اھل سنت كی نگاہ میں امام مہدی (عج)

310

اھل سنت كی نگاہ میں امام مہدی (عج)

امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) كا موضوع ایسا موضوع نہیں ہے كہ محض شیعہ حضرات اس پر ایمان ركھتے ہیں بلكہ اس موضوع پر تمام اسلامی دانشور خواہ وہ كسی بھی مذہب اور مكتب فكر سے تعلق ركھتے ہوں سب متفق ہیں نیز سب كا اس بات پر بھی اتفاق ہے كہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ كے خاندان سے ہوں گے ، ان كے ہم نام ہوں گے اور علی و فاطمہ علیھما السلام كی نسل مبارك سے ہوں گے اور جب ظہور فرمائیں گے تو وہ دنیا كہ جو ظلم و جور سے پر ہوچكی ہوگی اسے عدل و انصاف سے پر كریں گے اور اسلامی مفكرین اور دانشوروں كا یہ اتفاق اس بنا پر ہے كہ امام مہدی (عج) كے حوالے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ سے احادیث متواتر بلكہ ان سے بڑھ كر احادیث وارد ہوئی ہیں ۔
ہاں البتہ اس حوالے سے اہل سنت میں اختلاف نظر موجود ہے كہ آیا وہ امام حسن (ع) كی اولاد میں سے ہوں گے یا امام حسین (ع) كی اولاد میں سے ہوں گے یا یہ كہ آیا وہ پیدا ہوچكے ہیں یا پیدا ہوں گے؟
اہل سنت كے وہ علماء اور مفكرین جو شیعہ علماء كی اس بات سے اتفاق ركھتے ہیں كہ امام مہدی (عج) پیدا ہوچكے ہیں اور ابھی زندہ ہیں اور امام حسن عسكری (ع) كے فرزند ارجمند ہیں ان كی اچھی خاصی تعداد ہے مثلا ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:
1) ابوسالم كمال الدین محمد بن طلحہ بن محمد قرشی شافعی اپنی كتاب مطالب السؤل فی مناقب آل رسول میں۔
2) ابوعبداللہ محمد بن یوسف محمد گنجی شافعی اپنی كتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان میں۔
3) نور الدین علی بن محمد بن الصباغ مالكی اپنی كتاب الفصول المھمۃ میں۔
4) فقیہ واعظ شمس الدین ابوالمظفر یوسف بن قزغلی بن عبد اللہ بغدادی حنفی جو كہ سبط ابن جوزی كے نام سے مشہور ہیں۔
5) محی الدین عربی حاتمی اندلسی اپنی كتاب الفتوحات المكیہ میں۔
6) نور الدین عبد الرحمن بن احمد بن قوام الدین دشتی جامی شرح كافیہ ابن حاجب كے مصنف اپنی كتاب شواھد النبوۃ میں۔
7) شیخ عبد الوھاب بن احمد بن علی شعرانی مصری اپنی كتاب الیواقیت والجواھر میں
8) جمال الدین عطا اللہ بن سید غیاث الدین فضل اللہ اپنی كتاب روضۃ الاحباب فی سیرۃ النبی والال والاصحاب میں۔
9) حافظ محمد بن محمد بن محمود بخاری كہ جو خواجہ یارسا كے نام سے مشہور ہیں اپنی كتاب فصل الخطاب میں۔
10) عبد الرحمن جو كہ مشایخ صوفیہ میں سے تھے اپنی كتاب مرآۃ الاسرار میں
11) شیخ حسن عراقی۔
12) ابو محمد احمد بن ابراھیم بلاذری حدیث مسلسل میں۔
13) ابو محمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن خشاب كہ جو ابن خشاب كے نام سے مشہور ہیں اپنی كتاب تواریخ موالیہ الائمہ و وفیاتھم میں جناب علامہ سید محسن امین شامی كتاب اعیان الشیعہ جلد۲ صفحہ ۶۴ سے ۷۰ تك میں ان تیرہ افراد كا ذكر كرتے ہیں اور اس كے بعد فرماتے ہیں (ان كے علاوہ) دیگر اھل سنت كہ جو امام مہدی (عج) كے موجود ہونے كے قائل ہیں ان كی تعداد بہت زیادہ ہے اور جو بھی ان علماء كے بارے میں جاننا چاہتا ہے وہ ہماری كتاب البرھان علی وجود صاحب الزمان اور علامہ نوری كی كتاب كشف الاستار كی طرف رجوع كرے ۔
نہج البلاغہ كے شارح ابن ابی الحدید كہتے ہیں:
اس جہان كے ختم ہونے سے پہلے مہدی موعود منتظر كے آنے كا مسئلہ مسلمانوں میں مورد اتفاق ہے 1
قاضی بہلول بہجت افندی اپنی كتاب تشریح و محاكمہ در تاریخ آل محمد علیہ صلی اللہ علیہ و آلہ میں اس حوالے سے یوں لكھتے ہیں:
امام ابوالقاسم محمد المھدی ابھی تك زندہ ہیں اور جب اللہ تعالی اذن فرمائے گا ، ظہور فرمائیں گے چونكہ امت كے درمیان امام كا ظہور مورد اتفاق ہے لہذا اس كے دلائل كی وضاحت كے ہم محتاج نہیں ہیں 2
اس اتفاق كی بنیاد وہ بہت ساری احادیث ہیں كہ پیغمبر اسلام سے امام مہدی عج كے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور علماء كرام نے انہیں اپنی اپنی كتابوں میں نقل كیا ہے اور ان كے متواتر ہونے كی وضاحت كی ہے اور بہت سے علماء نے تو اس موضوع پر مستقل كتابیں تحریر كی ہیں تو ان فراوان احادیث اور كتب كے ہوتے ہوئے شیعہ سنی علماء اور محققین كبھی بھی اس مسئلہ میں شك و تردید كا شكار نہیں ہوسكتے سوائے ایسے عقل و خرد سے بیگانے اور دشمن دین خدا كہ جو اس موضوع كو واضح اور روشن دیكھنے سے محروم ہیں اور اپنے خود ساختہ خیالات میں ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں ورنہ اگر دیكھا جائے تو ان بے شمار احادیث جو كہ متواتر بلكہ تواتر سے بھی بالاتر ہیں ان كی تصدیق عقیدہ نبوت كی اہم جزو ہے اور ان كا انكار گویا نبوت كا انكار ہے۔
اسی لئے جب ایك بزرگ عالم دین سے پوچھا گیا كہ آیا مہدی منتظر كا ظہور دین كی ضروریات میں سے ہے اور اس كا انكار مرتد ہونے كا سبب ہے یا نہ؟ تو انہوں نے جواب دیا:
یہ اعتقاد دین كی ضروریات میں سے ہے اور ان كا انكار موجب كفر ہے 3
حجاز كی ایك برجستہ علمی شخصیت اور مدینہ یونیورسٹی كے پروفیسر شیخ عبد المحسن عباد اپنی ایك تقریر كہ جو عقیدہ اھل سنۃ والاثر فی المھدی المنتظر كے عنوان سے مدینہ یونیورسٹی كے رسالہ میں بھی آئی ہے اس میں كہتے ہیں :
میں ان پچیس اصحاب كے نام كہ جنہوں نے پیغمبر اسلام سے مہدی كے بارے میں احادیث نقل كی ہیں آپ كے سامنے پیش كرتا ہوں:
(۱) عثمان بن عفان (۲) علی بن ابی طالب (۳) طلحہ بن زبیر (۴) عبدالرحمن بن عوف (۵) الحسین بن علی (۶) ام سلمہ (۷) ام حبیبہ (۸) عبد اللہ بن عباس (۹) عبد اللہ بن مسعود (۱۰) عبد اللہ بن عمر (۱۱) عبد اللہ بن عمرو (۱۲) ابوسعید الخدری (۱۳) جابر بن عبداللہ (۱۴) ابوھریرہ (۱۵) انس بن مالك (۱۶) عمار بن یاسر (۱۷) عوف بن مالك (۱۸) پیغمبر اسلام كے خادم ثوبان (۱۹) قرۃ ابن ایاس (۲۰) علی الھلالی (۲۱) حذیفہ بن الیمان (۲۲) عبد اللہ بن حارث بن حمزہ (۲۳) عمران بن حصین (۲۴) ابوالطفیل (۲۵) جابر الصدفی۔ 4
وہ مزید اپنی بات بڑھاتے ہوئے كہتے ہیں كہ:
وہ آئمہ كہ جن سے صحاح ، سنن ، لغت ناموں اور مسانید وغیرہ میں مہدی كے حوالے سے احادیث نقل ہوئی ہیں وہ تحقیق كے مطابق (۳۸) نفر ہیں اور وہ یہ ہیں:
1) ابوداؤد اپنی سنن میں
2) ترمذی اپنی جامع میں
3) ابن ماجہ اپنی سنن میں
4) نسائی كی سفارینی نے اسے لوامع الانوار البھیۃ میں ذكر كیا ہے اور منادی نے فیض القدیر میں ذكر كیا ہے جب كہ میں نے اسے صغری میں دیكھا شاید كبری میں ہو
5) احمد اپنی مسند میں
6) ابن حیان اپنی صحیح میں
7) حاكم اپنی مستدرك میں
8) ابوبكر بن شیبہ المصنف میں
9) نعیم بن حماد كتاب الفتن میں
10) حافظ ابو نعیم كتاب المھدی در الحلیۃ میں
11) طبرانی الكبیر والاسط والصغیر میں
12) دارقطنی الافراد میں
13) بارودی معرفۃ الصحابہ میں
14) ابویعلی اسامہ اپنی مسند میں
15) بزاز اپنی مسند میں
16) حارث بن ابی اسامہ اپنی مسند میں
17) خطیب تلخیص المتشابہ اور المتفق والمتفرق میں
18) ابن عساكر اپنی تاریخ میں
19) ابن مندہ تاریخ اصفہان میں
20) ابوالحسن حربی اول من الحربیات میں
21) تمام الرازی اپنی فوائد میں
22) ابن جریر تھذیب الآثار میں
23) ابوبكر مقری اپنی معجم میں
24) ابو عمر والد انی اپنی سنن میں
25) ابو غنم كوفی كتاب الفتن میں
26) دیلمی مسند الفردوس میں
27) ابوبكر الاسكاف فوائد الاخبار میں
28) ابوالحسین بن المنادی كتاب الملاحم میں
29) بھیقی دلائل النبوۃ میں
30) ابوعمر والقری اپنی سنن میں
31) ابن الجوزی اپنی تاریخ میں
32) یحیی بن عبد الحمید الحمانی اپنی مسند میں
33) رویانی اپنی مسند میں
34) ابن سعد طبقات میں
35) ابن خزیمہ
36) احسن بن سفیان
37) عمرو بن شبیہ
38) ابوعوانہ 5
مسجد نبوی كے بعض مضافات كہ جو آل سعود كے دور حكومت میں كچھ عرصہ قبل تعمیر ہوئے ہیں ان عمارتوں كی چھتوں كو اس طرح بنایا گیا ہے كہ روشنی ان سے گزرتی ہے میں نے ان عمارتوں كی دیواروں پر بعض صحابہ اور ہمارے بارہ ائمہ كے اسماء كا مشاھدہ كیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام كا نام یوں لكھا ہوا ہے محمد بن الحسن العسكری اور یہ بات ہمارے شیعہ عقیدہ كے مطابق ہے كہ امام زمانہ امام حسن عسكری علیہ السلام كے فرزند ہیں میں اپنے مضمون كو فارسی كے شاعر فرید الدین عطار نیشاپوری كے ان اشعارپر ختم كرتا ہوں :
صد ہزاران اولیاء روی زمین
از خدا خواھند مھدی را یقین
یاالھی مھدیم از غیب آر
تاجھان عقل گردد آشكار
مہدی ھادی است تاج اتقیاء
بہترین خلق برج اولیاء 6
حواشی
1. ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۵۳۵
2. قاضی بہلول بہجت افندی ، تشریح و محاكمہ در تاریخ آل محمد ص چاپ ہفتم ص ۱۳۹ الی ۱۴۱
3. فاضل مقداد اللوامع الھیہ چاپ تبریز پاورقی صفحہ ۲۸۹
4. كتاب مصلح جھانی
5. مصلح جھانی ص ۱۰۹ و ۱۱۰ امام مہدی ع ص ۱۴۹ – ۵۳
6. مظھر العجائب النقل ینابیع المودۃ ص ۴۷۳

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.