توسل کی شرعی حیثیت

1,336

تمام امت اسلامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انبیاء کرام وائمہاور دیگر صالحین کے ذریعے سے بارگاہ رب کائنات میں توسل جائز ومسحن ہے اس توسل میں مسئول عنہ اللہ تعالیٰ ہی ذا ت ہے البتہ متوسل بہ یعنی جس نبی و امام یا کسی ولی کو وسیلہ قرار دیا جا رہا ہے ان کے متعلق اگر یہ عقیدہ ہو کہ ان کا علم وقدرت ذاتی ہے جو چاہیں اپنی منشاء و مرضی سے کر سکتے ہیں خواہ اللہ تعالیٰ کی مرضی شامل ہو یا نہ ہو ،انہیں اللہ تعالیٰ کے اذن اور رضا کی ضرورت نہیں ہے تو ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص چاہے وہ توسل اور استعانت ان کے سامنے کر ے یا غائبانہ طور پر کر ے دونوں صورتوں میں ایسا عقیدہ یقینا خلاف شریعت اور ایسا عقیدہ رکھنے والا مشرک ہے۔
دوسر ی قسم یہ ہے کہ جن ذوات مقدسہ کو وسیلہ بنایا جا رہا ہے اور استعانت طلب کی جار ہی ہے ان کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ ان کا جو علم و قدرت وہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اور ان کا ہر کام رضا الہیٰ اور اذنِ الہیٰ کے تابع ہو اکر تاہے تو یہ عقیدہ الہی یقینا صحیح اور قرآن و حدیث اور ارشادات ائمہ اہل بیت کے عین مطابق ہے اور ہم سب کا یہی عقیدہ ہے ۔

توسل کا لغوی و شرعی مفہوم :
تو سل کی وضاحت کرنے سے پہلے اس کا لغوی معنی سمجھنے کے لیے کتب لغت عرب کی طرف تو جہ مبذول کر اتا ہوں چنانچہ ائمہ لغت نے وسیلہ کا معنی \\\’\\\’ذریعہ \\\’\\\’کیا ہے یہ بات ذہن نشین رہے کہ تو سل اور وسیلہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے جیسا کہ لغت عرب کے مشہور عالم جمال الدین محمد بن مکرم افریقی متوفی ٧١١ھ اپنی شہرہ آفاق کتاب \\\’\\\’لسان العرب \\\’\\\’ جلد ٦ص٤٨٣٨ طبع دار المعارف مصر میں لفظ \\\’\\\’وسیلة \\\’\\\’کی تشریح کر تے ہو ئے لکھتے ہیں ۔
\\\’الوسلےة فی الاصل ما یتوسل بہ الہ الشی ء ویتقرب بہ \\\’جس چیز کے ذریعے کسی چیز تک پہنچا جا ئے اور اس کے ذریعہ قرب حاصل ہو اس کو وسیلہ کہا جا تا ہے ۔
اسی طرح علامہ راغب اصفہانی متوفی در حدود ٤٢٥ھ نے \\\’\\\’المفردات\\\’\\\’ ص٥٢٤ مطبوعہ قاہرہ میں وسیلہ کامفہوم یوں بیان کیا ہے :۔\\\’الوسیلة التوصل الی الشیء بر غبة وھی اخص من الو صیلة لتضمنھا لمعنی الرغبة \\\’وسیلہ کا معنی کسی چیز کی طرف رغبت کے ساتھ پہنچنے کے ہیں اور وسیلہ میں رغبت کے شامل ہو نے کی وجہ سے یہ \\\’\\\’وصیلہ \\\’\\\’سے خاص ہے\\\’\\\’ مزید تحقیق و تشریح کے لیے ابو منصور محمد بن احمد الازھری متوفی ٣٧٠ھ کی\\\’\\\’ تہذیب اللغة \\\’\\\’ج ١٣ص٤٨مادہ \\\’\\\’وسل \\\’\\\’کے تحت، علامہ جو ہری متوفی ٣٩٣ ھ کی \\\’\\\’الصحاح\\\’\\\’ مادہ \\\’\\\’وسل \\\’\\\’ شیخ فخر الدین صریحی متوفی ١٠٨١ ھ کی مجمع البحرین در \\\’\\\’المغرب \\\’\\\’ وغیرہ عربی لغت کو دیکھا جا سکتا ہے ۔
شرعی اصطلاح میں تو سل یہ ہے اللہ تعالیٰ کا قرب اور خوشنودی حاصل کر نے کے لیے نبی کریم علٰیہ الصلوة والتسیلم اور ان کی اہل بیت اور دیگر صالحین کو وسیلہ بنایا جائے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب پسندیدہ اور برگزیدہ ہستیاں ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ وسیلہ ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی چیز کا قرب حاصل ہو جا ئے ذیل میں اس اجمال کی قدرے تفصیل ملا حظہ ہو ۔
قرآن کر یم میں وسیلہ کا تصور :اب ہم اس سلسلہ میں قرآن کریم کی چند آیات مبارکہ ہد یہ قارئین کرتے ہین جن سے بخوبی معلوم ہو جا تا ہے کہ انبیائے کرام وائمہ ہدی اور دیگر مقبولان رب ذوالجلال کو وسیلہ بنایا جا سکتا ہے بنا بر یں مطلقا وسیلہ کی نفی و تکذیب کر نا گو یا قرآن مجید کی صریح تکذیب ہے ۔

پہلی آیات :
وسیلہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ۔
یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوااتَّقُوْا للّٰہَ وَابْتَغُوْآ اِلَیْہِ الْوَسِیْلَةَ وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن
(سورہ مائدہ ،آیت ٣٤)
\\\’ا ے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور رب کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جا ئو \\\’اس آیت مبارکہ میں خود اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو وسیلہ ڈھونڈنے کاحکم فرمارہا ہے اور یہ بھی معلوم ہو ا کہ نیک اعمال کے ساتھ ساتھ وسیلہ بھی تلاش کر نا ہے
اور اس سے یہ چار چیز یں نمایاں ہو ئیں ایمان ،تقویٰ ،تلاش وسیلہ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہا د۔

دوسری آیت:
دوسری آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ وَیَرْجُوْنَ رَحْمَتَہ وَیَخَافُوْنَ عَذَابَہ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا ً \\\'(سورہ بنی اسر ائیل آیت ٥٧)
\\\’\\\’یہ لو گ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کر تے ہیں کہ ان میں سے زیادہ مقرب کو ن ہے اور (وہ خود)اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے خائف ہیں بے شک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے ۔
اس آیت مجیدہ کا سبب نزول یو ں ہے کہ\\\’ \\\’کان ناس من الا نس یعبدون ناساً من الجن \\\’\\\’یہ آیت ان لو گوں کے بارے میں نازل ہو ئی جو جنات کے گروہ کی عبادت کر تے تھے \\\’\\\’فاسلم الجن وتمسک ھؤ لا ء بدینھم \\\’\\\’جب ان جنوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کے پجاری اس سے بے خبر رہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یاد، دلایا کہ جنہیں تم پوج رہے ہو وہ خود مقرب بندوں کا وسیلہ ڈھونڈرہے ہیں اس کی تفسیر کے لیے ملا حظہ فرمائیں صحیح بخاری ج ٢ ،ص٦٨٥طبع دہلی ،صحیح مسلم ،ج ٢ص٤٢٢ طبع نول کشور ،لہذا اس تفصیل کا اجمال یہ ہے کہ اس آیت مبارکہ میں مقربان الہٰی کا وسیلہ لینے کا قطعی جواز موجود ہے او ر وہ خود بھی قرب الہٰی کے حصول کے لیے خود سے زیادہ مقرب کے متلاشی رہتے ہیں ۔
ثابت ہوا کہ بارگاہ رب جلیل میں نیک لوگوں کا وسیلہ پیش کر نا انبیا اورمقربین کا طریقہ ہے ۔

تیسر ی آیت :
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں ایک مقدس تابوت کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
وَقَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْکِہ اَنْ یَّْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَة مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّة مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ھٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰئِکَةُ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْن\\\’ (سورہ بقرہ آیت ٢٤٨)
\\\’\\\’اور ان سے ان کے پیغمبر (شموئیل )نے کہا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ وہ تابوت تمہارے پاس آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے سکون واطمینان کا سامان ہے اور جس میں آل موسی و ہارون کی چھوڑی ہو ئی چیزیں ہیں جسے فرشتے اٹھائے ہو ں گے اورتم ایمان والے ہو تو یقینا اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے
یہ تابوت شمشاد کی لکڑی سے بنا ہو اتھا جو حضرت آدم پر نازل ہو اتھا یہ زندگی کے تمام لمحا ت تک ان کے پاس ہی رہا پھر بطور میراث یکے بعد دیگر آپ کی اولاد کو ملتا رہا ،یہاں کہ یہ حضرت یعقوب کو ملا اور آپ کے بعد آپ کی اولاد بنی اسرائیل کے قبضے میں رہا اورپھر حضرت موسی کو مل گیا تو آپ اس مقدس تابوت سکینہ میں تو رات اور اپنا خاص خاص ساماں رکھا کر تے تھے بعد ازاں یہ تابوت بنی اسرائیل میں ہی چلا آیا جس میں حضرت موسی کا عصا مبارک ان کی جو تیاں اور حضرت ہارون کے تبرکات تھے ۔جب بھی بنی اسرائیل کسی جنگ میں اس تابوت کو اپنے ساتھ لے جاتے تو اللہ تعالیٰ اس تابوت کے وسیلے سے انہیں عظیم فتح و کامرانی عطا فرما دیتاتھا اور مد مقابل کوفاش شکست ہو جا تی تھی ۔
بنابریں بنی اسرائیل اس تابوت کو اپنے آگے رکھ کر اس کو وسیلہ بنا کر دعائیں مانگتے تو ان کی دعائیں فورا ًقبول ہو تی تھیں مصیبتیں اور آفتیں ٹل جا یا کر تی تھیں پھر اللہ تعالیٰ نے چار فرشتوں کو مقرر فرما دیا کہ جو اس مبارک تابوت کو اپنے نورانی کندھوں پر اٹھا کر بنی اسرائیل کے نبی حضرت شموئیل کے دربار نبوت میں لائیں ۔

چوتھی آیت :
ارشاد ربانی ہے وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُااللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُولُ لَوَاجَدُوااللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا \\\'(سورہ نساء آیت٦٤)
\\\’\\\’اور (اے حبیبۖ) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے تھے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو جا تے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت طلب کر تے تو وہ ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے \\\’\\\’
اس آیت مجیدہ کے نزول کے سلسلے میں نہایت معتمد و مستند روایات کتب تفاسیر و احادیث میں بکثرت پا ئی جا تی ہیں چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت علی سے ایک طویل حدیث مروی ہے(ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی ج ٥ ،ص٢٦٥)اس کے علاوہ عتبی کہتے ہیںکہ
\\\’کنت جا لسًا عند قبر النبی ۖ فجاء اعرابی فقال السلام علیک یا رسول اللہ سمعت واللہ یقول:\\\’\\\’ ولواُنُّھُمْ اذا ظلمو انفسھم جا ؤ ک فاستغفرواللہ۔۔۔۔الخ وقدجئتک مستغفرلذنبی مستشفعًابک الی ربی\\\’\\\’
میں نبی اکرم ۖکی قبر مبارک کے پاس بیٹھا ہو ا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ ،میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا ہے کہ اگر \\\’\\\’بے شک وہ لو گ جب کہ انہوں نے اپنی جا نوں پر ظلم کیا تھا ،تیرے پا س آتے وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور ان کے لیے رسول ۖ بھی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا تو وہ ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے اس لیے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے لیے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاںسفارشی پیش کر نے آیا ہو ں اس کے بعد اس نے درد دل سے چند اشعار پڑھے اور اظہار عقیدت اور جذبہ محبت کے پھول نچھا ور کر کے چلا گیا بعدازاں خواب میں اس کو کامیابی کی بشارت بھی مل گئی رسول اکرم ۖنے فرمایا :
اے عتبیٰ جاکر اس اعرابی سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ہے ۔
مندجہ بالا واقعہ محدث نووی نے کتاب الا زکار ص١٨٥ طبع مصر میں، علامہ ابو البرکات النسفی المتوفی٧١٠ھ نے اپنی تفسیر المدارک جلد اول ص٢٩٩ میں،
علامہ تقی الدین سبکی نے \\\’ \\\’ شفا و السقام \\\’\\\’ ص٤٦ طبع قدیم میں، شیخ عبد الحق دہلوی نے جذب القلوب ص٢٨٠ طبع کلکتہ میںاور علامہ بحرالعلوم عبد العلی نے رسائل الارکان ،ص٢٨٠طبع لکھنو میں نقل کیا ہے ۔
محدث علی بن عبدالکافی اور علامہ سمہودی لکھتے ہیں :۔
\\\’\\\’وحکاےة العتبی فی ذلک مشھودة وقد حکاھا المصنفون فی المنا سک من جمیع المذاھب والمؤ رخون وکلھم استحنسوھا انج\\\’\\\'(شفا ء السقام ص٦١،وفاء الرفا ج ٢،ص٤١١)
علامہ قسطلانی اور علامہ زرقانی نے بھی اس \\\’\\\’ الحکاےة المشھورة \\\’\\\’ کا حوالہ دیا ہے (ملاحظہ ہو :المواھب اللدنیہ مع شرحہ، ج ٨، ص٣٠٦)
اور اسی طرح شیخ محمد بخیت الحنفی نے اپنی کتاب \\\’\\\’ تطہیر الغواد من دنس الاعتقاد\\\’\\\’ ص٥١۔٥٢ طبع مصرمیں
با لتفصیل تذکرہ کیا ہے
اس آیت مبارکہ کا حکم صرف زمانہ نبوی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بعدا زارتحال تک حکم جاری ہے کیونکہ اصولی قاعدہ ہے \\\’\\\’ العبرة العموم اللفظ لا لخصوص السبب \\\’\\\’کہ عموم لفظ کا اعتبار ہو تا ہے ،خصو ص محل کا اعتبار نہیں ہو تا کیونکہ اس آیت مجیدہ میں \\\’\\\’لوانھم اذظلموا \\\’\\\’میں قبل از وصال کی کو ئی قید نہیں ہے اور لفظ \\\’\\\’اِذْ\\\’\\\’ ظرفیہ ہے جو اپنے معنی عموم پر دلالت کر رہا ہے جو ماقبل از وصال اور بعد از وصال دونوں کو شامل ہے،اس لیے نبی کریم ۖ ہرمجرم کے لیے ہر وقت تا قیامت وسیلہ مغفرت ہیں ۔چنانچہ مولانا قاسم نانوتوی اس آیت کے ذیل میں تحریر کر تے ہیں ۔
کیونکہ اس میں کسی کی تخصیص نہیں آپ کے ہم عصر ہوں یا بعد کے امتی ہوں اور تخصیص ہو تو کیونکر ہو آپ کا وجود تربیت تمام امت کے لیے یکساں رحمت ہے کہ پچھلے اُمتیوں کا آپ کی خدمت میں آنا اور استغفار کرنا اور کرانا جب ہی متصور ہے کہ قبر میں زند ہ ہوں \\\’\\\’ (آب حیات ص٤٩ طبع دہلی )
اور مولانا ظفر عثمانی الدیوبندی یہ واقع ذکر کر کے آخر میں لکھتے ہیں :
کہ\\\’ \\\’فثبت ان حکم الا ےة باق بعد وفاتہ ۖ \\\’\\\’پس ثابت ہو اکہ اس آیت( کریمہ )کا حکم رسول اکرم ۖکی وفات کے بعد بھی باقی ہے ۔
بلکہ محدث سبکی کہتے ہیں کہ\\\’ \\\’صریح ذلک\\\’\\\’ کہ یہ آیت کریمہ اس معنی میں صریح ہے \\\’\\\’ (شفاء السقام ص١٢٨)
علامہ سمہودی لکھتے ہیں :\\\’والعلما ی فھموا من الا ےة العموم بحالتی الموت والحیاة واستحبوالمن اتیٰ القبر ان یتلو ھا ویستغفر اللہ تعالیٰ وحکاےة الاعرابی فی ذلک نقلھا جماعة من الائمة عن العتبی ۔۔۔۔الخ\\\'(وفاء الوفا،ج٢،ص٤١١)
\\\’\\\’علما ء نے اس آیت مبارکہ سے آپ کی زندگی اور موت دونوں حالتوں کا عموم سمجھا ہے اور انہوں نے اس کو مستحب قرار دیا ہے کہ جو شخص آپ کی قبر مبارک پر جائے وہ اس کو پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اعرابی کی حکایت اس سلسلہ میں ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے عتبی سے نقل کی ہے ۔
قرآن مجید کی اس آیت اور علما کی تصریحات سے ثابت ہو گیا کہ نبی کریم ۖکے وسیلے سے مغفرت کی درخواست کر نا مستحب ہے اور یہ صرف آپ کی حیات مبارکہ ہی سے مخصوص نہیں ہے جس وقت بھی چاہیں آپ کے وسیلہ سے اپنی مشکلات حل کر یں ۔
پانچویں آیت : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : \\\’\\\’وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِےُعَذِّ بَھُمْ وَاَنْتَ فِےْھِمْ \\\’\\\’ (سورہ انفال آیت ٣٣)
اور اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل نہیں کر ے گا جب تک آپ ان کے درمیان موجود ہیں ۔
اس آیت مبارکہ میں \\\’\\\’وانت فیھم \\\’\\\’کی قطعی دلیل سے نبی کریم علیہ الصلوة والتسلیم کا وجود مبارک رحمت الہٰی کا سبب بنا
دیا گیا ہے نبی پا ک ۖ کے تو سل سے امت پر عذاب ٹل جا تا ہے ۔
چھٹی آیت :۔سورہ توبہ آیت ١٠٣ میں نبی کریم ۖکی دعائے مبارکہ کو امُت کے لیے موجب تسکین قرار دیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہے :\\\’\\\’ خُذْمِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَةً تُطَھِّرُھُمْ وَتُزَکِّیْھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ۔ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنُ لَّھُمْ۔ وَاللّٰہُ سَمِیْع عَلِیْم \\\’\\\'(سورہ توبہ آیت ١٠٣)
(اے رسول ۖ)آپ ان کے اموال میں سے صدقہ لیجیے اس کے ذریعے آپ انہیں پاکیزہ اور بابرکت بنائیں اور ان کے حق میں دعا بھی کریں یقینا آپ کی دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے ۔
اس آیت مبارکہ میں نبی کریم ۖ کی دعا کو موجب تسکین قرار دیا گیا ہے اور یہ تو سل بالدعا ہے ۔
ساتویں آیت :سورہ بقرہ میں حضرت آدم نے بارگاہ رب العزت میں حضور نبی کریم ۖ اور آپ کی اہل بیت کو وسیلہ بنا کر اپنی مغفرت طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے وسیلے سے حضرت آدم کو معاف فرما دیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
\\\’فَتَلَقّٰی آدَمُ مِنْ رَّبِّہ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہ\\\’ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ \\\'(سورہ بقرہ آیت ٣٧)
پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے آدم کی توبہ قبول کر لی بے شک وہ بڑا توبہ قبول کر نے والا ،مہربان ہے
جب رسول اکرم ۖجناب فاطمہ زہرا ،حضرت علی اور امام حسن وحسین کی ذات سے تو سل قبل از تخلیق ہوا ہے تو اس سلسلے میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے پیغمبر اسلام ۖ سے دریافت کیا کہ وہ کلمات جو حضرت آدم کو تعلیم دیے گئے تھے وہ کیا تھے؟
تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ) \\\’\\\’بحق محمد و علی و فاطمة والحسن والحسین \\\’\\\’حضرت آدم نے ان کلمات توسل سے بار گاہ رب کائنات میں عرض کیا ۔
\\\’\\\’اسئلک بحق محمد وعلی و فاطمة والحسن والحسین الا غفرت لی \\\’\\\'(تفسیر الدرمنشور ج ١،ص٦٠)
اے اللہ میں تجھ سے محمد ۖ،علی ،فاطمہ،اورحسن وحسین کے وسیلے سے سوال کرتا ہو ں کہ میری مغفرت فرما۔
اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت آدم نے یوں کہا
\\\’اللھم انی اسئلک بحق محمد وآل محمد سبحانک لاالہ الا انت عملت سواء وظلمت نفسی فاغفرلی انک انت الغفور الرحیم فھولاء الکلمات التی تلقی آدم ۔\\\’
الٰہی میں تجھ سے سوال کر تا ہوں کہ محمد ۖ اور آل محمد ۖ کے وسیلے سے، تو پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے جان پرظلم کیا ہے، میری توبہ قبول فرمابے شک تو تو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے پس یہ کلمات تھے جو آدم کو سکھائے گئے ۔
(مسند الفردوس، ج٣،ص١٥١،رقم الحدیث ٤٤٠٩، طبع بیروت)
علاوہ بریں شاہ عبد الحق محدث الدیلومی اپنی تصنیف \\\’\\\’جذب القلوب الی دیار المحبوب\\\’\\\’ص٣١١ طبع کلکتہ ١٢٦٢ھ میں توبہ کے ضمن میں لکھتے ہیں
چناں چہ منطوق آیہ کریمہ\\\’\\\’فتلقی آدم من ربہ کلمات فتاب علیہ\\\’\\\’ است ایں بودکہ \\\’\\\’ الھی بحر مت محمد والہ اغفرلی \\\’\\\’
جیسا کہ آیت کریمہ\\\’\\\’ فتلقی آدم ۔۔۔\\\’\\\’کامنطوق یہ ہے کہ اے اللہ بحرمت محمد وال محمد ۖ مجھے بخش دے
ص٣١٣،٣١٤پر لکھتے ہیں :۔\\\’توسل بوے ۖموجب قضائے حاجت وسبب نجاح مرام است۔۔۔۔دیگر صلوات اللہ علیھم اجمعین بعداز وفات جائز باشد بسید انبیا ء علیہ افضل الصلواة واکمھا بطریق اولیٰ جائز باشد \\\’\\\’۔
نبی کریم ۖسے وسیلہ چاہنا حاجت پوری ہو نے کا سبب اور مقصد میں کا میابی کا باعث ہے جب دیگر انبیاء صلوات اللہ علیھم اجمعین سے بعد از وفات توسل جائز ہوا تو سید الا نبیا علیہ افضل الصلوة واکملہا سے بعد وفات توسل بدرجہ اولی جائز ہو گا ۔
آٹھویں آیت :حضرت یوسف کی قمیض سے حضرت یعقوب کی بصارت لوٹ آئی چنانچہ سورہ یوسف آیت نمبر ٩٣ ،٩٤میںصراحت سے موجو دہے
\\\’\\\’اذْہَبُوا بِقَمِیصِی ہَذَا فََلْقُوہُ عَلَی وَجْہِ َبِی یَْتِ بَصِیرًا \\\’\\\’یوسف نے کہا میری یہ قمیض لے جائو ،اسے میرے باپ (حضرت یعقوب )کے چہرے پر ڈال دینا وہ بینا ہو جائیںگے \\\’\\\’
\\\’فَلَمَّا َنْ جَائَ الْبَشِیرُ َلْقَاہُ عَلَی وَجْہِہِ فَارْتَدَّ بَصِیرًاً\\\’پھر جب خوش خبری سنانے والا آپہنچا اس نے وہ قمیض حضرت یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا تو اسی وقت ان کی بینائی لوٹ آئی \\\’\\\’
اس آیت مبارکہ میں توسل با ثار النبی ہے۔
حضرت یعقوب کے چہرہ انور پر قمیض ڈالتے وقت بشارت دینے والے نے زبان سے کچھ نہ کہا، لہذا قمیض کے توسل سے بینائی کا لوٹ آنا توسل نفسی ہے ۔ جب نبی کی قمیض سے توسل جائز ہے تو اس سے توسل باثآر الانبیا اور توسل بالصالحین ثابت ہے۔

توسل ازروئے احادیث مبارکہ :
اس سلسلہ میں بکثرت احادیث پائی جاتی ہیں،جن سے تو سل بالذات ،توسل فی الدعاء اور توسل للدعاء کا اثبات موجود ہے ۔سب احادیث کا نقل کرنا تو نہایت دشوار ہے البتہ چند حدیثیں ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں چنانچہ حضرت عثمان بن حنیف سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی اے اللہ کی نبی ۖ آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں
دعا فرمادیں کہ میری آنکھیں تندرست ہو جائیں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو چاہتا ہے تو تیرے لیے دعا کرتا ہوں اور اگر تو چاہتا ہے تواس پر صبر کر کیونکہ یہ تیرے لیے بہتر ہے ۔
اس نے عرض کی کہ حضور ۖ آپ دعا فرمادیں تو آپ نے اسے فرمایا وضو کرو اور دو رکعت نماز نفل ادا کر و اور پھر یہ دعا مانگو:
\\\’\\\’اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمة یا محمد انی اتو جھت بک الیٰ ربی حاجتی ھذہ فتقضی لی اللھم شفعہ فی \\\’\\\’
اے اللہ !میں تجھ سے سوال کر تا ہو ں اور تیری رحمت والے نبی محمد کے وسیلے سے ،تیری طرف متوجہ ہو تا ہوں یا محمد ۖ میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی حاجت کے لیے متوجہ ہو تا ہوں ۔پس میری اس حاجت کو پورا فرما ا ے اللہ ! میرے حق میں نبی کریم ۖکی شفاعت کو قبول فرما۔
حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ\\\’\\\’ ففعل الرجل فابصر\\\’\\\’اس شخص نے اس طرح کیا تو آنکھ والا ہو گیا (بینائی حاصل ہو گئی )ملاحظہ ہو :مسند احمد ج ٤ ،ص١٣٩،حدیث ١٧٢٤٠،سنن ابن ما جہ ج ،١،ص٤٤١حدیث ١٣٨٥،باب صلوة الحاجت
محقق محمد فواد عبد الباقی اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں\\\’\\\’ھذا حدیث صحیح \\\’\\\’ یہ حدیث صحیح ہے ۔
مستدرک للحاکم ج ١ ،ص٣١٣ طبع دائرة المعارف حیدر آباد دکن ،امام حاکم او ر علامہ ذہبی نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ہے \\\’\\\’ھذا حدیث صحیح علی شرط الشخیین ولم یخرجاہ \\\’\\\’ اور دوسرے مقام پر بخاری کی شرط پرصحیح کہتے ہیں (مستدرک ج١ ص٥٢٦)اور تیسرے مقام پر \\\’صحیح \\\’کہا ہے (ج ١ص٥١٩)علامہ ذہبی نے تلخیص المستدرک میں جا بجا امام حاکم کی توثیق سے اتفاق کیا ہے ۔علامہ خفاجی کہتے ہیں: \\\’\\\’ ھذا الحدیث مسند صحیح \\\’\\\'(نسیم الریاض ج ٣، ص١٠٦طبع قسطنطنیہ ١٣١٥ھ )محدث طبرانی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں ۔\\\’\\\’والحدیث صحیح\\\’\\\’ یہ حدیث صحیح ہے (المعجم الصغیر ص١٠٤ مطبع انصاری دہلی ١٣١١ھ )ابن تیمیہ نے اس حدیث کے بارے لکھا ہے: رواہ اہل السنن وصححہ الترمذی،اہل سنن نے یہ حدیث روایت کی ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے (مجموع فتاویٰ ج ٤ ،ص٣٧١ طبع سعودیہ )علامہ سہمودی کہتے ہیں ،صححہ البیھقی (وفاء الوفا ج ٢ ،ص٤٢٠)المعجم الکبیرللطبرانی ج ٩ ،ص٣٠،٣١حدیث ٨٣١١ طبع بغداد ۔
محقق عبد المجیدسلفی اس حدیث کے حاشیہ پر اس پر تبصرہ کرتے ہو ئے اس کی صحت کو تسلیم کیاہے \\\’لاشک فی صحة الحدیث المرفوع \\\’ \\\’دلا ئل النبوة للبیہقی \\\’ج ٢،ص١٢٧طبع بیروت ،سنن ترمذی ابواب الدعوات ص٥١٥،علامہ سیوطی نے الخصائص الکبری ص٢٠١ طبع دکن علامہ زرقانی نے شرح المواھب ج ٨،ص٣٦١ طبع مصر ،حافظ ابو بکر احمد بن محمد المعروف،یابن السُنی الدینوری متوفی ٣٦٤ھ نے اپنی کتاب \\\’\\\’عمل الیوم واللیلة \\\’\\\’ص٢٠٢ طبع دائرةالمعارف حیدر آباد دکن میں اسے نقل کیا ہے ۔
اس کے علاوہ ان حدیث کی تصحیح حفاظ حدیث کی ایک بڑی تعداد نے کی ہے ۔علامہ محمد انور شاہ کشمیری فیض الباری ج٤ ،ص٦٨ طبع ڈاھبیل میں اس حدیث کے ذیل میں ابن تیمیہ کا رد کر تے ہو ئے لکھتے ہیں،\\\’فثبت منہ التوسل القولی ایضاً وحینذ انکار الحافظ ابن تیمےةتطاول\\\’ اس حدیث سے توسل قولی بھی ثابت ہو گیا لہذا حافظ ابن یتیمہ کا اس سے انکار کرنا زیادتی ہے ۔
مولانا اشرف علی تھانوی نے نشر الطیب۔ ص٢٣٢ میں اس حدیث کے متعلق تحریرکیا ہے :۔
\\\’\\\’اس حدیث سے تو سل صراحتاً ثابت ہے اس سے تو سل بعد الوفاة بھی ثابت ہوا اور علاوہ ثبوت بالرواےة الغرض یہ روایت اصول حدیث کے لحاظ سے بالکل صحیح ہے اور قابل عمل ہے اگر فرض کر لیجیے کہ یہ حدیث ضعیف ہے تو بھی تلقی بالقبول سے موئید ہو نے کی وجہ سے اس کا ضعف ختم ہو جا تاہے ۔
بنابریں جب اتنے بڑے محدثین نے حدیث مذکورہ کو صحیح کہہ کر اس کی تو ثیق کر دی ہے اور امام حاکم و ذہبی اور طبرانی و خفاجی نے وضاحت کے ساتھ اس کی تصحیح کر دی ہے تو پھر مٹھی بھر ایک طبقہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ توسل کا تصور قرآن وسنت او ر تعامل صالحین میں نہیں ہے ۔
اس کے علاوہ جب مادر علی بن ابی طالب جناب فاطمہ بنت اسد کا انتقال ہو ا تو آقائے نامدار ۖ تشریف لا ئے آپ کے سر ہانے بیٹھ گئے فرمایا
\\\’\\\’رحمک اللہ امی بعد امی\\\’\\\’ ۔اے میری ماں تجھ پر اللہ رحم فرمائے تو میری ماں کے بعد میری ماں تھیں تو خود بھوکی رہتی تھیں اور مجھے سیر کر تی۔۔۔۔تو اللہ تعالیٰ کی رضا اور دار آخرت کو چاہتی تھیں ۔غسل کے بعد آپ نے اپنی قمیض ان کو پہنا دی اور اپنی چادر کا انہیں کفن پہنایا ،قبر کھودی گئی ،لحد کو نبی کریم ۖنے کھودا ،اس کی مٹی اپنے دست مبارک سے نکالی۔جب فارغ ہو ئے تو پھر آپ قبر میں لیٹے اور فرمایا :
\\\’\\\’اللہ الذی یلحی ویمیت وھو حی لا یموت اغفر لامی فاطمة بنت اسد و وسع علیھا مدخلھا بحق نبیک والا نبیا الذین من قبلی\\\’\\\’
اللہ وہ ہے جو زندہ کر تا اور مارتاہے اور وہ ایسا زندہ ہے جس کوموت نہیں ،اے اللہ ! تو میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور ان کی قبر کو کشادہ فرما اپنے نبی ۖاور مجھ سے پہلے تمام انبیا کے وسیلے سے (ملاحظہ ہو ! المعجم الکبیر للطبرانی ج ٤ ٢،ص٢٥٢،حدیث ٨٧١،المعجم الاوسط ج ١ ص ١٥٢،طبع الریاض )
پس پیغمبر اکرم ۖ نے اپنے علاوہ گزشتہ انبیا کے تو سل سے اپنی ماں فاطمہ بنت اسد لیے دعا مانگی تو اس طرح دعا مانگنا سنت پیغمبر ۖ ہے ۔توسل صرف رسول اکرم ۖ کی ذات مبارک اور اہل بیت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دیگر صلحا ء سے بھی تو سل بالذات اور توسل اعمال صالحہ درست ہے جن ذوات مقدسہ سے تو سل کیا جا تا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقبول بندے ہیں اور ان سے تو سل رحمت الہٰی کا ذریعہ ہے چنانچہ علامہ سمہودی اس سلسلہ میں رقم طراز ہیں :
\\\’قُلت فیکف لا یستشفع ولا یتوسل بمن لہ ھذا المقام والجاہ عند مولاہ بل یجوز التوسل بسائر الصالحین \\\'(وفا ء الوفا ج ٢ ۔ص٤٢٢)
میں کہتا ہوں کہ اس ذات گرامی کو شفیع اور وسیلہ بنانا کیونکر درست نہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے ہاں جاہ اور مرتبہ حاصل ہے جب کہ تمام صالحین کو وسیلہ بنانا درست اور جا ئز ہے ۔علاوہ ازیں شاہ محمد اسحاق دہلوی متوفیٰ ١٢٦٢ھ مائة مسائل، ص٣٥ ،طبع کلکتہ میں اس مسئلہ کے بارے میں تحریر کر تے ہیں ۔
دعا بہ ایں طور کہ الہیٰ بحرمت نبی\\\’ولی\\\’ حاجت مرا رواکن جائز است چناں چہ از شرح فقہ اکبر ملا علی القاری مفہوم می شود ،
اس طریقہ سے دعا کر نا کہ اے میرے پروردگار نبی ۖاورولی کی حرمت سے میری حاجت پوری کر دے ،جائز ہے جیسا کہ ملا علی قاری کی شرح فقہ اکبر سے معلوم ہو تا ہے۔واضح رہے کہ نبی کریم ۖ،اہل بیت اور صالحین کو اپنی حاجات و مشکلات میں وسیلہ بناناصر ف زندگی کی حالت سے مخصوص نہیں بلکہ جس طرح زندگی میں ان کو وسیلہ بنایا جاتا تھا اسی طرح انتقال کے بعد وسیلہ بنانا جائز و مشروع ہے ،اور بر یقہ محمودیہ ،ج ١،ص٢٧٠،طبع قسطنطینہ میں توسل بالا موات کے جواز کو بالصراحت یوں بیان کیا گیا ہے :\\\’\\\’ویجوز التوسل الی اللہ تعالیٰ والاستغاثة بالا نبیا ء و الصالحین بعد موتھم ء انبیائے کرام اور صالحین \\\’ کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں ان کا توسل اور ان سے استغاثہ جائز ہے ۔
کچھ عرصہ پہلے علماء حرمین نے چھبیس سوالات مرتب کر کے علماء دیو بند کو بھیجے تھے تو اس وقت مولانا خلیل احمدانبیھٹوی نے جوابات لکھ کر اپنے ٢٣ علماسے تصدیقات لکھوا کر اسے \\\’\\\’المھند علی المعند\\\’\\\’کے نام سے شائع کیا ،ہمارے سامنے اس کا پہلا ایڈریس مطبع ہاشمی میڑھ ہے ا س میں تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب دیتے ہو ئے لکھا ہے ۔
ہمار ے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک دعائوں میں انبیا ء واولیا وصدیقین کا توسل جائز ہے ۔ان کی حیات میں یا بعد وفات بایں طور کہے کہ یا اللہ میں بو سیلہ فلاں بزرگ کے تجھ سے دعا کی قبولیت او ر حاجت برائی چاہتا ہوں ۔اسی جیسے اور کلمات کہے ،ہمارے شیخ مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی نے ،پھر مولانا رشید احمد گنگوہی نے بھی اپنے فتاویٰ میں اس کو بیان فرمایا ہے جو چھپا ہو اآج کل لوگوں کے ہاتھوں میں موجود ہے ۔
المھند کی عبارت بالا کو بغور ملاحظہ فرمائیں مزید برآں اس سلسلہ میں فتاوی دارالعلوم دیو بند ج ٥ ،ص٤٣١،٤٣٢طبع دیو بند اور تحریرات حدیث موئف مولوی حسین علی واں بھچراں ص٣٥٥،طبع ملتان کو بھی دیکھا جا سکتا ہے بلکہ صرف ائمہ اہل بیت کے اسما ء مبارکہ کا ورد کرنے سے ہی اللہ تعالیٰ ان مبارک ناموں کے وسیلے سے مریض کوصحت و شفا عطا فرما دیتا ہے اور اس سلسلے کو \\\’\\\’سلسلة الذھب\\\’\\\’ یعنی سونے کی ایک لڑی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جیسا کہ حافظ ابو نعیم اصفہانی نے اس سلسلے کو یوں نقل کیا ہے ۔
\\\’حدثنی ابی العدل الصالح موسی بن جعفر قال موسی حدثنی ابی الصادق جعفر بن محمد حدثنی ابی ابو جعفر باقر العلم علم الا نبیاء قال ابو جعفر حدثنی ابی علی بن الحسین سید العابدین حدثنی ابی سید اہل الجنة الحسین حدثنی ابی سید العرب علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیھم قال سئلت رسول اللہ صلی عیلہ والہ وسلم الخ۔\\\'(تاریخ اصفھان ج١،ص١٣٨طبع لیدن)ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ اس پورے سلسلہ سند میں ائمہ ہدیٰ کے اسماء گرامی موجود ہیں جو سید الرسل خاتم الانبیا ۖ تک منتہیٰ ہو تا ہے اس کے بعد لکھا ہے
\\\’لو قرء ھذاعلیٰ مجنون لا فاق اوعلیٰ مریض لبرء \\\’
اگر یہ (ائمہ اہل بیت کے )اسما ء مبارکہ کسی دیوانے پر پڑھے جا ئیں تو اسے یقینا افاقہ ہو جا ئے گا اور اگر کسی مریض پر پڑھے جا ئیں تو وہ یقینا مرض سے صحت یاب ہو جائے گا ۔(ملا حظہ ہو سنن ابن ما جہ ص١٢ مطبع فاروقی دہلی )یہی قول امام احمد بن حنبل سے مروی ہے ملاحظہ ہو :تحفہ اثناعشریہ ص٥٦٥،طبع ثمر ہند لکھنو ،الصواعق المحرقہ ص١٢٢ ،طبع قاہر ہ
جب ان ذوات مقدسہ کے حرف اسماء مبارکہ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ مریض کو شفا ء و تندرسی عطا فرما دیتا ہے تو ان سے توسل بالذات تو بدرجہ اولیٰ جائز ہے اور ان کے وسیلے سے مانگی ہو ئی دعا اللہ تعالیٰ ہر گز رد نہیں فرماتا۔ بہر کیف اس پوری بحث کا خلاصہ یہ نکلا ہے کہ آیات قرآنیہ احادیث نبویہ اور تعامل اوصیا ء وصالحین کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ انبیا ء ائمہ اہل بیت اور دیگر مقربان خدا کو ان کی حیات اور انتقا ل کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگا ہ میں ان کا وسیلہ پیش کر نا نہ صرف جائز بلکہ مشروع ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.