معارف کا ایک سرچشمہ

۱۔ دعا، معارف کا ایک سرچشمہ

5

۱۔ دعا، معارف کا ایک سرچشمہ

«صحیفۂ سجادیہ» سے آشنائی کو «اسلامی معارف» سے واقفیت کی جانب ایک قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ عقائد، اخلاق اور دینی شناخت و معرفت کے سلسلے میں اس سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

دین کی معرفت اور شناخت کے لیے ایسے مصادر و مآخذ موجود ہیں جو اطمینان، استناد اور صحت کے اعتبار سے ایک خاص مقام رکھتے ہیں؛ کیونکہ ان کی بنیاد کلامِ الٰہی اور علمِ لدنی پر ہے۔ ان میں سے بعض اہم مصادر یہ ہیں:

– قرآنِ کریم؛
– احادیثِ نبوی اور ائمہ علیہم السلام کی احادیث؛
– معصومین علیہم السلام کی دعائیں؛
– مأثور زیارت نامے۔

ہماری گفتگو ان ہی مصادر میں سے ایک ماخذ کے محور پر ہے؛ یعنی وہ دعائیں جو امام سجاد علیہ السلام کی زبانِ مبارک سے بیان ہوئی ہیں اور ہم تک پہنچی ہیں۔ یہ دعائیں نہایت لطیف اور گہری معارف پر مشتمل ہیں۔ ہمیں اس عظیم مجموعے کی قدر کرنی چاہیے، اس سے مانوس ہونا چاہیے اور اپنے شب و روز کے لمحات کو ان دعاؤں کے ذریعے معنویت سے آراستہ کرنا چاہیے۔

اہلِ بیت علیہم السلام دعا، تہجد اور ذکر کے پابند تھے۔ قرآنِ کریم بھی دعا کی نہایت مؤکد سفارش کرتا ہے۔ ائمہ علیہم السلام کے پیروکاروں کو بھی دعا، تضرع اور مناجات کرنے والا ہونا چاہیے۔

ممکن ہے ہماری سمجھ اس بات سے قاصر ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ سے کیا مانگیں اور ہماری دعاؤں اور خواہشات کا دائرہ کیا ہونا چاہیے؛ لیکن اس معاملے میں بھی دین کے اولیاء ہمارے رہنما ہیں۔ وہ ایسی بنیادی، بلند اور برتر خواہشات ہمارے سامنے رکھتے ہیں جن کا تعلق ہماری دنیاوی اور اخروی سعادت سے ہے۔ اس طرح وہ ہماری سمجھ اور ہماری خواہشات کی سطح کو بلند کرتے ہیں۔

جب ہم ان دعاؤں کی تلاوت کرتے ہیں تو پاکیزہ معصومین، خدا کے صالح بندوں اور بارگاہِ الٰہی کے مقربین کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں؛ ہم حجتِ خدا کی زبان سے اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور دعا کے میدان میں بھی اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب کے شاگرد بن جاتے ہیں۔

دعا کے موضوع میں بہت سے ایسے ابواب اور عنوانات ہیں جن پر توجہ دینا مناسب ہے:

– دعا کا معنی اور اس کی اہمیت؛
– دعا کی ضرورت اور انسان کی نیایش و دعا کی احتیاج؛
– دعا کے روحانی، فردی اور اجتماعی آثار؛
– دعا کا ادب و آداب اور صحیح طریقۂ نیایش؛
– دعا کی قبولیت کی شرائط اور قبولیت کی راہ میں رکاوٹیں؛
– دعا اور استجابتِ دعا کا مسئلہ اور بعض دعاؤں کے مستجاب نہ ہونے کی وجوہ؛
– ائمہ اور اولیائے الٰہی کی دعائیں (ادعیۂ مأثورہ)؛
– دعاؤں کے مضامین اور ان میں بیان کی گئی خواہشات؛
– معصومین کی سیرت اور علماء و عرفاء کے حالات میں دعا اور تہجد؛
– امام سجاد علیہ السلام کا خصوصی مقام، جنہیں «زین العابدین» کہا جاتا ہے؛
– دعا اور عمل، یعنی دعا کے ساتھ عملی اقدام؛
– دعا، تقدیر اور مقدرات اور دعا کا فائدہ؛
– وہ لوگ جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں؛
– مستجاب الدعوۃ افراد؛
– دعا اور بددعا، یعنی کسی کے فائدے کے لیے دعا اور کسی کے نقصان کے لیے دعا؛
– اپنے لیے دعا اور دوسروں کے لیے دعا؛
– قرآنی دعائیں۔

۲۔ صحیفۂ سجادیہ کی اہمیت

صحیفۂ سجادیہ کی اہمیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ امام سجاد علیہ السلام جیسے معصوم امام ان دعاؤں کے ذریعے اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز اور مناجات فرمایا کرتے تھے۔ صحیفۂ سجادیہ کو «زبورِ آلِ محمد» کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب اس اعتبار سے بھی ایک خاص امتیاز رکھتی ہے کہ اس کے قائل و بیان کرنے والے بھی ایک معصوم امام ہیں اور اس کے مخاطب بھی خود پروردگارِ عالم ہیں۔

ان دعاؤں میں پوشیدہ گہرے مضامین اور بلند معانی کے علاوہ، سند کے اعتبار سے بھی صحیفۂ سجادیہ کو خاص استحکام حاصل ہے۔

دعاؤں کی کتابیں بہت زیادہ ہیں اور رائج و منقول دعائیں بھی بے شمار ہیں؛ لیکن وہ دعائیں جن کی سند مضبوط ہو اور جن کے بارے میں یقین ہو کہ وہ معصوم کی زبانِ مبارک سے صادر ہوئی ہیں، زیادہ مستند حیثیت رکھتی ہیں اور ان کے مضامین بھی زیادہ دل نشیں اور اثر انگیز ہوتے ہیں۔

شیعہ علماء نے مختلف ادوار میں ایسی متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں مختلف اوقات، دنوں اور مواقع کے لیے گوناگوں دعائیں جمع کی گئی ہیں؛ ان میں سید بن طاووس کی «اقبال»، کفعمی کی «البلد الامین»، سید بن طاووس کی «جمال الاسبوع»، قطب راوندی کی «الدعوات»، ابن فہد حلی کی «عدة الداعی»، کفعمی کی «المصباح»، شیخ بہائی کی «مفتاح الفلاح» اور محدث قمی کی «مفاتیح الجنان» شامل ہیں۔

لیکن ان تمام کتابوں کے درمیان «صحیفۂ سجادیہ» کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت اور اس میں بیان کیے گئے معانی کی گہرائی قابلِ توجہ ہے۔ اس کی سند نہایت معتبر ہے اور اہلِ بیتِ عصمت نے ہمیشہ اس کتاب کی حفاظت اور اس کی نگہداشت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ کتاب امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک گراں قدر میراث ہے، جس کی دوسروں تک حفاظت کے ساتھ منتقلی کی اہلِ بیت علیہم السلام نے تاکید فرمائی ہے۔

تفصیلی اور مبسوط کتب میں ان دعاؤں کی سلسلۂ سند کے بارے میں دقیق علمی اور تحقیقی مباحث موجود ہیں، جن کی تفصیل اس مختصر تحریر میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

۳۔ صحیفۂ سجادیہ کے مضامین پر ایک نظر

امام سجاد علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ کا زمانہ اہلِ بیت اور ائمہ علیہم السلام کے لیے انتہائی سخت اور گھٹن سے بھرپور ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ اموی حکمرانوں کی جانب سے ائمہ علیہم السلام پر بہت سی پابندیاں عائد تھیں۔ اسی وجہ سے امام سجاد علیہ السلام کے لیے باقاعدہ علمی مجالس منعقد کرنا اور ان میں تفسیر، فقہ اور دیگر علوم کی تعلیم دینا ممکن نہ تھا۔

چنانچہ آپ نے بہت سے خالص اور ناب اسلامی معارف کو صحیفۂ سجادیہ کی دعاؤں کے قالب میں بیان فرمایا۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اس کتاب کی دعاؤں میں توحید و معرفتِ خدا کے نہایت لطیف مباحث، ہستی اور کائنات کی معرفت، عالمِ غیب اور فرشتوں کا ذکر، انبیائے الٰہی کی رسالت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام کا مقام، اخلاقی فضائل و رذائل، انسان کی مخصوص روحانی و نفسیاتی کیفیات، لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کے طریقے، مختلف عیدوں اور ایام اللہ کی تعظیم، اجتماعی اور اقتصادی مسائل، تاریخی اشارات اور سیرت کے مباحث، پروردگار کی قدرت کے مظاہر کی جانب توجہ، اللہ تعالیٰ کی مختلف نعمتوں کی یاد دہانی اور ان کے شکر و سپاس کی ذمہ داری، خداوندِ عالم کی آفاقی اور انفسی نشانیاں، دعا کے آداب، تلاوت، ذکر، نماز اور عبادت کے طریقے اور بندگی کے آداب سمیت درجنوں اہم موضوعات بیان ہوئے ہیں۔

ظاہری قالب دعا اور مناجات کا ہے، لیکن اس کا اصل مضمون دین کی تشریح، اخلاقی اقدار، قرآنی معارف، عبادی فرائض اور بندگی کے آداب کی تعلیم ہے۔

صحیفۂ سجادیہ میں ۵۴ دعائیں شامل ہیں۔ ان میں بعض دعائیں طویل اور مفصل ہیں، جبکہ بعض نسبتاً مختصر ہیں۔

ان دعاؤں کے پڑھنے کے مواقع، مناسبتیں اور مختلف حالات صحیفۂ سجادیہ کی فہرست میں بیان کیے گئے ہیں اور اس کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ان دعاؤں کے بعض عناوین درج ذیل ہیں:

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے لیے دعا، حاملانِ عرش اور فرشتوں کے لیے دعا، اپنے لیے اور اپنے رشتہ داروں کے لیے دعا، سختیوں اور تکالیف کے وقت دعا، اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی دعا، مغفرت طلب کرنے کی دعا، اپنے گناہوں کا اقرار کرنے کی دعا، حاجت طلب کرنے کی دعا، بیماری کے وقت دعا، شیطان سے پناہ مانگنے کی دعا، مکارمِ اخلاق کے لیے دعا، صحت و سلامتی کے لیے دعا، والدین اور اولاد کے لیے دعا، ہمسایوں اور دوستوں کے لیے دعا، سرحدوں کی حفاظت کرنے والے مجاہدین کے لیے دعا، توبہ کے لیے دعا، رزق کی تنگی کے وقت دعا، گرج کی آواز سننے کے وقت دعا، نیا چاند دیکھنے کے وقت دعا، ماہِ رمضان کے آغاز اور اختتام کے وقت دعا، عیدالفطر اور روزِ عرفہ کی دعا، ختمِ قرآن کی دعا وغیرہ۔

اس طرح مختلف مواقع اور مناسبتوں سے دعا سے استفادہ کرنا ایک مسلمانِ دعاگو اور خدا سے مانوس بندے کے تقریباً تمام اوقات اور مواقع کو محیط ہو جاتا ہے؛ کیونکہ تقریباً ہر لمحے اور ہر حالت کے لیے بارگاہِ خداوندی میں نیایش اور دعا کا ایک طریقۂ کار اور ایک رہنمائی موجود ہے۔

ماخذ: مجلہ فرہنگِ کوثر، بہار ۱۳۸۲، شمارہ ۵۷، متعلقہ مضمون، حوزہ ڈاٹ نیٹ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.