اولیاء سے مددطلبی

756

سورہ حمد میں ”ایاك نستعین“ كے پیش نظر جس میں استعانت اور مدد طلب كرنا خداوند عالم كی ذات سے مخصوص ھے تو كیا پھر اولیائے الٰھی سے مدد طلب كرنا بدعت نھیں ھے؟ قرآن و سنت كے ذریعہ اس مسئلہ كے جائز ھونے كی كیا دلیل ھے؟
اولیائے الٰھی سے مدد مانگنے كے سلسلہ میں تمام ھی مسلمانوں كا اتفاق ھے، بلكہ اس كو ایك مستحب كام اور توحید كے موافق سمجھتے ھیں كیونكہ اگر ھم اولیائے الٰھی یعنی پیغمبر اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے مدد طلب كرتے ھیں تو اس وجہ سے نھیں كہ ان كو تاثیر میں مستقل سمجھتے ھیں، بلكہ اس وجہ سے كہ اولیائے الٰھی بارگاہ خداوندی كے مقرب بندے اور خداوندعالم كے صفات جمال و كمال، اسمائے حسنیٰ، اس كی قدرت اور اس كے علم وغیرہ كے مظھر ھیں اور خدا كی مشیت اور اس كے ارادے سے اس عالم میں دخل و تصرف كرتے ھیں ((مَا تَشَاوٴُوْنَ اِلاّٰ اٴَنْ یَّشَاءَ اللّٰہ))
”وہ تو كچھ چاھتے ھی نھیں جب تك كہ خدا نہ چاھے“۔
لیكن اس مسئلہ میں وھابی حضرات اجماعِ مسلمین كی مخالفت كرتے ھوئے شدت كے ساتھ تحریم كے قائل ھیں، بلكہ اس كو شرك جاھلیت سے بھی بڑا گناہ مانتے ھیں، لہٰذا اس مسئلہ پر بحث كرنا ضروری ھے۔
وھابیوں كے فتوے
1۔ ابن تیمیہ (وھابی عقائد كے بانی) كا كہنا ھے: ”شرك كی قسموں میں سے ایك قسم یہ ھے كہ كسی مردہ انسان سے كوئی شخص كھے: میری مدد كر، مجھے سھارا دے، میری شفاعت كر، دشمنوں كے مقابل میری مدد كر، یا اس طرح كی دیگر درخواست كہ جن پر صرف خداوندعالم قدرت ركھتا ھے“۔ 1
ایك دوسری جگہ اس درخواست كو واضح طور پر شرك قرار دیتے ھوئے كھتا ھے: ”جو شخص اس طرح كھے تو اس كو توبہ كرنا چاہئے اور وہ توبہ نہ كرے تو ایسے شخص كا قتل كرنا واجب ھے“۔2
2۔ محمد بن عبد الوھاب كا كہنا ھے: ”غیر خدا كو پكارنا، اور غیر خدا سے مدد مانگنا، دین سے خارج ھونے اور مشركین كے دائرے میں داخل اور بتوں كی پوجا كرنے كے برابر ھے، اس كا حكم یہ ھے كہ اس كی جان و مال حلال ھے،مگر یہ كہ توبہ كرلے“۔3۳
۔ شیخ عبد العزیز بن باز كا كہنا ھے: دنیا كے كسی بھی گوشہ میں اگر كوئی شخص یہ كھے: ”یا رسول اللہ! یا بنی خدا! یا محمد! میری مدد فرمائیں، میری دستگیری كریں، میری نصرت فرمائیں، مسلمانوں كے مریضوں كو شفا دیدیں یا مسلمانوں كے گمراہ لوگوں كی ہدایت فرمائیں، تو اس نے عبادت میں خدا كا شریك قرار دیا ھے“۔ 4
یھی موصوف ایك دوسری جگہ كھتے ھیں: ”اس بات میں كوئی شك نھیں ھے كہ پیغمبر اكرم (ص)، انبیاء علیھم السلام، اور اولیائے الٰھی یا ملائكہ اور جنّات سے استغاثہ كرنے والے اس اعتقاد كے ساتھ استغاثہ كرتے ھیں كہ یہ حضرات ان كی دعاؤں كو سنتے ھیں ان كے حالات سے باخبر ھیں لہٰذا ان كی حاجتوں كو پورا كردیں گے، یہ تمام چیزیں ”شرك اكبر“ ھیں، كیونكہ غیب كی باتوں كو خدا كے علاوہ كوئی نھیں جانتا، اور مردے چاھے انبیاء ھوں یا انبیاء كے علاوہ ،مرنے كے بعد اس دنیا میں كچھ میں نھیں كرسكتے“5
اسی طرح ان كا كہنا ھے: ”لیكن مردہ كو پكارنا، اس سے استغاثہ كرنا، مدد طلب كرنا، یہ تمام چیزیں شرك اكبر اور زمانہ پیغمبر كے مشركین كی طرح ھے جوبتوں كی عبادت كیا كرتے تھے“۔6
غیر خدا سے مدد طلب كرنے كی قسمیں
غیر خدا سے استعانت اور مدد مانگنے كی چند قسمیں ھیں جن كو ھم ذیل میں ان كے حكم كے ساتھ بیان كرتے ھیں:
1۔ كسی انسان سے اس كی زندگی میں مدد طلب كرنا
خود اس كی بھی چند قسمیں ھیں:
الف) عام مسائل میں مدد طلب كرنا
ان عام كاموں میں مدد حاصل كرنا جن كاموں میں طبعی اسباب و علل ھوتے ھیں، اور یہ قسم نوع بشر كا بنیادی مسئلہ ھے كیونكہ انسان كی زندگی ایك دوسرے كی مدد سے آگے بڑھتی ھے، چنانچہ اس قسم كا كوئی بھی انكار نھیں كرسكتا، اسی وجہ سے خداوندعالم جناب ذوالقرنین كی زبانی فرماتا ھے:
(( فَاٴَعِینُونِی بِقُوَّةٍ اٴَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَبَیْنَہُمْ رَدْمًا )) 7
”اب تم لوگ قوت سے میری امداد كرو كہ میں تمھارے اور ان كے درمیان ایك روك بنادوں“۔
ب) دوسروں كی دعا سے طلبِ مدد كرنا
استعا نت اورطلب مدد كرنے كی ایك قسم دوسروںكی دعا ؤںسے طلب مددكرناھے، یعنی دوسروں سے دعاكی التماس كرنا، اس قسم میںبھی كوئی اعتراض نھیںھے، قران مجید میںبھی بھت سے مقامات پر اس قسم كی طرف اشارہ ھوا ھے، مثلاً دوسروںكی دعاوٴںسے مدد طلب نہ كرنامنافقین كی صفات میںشمار كیا گیاھے:ارشاد ھوتا ھے:
((وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ لَوَّوْا رُئُوسَہُمْ وَرَاٴَیْتَہُمْ یَصُدُّونَ وَہُمْ مُسْتَكْبِرُونَ )) 8
”اور جب ان سے كھا جاتا ھے كہ آؤ رسول اللہ تمھارے حق میں استغفار كریں گے تو سر پھرا لیتے ھیں اور تم دیكھو گے كہ استكبار كی بنا پر منھ بھی موڑ لیتے ھیں“۔
ایك دوسری جگہ مومنین كی دعائے خیر سے مدد حاصل كرنا ایك فطری ضرورت قرار دیا گیا ھے، چنانچہ برادران یوسف كے بارے میں ارشاد ھوتا ھے :
((قَالُوا یَااٴَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِینَ ۔ قَالَ سَوْفَ اٴَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّی إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ )) 9
”ان لوگوںنے كھا:بابا جان! اب آپ ھمارے گناھوں كے لئے استغفار كریں ھم یقینا خطاكار تھے۔ انھوں نے كھا كہ میں عنقریب تمھارے حق میں استغفار كروں گا كہ میرا پروردگار بھت بخشنے والا اور مھربان ھے“۔
مومنین كی استغفار كے بارے میںارشادھوتاھے:
(( وَالَّذِینَ جَاءُ وا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالْإِیمَانِ)) 10
”اور جو لوگ ان كے بعد آئے اور ان كا كہنا یہ ھے كہ خدایا ھمیں معاف كردے، اور ھمارے بھائیوں كو بھی جنھوں نے ھم پر ایمان میں سبقت كی ھے“۔
اس قسم كو ابن تیمیہ نے قبول كرتے ھوئے كھا ”صحیح سند كے ساتھ پیغمبر اكرم(ص) سے نقل ھوا ھے كہ آنحضرت نے فرمایا: ”جو شخص اپنی دینی بھائی كے لئے دل سے دعا كرے تو خداوندعالم ایك فرشتہ كو موكل كرتا ھے تاكہ دعا كے وقت اس سے كھے: تیرے لئے بھی وھی چیز ھے جو تو نے اس برادر مومن كے لئے طلب كی ھے“۔ 11
ج) اولیائے الٰھی سے غیر معمولی كاموں میں مدد مانگنا
زندہ انسان سے استعانت اور مدد حاصل كرنے كی ایك قسم غیر معمولی كاموں مدد مانگنا ھے جیسے كسی مریض كو غیر معمولی طریقہ سے شفا دینا وغیرہ، البتہ اگر اعجاز كی قدرت ركھتا ھو، اس سلسلہ میں بھی كسی كو كوئی اعتراض نھیں ھے، كیونكہ در حقیت یہ تو اولیائے الٰھی كی قدرت اور ان كے معجزات پر ایمان ھے، لیكن اس اعتقاد كے ساتھ كہ سب چیزیں خدا كے دست قدرت میں ھے، جب تك وہ ارادہ نہ كرے كوئی كام انجام نھیں پاسكتا، یہ اعتقاد ”توحید در خالقیت و ربوبیت“ كے بھی مخالف نھیں ھے۔
حضرت سلیمان نے حاضرین سے چاھا كہ یمن سے تخت بلقیس ایك لمحہ میں اردن (آپ كی جائے سكونت) لے آئیں:
((اٴَیُّكُمْ یَاٴْتِینِی بِعَرْشِہَا قَبْلَ اٴَنْ یَاٴْتُونِی مُسْلِمِینَ )) 12
”تم میں كون ھے جو اس كے تخت كو لے آئے قبل اس كے كہ وہ لوگ اطاعت گزار بن كو حاضر ھوں“۔
جناب سلیمان كا مقصد یہ تھا كہ تخت بلقیس غیر معمولی طریقہ سے ان كے پاس حاضر ھوجائے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:
(( قَالَ الَّذِی عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنْ الْكِتَابِ اٴَنَا آتِیكَ بِہِ قَبْلَ اٴَنْ یَرْتَدَّ إِلَیْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہُ)) 13
” ایك شخص نے جس كے پاس كتاب كا ایك حصہ علم تھا اس نے كھا میں اتنی جلدی لے آوں گا كہ آپ كی پلك بھی نہ جھپكنے پائے، اس كے بعد سلیمان نے تخت كو اپنے سامنے حاضر دیكھا۔۔۔“۔
خداوندعالم غیر معمولی كاموں كی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام كی طرف دیتے ھوئے فرماتا ھے:
((وَتُبْرِءُ الْاٴَكْمَہَ وَالْاٴَبْرَصَ بِإِذْنِی وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَی بِإِذْنِی)) 14
”اور جب تم مادر زاد اندھوں اور كوڑھیوں كو ھماری اجازت سے شفا دیتے تھے اور ھماری اجازت سے مردوں كو زندہ كردیتے تھے“۔
اگر غیر معمولی كام كوئی شخص انجام دے سكتا ھے تو اس سے اس كی درخواست میں بھی كوئی اشكال و اعتراض نھیں ھے۔
خداوندعالم اور انسان كے غیر معمولی كاموں میں فرق یہ ھے كہ خداوندعالم ایسا قادر اور فاعل ھے جو اپنے كاموں میں كسی غیر سے وابستہ نھیں ھے بلكہ اپنے كاموں میں مستقل ھے، جبكہ دوسرے لوگ خود خداوندعالم كی ذات سے وابستہ ھیں۔
2۔ اولیائے الٰھی كی وفات كے بعد ان كی اروا ح سے مدد طلب كرنا
اولیائے الٰھی كی وفات كے بعد ان كی ارواح سے مدد طلب كرنا، یا استغاثہ كرنا، استعانت كے اھم مسائل میں سے ھے، چاھے دعا كی صورت میں ھو یا طلب اعجاز كی شكل میں، چنانچہ وھابیوں نے اس قسم كی استعانت كو شرك قرار دیا ھے اور اس كا شدت سے مقابلہ اور مخالفت كرتے ھیں۔ استعانت اور استغاثہ كے جائز ھونے پر دلائل
اگر ھم احادیث و روایات كا مطالعہ كریں تو ھمیں معلوم ھوجائے گا كہ اولیائے الٰھی سے استعانت اور استغاثہ كرنے میں نہ صرف كوئی حرج نھیں ھے بلكہ یہ كام مستحب ھے، كیونكہ دینی علماء كی یہ سیرت رھی ھے كہ وہ مشكلات اور پریشانیوں كے عالم میں اولیائے الٰھی سے پناہ مانگتے تھے، ھم یھاں چند روایات كی طرف اشارہ كرتے ھیں:
1۔ امام بخاری نے صحیح سند كے ساتھ رسول اكرم (ص) سے نقل كیا كہ آپ نے فرمایا: ”بے شك روز قیامت سورج لوگوں كے سروں سے اتنا نزدیك ھوجائے گا كہ گرمی كی وجہ سے پسینہ كانوں تك پہنچ جائے گا اس موقع پر لوگ پھلے حضرت آدم سے، پھر حضرت موسیٰ سے اور آخر میں حضرت محمد مصطفی (ص) سے پناہ طلب كریں گے تاكہ مخلوقات كا فیصلہ ھوجائے“۔ 15
اس حدیث سے یہ نتیجہ نكلتا ھے كہ جو كام قدرت خدا سے انجام پاتے ھیں ان میں دوسروں كو وسیلہ قرار دیا جاسكتا ھے لیكن اس اعتقاد كے ساتھ كہ تمام كام خداوندعالم كی مشیت اور اس كے ارادہ سے ھوتے ھیں۔
2۔ طبرانی اور ابویعلی نے اپنی مسند اور ابن السنّی نے ”عمل الیوم و اللیلة“ میں صحیح كے ساتھ عبد اللہ بن مسعود سے روایت كی ھے كہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: ”جب بھی تم میں سے كسی شخص كا جنگل میں كوئی حیوان گم ھوجائے تو تم لوگ اس طرح آواز دیا كرو: اے خدا كے بندو! اس كو روك لو، اے خدا كے بندو! اس كو روك لو، كیونكہ خداوندعالم كی طرف سے كچھ ایسے بندے ھیں جو انسان كے حیوان كی حفاظت كرتے ھیں“۔16
طبرانی اس روایت كو نقل كرنے كے بعد كھتے ھیں: ”یہ عمل مجرّب ھے“۔
اسی حدیث كی طرح بزار ،ابن عباس سے نقل كرتے ھیںكہ آنحضرت نے فرمایا: بےشك خداوندعالم نے روئے زمین پرحافظین كے علاوہ كچھ ملائكہ كو بھیجا ھے جو درختوں سے گرنے والے پتوںكا حساب كر تے ھیں، لہٰذا اگركوئی شخص جنگل اوربیابان میںكسی مصیبت میں مبتلا ھوجائے تو اس كو یوں كہنا چاہئے: ”اے خدا كے بندو-! میری مدد كرو“۔ 17
ابن حجرعسقلانی نے “امالی الاذكار-“میں اس حدیث كو نقل كرنے كے بعدا س كو ”حسن “مانا ھے اورحافظ ھیثمی نے بھی اس حدیث كے تمام راویوںكوثقہ ماناھے۔
3۔ ابن حجر عسقلانی، فتح الباری میں كھتے ھیں: ”ابن ابی شیبہ صحیح سند كے ساتھ مالك دینار (كے خزانچی) سے یوں نقل كرتے ھیں: ”حضرت كے زمانہ میں قحط پڑا، چنانچہ اس موقع پر ایك شخص قبر رسول پر آیا اور استغاثہ كرتے ھوئے عرض كیا: یا رسول اللہ! اپنی امت كے لئے بارش كی دعا كریں كیونكہ آپ كی امت ھلاك ھوا چاھتی ھے“۔ 18
بے شك یہ درخواست اصحاب كے سامنے تھی لیكن كسی نے نھیں روكا، لہٰذا یہ خود اولیائے الٰھی كی ارواح سے استغاثہ كرنے پر دلیل ھے۔
4۔ دارمی نے اپنی كتاب سنن میں صحیح سند كے ساتھ ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ سے نقل كیا ھے كہ انھوں نے كھا: ایك مرتبہ مدینہ میں بھت سخت قحط پڑا، لوگوں نے جناب عائشہ سے اس كی شكایت كی، جناب عائشہ نے فرمایا كہ قبر پیغمبر پر جاؤ اور آسمان كی طرف ایك سوراخ كھول دو تاكہ قبر اور آسمان كے درمیان چھت حائل نہ ھو، چنانچہ ان حضرات نے ایسا ھی كیا، راوی كھتا ھے كہ اس كام كے بعد اتنی بارش ھوئی كہ سبزے لھرانے لگے اور اونٹ موٹے ھوگئے“۔ 19
5۔ پیغمبر اكرم (ص) كی رحلت كے بعد سے آج تك اولیائے الٰھی كی ارواح سے استغاثہ اور مدد طلب كرنے پر تمام امت اسلامی كا اجماع اور اتفاق رھا ھے، جبكہ اھل سنت كے نزدیك اجماع ایك خاص اھمیت ركھتا ھے۔
6۔ بیہقی نے كتاب ”الشعب“ میں اور ابن عساكر نے عبد اللہ بن احمد بن حنبل، نیزعبد اللہ بن احمد نے كتاب المسائل 20 میں صحیح سند (جس كی سند كو البانی نے صحیح مانا ھے) كے ساتھ نقل كیا ھے كہ میں نے اپنے والد كو یہ كھتے ھوئے سنا: میں نے پانچ مرتبہ حج كیا، دو بار سواری پر اور تین بار پا پیادہ، یا دو بار پا پیادہ اور تین بار سواری پر، چنانچہ میں اپنے ایك سفر میں راستہ بھٹك گیا، یہ سفر میرا پیادہ تھا، میں نے یہ جملہ كہنا شروع كیا: ”یا عباد اللہ دلّونا علی الطریق“ (اے خدا كے بندو! مجھے راستہ كی راہنمائی كرو) ابھی اس جملہ كی تكرار ھی كی تھی كہ اچانك مجھے راستہ مل گیا“۔ 21
7۔ قسطلانی ”المواھب اللدنیة“ سیرہٴ نبوی كی كتابوں سے نقل كرتے ھیں، جناب ابوبكر، پیغمبر اكرم كی وفات كے روز آنحضرت كے پاس حاضر ھوئے، آنحضرت ایك چادر اوڑھے ھوئے تھے، چنانچہ موصوف نے اس كو ہٹاتے ھوئے آنحضرت كے چھرہ اقدس كا بوسہ لیا اور عرض كی: یا رسول اللہ! میرے ماں آپ پر قربان، آپ اپنی زندگی اور موت میں پاك و پاكیزہ ھیں ھمیں بھی اپنے پرودگار كے حضور میں یاد فرمائے گا“۔22
8۔ یہ بات تاریخ میں موجود ھے كہ مرتدین (اھل یمامہ و تابعین مسلیمہ كذّاب) كے ساتھ جنگ میں یہ نعرہ لگاتے تھے: ”یا محمداہ! ،یا محمداہ! “23
9۔ اسی طرح نقل ھوا ھے كہ عقبہ بن عامر وہ شخص تھا جس نے فتح دمشق كی خبر حضرت كے پاس مدینہ پہنچائی، مدینہ آنے كے لئے سات دن تك سفر كیا لیكن مدینہ سے دمشق كی طرف واپسی میں ڈھائی روز سے زیادہ نہ لگے، اور یہ قبر پیغمبر پر دعا و استغاثہ كی بركت تھی، لہٰذا خداوندعالم نے ان كے سفر كو كم كردیا۔ 24
10۔ سمھودی ،اپنی سند كے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے نقل كرتے ھیں:
ایك بادیہ نشین عرب دفن پیغمبر كے تین دن كے بعد مدینہ آیا، اس نے اپنے كو قبر پیغمبر پر گرادیا اور قبر كی خاك كو اپنے سر پر ڈالتے ھوئے عرض كی: یا رسول اللہ! آپ نے ھمارے سامنے اس آیت كی تلاوت فرمائی :
((إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَاءُ وْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا)) 25
”اور جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم كیا تھا تو آپ كے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناھوں كے لئے استغفار كرتے اور رسول بھی ان كے حق میں استغفار كرتے تو یہ خدا كو بڑا ھی توبہ قبول كرنے والا اور مھربان پاتے“۔
میں بھی آپ كی خدمت میں حاضر ھوا ھوں تاكہ توبہ اور استغفار كروں۔ 26
11۔ ابوبكر مقری كھتے ھیں: ”میں، طبرانی اور ابوالشیخ روضہ رسول میں تھے، ھمیں بھت زیادہ بھوك لگی ھوئی تھی، دن تمام ھوا، عشاء كے وقت قبر رسول كے پاس آئے اور عرض كی: یا رسول اللہ! ھم بھوكے ھیں، چنانچہ ھم نے محسوس كیا كہ كوئی دروازہ پر ھے، دروازہ كھولا تو دیكھا كہ ایك علوی شخص دو غلاموں كو ساتھ لئے ایك تھیلے میں كھانا لئے كھڑا ھے، اس نے وہ كھانا پیش كیا، جب ھم نے كھانا لیا تو اس نے كھا: كیا آپ لوگوں نے رسول خدا (ص) سے كوئی شكایت كی تھی؟ كیونكہ میں نے ابھی رسول خدا (ص) كو عالم خواب میں دیكھا كہ آپ فرمارھے ھیں كہ تم ان لوگوں كے لئے كھانا لے كر حاضر ھوجاؤ“27
اعتراضات كی تحقیق
وھابیوں نے اپنے مدعا (اولیائے الٰھی سے استعانت كی حرمت اور استغاثہ كے شرك ھونے) پر چند فضول دلائل سے تمسك كیا ھے ھم ذیل میں ان كی نقد اور تحقیق كرتے ھیں:
پھلا اعتراض
جو شخص اولیائے الٰھی سے استغاثہ كرتا ھے وہ ان كے علم غیب كا معتقد ھوتا ھے جبكہ علم غیب خداوندعالم سے مخصوص ھے۔
جواب:
علم غیب اولیائے الٰھی (چاھے رسول ھو یا امام) كے لئے نہ صرف ممكن ھے بلكہ علم غیب ان كے لئے ضروری ھے، جس كے بارے میں ھم نے ایك مستقل كتاب لكھی ھے، اسی طرح مردوں كی برزخی حیات اور ان كا دنیا سے رابطہ خصوصاً اولیائے الٰھی كے بارے میں ثابت ھے۔
حافظ ھیثمی نے مجمع الزوائد میں صحیح سند كے ساتھ انس بن مالك سے نقل كیا ھے كہ رسول اكرم نے فرمایا: ”انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ھوتے ھیں اور نماز پڑھتے ھیں“ 28
اسی طرح پیغمبر اكرم (ص) نے فرمایا: ”میرا علم، میری وفات كے بعد بھی میری زندگی كی طرح ھے“29
دارمی نے اپنی سند كے ساتھ سعید بن عبد العزیز سے نقل كیا ھے كہ وہ نماز كے وقت قبر پیغمبر سے نكلنے والی تسبیح و تھلیل كی آواز كو سنتے اور پہچانتے تھے۔ 30
دوسرا اعتراض
ترمذی نے ابن عباس سے نقل كیا ھے كہ انھوں كھا: ”جب كوئی چیز مانگنا ھو تو خدا سے مانگو، اور جب مدد مانگنا ھو تو خدا سے مانگو“۔31
جواب:
یہ حدیث اس نكتہ كی طرف اشارہ كرتی ھے كہ جب انسان كسی سے مدد چاھے تو اس اعتقاد كے ساتھ كہ تمام امور خدا كے دست قدرت میں ھیں اور اسی كی مشیت كے تحت ھے جب كوئی شخص كوئی كام انجام دیتا ھے تو اس كے لطف و كرم اور اس كی مرضی سے انجام دیتا ھے، اسی وجہ سے حدیث كے آخر میں ھم پڑھتے ھیں: ”معلوم ھونا چاہئے كہ اگر تمام لوگ مل كر تمھیں فائدہ پہنچانا چاھیں تو جب تك خدا نہ چاھے تو ھرگز فائدہ نھیں پہنچا سكتے، اسی طرح اگر تمام لوگ مل كر تمھیں كوئی نقصان پہنچانا چاھیں تو ھرگز نھیں پہنچاسكتے مگر جب تك خدا نہ چاھے“۔
تیسرا اعتراض
بعض وھابیوں نے استغاثہ كی حرمت كے لئے عبادہ بن صامت كی نقل كی ھوئی حدیث رسول سے تمسك كیا ھے كہ آنحضرت نے فرمایا: ”ھرگز مجھ سے استغاثہ نہ كرو، بلكہ صرف اور صرف خدا كی ذات سے استغاثہ كرو“۔ 32
جواب:
اس حدیث كی سند ضعیف ھے كیونكہ ابن حجر ھیثمی نے ابن لھیعہ كو چند بار ضعیف قرار دیا ھے، خصوصاً جبكہ یہ حدیث دوسری صحیح احادیث كے مخالف ھے جن میں استغاثہ كے جواز بلكہ استحباب كو واضح طور پر بیان كیا گیا ھے۔
چوتھا اعتراض
خداوندعالم اپنے علاوہ كسی غیر كو پكارنے سے منع كرتا ھے اور فرمایا ھے:
((وَاٴَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّہِ فَلاَتَدْعُوا مَعَ اللهِ اٴَحَدًا)) 33
”اور مساجد سب اللہ كے لئے ھیں لہٰذا اس كے علاوہ كسی كی عبادت نہ كرنا“۔
نیز فرمایا:
(( لَہُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَالَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ لاَیَسْتَجِیبُونَ لَہُمْ بِشَیْءٍ )) 34
”برحق پكارنا صرف خدا ھی كا پكارنا ھے اور جو لوگ اس كے علاوہ دوسروں كو پكارتے ھیں وہ ان كی كوئی بات قبول نھیں كرسكتے“۔
(( وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ لاَیَسْتَطِیعُونَ نَصْرَكُمْ وَلاَاٴَنفُسَہُمْ یَنصُرُونَ )) 35
”اور اسے چھوڑ كر تم جنھیں پكارتے ھو وہ نہ تمھاری مدد كرسكتے ھیں اور نہ اپنے ھی كام آسكتے ھیں “۔
((إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ عِبَادٌ اٴَمْثَالُكُمْ )) 36
”تم لوگ اللہ كو چھوڑ كر جن لوگوں كو پكارتے ھوسب تم ھی جیسے بندے ھیں“۔
((اوْلَئِكَ الَّذِینَ یَدْعُونَ یَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّہِمْ الْوَسِیلَةَ )) 37
”یہ جن كو خدا سمجھ كر پكارتے ھیں وہ خودھی اپنے پروردگار كے لئے وسیلہ تلاش كر رھے ھیں“۔
((وَلاَتَدْعُ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَنْفَعُكَ وَلاَیَضُرُّكَ)) 38
”اور خدا كے علاوہ كسی اور كو آواز نہ دو جو نہ فائدہ پہنچا سكتا ھے اور نہ نقصان“۔
(( إِنْ تَدْعُوہُمْ لاَیَسْمَعُوا دُعَائَكُمْ )) 39
”تم انھیں پكارو گے توتمھاری آواز كو نھیں سن سكیں گے“۔
((وَمَنْ اٴَضَلُّ مِمَّنْ یَدْعُو مِنْ دُونِ اللهِ مَنْ لاَیَسْتَجِیبُ لَہُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ )) 40
”اور اس سے زیادہ گمراہ كون ھے جو خدا كو چھوڑ كر ان كو پكارتا ھے جو قیامت تك اس كی آواز كا جواب نھیں دے سكتے“۔
(( ادْعُونِی اٴَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ)) 41
”مجھ سے دعا كرو میں قبول كروں گا اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے اكڑتے ھیں وہ عنقریب ذلت كے ساتھ جہنم میں داخل ھوں گے“۔
جواب:
قارئین كرام! مذكورہ تمام آیات میں دعا سے مراد مطلق دعا اور طلب نھیں ھے بلكہ خاص دعا اور ندا ھے جو عبادت كے مترادف اور جو معنی الوھیت و ربوبیت میں پائے جاتے ھیں، اس كے علاوہ تمام مذكورہ آیات ان بت پرستوں كے بارے میں ھیں جو گمان كرتے تھے كہ ان كے بت (یا وہ موجودات جن كی شكلوں پر بت ھوتے ھیں) تدبیر كے بعض امور كو اپنے ھاتھوں میں لئے ھوئے ھیں، لہٰذا ان كو فعل و تصرف میں مستقل مانتے تھے، جبكہ یہ بات بھت ھی واضح ھے كہ جب كسی كے سامنے اس طرح كی تواضع اور درخواست كی جائے جس سے اس كی عبادت كا قصد كیا جائے تو یہ كام یقینی طور پر شرك ھے، یہ قید اور شرط دوسری آیات میں واضح طور پر دكھائی دیتی ھے، منجملہ درج ذیل آیات میں:
ارشاد خداوندعالم ھوتا ھے:
((فَمَا اٴَغْنَتْ عَنْہُمْ آلِہَتُہُمْ الَّتِی یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ )) 42
” تو عذاب آجانے كے بعد ان كے وہ خدا بھی كام نہ آئے جنھیں وہ خدا كو چھوڑ كر پكارھے تھے “۔
((وَلاَیَمْلِكُ الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ الشَّفَاعَةَ)) 43
”اور اس كے علاوہ جنھیں یہ لوگ پكارتے ھیں وہ سفارش كا بھی اختیا رنھیں ركھتے“۔
((وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ مَا یَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِیرٍ)) 44
”اور اسكے علاوہ تم جنھیں آواز دیتے ھو وہ خرمے كی گٹھلی كے چھلكے كے برابر بھی اختیار كے مالك نھیں ھیں“۔
(( قُلْ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِہِ فَلاَیَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلاَتَحْوِیلًا)) 45
”اوران لوگوں سے كہہ دیجئے كہ خدا كے علاوہ جن كا خیال ھے سب كو بلالیں، كوئی نہ ان كی تكلیف كو دور كرنے كا اختیارركھتا ھے اورنہ ان كے حالات كے بدلنے كا“۔
اس بنا پر خداوندعالم كی طرف سے مشركین كی مذمت اور ملامت كی علت یہ تھی كہ وہ بتوں كے لئے تدبیر اور تصرف كو مستقل طور پر اور خدا كی مشیت كے بغیر جانتے تھے۔
حسن بن علی سقاف شافعی كھتے ھیں كہ یہ آیہٴ شریفہ ((وَاٴَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّہِ فَلاَتَدْعُوا مَعَ اللهِ اٴَحَدًا)) 46 (یعنی”اور مساجد سب اللہ كے لئے ھیں لہٰذا اس كے علاوہ كسی كی عبادت نہ كرنا“) كے معنی یہ ھیں كہ غیر خدا كی عبادت نہ كرو، اس كے ساتھ ان بتوں كی پوجا نہ كرو، جن كو خدا مان بیٹھے ھیں((اتخذوا من دونہ آلھة)) (یعنی خدا كے علاوہ دوسروں كو خدا مان لیا ھے)، اور جن كے بارے میں خداوندعالم فرماتا ھے:
(( اٴَاٴَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ اٴَمْ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ)) 47
”ذرا یہ تو بتاؤ كہ متفرق قسم كے خدا بھتر ھوتے ھیں یا ایك خدائے واحد وقھار“۔
اسی طرح یہ آیہٴ شریفہ:
(( وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ مَا یَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِیرٍ إِنْ تَدْعُوہُمْ لاَیَسْمَعُوا دُعَائَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ یَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ)) 48
”اور اس كے علاوہ تم جنھیں آواز دیتے ھو وہ خرمے كی گٹھلی كے چھلكے كے برابر بھی اختیار كے مالك نھیں ھیں۔تم انھیں پكاروگے تو تمھاری آواز كو نہ سن سكیںگے اور سن لیں گے تو تمھیں جواب نہ دے سكیں گے اور قیامت كے دن تو تمھاری شر كت كاھی انكار كر دیں گے“۔49
اس سلسلہ میں وھابیوں كی ردّ میں لكھی جانے والی كتابیں
علمائے اھل سنت نے وھابیوں كے عقائد میں خصوصاً استغاثہ كے شرك اور حرام ھونے كی ردّ میں بھت سی كتابیں لكھی ھیں جن میں سے ھم بعض كی طرف اشارہ كرتے ھیں:
1۔ مصباح الظلام فی المستغثین بخیر الانام فی الیقظة و المنام، تالیف شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن موسیٰ بن نعمان مراكشی۔
2۔ شواہد الحق فی الاستغاثة بسیّد الخلق، یوسف بن اسماعیل نبھانی۔
3۔ الاغاثة بادلة الاستغاثة بالنی (ص)، حسن بن علی شغاف شافعی۔
4۔ نفحات القرب و الاتصال باثبات التصرف بالاولیاء بعد الانتقال، شھاب الدین ابی العباس حموی حنفی۔
5۔ انوار الانتباہ بحلّ النداء بیا رسول الله! احمد رضا افغانی۔

حوالہ جات

1. الہدایة السنة، صفحہ ۴۰۔
2. زیارة القبور، صفحہ ۱۷، ۱۸۔
3. كشف الارتیاب، صفحہ ۲۱۴۔
4. مجموع فتاوی بن باز، ج ۲، صفحہ۵۴۹۔
5. مجموع فتاوی بن باز، صفحہ۵۵۲-۔
6. مجموع فتاوی بن باز، صفحہ ۷۴۶۔
7. سورہ كہف، آیت ۹۵۔
8. سورہ منافقون، آیت ۵۔
9. سورہ یوسف، آیت ۹۷و۹۸۔
10. سورہ حشر، آیت ۱۰۔
11. رسالة زیارة القبور، صفحہ۱۵۵۔
12. سورہ نمل، آیت ۳۸۔
13. سورہ نمل، آیت ۴۰۔
14. سورہ مائدہ، آیت۰ ۱۱۔
15. فتح الباری، شرح صحیح بخاری ج۳، صفحہ۳۳۸، كتاب الزكاة، رقم ۵۲ ۔
16. مجمع الزوائدج ۱، صفحہ ۱۳۲۔
17. شرح ابن علّان بر كتاب امالی الاذكار ج۵، صفحہ۱۵۱۔
18. فتح الباری ج۲، صفحہ ۴۹۵۔
19. سنن دارمی ج۱، صفحہ۴۳۔
20. المسائل، صفحہ۲۱۷۔
21. سلسلةالاحادیث الضعیفة ج۳، صفحہ۱۱۱۔
22. حقیقة التوسل والوسیلة، موسی محمّد علی، صفحہ ۲۶۴، نقل ازالمواھب اللدنیة۔
23. حقیقة التوسل والوسیلة، موسی محمّد علی، صفحہ ۲۶۴، نقل ازالمواھب اللدنیة۔
24. حقیقة التوسل والوسیلة، موسی محمّد علی، صفحہ ۲۶۴، نقل ازالمواھب اللدنیة۔
25. سورہ نساء، آیت ۶۴۔
26. وفاء الوفاء، سمھودی، ج۴، صفحہ۱۳۶۱۔
27. وفاء الوفاء ج۴، صفحہ۱۳۸۰۔
28. مجمع الزوائد، ج ۸، صفحہ ۲۱۱۔
29. كنزالعمال، ج۱، صفحہ ۵۰۷رقم حدیث۲۱۸۱۔
30. سنن دارمی، ج۱، صفحہ۵۴رقم۹۳۔
31. صحیح ترمذی ،ج۴، صفحہ۷۴،ح۲۴۳۵۔
32. مجمع الزوائد، ج۸، صفحہ۴۰۔
33. سورہ جنّ، آیت۱۸ ۔
34. سورہ رعد، آیت۱۴ ۔
35. سورہ اعراف، آیت ۱۹۷۔
36. سورہ اعراف، آیت ۱۹۴۔
37. سورہ اسراء، آیت ۵۷۔
38. سورہ یونس، آیت۱۰۶ ۔
39. سورہ فاطر، آیت ۱۴۔
40. سورہ احقاف، آیت۵
41. سورہ غافر، آیت ۶۰۔
42. سورہ ھود، آیت۱۰۱ ۔
43. سورہ زخرف، آیت ۸۶۔
44. سورہ فاطر، آیت۱۳ ۔
45. سورہ اسراء، آیت ۵۶۔
46. سورہ جنّ، آیت۱۸ ۔
47. سورہ یوسف، آیت۳۹۔
48. سورہ فاطر، آیت۱۳ و ۱۴۔
49. الاغاثة الاستغاثة صفحہ۳۱و۳۲۔
      

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.