قرآن نہج اللاغہ کے آئينے ميں

205

قرآن نہج اللاغہ کے آئينے ميں

 

 

 
 

الف : قرآن کريم کياہميت وموقعيت:

 
 

۱۔اس وقت فقط قرآن کريم ہي ايک آسماني کتاب ہے جوانسان کي دسترس ميں ہے۔

 
 

نہج البلاغہ ميں بيسسے زيادہ خطبات ہيں جن ميںقرآن مجيدکاتعارف اور اس کي اہميت وموقعيت بيان ہوئي ہے بعض اوقات آدھے سے زيادہخطبے ميں قرآن کريم کي اہميت،مسلمانوں کي زندگي ميں اس کي موقعيت اوراس کے مقابلمسلمانوں کے فرائض بيان ہوئے ہيں۔ يہاں ہم صرف بعض جملوں کوتوضيح وتشريح پہ اکتفاکريں گے۔

 
 

اميرالمومنين(عليہ السلام) خطبہ۱۳۳ميںارشادفرماتے ہيں ”وکتاب اللہ بين اظہرکم ناطق لايعيي لسانہ“۔

 
 

ترجمہ : اوراللہ کي کتاب تمہاريدسترس ميں ہے جوقوت گويائي رکھتي ہے اور اس کي زبان گنگ نہيں ۔

 
 

قرآن آسماني کتابوں تورات وانجيلووزبورکے برخلاف تمہاري دسترس ميں ہے۔ يہ بات توجہ طلب ہے کہ تورات گذشتہ امتوںامتوں خصوصا يہوداوربني اسرائيل کے عوام کے پاس نہ تھي بلکہ اس کے کچھ نسخے علمائےيہودکے پاس تھے يعني عامة الناس کے لئے تورات کي طرف رجوع کرنے کاامکان نہتھا۔انجيل کے بارے ميں تووضيعت اس سے زيادہ پريشان کنندہ ہے کيونکہ وہ انجيل جوآجعيسائيوں کے پاس ہے يہ وہ انجيل نہيں جوحضرت عيسي عليہ السلام پرنازل ہوئي تھي بلکہمختلف افرادکے جمع شدہ مطالب ہيں اورچاراناجيل کے طورپرمعروف ہيں۔پس گذشتہ امتيں آسماني کتابوں تک دسترسي نہ رکھتي تھيں۔

 
 

ليکن قرآن کريم کوخداوندمتعال نےايسے نازل فرمايااورپيغمبراسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اسے انسانوں تک ايسےپہنچاياکہ آج لوگ بڑي آساني سے اسے سيکھ اورحفظ کرسکتے ہيں۔

 
 

اس آسماني کتاب کي ايک دوسري خصوصيتيہ ہے کہ خداوندمتعال نے امت مسلمہ پريہ احسان فرماياہے کہ اس کي حفاظت کي ذمہ داريخوداپنے ذمہ لي ہے کہ يہ کتاب ہرطرح کے انحراف يامقابلہ آرائي سے محفوظ رہے۔خودآنحضرت (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے اس کے سيکھنے اوراس کي آيات کے حفظ کرنے کيمسلمانوں کواس قدرتاکيدفرمائي کہ بہت سارے مسلمان آپ کے زمانے ميں ہي حافظ قرآن تھےجوآيات تدريجانازل ہوتي تھيں توحضرت(ص) مسلمانوں کے لئے بيان فرماتے تھے اس طرحمسلمان ان کوحفظ کرتے،لکھتے،اوران کوآگے بيان کرتے۔ اس طريقے سے قرآن پوري دنياميںپھيلتاگيا۔ مولائے کائنات فرماتے ہيں : اللہ کي کتاب تمہارے درميان اورتمہارےاختيارميں ہے۔ ضرورت ہے کہ اس جملے ميں ہم زيادہ غورکريں ”ناطق لايعيي لسانہ“ يہ کتاب بولنے والي ہے اوراس کي زبان کبھي گنگ ياکندنہيں ہوئي۔ يہ بولنے سے خستگيکااحساس نہيں کرتي اورنہ کبھي اس ميں لکنت پيداہوئي ہے اس کے بعدآپ ارشادفرماتے ہيں ”وبيت لاتھدم ارکانہ وعزلاتھزم اعوانہ“ يہ ايساگھرہے جس کے ستون کبھي منہدمہونے والے نہيں ہيں اورايسي عزت وسربلندي ہے جس کے ياروانصارکبھي شکست نہيں کھاتے۔

 
 

۲۔ يہ کتاب ناطق بھي ہےاورصامت بھي۔

 
 

حضرت (ع) ايک طرف توفرماتے ہيں کہيہ کتاب ناطق ہے جب کہ دوسرے مقام پر فرماتے ہيں يہ کتاب صامت ہے ناطق نہيں اسکوبولنے پہ آمادہ کرناچاہئے اوريہ ميں ہوں جو قرآن کوتمہارے لئے بيان کرتاہوں۔ خطبہ۱۴۷ميںيہ تعبير استعمال ہوئي ہے ”صامت ناطق“ يعني قرآن ساکت وخاموش ہے درآن حاليکہناطق وگفتگوکرنے والاہے پس اس کا کيا معني ہوا؟

 
 

غالباقرآن حکيم کے بارے ميں يہدونکتہ نظرہيں۔ ايک يہ کہ قرآن ايک مقدس کتاب ہے ليکن خاموش، گوشہ نشين ،جس کاکسيسے کوئي رابطہ نہيں اورنہ ہي يہ کتاب کسي سے ہم کلام ہوتي ہے۔ اس کے مقابلدوسرازاويہ نگاہ ہے جس کے مطابق يہ کتاب ناطق وگوياہے جوسب انسانوں سے مخاطب ہےاوراپني پيروي واتباع کاحکم ديتي ہے اپنے ماننے والوں کوخوشبختي اورسعادت کاپيغامديتي ہے۔

 
 

پس اگراس کتاب کوہم فقط مقدستصورکريں تواس کامطلب يہ ہے کہ ايک ايسي کتاب ہے جس کے کلمات،جملے اورآيات صفحہقرطاس پرنقش باندھے ہوئے ہيں جن کا مسلمان بہت احترام کرتے ہيں۔ ا سکوبوسے ديتے ہيںاورگھرميں انتہائي بہترين جگہ پر اس کورکھتے ہيں۔ بعض اوقات اپني مجالس ومحافل ميںاس کي حقيقت ومعاني پر غور و فکرتامل کئے بغيرتلاوت کرتے ہيں ايک ايسي خاموش کتابہے جوکسي محسوس و ملموس آوازسے گفتگونہيں کرتي جواس نظرئيے کاقائل ہے وہ ہرگزقرآنکريم سے ہم کلام نہيں ہوسکتا،قرآن کي آوازکونہيں سن سکتااورقرآن مجيدبھي اس کي کسيمشکل کوحل نہيں فرماتا۔

 
 

بنابراين ہمارافريضہ ہے کہ ہم قرآنکوکي کتاب سمجھيں اورخداوندعالم کے حضور انتہائي خشوع وخضوع اورجذبہ تسليم ورضاکےساتھ اس کتاب سے کلام سننے کے لئے اپنے آپ کوآمادہ کريں۔ يہ کتاب سراسرآئين زندگيہے۔ اس صورت ميں يہ کتاب ناطق بھي ہے قوت گويائي بھي رکھتي ہے انسانوں سے ہم کلامبھي ہوتي ہے اورزندگي کے تمام شعبوں ميں رہنمائي بھي کرتي ہے۔

 
 

ان دونکتہ ہائے نظرکے علاوہ قرآن کےصامت وناطق ہونے کاايک تيسرامعني بھي ہے جواس سے زيادہ گہرااورعميق ہے اورحضرتکامنظورنظربھي يہي معني ہے وہ معني يہ ہے کہ قرآن ساکت وصامت ہے اس کوگفتگوپہ آمادہکرناچاہئے اوريہ ميں ہوں جوقرآن کوتمہارے لئے بيانکرتاہوں گويااکرچہ قرآن کريم خداوندمتعال کاکلام ہے اوراس کلام الہي کے صدورنزول کيحقيقيت اس طرح ہے کہ ہم انسانوں کے لئے قابل شناخت نہيں جبکہ دوسري طرف نزول قرآنکاہدف انسانوں کي ہدايت ہے تويہ کلام کلمات، جملوں اورآيات کي صورت ميں اس طرح سےنازل ہواکہ بشرکے لئے پڑھنے اورسننے کے قابل ہوجائے اس کے باوجودايسانہيں ہے کہتمام ترآيات کے مضامين ومفاہيم عام انسانوں کے لئے قابل فہم ہوں۔ پس لوگ بھيپيغمبراسلام (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم)، آئمہ ہدي،(عليہم السلام) اورراسخون فيالعلم کي تفسيروتشريح کے بغيرآيات کے مقاصدکونہيں پاسکتے۔

 
 

۳۔ مفسرين وحي الہي کيضرورت:

 
 

پيغمبراسلام صلي اللہ عليہ وآلہوسلم) کي ايک ذمہ داري امت مسلمہ کے لئے آيات الہي کي تفسيروتشريح ہے جيساکہارشادہوتاہے:

 
 

”وانزلنااليکالذکرلتبين للناس مانزل اليہم“نحل۴۴۔

 
 

ترجمہ : ہم نے آپ کي طرف قرآن نازلکياتاکہ آپ لوگوں کے لئے جوکچھ نازل ہواہے بيان کريں۔ پس قرآن کريم کے عظيم معارفکے بيان کي ذمہ داري پيغمبراسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پرہے کيونکہ اس کے معارفا س قدرعميق اورگہرے ہيں کہ تمام لوگ اس کاادارک نہيں کرسکتے۔

 
 

حضرت خطبہ۱۵۸ميںارشادفرماتے ہيں:

 
 

”ذلکالقرآن فاستنطقوہ ولن ينطق ولکن اخبرکم عنہ الاان فيہ علم ماياتي والحديث عن الماضيودواء دائکم ونظم مابينکم“۔

 
 

ترجمہ : اس قرآن سے چاہوکہ تم سےکلام کرے اوريہ ہرگزتم سے ہم کلام نہيں ہوگا ليکن ميں تمہيں اس سے آگاہ کروںگايادرکھويقينااس ميں مستقبل کے علوم اور ماضي کے حالات ہيں اورتمہاري امراض کيدواہے اورجوکچھ تمہارے مابين ہے اس کے بارے ميں نظم وضبط کي راہنمائي پائي جاتي ہے۔

 
 

پس معصومين (عليہم السلام) کي زبان مبارک سے اس کے بارے ميں آشنائي حاصل کرني چاہئے۔ علوم قرآن کوان سے حاصلکرناچاہئے۔ قرآن کريم الہي معارف کاسمندرہے اس بحربيکراں ميں غوطہ زني اورانسانسازي کے ناياب گوہروں کي تلاش کرناان ہستيوں کے بس کي بات ہے جوعالم غيب سے دائميطورپرپرارتباط ميں ہيں۔ خداوند قدوس نے بھي يہي چاہاہے کہ ان ہستيوں سے رابطہاورتوسل کے ذريعہ اوران کي راہنمائي کے توسط سے قرآني علوم ومعارف سے راہنمائي حاصلکرو۔

 
 

ب : قرآن کريمکامعاشرتي زندگي ميں اہم کردار:

 
 

۱۔ قرآن کريم ہر درد کيدواہے:

 
 

حضرت تمام مشکلات کے حل کے لئے قرآنکريم کاتعارف فرماتے ہيں۔ قرآن ہي وہ شفابخش دواہے جوتمام دردوں کادرماناورپريشانيوں کے لئے مرحم ہے۔ البتہ يہ واضح ہے کہ دردکي شناخت اوراحساس کےبغيرعلاج يادرمان کي بات کرنابے فائدہ ہے ۔ پس ابتدائي طورپرضروري ہے کہ قرآن کريمکي آيات ميں گہرے غوروفکرکے ساتھ انفرادي اورمعاشرتي دردوں کي شناخت اورمطالعہکياجائے اسکے بعد اس شفابخش نسخہ کيمياپہ عمل کياجائے۔

 
 

خطبہ ۱۹۸۔ميں فرماتے ہيں : ”ودواء ليس بعدہ داء“ يعني قرآن مجيدايسي دواہے کہ جس کےبعدکوئي درد،رہ نہيں جاتايہ دوابھي يقينااس وقت اپنااثر دکھائے گي جب حضرت (ع) کےاس فرمان اورقرآن حکيم کے شفابخش ہونے پرايمان ہوباالفاظ ديگرہميں اپنے پورے وجودکےساتھ باورکرناچاہئے کہ ہماراتمام تر انفرادي واجتماعي دردوں اورمشکلات کاحقيقي علاجقرآن حکيم ميں ہے۔ شايدہمارے معاشرے کي سب سے بڑي مشکل يہي ايمان کي کمزوري ہے کہابھي تک بہت ساري مشکلات باقي ہيں۔

 
 

۲۔ معاشرتي مشکلات کابہترينحل:

 
 

اس سلسلے ميں حضرت(ع) پيغمبرگرامياسلام کاقول نقل فرماتے ہيں کہ آ پنے فرمايا: ”اذاالتبست عليکم الفتن کقطعالليل المظلم فعليکم بالقرآن“ (بحارالانوارج۹۲ص۱۷)۔

 
 

ترجمہ : جب کبھي سياہ رات کيمانندتمہيں فتنے گھيرليں توقرآن کادامن تھامنا۔

 
 

پس اضطراب،پريشان،مشکلات،ناہمآہنگياں اوربے سروسامانياں تمہارے معاشرے پرجب سياہ رات کي مانندسايہ افگن ہوں توانکے حل کے لئے کہيں اورنہ جانابلکہ قرآن سے رجوع کرنااس کي نجات بخش راہنمائيکومعياروکسوٹي قراردينا۔ قرآن کے اميد بخش فرامين مشکلات پرقابوپاتے اوردلوں ميںخوشبختي وسعادت کي اميدکوزندہ کرتے ہيں۔ البتہ يہ واضح ہے کہ ہرکاميابي کے پيچھےانساني کوشش اورجدوجہدکابنيادي کردارہے۔ پس اگرہم چاہتے ہيں کہ اپني آزادياوراستقلالکي حفاظت کريں اورخدائے ذوالجلال کے سايہ رحمت وپناہ ميں ہرسازش سےمحفوظ رہيں توچارہ ہي نہيں کہ اپنے خالق اورقرآن کريم کے نجات بخش احکام کي طرف لوٹجائيں اس سلسلے ميں آج تک جس ناشکري اوربي احترامي کے مرتکب ہوئے ہيں اس پہ توبہوندامت کي راہ ليں۔

 
 

۳۔ معاشرتي امورميں نظموضبط:

 
 

حضرت فرماتے ہيں: نظم مابينکم“ يعني مسلمانوں کے مابين روابط اورنظم و ضبط کوسروساماني بخشنے والا قرآن حکيم ہےہرسياسي نظم وضبط ميں بڑاہدف معاشرتي نظم وضبط اورامن وامان کاقائم کرناہوتاہےاوريہ بات قطعا قابل انکارنہيں ہے۔ البتہ سماجي ومعاشرتي زندگي ميں ہدف کي اہميتبھي اساسي ہے کيونکہ يہي ہدف ہے جوخاص طرح کے اعمال وکردارکاتقاضاکرتاہے۔ ہرمعاشرےکے افراداپنے اعمال وکردارسے اسي ہدف کوپاناچاہتے ہيں۔يہ امربھي نہايت روشن ہے کہہدف کاسرچشمہ اس معاشرے کے تمدن،ثقافت،تاريخ اورلوگوں کے عقائدہوتے ہيں۔ يہي سبب ہےکہ استعماري قوتيں ملتوں کے اصلي اورحقيقي ثقافت وتمدن کوچھين کر يا کھوکھلا کرکےان کواپنے اہداف واغراض اورمفادات کي طرف دھکيل ديتي ہيں۔

 
 

ديني ثقافت ياتمدن کاسرچشمہ قرآنحکيم اورتوحيدي نظريہ کائنات ہے يہ تمدن ايک ايسے نظم اورسياست کاتقاضاکرتاہے جسميں خلقت کے ہدف کاحصول اورانسان کي دنياوآخرت ميں سعادت وخوشبختي کارفرماہو۔

 
 

باعث افسوس ہے کہ بعض مغرب زدہ روشنفکرمسلمان معاشرتي نظم کوفقط مغربي جمہوريت ميں ديکھتے ہيں جب کہ اس کيبنيادلادينيت کاعقيدہ ہے۔ پس ديني اور قرآني تمدن ميں انسان کي نہ فقط مادي رفاہاورفلاح شامل بلکہ اخروي سعادت و تکامل بھي موردتوجہ واہميت ہے اس امرکي طرف توجہبہت ضروري ہے کہ قرآن کريم اس صورت ميں شفابخش ہے جب اس کي ہدايت اورفرامين کومحضاخلاقي نصيحتيں تصور نہ کياجائے بلکہ تمام ترمعاشرے اورحکومت کي کلي سياست، عملاورپروگراموں ميں قرآن کريم کي ہدايات کونافذالعمل کياجائے۔

 
 

۴۔ قرآن کريم سے وابستگي بےنيازي کاباعث ہے۔

 
 

اسي خطبے ميں حضرت(ع) ارشادفرماتےہيں: ”يقين کروقرآن ايسانصيحت کرنے والا اورموعظہ کرنے والاہے جواپنے پيروکاروں سےخيانت نہيں کرتا ايساہادي ہے جوگمراہ نہيں کرتاايساکلام کرنے والاہے جوجھوٹ نہيںبولتااورجوکوئي بھي قرآن کاہم نشين ہو اور اس ميں تدبروتفکرکرے توجب اٹھے گاتواس کيہدايت وسعادت ميں اضافہ ہوجب کہ کہ اسکي گمراہي ميں کمي واقع ہوگي“۔

 
 

اس کے بعدارشادفرماتے ہيں:

 
 

”واعملواانہليس علي احدبعدالقرآن من فاقة ولالاحدقبل القرآن من غني فاستشفوہ من ادوائکمواستعينوابہ علي لاوائکم فان فيہ شفاء من اکبرالداء وہوالکفروالنفاق والغي والضلال“۔

 
 

ترجمہ : يقين کے ساتھ جان لوکہ کوئيبھي قرآن کے بعد فاقہ کشي نہيں اور اس سے قبل کوئي بھي غني نہيں پس اپنے امراض کيشفااس سے طلب کرو اور اپنے ٹھکانوں اورپناہ گاہوں کے لئے اس سے مددطلب کروپسيقينااس ميں سب سے بڑے امراض کي شفاہے اوروہ کفر،نفاق،جہالت،اورضلالت وگمراہي ہے۔معاشرے ميں قرآن کي حاکميت کے ہوتے ہوئے انسان کي کوئي ايسي ضرورت نہيں جوپوري نہہو کيونکہ خداوندمتعال نے توحيدپرستوں کي دنياوآخرت ميں سعادت کي ضمانت دي ہے۔ پسقرآن کونمونہ عمل قراردينے سے اسلامي معاشرہ ہرچيزاورہرکس وناکس سے بے نيازہوجائےگا۔

 
 

اس کے ساتھ ہي ساتھ حضرت(ع) ايکسنجيدہ مطلب کي طرف اشارہ فرماتے ہيں: ”ولالاحدقبل القران من غني“ يعني کوئيبھي قرآن کے بغيربے نيازنہيں ہوسکتا۔ مطلب يہ ہے کہ اگرانسان کے علوم وتجربے ميںجتنابھي اضافہ ہوجائے معاشرتي مشکلات اورکمياں دورکرنے کے جتنے بھي فارمولےتيارکرلے، عدل وانصاف کے تقاضوں کوجتنابھي پوراکرلے اوراخلاقي وانساني اقدارکورائجکرے ليکن قرآن کے بغيران امورسے عہدہ برآنہيں ہوسکتايعني يہ کہ انسان قرآن سے بےنيازنہيں ہوسکتاہرعاقل اس کااقرارکرتاہے کہ انسان کي تمام ترعلمي ترقي اس کےمجہولات کے سمندرکے مقابلے ميں قطرے سے زيادہ نہيں۔

 
 

۵۔ قرآن کريم آفتاب کي طرحعالمتاب ہے:

 
 

خطبہ۱۹۸ميںاسلام اورپيغمبراسلام(ص) کے اوصاف بيان فرمانے کے بعدفرماتے ہيں:

 
 

”ثمانزل عليہ الکتاب نورالاتطفاء مصابيہ وسراجالايخبوتوقدہ وبحرالايدرک قعرہ“

 
 

ترجمہ : پروردگارنے قرآن کواس صورتميں اپنے حبيب پرنازل فرماياکہ يہ ايک نورہے جس کے چراغ ہرگزبجھنے والےنہيں،ايساآفتاب ہے جس کي روشني کبھي ختم ہونے والي نہيں اورايک ايساگہراسمندرجس کيگہرائي کوکوئي پانہيں سکتا۔

 
 

اس خطبے ميں قرآن کريم کے لئے آپ نےتين تشبيہات استعمال فرمائي ہيں سب سے پہلے توقرآن کي عظمت سے مسلمانوں کے قلوبکوآشنافرماتے ہيں پھراس عظيم سرمايہ الہي کي طرف متوجہ فرماتے ہيں جومسلمانوں کےپاس ہے فرماتے ہيں درحاليکہ قرآن نورہے اللہ تعالي نے پيغمبر(صلي اللہ عليہ وآلہوسلم)پرنازل فرماياليکن يہ نور باقي انوارسے مختلف ہے اس خصوصيت کے ساتھ کہ اس کےنورپھيلانے والے چراغ ہرگزنہ بجھيں گے۔ اس کي تابش کبھي ختم نہ ہوگي جوانسانوںکو،انساني سماج، سعادت کے متلاشيوں کوخوشبختي کے راہيوں کومنحرف راستوں،سقوط ہولناکدروں سے نجات دلائے گي۔ پس راہ حق ہميشہ کے لئے مستقيم اورروشن ہے ۔ ايک اورمقام پرحضرت ارشادفرماتے ہيں کہ تاريکي اس کے مقابلے ميں ٹہرنہيں سکتي کيونکہ اس کے چراغہميشہ راہ سعادت وہدايت کوروشن رکھتے ہيں يہ چراغ اورمفسران وحي الہي آئمہاطہار(عليہم السلام) ہيں۔

 
 

۶۔ قرآني آئينے اورچراغ:

 
 

حديث ثقلين کي روشني ميں ”قرآناورعترت“ ايسے دوالہي عطيے ہيں جوايک دوسرے کي تکميل کرنے والے ہيں۔

 
 

حکمت وروش الہي اس طرح قرارپائي ہےکہ لوگ اہل بيت(عليہم السلام) کے ذريعہ سے معارف قرآن سے آشناہوں۔ بنابراين اللہتعالي نے طالبان سعادت کے لئے امامت کاايک دائمي راستہ مقررفرمايا۔ قرآني معارف اسقدرگہرے وسيع وعميق ہيں انسان جس قدراہل بيت(ع) کے علوم ميں تفکروتدبر کرے اتناہيقرآن کي عظمت اورمعرفت وعرفان کے چشمے پھوٹنے شروع ہوجاتے ہيں۔

 
 

توحيد کے اس بحرزخارسےجتناپيتے جائيں توسيراب ہونے کي بجائے انسان تشنہ ترہوتاجاتاہے۔

 
 

۷۔ قرآن کريم کے پيروکارکےلئے اصلاح وسعادت:

 
 

يہ زندگي چونکہ آخرت کي کھيتي ہے۔لہذاانسان کاتمام ہم وغم آخرت کي سعادت ہوناچاہئے۔ بس اگرانسان اپنے اعمالوکردارکوقرآن کريم اوراہل بيت عليہم السلام کے معارف وعلوم کے مطابق بنائےتودنياوآخرت کي عزت سربلندي حاصل کر سکتاہے۔

 
 

امام عليہ السلام خطبہ۱۷۶ميںارشادفرماتے ہيں:

 
 

”فاسالوااللہبہ وتوجھوااليہ بحبہ ولاتسالوابہ خلقہ انہ ماتوجہ العبادالي اللہ بمثلہ واعلمواانہشافع مشفع وقائل مصدق وانہ من شفع لہ القرآن يوم القيامةشفع فيہ ومن محل بہ القرآنيوم القيامة صدق عليہ“۔

 
 

ترجمہ : اللہ تعالي سے قرآن کےذريعے سوال کرواورپروردگارکي طرف اس کي محبت کے ذريعے سے متوجہ ہوجاؤاورمخلوق خداسےمانگنے کے لئے قرآن کوذريعہ قرار نہ دوکيونکہ انسان بھي اپنے اورخداکے مابين قرآنجيساواسطہ نہيں رکھتے۔يقين کے ساتھ جان لوکہ قرآن ايساشفاعت کرنے والاہے جس کيشفاعت قبول شدہ ہے يہ ايسابولنے والاہے جس کي تصديق کي جاتي ہے۔ قيامت کے دن جس کيشفاعت قرآن نے کي تويہ شفاعت اس کے حق ميں قبول کي جائے گي اورقيامت کے دن جس کيمذمت قرآن نے کي تومعاملہ اس کے نقصان ميں ہوگا۔

 
 

۸۔ قرآن خيرخواہ اورنصيحتکرنے والاہے:

 
 

امام عليہ السلام فرماتے ہيں:

 
 

”فکونوامنحرثتہ واتباعہ واستدلوہ علي ربکم“۔

 
 

لوگو! قرآن کے جمع کرنےوالوں اورپيروکاروں ميں سے ہوجاؤاوراس کواپنے پروردگارکے لئے دليل قراردو۔

 
 

اللہ کواس کے کلام سےپہچانو۔ پروردگارکے اوصاف کوقرآن کے ذريعے پہچانوقرآن ايسا راہنما ہے جوتمہيں اللہکي طرف راہنمائي کرتاہے۔

 
 

اس راہنمائي کے ذريعے اس کےبھيجنے ہوئے رسول کي معرفت حاصل کرواوراس اللہ پرايمان لے آؤجس کاتعارف قرآنکرتاہے۔

 
 

”واستنصحواعليانفسکم“

 
 

قرآن کواپناناصح قراردواوراس کيخيرخواہانہ نصيحتوں پرعمل کروکيونکہ تم انسان ايک دل سوز،خيرخواہ کے محتاجہوجوتمہيں ضروري مقامات پرنصيحت کرے۔ پس قرآن وہ پرسوزدل سوزناصح ہے جوتم سے کبھيخيانت نہيں کرتااورتمہيں انتہائي بہترين انداز سے صراط مستقيم کي ہدايت کرتاہے۔

 
 

”انھذاالقرآن يھدللتي ہي اقوم ويبشرالمومنين الذين يعملون الصالحات ان لھم اجراکبيرا“۔

 
 

ترجمہ:بے شک يہ قرآن تمہيں انتہائيمستحکم وپائيدارراستے کي طرف راہنمائي کرتاہے اورجومومنين اعمال صالح بجالاتے ہيںان کوبشارت ديدوکہ ان کے لئے يقينا بہت بڑا اجرہے۔

 
 

يہاں سب سے اہم نکتہ اس آية مبارکہکے مضمون پرقلبي اعتقادہے کيونکہ جب تک انسان يہ عقيدہ نہ رکھتاہو،اپنے آپ کومکملطورپرخداکے حوالے نہ کردے اور خود کو خواہشات نفساني سے پاک نہ کرے توہروقت يہ خطرہموجودہے کہ شيطاني وسوسوں کا شکارہوجائے۔ قرآن کريم کاکوئي بھي حکم انساني حيوانيونفساني خواہشات سے سازگارنہيں ہے جوشخص اپني ہي خواہشات کومدنظررکھتاہے اس کيخواہش ہوتي ہے کہ قرآن بھي اس کے رجحانات،خواہشات کے مطابق کلام کرے اورجيسے ہيکوئي آيت اس کي خواہشات وترغيبات کے مطابق نظرآئے تواس کابھرپوراستقبال کرتاہے پسعقل کاتقاضاہے کہ انسان خالي الذہن اورخالي دامن ہوکرفقط عشق الہي کاجذبہ لے کرقرآنکي بارگاہ ميں حاضري دے۔

 
 

ج : قرآن کريم کي شناختاس کے مخالفين کي شناخت ميں مضمرہے:

 
 

گذشتہ گفتگوکي روشني ميں يہ سوالاٹھتاہے کہ کياقرآن کريم سے استفادہ کاطريقہ کاريہي ہے کہ ہم فقط مذکورہ بالافرامينبرعمل کريں؟

 
 

اس سوال کے جواب ميں اگرہم قرآنمجيدکووسيع نظرسے ديکھيں تواس کے مقابلے ميں منحرف افکارنظرآئيں گے۔ ان منحرفافکارنے ہميشہ سے انسان کوگمراہي اورباطل کي طرف دھکيلاہے۔ پس قرآني تمدنکونافذکرنے اورمعاشرے ميں ديني عقائد و اقدار کو رائج کرنے کے لئے ضروري ہے کہمخالفين قرآن کے افکاراوران کي سازشوں سے معرفت حاصل کي جائے جب کہ يہ نکتہغالباغفلت کاباعث ہوجاتاہے حق وباطل چونکہ ہميشہ ايک دوسرے کے بالمقابل رہے ہيںلہذاہميں حق کي شناخت ومعرفت کے ساتھ ساتھ باطل کي بھي پہچان کرني چاہئے اس چيزکےپيش نظرامام (ع)فرماتے ہيں:

 
 

”واعلمواانکملن تعرفواالرشدحتي تعرفواالذي ترکہ ولن تاخذواميثاق الکتاب حتي تعرفواالذي نقضہ“۔

 
 

ترجمہ : يقين کے ساتھ جان لوکہ تمراہ ہدايت کوہرگزنہيں پہچان سکتے جب تک تم اس کونہ پہچانوجس نے ہدايت کوترک کردياہےاورتم ہرگزپيمان الہي(قرآن) پہ عمل پيرانہيں ہوسکتے جب تک تم پيمان شکن عہدشکن کونہپہچان لو۔

 
 

يعني يہ کہ تم قرآن کے حقيقيپيروکاراس وقت تک نہيں بن سکتے جب تک تم قرآن کي طرف پشت کرنے والوں کي معرفت حاصلنہ کرلو۔ حضرت(ع) کے اس فرمان ميں بڑے واضح طورپردشمن شناسي پرزوردياگياہے۔ اس سےعلمائے علم دين کافريضہ بہت زيادہ سنجيدہ ہوجاتاہے بالخصوص ايسے حالات ميں جب کہانحرافي افکار اور ملحدين کے شبہات اعوام خصوصانوجوانوں کوانحرافات کاشکارکررہے۔

 
 

حضرت امام علي کي پيشينگوئي اورتنبيہ

 
 

اگرچہ حضرت کاموردخطاب عامة الناسہيں ليکن بہت سارے مواردميں معاشرے کے خاص افرادياخاص گرہوں کوموردخطاب قرارديتےہيں کيونکہ يہي لوگ ہيں جومعاشرے کي تہذيب وثقافت پراثراندازہوتے ہيں۔ وہ لوگ ہيںجواپنے دنياوي اہداف واغراض کي خاطرخدااوراس کے رسول کي طرف جھوٹ اوردروغ گوئي کينسبت ديتے ہيں۔ قرآن اوردين کي تفسيربالرائے کرتے ہيں اورلوگوں کوگمراہي کي طرفکھينچتے ہيں۔

 
 

عوام کے بارے فرماتے ہيں: ا س زمانےکے لوگ بھي ايسے ہي ہيں اگرقرآن کريم کي صحيح وحقيقي تفسيروتشريح ہوتوان کے نزديکسب سے زيادہ بے قيمت چيزہے ليکن اگران کي نفساني خواہشات کے مطابق ہوتوايسي تفسيرکےدلدادہ ہيں۔ ايسے زمانے ميں شہروں ميں ديني والہي اورغيرديني اقداران کے لئے محبوبہوں گي اس خطبے کے آخرميں ارشادفرماتے ہيں:

 
 

”فاجتمعالقوم علي الفرقة وافترقواعن الجماعة کانہم آئمة الکتاب وليس الکتاب امامہم“۔

 
 

ترجمہ:اس زمانے کے لوگوں نے افتراقواختلاف پراجتماع کرلياہے انہوں نے جماعت سے عليحدگي اختيارکرلي ہے يہ لوگ ايسے ہيںجيسے قرآن کے امام ورہبريہ ہوں جب کہ قرآن ان کاامام نہں ہے۔

 
 

گويا امام(عليہ السلام) کي مراديہ ہے کہ انہوں نے اجتماع کرلياہے کہ قرآن کريم کہحقيقي مفسرپيداہي نہ ہوں يہ لوگ عالم نماجاہلوں کي پيروي کرتے ہيں جو خود کو قرآنکارہبرجانتے ہيں اورقرآن کي اپني خواہشات نفساني کے مطابق تفسيرکرتے ہيں انہوں نےحقيقي مسلمانوں ،علماء اورمفسرين سے جدائي اختيارکرلي ہے۔ يہ لوگ عملا قرآنکواپنارہبرنہيں مانتے بلکہ خودا سکے رہبرہيں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.