علامہ مجلسی اور سید نعمت اللہ جزائری کی عالمِ رؤیا میں ملاقات کا ایک سبق آموز واقعہ

علامہ مجلسی اور سید نعمت اللہ جزائری

6

علامہ مجلسی اور سید نعمت اللہ جزائری کی عالمِ رؤیا میں ملاقات کا ایک سبق آموز واقعہ

شہرِ اصفہان میں، جہاں علمی مجالس کی رونق تھی اور بڑے بڑے اہلِ علم جمع ہوتے تھے، ایک استاد اور شاگرد کے درمیان غیر معمولی تعلق قائم تھا۔ استاد، علامہ شیخ محمد باقر مجلسی تھے، جو عظیم حدیثی مجموعے بحار الانوار کے مؤلف ہیں، جبکہ شاگرد سید نعمت اللہ جزائری تھے، جو معروف کتاب الانوار النعمانیہ کے مصنف ہیں۔

ایک دن جب دونوں استاد اور شاگرد آخرت کے حالات اور عالمِ برزخ کی سختیوں کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے تو ان کے درمیان ایک عجیب عہد طے پایا، جس کا تعلق عالمِ غیب سے تھا۔ دونوں نے اتفاق کیا کہ ان میں سے جو پہلے دنیا سے رخصت ہوگا، وہ خواب میں دوسرے کے پاس آئے گا اور اسے بتائے گا کہ اس پر کیا گزری؛ موت کی سختیاں کیسی تھیں؟ ملک الموت کس طرح آیا؟ غسل اور جنازے کے دوران اس نے کیا دیکھا؟ اور قبر میں اتارے جانے تک کے مراحل کیسے گزرے؟

وقت گزرتا رہا، یہاں تک کہ موت کا مقررہ وقت آ پہنچا۔ علامہ مجلسی نے علم کی طلب اور تصنیف و تالیف سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد اس دنیا سے رحلت فرمائی۔ پورا اصفہان غم و اندوہ میں ڈوب گیا۔ دکانیں بند ہوگئیں اور اس عظیم عالم کی وفات کے سوگ میں بازار بھی بند رہے۔

ایک بڑے اجتماع نے نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ ان کے جنازے میں شرکت کی۔ سید نعمت اللہ جزائری بھی اپنے استاد کے غم میں اشک بار تھے۔ تعزیتی مراسم کے اختتام کے بعد سید جزائری کو اپنے استاد کے ساتھ کیا ہوا عہد بار بار یاد آتا۔ چنانچہ وہ قبر پر حاضر ہوتے، وہاں نماز پڑھتے اور صبح تک انتظار کرتے کہ شاید ان کے استاد وعدے کے مطابق خواب میں تشریف لائیں۔

پہلا ہفتہ گزر گیا، پھر دوسرا ہفتہ بھی گزر گیا، لیکن استاد خواب میں نظر نہ آئے۔ انتظار اور شوق کی شدت دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی۔

بیسویں رات، جب سید نعمت اللہ گہری نیند میں تھے، تو اچانک عالمِ خواب کے پردے اٹھے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے استاد علامہ مجلسی مسکراتے ہوئے ان کے سامنے موجود ہیں۔

سید نعمت اللہ نے بے قراری سے فوراً پوچھا:

’’مولانا! آپ نے وعدہ کیا تھا کہ میرے پاس آکر اپنے حالات بتائیں گے، پھر مجھے بیس دن تک انتظار کیوں کروایا؟‘‘

علامہ مجلسی نے جواب دیا:

’’بیٹا! یہ میرے اختیار میں نہیں تھا۔ مجھے آج رات ہی ظاہر ہونے اور بات کرنے کی اجازت ملی ہے۔‘‘

اس کے بعد استاد نے اپنے شاگرد کو آخرت کے سفر کی تفصیلات بتانا شروع کیں۔

### علامہ مجلسی کا عالمِ احتضار اور قبر کا حال بیان کرنا

’’اے نعمت اللہ! جان لو کہ جب میری موت کا وقت آیا تو مجھ پر سکراتِ موت کی ایسی سختیاں اور ناقابلِ بیان تکلیفیں طاری ہوئیں کہ میرا پورا جسم ان کی لپیٹ میں آگیا۔ پاؤں سے لے کر سینے اور گلے تک شدید درد محسوس ہو رہا تھا اور میں اس کی شدت برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

اس حالت میں میں نے بے بسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کی اور عرض کیا:

’اے میرے اللہ! تو نے خود فرمایا ہے:

وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ

(اے ہمارے پروردگار! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔)

پس محمد مصطفیٰ اور ان کی آلِ پاک کے واسطے مجھ پر رحم فرما۔‘

اچانک ملک الموت میرے پاس تشریف لائے۔ ان کا چہرہ مسکراتا ہوا تھا اور ان سے خوشبو آرہی تھی۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے پاؤں پر رکھا اور اسے آہستہ آہستہ اوپر کی طرف پھیرنے لگے۔ ان کا ہاتھ جس عضو پر پہنچتا، اس کا درد ختم ہوجاتا، یہاں تک کہ انہوں نے نہایت آسانی اور سکون کے ساتھ میری روح قبض کرلی۔

میری روح جسم سے جدا ہوکر کمرے کے ایک کونے میں جا کھڑی ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ میرے اہلِ خانہ اور بچے رو رہے ہیں اور اپنے سروں اور سینوں پر ہاتھ مار رہے ہیں۔ میں نے انہیں آواز دی:

’اے میرے گھر والو! اب میں راحت پا چکا ہوں، اس لیے میرے لیے مت روؤ!‘

لیکن میری آواز کسی کو سنائی نہیں دے رہی تھی۔

اس کے بعد میں نے اپنے جسم کو غسل دیے جانے، کفن پہنائے جانے اور جنازے میں لے جائے جانے کے تمام مراحل دیکھے۔ میں بھی جنازے کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور اپنے اس جسم کو دیکھ رہا تھا جس کے ساتھ میں نے اسی سال زندگی گزاری تھی۔

آخرکار ہم قبرستان پہنچے۔ جب میرے جسم کو قبر میں اتارا گیا تو میں نے محسوس کیا کہ میری روح بھی اس کی طرف کھنچتی چلی گئی اور اس کے ساتھ قبر میں ٹھہر گئی۔ لوگوں نے مجھ پر مٹی ڈال دی اور سب واپس چلے گئے۔‘‘

### قبر کی تنہائی اور ایک نیک عمل کی برکت

علامہ مجلسی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

’’جب میں قبر کی تاریکی میں تنہا رہ گیا اور وحشت و تنہائی نے مجھے گھیر لیا تو اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی:

’اے محمد باقر! آج کے دن کے لیے تم نے کیا تیاری کر رکھی ہے؟‘

میں نے اپنے اعمال گنوانا شروع کیے۔ عرض کیا: بحار الانوار کی تصنیف، میری دوسری کتابیں، نمازِ شب اور نمازِ جماعت وغیرہ۔

لیکن جواب ملا:

’نہیں! یہ نہیں!‘

یہ سن کر میرے دل میں خوف پیدا ہوا۔ میں نے گھبرا کر عرض کیا:

’اے میرے پروردگار! میرے پاس تو کچھ بھی نہیں!‘

اچانک مجھے ایک ایسا واقعہ یاد دلایا گیا جسے میں بھول چکا تھا۔

ایک دن میں اپنے جانور پر سوار بازار سے گزر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ چند دکاندار ایک غریب آدمی کو گھیرے ہوئے ہیں اور اسے بری طرح مار رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اسے کیوں مار رہے ہو؟

انہوں نے جواب دیا:

’اس کے ذمے قرض ہے اور یہ اسے ادا نہیں کر رہا۔‘

میں نے پوچھا:

’اس پر کتنا قرض ہے؟‘

انہوں نے کہا:

’دو سو دینار۔‘

میں نے کہا:

’اسے چھوڑ دو، اس کا قرض میں ادا کروں گا۔‘

اس کے بعد میں ان لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور ان کا حق ادا کردیا۔ یوں میں نے اس غریب انسان کو ذلت اور مارپیٹ سے بچا لیا۔

اس وقت مجھ سے کہا گیا:

’یہی وہ عمل ہے جس نے آج تمہیں فائدہ پہنچایا اور نجات دلائی ہے!‘

اسی عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت بخشی اور جنت میں محل اور باغات عطا فرمائے۔‘‘

### سبق اور نصیحت

بسا اوقات اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی معمولی سا دکھائی دینے والا عمل، جس میں اخلاص اور اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی شامل ہو، انسان کی نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا ایک نیک عمل بہت سے ظاہری اعمال سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں، ان کی مشکلات دور کریں اور ان کے دلوں میں خوشی پیدا کریں؛ کیونکہ یہی اس دن کے لیے حقیقی توشہ ہے جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.