۹؛وسائل الشیعہ، ج۱۳،ص۱۲۳؛ اثبات الہداة،ج ۳ ، ص۴۵۵؛ملاذ الاخیار، ج۱۱، ص۳۱۵
(۲0)من لایحضرہ الفقیہ، ج۳،ص۲۰۰؛التہذیب ،ج۷، ص۱۷۹؛وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۱۲۳؛ اثبات الہداة ، ج ۳ ، ص۴۵۵؛ملاذ الاخیار، ج۱۱ ،ص۳۱۵
(21)روضہ المتقین، ج۷، ص۳۷۵
(22)ملاذ الاخیار ،ج۱۱، ص۳۱۵
(23)صدوق، مصدقہ لاخوان، ص۲۰؛اثبات الہداة، ج۳،ص۴۹۵
(24)قرب الاسناد، ص۵۴؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۰۹؛و ج۹۷،ص۵۸؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۲۳، ۵۸۴ بشارة الاسلام، ص۲۳۴
(25)سورہٴ توبہ آیت ۳۶
(۲6)کافی،ج۴،ص۶۱؛التہذیب،ج۴،ص۱۴۳؛عیاشی ،تفسیر، ج۲،ص۸۷؛المحجہ، ص۸۹؛ تفسیر صافی، ج۲، ص۴۱ ۳ ؛ تفسیر برہان، ج۲،ص۱۲۱؛نورالثقلین ،ج۲،ص۲۱۳؛بحار الانوار، ج ۳ ۷ ، ص۱۴۳؛مراٴ ة العقول، ج۱۶،ص۱۹۳

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.