مھدی (عج) ایك انقلاب میں دس انقلاب (2)

215

مھدی (عج) ایك انقلاب میں دس انقلاب حكومت عاشقی اور عدل جہانی (2)

اصولا ! مہدویت، خاتمیت كے اجزاء میں سے ہے كوئی حاشیہ كی چیز نہیں ہے كہ اگر اسلام كے بنیادی امور سے خلاف ہو بھی جاتے تو كوئی فرق نہ پڑے بلكہ مہدی علیہ السلام آئیں گے تا كہ انبیاء كے ناتمام كام كو مكمل كریں وہ عمارت جس كے تعمیر میں سب انبیاء كی كاوشیوں ہیں با لآخر ایك دن اسے مكمل ہو كر افتاح ہونا ہے ۔

اتفاقا ! نظریہ رومہدویت ایك ایسا نظریہ ہے جس كی كوئی بنیاد نہیں، اگر ابھی تك نہیں آیا لہذا آئندہ بھی نہیں آئے گا، یہ بھی كوئی نظریہ ہے؟ یا یہ نظریہ كہ: اتنی بڑی عمر كیسے ہوسكتی ہے؟ یا یہ كہ آج تك جہانی عدل برقرار نہیں ہوسكا تو آئندہ كیسے ہوگا؟ یہ سب استكباری خداؤں كی ابلیسیت ہے كہ كوئی انتظار میں نہ رہے ۔ اور ہم لوگ بڑے آرام سے ان مظلوموں پر حكومت كریں ۔ ایك اور اہم بات یہ ہے كہ: انتظار مہدی (عج) ایك مثبت اور فعال انتظار ہے لہذا انتظار كا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے كہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہر قسم كی اعتماعی فعالیت سے كنارہ كش ہوجائیں اور نسبی عدالت كے نفاذ سے صرف نظر كریں بلكہ جتنے فی صد ہوسكتا ہے حاصل كریں اور باقی كے لئے ہمی تن مصروف رہیں ۔ یہ بات درست ہے كہ امام زمانہ علیہ السلام كا عدل، عدل مطلق ہوگا لیكن ان سے پہلے زمین ہموار كرنا اور صلاحیتوں كو آمادہ كرے اور جہاد و اجتہاد سے كسی نے منع نہیں كیا بلكہ قرآن كریم نے اور عقل سلیم نے یہ بتایا كہ ,, لیس الانسان الا ما سعی، یعنی كوشش كے بغیر كچھ حاصل نہیں ہوگا، اور یہ بھی معلوم ہے كہ منتظرین مصلح كو خود صالح ہونا چاہیئے بلكہ ہوسكے تو مصلح ہونا چاہیئے ورنہ اسے منتظر كہلوانے كا حق حاصل نہیں ہے ۔

البتہ كچھ لوگ اس جہاں با ہدف كو اندھا بھرا اور لاشعور جہاں سمجھتے ہیں ۔ ایسا جہان جو ہمیشہ طاقتور و جالوں كے قبضہ میں رہا ہے لیكن مہدویت جہانی ایسا نہیں ہے ۔ مہدویت جہانی میں سب سے اہم ترین ہی یہ ہے كہ: اپنے سامنے آنے والے ہر جلاد و دجال كو تاریخ كا حصہ بنادے جیسا كہ امیرالمومین علیہ السلام كی پوری كی ہوری زندگی ایسے ہی طاغوتوں سے جہاد و اجتہاد كرتے گذری ۔

مہدویت ایك ایسی آئیڈیا لوجی ہے كہ جس كا مركزی نقطہ ہی یہ ہے كہ انسان كے تمام حقوق اسے واپس ملنے چاہیئیں اور بشر كو كبھی بشر پر حكومت كا حق حاصل نہیں ۔ ہاں! ایك صورت ہے اور وہ یہ ہے كہ خداوند متعال انسان كو اپنا خلیفہ بنائے ۔ مہدویت میں انسان كی فردی یا اجتماعی ذمہ داری كبھی بھی كم نہیں ہوتی ۔ اور یہ جہان بھی قطعا اتنا چھوٹا نہیں ہے ۔ جتنا فكر بشر میں آتا ہے ۔ ظہور مہدی میں بشر كے لئے وہ انكشاف اور آسانیاں ہیں كہ شاید بشر نے كبھی سوچا تك نہ ہو ۔

جامعہ مہدی قطعا ویسا نہیں ہے جیسا كہ ۱۶ ویں یا ۱۷ویں صدی كے خیال پر داز دانشور سمجھتے تھے یا پھر ۱۹ ویں یا ۲۰ ویں صدی كے منتشر الخیال دانشور سمجھتے ہیں ۔ ایسے چھوٹے اور تنگ وتاریك جہان جس میں خود یہ دانشور بھی رہنا پسند نہ كریں ۔ آخر یہ كیسا جہان ہے !؟؟؟ ان لوگوں نے فرض كرلیا ہے كہ سر چھپاؤ تو پاؤں ظاہر ہوتے ہیں اور اگر پاؤں ڈھانپو تو سرظاہر ہوجاتا ہے؟ ایك بندے كا حق حاصل كرو تو دو كا ضائع ہوتا ہے ۔ ایك صدام یا اسامہ كو پكڑو تو ہزاروں بچے یتیم اور ہزاروں خواتین بیوہ ہوتی ہیں؟ ایك دہشتگر سے جان چھڑاؤ تو ہزاروں وحشیوں سے سامنا كرنا پڑتا ہے ۔

جہان پر بہار كی ایسی محبوس تصویر كشی كی وجہ سے خود یہ دانشور بھی تنگ آگئے ہیں اور وہی تباہی بیان كرنا شروع كردی اور ,, فلسفہ یاس٬٬ كی بنیاد ركھ دی گئی اور اب یہ كہا جارہا ہے كہ جہاں و بشر كے بارے میں ہر قسم كی تاریخی بات مہمل و محال بلكہ احمقانہ ہے ۔ اخلاقی قدریں اور عقیدتی اقدار سب فضول باتیں ہیں ۔ حتی كہ اب تو اپنے بیان كئے ہوئے اصولوں پر سے بھی ان كا ایمان اٹھ گیا ہے مثلا یہ كہ: تمام بشر كی ایك مشترك زبان ہے، تمام بشر كی ایك مشترك حیات ہے، تمام بشر كا ایك مشترك مستقبل ہے، تمام بشر كا ایك مشترك درد ہے ۔ !!

آجكل یہ بیان كیا جارہا ہے كہ انسانوں كا كچھ بھی مشترك نہیں ہے بندہ اپنے اندر ایك مستقل جہان ركھتا ہے یعنی انفرادیت ہی انفرادیت، اجتماعی زندگی اور اصول حیات كسی بھی چیز كا نام نہیں ہے اور آجكل تو اضطراب مطلق كی بات ہوری ہے یعنی بشر سراپا اضطراب ہے ۔ مدینہ فاضلہ كی بات اگر كسی نے كی تو وہ احمقوں كی جنت میں رہتا ہے، جیسے ہی مدینہ فاضلہ اور نجات و حیات كی بات ہوتی ہے تو یہ لوگ مضطرب ہوجاتے ہیں كیوں؟ اس لئے كہ ان لوگوں نے بشریت جدید كو وعدوں كے جو سبز باغ دكھائے تھے وہ تو سب كے سب تھے اور مدینہ فاضلہ كے تو اول روز سے یہ لوگ منكر تھے ۔ تو پھر مضطرب ہوجاتے ہیں كیوں؟ اس لئے كہ ان لوگوں نے بشریت جدید كو وعدوں كے جو سبز باغ دكھائے تھے وہ تو سب كے سب سراب تھے اور مدینہ فاضلہ كے تو اول روز سے یہ لوگ منكر تھے ۔ تو پھر مضطرب نہ ہونگے تو كیا ہوگا؟ جب مہدویت جہانی میں كچھ ایسی حقیقتوں كی طرف اشارہ ہے كہ بشر كا انگ انگ فرط مسرت سے جھوم اٹھے گا ۔ مثلا یہ كہ:

امام مہدی علیہ السلام تمام ظلم و ظالموں كونابود كردیں گے !

امام مہدی علیہ السلام مستضعفوں كو ان كا حق دلائیں گے ۔

یعنی تمام آئمہ علیہ السلام اور اہل بیت كی جہانی حكومت ہوگی ۔ انشاء اللہ ۔

مہدویت جہانی انشاء اللہ تمام سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھائے گا اور تمام مادی خیالوں، اصولوں اور فارمولوں كی بیخ كنی كرے گا ۔ مہدی موعود كے یجنڈا میں یہ بھی شامل ہوگا كہ تمام جاہلانہ آداب و رسوم، ماڈرن ازم، پوسٹ ماڈرن ازم كے اسڑ كچر كو توڑ دیاجائے ۔ اس زمانے میں انسان موجودہ مشینی انداز فكر و زندگی سے باہر آجائے گا ۔ نہ روبوٹ كے انداز میں خشك زندگی اور نہ حیوانات كی طرح بے شعور اور پست زندگی، بحرحال ماننا پڑے گا كہ انسان كی زندگی میں كچھ واقعی اور حقیقی، عقیدتی واخلاقی اقدار موجود ہیں ۔ صرف یہ نہیں ہے كہ بس جو انسان كی سمجھ میں آگیا یا جو اس كے دماغ میں آیا وہی اقدار ہیں ولا غیر ۔۔۔۔۔۔۔ اچھائی اچھائی ہے ۔ عدالت ایك حقیقت ہے كوئی افسانہ نہیں ہے ۔ اگر چہ انسانوں نے اپنے طور پر بہت كوشش كی لیكن اجتماعی عدالت كو پورے جہان میں رائج و نافذ نہ كرسكے لیكن انشاء اللہ مہدی موعود یہ كام كریں گے ۔

خداوند متعال نے كبھی انسان كو تنہا ور بے یاد ومددگار نہیں چھوڑا بلكہ ہمیشہ اس كی دستگیری اور رہنمائی فرمائی ہے ۔ ایسا نہیں ہے كہ خداوند متعال نے جب سے آدم اور اولاد آدم كو جنت سے نكال باہر كیا تو پھر كبھی مڑكر بھی انسان كی شكل نہیں دیكھی كہ انسان پر كیا گزری اور وہ كس حال میں ہے اور كیا كررہا ہے ۔ بلكہ آدم سے خاتم اور خاتم الانبیاء علیہ السلام سے خاتم الاوصیاء یعنی مہدی موعود علیہ السلام لحظہ بہ لحظہ حق تعالی نے ہمیں تحت نظر ركھا ہوا ہے ۔ اور مہدی موعود علیہ السلام بشریت كے تمام زخموں پر مرہم ركھے گا اور تمام ناسوروں كی دوا كرے گا ۔ سب كچھ ہمیں سكھائے گا بشرطیكہ ہم سكیھنے كے اہل اور تشنہ ہوں ۔ ہاں ! البتہ جو گڑبڑ پھیلائے گا تو آہن و آتش سے اس كا علاج ہوگا ۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیں كہ: مہدی موعود علیہ السلام تمام انسانوں كو عقل و منطق سے سمجھائیں گے لیكن كچھ بہر حال ایسے بھوت ہوتے ہیں جو باتوں سے نہیں مانتے بلكہ ہاتھوں سے مانتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ تو ایسے بھوتوں كے لئے ان كے پاس ذوالفقار حیدری آج بھی موجود ہے ۔ لہذا اس دن بشریت دو گروپوں میں تقسیم ہوجائے گی ۔

۱۔ كچھ لوگ سب كچھ سمجھ اور مان لیں گے ۔

۲۔ بعض لوگ ضدی ہونگے اور كچھ نہیں مانیں گے ۔ لیكن ابھی شاید ان كے سامنے كچھ نسلوں كا فاصلہ ہے ۔ وہ كیوں؟ وہ اس لئے كہ ابھی لوگ اپنی اپنی دنیا میں گم ہیں جو منكر ہیں وہ توہیں ہی منكر ! لیكن جن لوگوں نے ان كا اقرار كیا ہوا ہے حتی كہ وہ بھی غافل ہیں اور اپنی زندگی میں مگن ہیں ابھی لوگوں كو ان كی قدر و معرفت نہیں ہے ۔ وہ بزرگوار تب ہی آئیں گے جب سب ان كا خلاء محسوس كریں ۔ لوگ عدالت كے لئے چینخ اٹھیں اور عدالت كے حصول كی ہر قیمت ادا كرنے كے لئے عملا تیاریاں ۔ آج جو لوگ مہدی موعود علیہ السلام كا انكار كررہے ہیں ۔ وہ حقیقتا ظلم و ستم اور وحشت و بربریت كی پشت پناہی كررہے ہیں ۔ اور ظالم و ستمگروں كو گرین سگنل دے رہے ہیں ۔ مہدی علیہ السلام كا انكار حقیقتا اس بات كا غمازی ہے كہ یہ لوگ مشرق و مغرب كے دلدادہ ہیں اور طاغوت زمانہ سے شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر گھبرائے ہوئے ہیں ۔

سب كو معلوم ہے كہ آج جو ظلم و ستم ہورہا ہے وہ یقینا غارنشینی كے زمانہ سے زیادہ ہے ۔ اگر چہ ظاہر علم و ادب كی انتہا ہوچكی ہے ۔ لیكن انسان كا اخلاق پتھر كے زمانے سے بھی پست تر ہے! انسان كے پاس ٹیكنالوجی تو انتہائی ماڈرن آگئی ہے لیكن عدل و انصاف اور فكر كی تطہیر كے معاملے میں انسان ابھی تك وہی چنگیزی زمانے میں كھڑا ہے ۔جس كی مثال امریكا كی موجودہ افغانستان اور عراق پر چڑھائی ہے ۔ جس كی لاٹھی اس كی بھینس والا اصول فرعون كے زمانے سے لے كر آج تك اسی قوت سے باقی ہے ۔ صرف تھوڑا سے فرق البتہ ہے اور وہ یہ ہے كہ پہلے زمانے میں اقوام متحدہ اور سلامتی كو نسل موجود نہیں تھی ! لیكن آج ان بظاہر اصلاح طلب اداروں كی آڑ میں جو انسان كشی ہورہی ہے كیا وہ كبھی ركے گی یا نہیں؟ اس كا جواب كسی كے پاس نہیں ہے ۔ كل جس آسانی سے كسی كے منہ سے نوالہ چھینا جاتا تھا آج اس سے بھی زیادہ آسانی سے چھینا جارہا ہے ۔ صرف سلامتی كونسل میں ایك قرار داد كی منظوری كی ضرورت ہوتی ہے ۔ یعنی ستمگری بند نہیں ہوتی صرف شكل و صورت تبدیل ہوتی ہے ۔

آج امریكا بیوورلڈ آرڈر كے بہانے جو ادھر ادھر چڑھائیاں كررہا ہے كیا ان كی كوئی عقلانی و منطقی توجیہ كی جاسكتی ہے؟ كیا صرف یہ كہہ دینا كافی ہے كہ دہشتگردی سے مقابلہ ہورہا ہے؟ اس چیز كا اعتراف آج كل كے غربی دانشور بھی كررہے ہیں ۔ ایسے ہی ایك مغربی دانشور تیوریسن نے اعتراف كرتے ہوئے كہا ہے كہ ,, ہم لوگ سمجھ رہے تھے ہم لوگ جدید نسل ہیں اور آخرین ماڈل ہیں اور ہمارا سب كچھ پرانے لوگوں سے مختلف ہے ۔لیكن اب ایسا معلوم ہوتا ہے كہ ہماری سوچ درست نہیں تھی ہم بہت زیادہ شباہت ركھتے ہیں پتھر كے زمانے والے لوگوں سے ۔ بلكہ ہم وہی ہیں كوئی فرق نہیں ہے ہم میں اور ان میں بس كپڑوں اور بالوں كا اسٹائل تبدیل ہوگیا ہے ۔ اونچی اونچی عمارتیں اور چمكتی چمكتی سڑكیں بنالی ہیں اگر دنیا والے میری آنكھوں سے دیكھیں تو كچھ بھی تو نہیں بدلا ۔ جب انداز فكر نہیں بدلا تو كیا بدلا؟ اگر انسان كا وحشی پن اور شہوت پرستی ختم نہیں ہوئی تو كیا ختم ہوا؟ ,,

روایات میں ہے كہ جب حضرت مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو انسان كے سطح فكری اور عقلانیت ایك دم اوپر چلی جائیگی ۔ اب اگر كوئی مہدی موعود علیہ السلام كا انكار كرتا ہے تو گویا اس كو عقلانیت سے نفرت ہے اور وہ فكر بشر كو ہمیشہ منجمد دیكھنا چاہتا ہے تا كہ اس كے مفادات پورے ہوتے رہیں ۔ وائٹ ہاؤس كی خوش آمد میں وہ اس قسم كی باتیں كرتا ہے ۔

امام زمانہ علیہ السلام كی فوج كے اہم ترین افراد ۳۱۳ ہیں ۔ بالكل میدان بدر كی طرح اسلام كا وہ پہلا معركہ اور یہ آخری معركہ البتہ ان بزرگوں كے لشكر میں اور بھی ہزاروں سپاہی موجود ہونگے اور یہ بات قابل ذكر ہے كہ ان ۳۱۳ میں سے ۵۰ خواتین ہونگی ۔ یہ سب لوگ گویا حضرت علیہ السلام كی وفاتی كابینہ كے افراد ہونگے ۔ اور پھر جو حكومت تشكیل پائے گی اس كی خصوصیات كچھ یوں ہونگی ۔

۔ پوری مملكت اسلامی میں كوئی فقیر نظر نظر نہیں آئے گا ۔

۔ زكواۃ ادا كرنے كے لئے فقیر ڈھونڈنے پڑیں گے ۔

۔ خواتین خانہ كا علم اتنا زیادہ ہوگا كہ وہ مجتہدانہ صلاحیت كی مالك ہونگیں ۔

۔ مومنین و مومنات كے جیب میں سے اگر كچھ اٹھالیں گے تو كوئی ناراض نہ ہوگا ۔ ایسا محبت كا ماحول ہوگا ۔

۔ كوئی كسی كے كندھے پر بندوق نہیں چلائے گا ۔ نہیں

۔ سب ایك دوسرے كے خادم ہوں گے ۔

۔ كوئی كسی سے سود نہیں لے گا ۔

۔ سب ایك دوسرے كے خیر خواہ ہونگے ۔

سید الشہدا علیہ السلام كا فرمان ہے كہ: ,, اے كاش مہدی علیہ السلام كا زمانہ دیكھ پاتا ۔ اگر میں اس زمانے میں ہوتا تو ساری عمر ان كی خدمت میں گذاردیتا ۔ ,, مہدی موعود علیہ السلام انشاء اللہ ابنیاء اور اوصیاء كی تمام ولی آرزوؤں كو پورا كریں گے، بلكہ تمام بشریت كی تمام فطری آرزوؤں كی تكمیل كریں گے ۔ اور ان كے انقلاب كے خلاف پھر كوئی ضد انقلاب نہیں ہوگا ۔ ضد انقلاب یا سر تسلیم خم كرے گا ۔ یا پھر راستے سے ہٹا دیاجائے گا ۔ نصیحت و موعظ كافی حد تك ہوگیا ۔ ایك لاكھ چوبیس ہزار انبیاء علیہ السلام اوصیاء اولیاء اور علمائے كرام نے بہت موعظہ كیا اب موعظہ كی باری نہیں ہے بلكہ دو اور دو چار كی باری ہوگی ۔

الخیر كلہ فی السیف، مكمل خیر تلوار كے سائے میں ہوگا، كافر عوام كے ساتھ ابتداء ترمی كے ساتھ برتاؤ ہوگا ۔ پھر سختی ہوگی لیكن كافر قیادت سے كوئی نرمی نہیں ہوگی ۔ اور كسی طرح بھی پھر دشمن كو جمع نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ حقیتا یہ جنگ، جنگ عظیم كہلانے كی مستحق ہوگی كہ جس میں كل كفر آخری بار كل ایمان كے مقابل آئے گا۔ یہ قیام مكہ سے شروع ہوگا اور اس كے قیام كی تمام خصوصیات و جزئیات روایات میں نقل ہوئی ہیں اپنے قیام كو آگے بڑھانے میں مكمل طاقت كا مظاہرہ كریں گے ۔ وہ طاقت جو ہمیشہ مظلوموں كے خلاف استعمال ہوئی ہے مہدی موعود علیہ السلام كی جنگ آخری جنگ ہوگی ۔ ایسی جنگ كہ جس میں ہم آپ كو ایك طرف رہنا ہوگا ۔ یا ادھر یا ادھر ۔ غیر جانبدار رہنے كی كوئی گنجائش نہیں ہوگی ۔ نفاق كا دور ختم ہوجائے گا ۔ ہر شخص كو اپنی پوزیشن واضح كرنا ہوگی ۔ دنیا اور طاغوتوں كی موجودہ كلاسیكل مشینری اور دفاعی خطوط سب كی سب چشم زدن میں تباہ و نابود ہوجائیں گے ۔ اك نیا جہان، نئے انداز فكر میں، ایسا جہان جس میں ہر طرف محبت وعدالت كا دور دورہ ہوگا۔

مہدی موعود كے بارے میں جتنے بھی وعدے اور جتنی بھی بشارتیں ملی ہیں یہ سب سراب نہیں حقیقت ہیں ۔ دنیا میں جس نے بھی فاضلہ كی بات كی ہے اپنے ذہن كے مطابق كی ہے لیكن جہان مہدی كا ارتباط آسمانی خزائن سے ہے ۔ مہدی علیہ السلام صرف جان جہان نہیں بلكہ عقل جہان بھی ہیں ۔ ید اللہ كا مظہر ہونگے جس چیز پر ہاتھ ركھتے جائیں گے وہ رام ہوتی جائے گی ۔ جس عقل پر دست شفقت پھیریں گے وہ عقل كامل ہوتی جائے گی ۔ ان كی جہانی حكومت كوئی دور دراز جزیرہ نہیں اور نہ ہی شاعروں كے دماغ كی كوئی اختراع ہے ۔ جہان مہدوی حقیقی مصلحتوں پر منحصر ہوگا ۔ ایسی مصلحتوں كہ جن كے بارے میں كسی بھی قسم كی تاویلوں كی ضرورت نہیں كرے ۔ اور اس جہان پر نور كا ایك خوبصورت پہلو یہ بھی ہے كہ جہان مہدی علیہ السلام و حكومت مہدی میں عدالت اگر چہ اپنی اعلی ترین شكل میں موجود ہوگی ۔ لیكن اس كے باوجود موجودہ حالات میں بھی ہم لوگ تا حد امكان اس آئیڈیل عدالت كے مقدمات فراہم كرسكتے ہیں ۔ وہ كیوں؟ وہ اس لئے كہ دنیا كو عملا دكھایا اور اور باور كرایا جاسكے كہ جہان مہدی علیہ السلام كی تصویر صرف خیالی خاكہ نہیں بلكہ عملا ایك قابل حصول پراجیكٹ ہے ۔

بعض لوگ خیال كرتے ہیں كہ حكومت عدل جہانی میں سب لوگ روبوٹ بن كر رہ جائیں گے ۔ سب كی شہوت ختم ہوجائے گی، كوئی غصہ نہیں ہوگا ۔ سب نور كے پتلے بن جائے گے ۔ نہ كوئی گھر مانگے گا نہ كسی كو بھوك لگے گی ۔ نہ سیرو تفریح بلكہ صرف جنگ ہی جنگ یا عبادت ہی عبادت ۔ یہ خیال ٹھیك نہیں ہے بلكہ حقیقت یہ ہے كہ مذكورہ بالا تمام چیز یں موجود ہوں گی لیكن امام زمانہ علیہ السلام كی نورانیت كے طفیل یہ سب امور اپنی صحیح سمت میں چلیں گے ۔ اور انسان كی تمام منفی خصوصیات، مثبت جہالت میں تبدیل ہوجائیں گے ۔ اور انسانیت كی سعادت و خیر كے لئے بروئے كارلائی جائیں گی ۔ یعنی كسی كی سیرو تفریح دوسروں كے لئے باعث زحمت نہیں بنے گی، كسی كی گاڑی یا كوٹھی كسی مسكین كے خون پسینے پر نہیں بنے گی ۔ حكومت مہدی علیہ السلام صرف پولیس یا انٹسلی جنس ایجنسیوں كے سہارے بھی نہیں ہوگی ۔ كوئی یہ نہ سوچے كہ ہر گھر كے دروازے پر ایك پولیس بن كھڑا ہوگا یا پھر ہر گھر پر ایك خفیہ كیمرہ نصب ہوگا ۔

عدالت مہدوی كی بنیاد فكر بشر میں بنیادی تبدیلیاں ہونگی ۔ بشر كی عقلانیت فطرت اور ضمیر یہ سب كے سب فعال ہوجائیں گے ۔ لہذا اس حكومت میں پولیس والے سے پہلے ہر شخص كا ضمیر اسے ملامت كرے گا ۔ اس خوبصورت شہر كے درودیوار ۔۔ ۔۔ آزادی و اخلاق كی ہونگیں ۔ جس شہر میں علم و آگہی، فہم و فراست عقل، و منطق كی حكومت ہو اس شہر میں خفیہ اداروں كی كیا ضرورت ہے؟ ہاں ! البتہ یہ سب تب ہی ممكن ہوگا جب یہ بین الاقوامی، دہشتگرد اور استحصال مافیا كا خاتمہ ہوجائے جیسا كہ بعض روایات میں ہے كہ: شیر اور بكری ایك ہی گھاٹ سے پانی پئیں گے ۔ تو یہ امن و امان تب ہی ممكن ہوسكتا ہے كہ جب علاقے كے تمام بدمعاش افراد كا محاسبہ ہوچكا ہو ۔ پریم نگر صرف اور صرف عدالت مہدی علیہ السلام كے سائے میں قیام پذیر ہوسكتا ہے ۔

روایات میں یہ بھی آیا ہے كہ اس زمانے میں سرمایہ داری نہیں ہوگی ۔ سب امور صلواتی انداز میں انجام پائیں گے ۔ یعنی دوسرے كی خدمت كا صلہ صرف ایك صلواۃ بر محمد وآل محمد ہوگی ۔ موجودہ دور میں اگر انسان جھوٹ نہ بولے تو سمجھتا ہے كہ گذارہ نہیں ہوگا ۔ لیكن اس دور میں ایسا نہیں ہوگا تمام انسانوں كی طینت میں سچائی ہوگی ۔ حضور اكرم (ص) سے منقول ہے كہ: ,, امام زمانہ علیہ السلام جھوٹ اور اس كے تمام علل و اسباب كا خاتمہ فرمائیں گے ۔ اس لئے كہ جس بھی معاشرے میں روح اور روابط پر جھوٹ دریا ومنافقت حاكم ہو اس معاشرے كے اقتصادی كلچر میں طبقاتی فاصلے بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اس معاشرے كے ثقافت و تہذیب و تمدن پر بھی مختلف گرد و غبار كے دبیز پردے پڑجاتے ہیں ۔ اور انسان كو صحیح انداز نہیں ہوپاتا كہ ان لوگوں كی حقیقی روح كیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟ ایسے معاشرے میں حتی كہ مذہب بھی فقط ظاہری دكھاوے كی بنیادوں پر قائم رہتا ہے ۔ اور روح دین كبھی نافذ نہیں ہو پاتا ۔ نہ فردی طور پر نہ اجتماعی طورپر ۔ جس معاشرے میں جھوٹ كی فضا قائم ہو ایسے معاشرے میں عدلیہ كے ترازو میں بھی كھوٹا پن جاتا ہے ۔ اور یہ بات روز روشن كی طرح عیاں ہے كہ جس معاشرے كی عدلیہ میں كرپشن اور كھوٹا پن موجود ہو تو گویا یہ معاشرہ كینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوگیا ہے ۔

ریا اور سود خوری ایسا اقتصادی جھوٹ اور كھوٹا پن ہے كہ آج كی ماڈرن اور سپر ماڈرن اقتصادی روابط میں سود ہی كو ریڑھ كی ہڈی سمجھا جاتا ہے ۔ لیكن مہدی موعود انشاء اللہ ان تمام سیاسی، اقتصادی اور كلچر جھوٹوں كا تختہ الٹ دیں گے ۔ جب جھوٹ اور نفاق كا خاتمہ ہوجائے تو كیا اب كوئی سیاستدان جرأت كرے گا كہ كسی استعماری قوت كو خوش كرنے كے لئے اپنے ہی عوام اور ملك كے ساتھ فراؤ كرے اور سبز باغ دكھائے؟

روایات میں ہے كہ امام زمانہ علیہ السلام كے اصحاب ,, اولی باس شدید، ہونگے یعنی بلند حوصلوں اور قوی ارادوں والے گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار، حالات حاضرہ اور كرنٹ پغمبر كو سمجھنے اور پھر اس كا تدارك كرنے میں لا ثانی ہونگے ۔ درعین حال عوام الناس كے ساتھ پھول لطافت كے مانند پیش آئیں گے اور دشمن كی سازشوں كو سمجھنے اور انھیں ناكام كرنے كے ماہر ہوں گے ۔ منافقین اور دلوں كے مریضوں كے لئےپیامبران موت ہونگے ۔ جو بھی ان كے ساتھ ٹكراؤ كا سوچے گا وہ تاریخ كا حصہ بن جائے گا ۔ زمین كے جس جس حصے پر قدم ركھیں گے وہ حصہ دوسری زمین پر افتخار كرے گا كہ دیكھو اصحاب مہدی نے مجھ پر قدم ركھا ۔

سلام تجھ پر اے ! پیامبر صلح وصفا

سلام تجھ پر اے ! پیامبر مہر و وفاو نورانیت ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.