متعہ کے بارے میں گفتگو

1,183

متعہ معاشرے کی ایک ناگزیر ضرورت ہے اس مقام پر ہم متعہ کے ساتھ ساتھ ان اعتراضات کے جوابات کو جو فلسفئہ متعہ ، اس کے شرائط، حدود ، اور قیود سے ناواقفیت کی بنیاد پرپیداہوتے ہیں بیان کریں گے ۔اور آخر میں ایک بحث جو ” صیغہ ” کے نام سے یا علمی اصطلاح میں “ازدواج موقت “کے نام سے نشر ہوئی تھی جو مذہبی اور حقوقی مسائل میں صلاحیت نہ رکھنے والے افراد کی دخل اندازی کا ایک نمونہ ہے بحث کریں گے ۔اس مجلے کو شائع کرنے والے افراد بے ربط اور فریب دینے والے موضوعات کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اسلام کے اس قانون کو زہر آلودہ بنا کر دوسرے رخ سے پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ٰٰٰصرف یہی لوگ قوانین اسلامی سے واقف نہیں ہیں بلکہ بہت سے ایسے لوگ بھی مل جائیں گے جو غلط پروپیگنڈوں اور قانون کے غلط استعمال کے سبب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ فحاشی اور متعہ میں سوائے لفظ کے کوئی فرق نہیں ہے ۔یہاں تک کہ اگر کسی کو” فرزند صیغہ ” یا ” ابن الصیغہ ” کہا جائے تو ناراض ہو جاتا ہے گویا جیسے اس کو ناجائز اولاد یا زنا زادہ کہہ کر خطاب کیا ہو ۔اس لئے وہ لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ فحاشی اور متعہ دونوں پر ایک حکم لگایا جائے اور ممنوع قرار دیاجائے ۔اس لئے ہم نے اس بات کو ضروری سمجھا کہ اس مسئلہ کو مختصرطور پرہر قسم کے تعصب سے بری ہوکر واضح کیا جائے اور اس کے مبہم اور الجھے ہوئے نکات کو روشن کیا جائے ، تاکہ اہل سنت اور دوسرے ناواقف افراد اس بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں کہ یہ اسلامی قانون ایک مکمل ،ترقی بخش، اور اصلاحی حکم ہے، اگر تمام شرائط اور قیود کے ساتھ صحیح طریقے سے اسکا اجراء ہو جائے توفحاشی اور جنسی کجروی کے خاتمہ کے لئے ایک مہم اور موثر عامل ثابت ہو سکتاہے ۔
متعہ کیا ہے؟متعہ جو عوام میں صیغہ کے نام سے مشہور ہے ، اسلامی قوانین کے مطابق ایک قسم کی شادی کا معاہدہ ہے اس میں اور شادی میں سوائے مدت محدود ہونے کے کوئی فرق نہیں ہے ۔متعہ میں مرد اور عورت جنکی آپس میں شادی ممکن ہو دونوں ایک دوسرے سے ازدواجی معاہدہ کرتے ہیں اور عقد پڑھتے ہیں،مہر اور مدت کو معین کرتے ہیں اور اس کے بعد جو بچہ ان کے ذریعے وجود میں آتا ہے وہ ایک جائز اور قانونی (حلال زادہ )شمار ہوتا ہے اور کے تمام حقوق اور امتیازات کا مستحق ہوتا ہے ۔متعہ کی مدت تمام ہوجانے کے بعد ، ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور عورت کو عدت رکھنی ہوگی ، یعنی معین مدت ختم ہونے سے پہلے کسی دوسرے مرد کے ساتھ متعہ یا (ازدواج دائم )شادی کرنے کا حق نہیں رکھتی ہے ۔ (عدت کا وقت ان عورتوں کے لئے جن کو ماہواری نہیں ۴۵ دن ہے اور جن عورتوں کو ماہواری آتی ہے ان کو دو بار حیض سے پا ک ہونا ہے)عدت کا فلسفہ ایک بدیہی امر تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ پہلے شوہر کا نطفہ عورت کے رحم میں منعقد ہوا ہے یا نہیں ۔اگر نطفہ منعقد ہوا ہے تو اس عدت کے عرصے میں معلوم ہو جائے گا ۔ اورنطفہ منعقد ہونے کی صورت میں ظاہر ہے عورت وضع حمل تک دوسری شادی سے اجتناب کریگی ۔اس لئے کہ اگر عورت مذکورہ مدت تمام ہونے سے پہلے جسمیںوہ در حقیقت ( حریم زوجیت ) میں شمار ہوتی ہے کسی دوسرے سے عقد موقت یا عقد دائم کرے تو یہ عقد باطل اور اس کا عمل “عفت کے منافی “(زنا) شمار ہوگا ، اور ان تمام مکافات اس کے شامل حال ہوجائیں گے جو اسلام میں اس جرم کے لئے معین ہیں ۔لہذا شادی کے تمام قیود اور دائمی شادی میں جو بھی شرائط ایک شریک حیات کے لئے معین ہیں ان سب کا (سوائے مدت کے ) متعہ میں بھی خیال رکھا جائے گا ۔فقہاء نے اسلامی منابع اور مآخذ کے مطابق اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان دونوں (شادی اور متعہ ) میںکسی طرح کا کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے سوائے ایک مورد کے ۔ اور وہ یہ ہے کہ مسلمان کسی غیر مسلم سے شادی( ازدواج دائم ) نہیں کرسکتا، لیکن مسلمان مرد غیر مسلم عورت سے جو اہل کتاب ہو(جیسے مسیحی یا یہودی) متعہ کر سکتا ہے ۔لیکن حقوقی اثرات کی رو سے ان دو نوں میں دو فرق پائے جاتے ہیں.۱۔ متعہ میں عورت اور مرد ایک دوسرے کی میراث نہیں لے سکتے ( لیکن ان سے پیدا ہونے والی اولاد دونوں سے میراث حاصل کریگی )، یہ اس صورت میں ہے اگر عقد متعہ میں شرط نہ کریں کہ ایک دوسرے سے میراث حاصل کریں گے ۔ لیکن اگر عقد متعہ کے وقت یہ شرط رکھی جائے ایک دوسرے سے میراث حاصل کریں گے تو پھر ایک دوسرے کے لئے میراث ثابت ہوجائے گی ۔۲۔ متعہ میں عورت مرد سے نفقہ کا مطالبہ نہیں کر سکتی ہے ، لیکن اس کو مہر کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ۔مگر قابل توجہ نکتہ یہ ہے چونکہ مہر کی کوئی حد معین نہیں ہے اور دوسری طرف اس عقد کی مدت معاہدہ کے مطابق معلوم ہے لہذا عورت مدت کی مقدار کو دیکھتے ہوئے اپنے خرچ کا پہلے سے اندازہ کرکے اسی طرح مہر میں اضافہ کر سکتی ہے ۔اور شاید اسی نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ عقد متعہ میں مہر کا واضح طور پر ذکر کرنا ضروری ہے ۔اس لئے ان دونوں حقوقی مورد (یعنی میراث اور نفقہ ) میں اس حساب کے مطابق متعہ اور شادی میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ دونوں (میراث اور نفقہ ) قابل تغییر اور اور قرار داد کے مطابق ہوتے ہیں (کہ میراث کوعقد متعہ میں شرط لگا کر اورنفقہ کو مہر میں اضافہ کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے )۔ اوپردی گئی وضاحت سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ کم معلومات والے یا غرض مند افراد ہی یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ متعہ میں عورت ایک کنیزیا تجارتی سامان کی مانند کہ جسے خریدا جاتاہے یا ایک قالین یا ایک لباس کی طرح محسوس ہوتی ہے جسے کرائے پر لیا گیا ہو جو بالکل غیر منطقی، غیر مناسب اور حقیقت سے دور ہے ۔متعہ کے قوانین نے یہ کب کہا ہے کہ عورت کنیز کی طرح ہو جاتی ہے یا ایک سامان کی مانند بیچی یا کرائے پر دی جاتی ہے؟۔کیا” متعہ “دوطرفہ ایک ساتھ زندگی گزارنے کے عقد و پیمان کے علاوہ کوئی اور شئی ہے(جسمیں صرف مدت کو معین کیا جاتا ہے)۔؟ آیا یہ دو طرفہ پیمان یا اس کے تمام معاہدے اور شرائط، حقوقی نقطہ نگاہ سے الگ ہیں ۔؟یہ واقعا نا انصافی ہے کہ کوئی انسان کسی ایسے اہم موضوع کے بارے میں کہ جو معاشرے میں ایک بڑے برائی کا مقابلہ کر رہا ہو ( جسکا ذکر آگے آئیگا)، نا مناسب فیصلہ کرے اور اس کو غلط طریقے سے پیش کرے ۔کیا متعہ میں طرفین کی مکمل رضایت اور آزادی کے ساتھ بغیر کسی زبردستی اور جبر کے دونوں کے درمیان عقد نہیں ہوتا ۔؟ آیا یہ صورت حال کہ متعہ کو ایک قسم کی “شرعی انسان فروشی” سے تعبیر کرناناواقفیت اور بد نیتی کا نتیجہ نہیں ہے ۔؟آیا اگر ہم اس قانون کے دامن کو کہ جس کے صحیح اجراء سے فحاشی کا سد باب کسی حد تک ممکن ہے پکڑلیں اور اس رسوائی اورذلت کے بجائے اس کو وہ جگہ دیں، تو کیا یہ عورت کی خدمت اور اس کو غلامی اور قید سے آزاد کرنا شمار نہیں ہوگا ؟غور طلب نکتہ یہ ہے کہ ہمارے بعض دشمنوں نے ” عورت کو کرائے پر دینے” کی تعبیر پر تکیہ کیا ہے ۔ہمارے فقہا نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ اگر صیغہ متعہ کو لفظ اجارہ کے ساتھ لایا جائے یعنی عورت یہ کہے اجرت نفسی( کہ میں تمہیں اپنا نفس کرائے پر دیتی ہوں ۔۔۔)تو قطعا عقد باطل ہے ۔لہذا یہ موضوع بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ روح متعہ اور روح اجارہ ایک دوسرے کے ساتھ کاملا تضاد رکھتے ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ لفظ اجارہ کے ذریعے سے عقد جاری ہونا قطعا باطل ہے ۔سوء استفادہ کو قانون کے ذمہ نہیں ڈالنا چاہیے ۔لیکن یہاں پر ایک اساسی نکتہ پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے : مقام افسوس ہے کہ بہت سے ہوس باز لوگ جو اس قانون اسلامی سے ناواقف ہیں کہ جو ایک فطری حکم اور معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے ،جس کے صحیح اجراء سے ( جسکا اشارہ کیا جا چکا ہے اور توضیح آگے دی جائے گی )فحاشی جیسی بدبختی کا مقابلہ اور معاشرے کی دوسری برائیوں کا بھی خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے بہت سے دوسرے قوانین کی طرح اس قانون سے بھی غلط فایدہ اٹھا یاہے،اور اس کے ذریعے ناپاک نیت کے ساتھ اپنی شہوانی ہوا و ہوس کو بغیر کسی قید وبند کے پورا کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہر قسم کی فحاشی اور ذلت کو اس قانون کی آڑ میں انجام دیتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ متعہ کے تمام شرائط اور قیود کو اس حد تک نیچے پہنچا دیا ہے کہ جب ایک ہوس باز مرد کسی آلودہ عورت کے رو برو ہوتا ہے تو صرف ایک جملہ کہنے سے (اس جملے کے مفہوم اور معانی اور اس کے لازم و ملزوم کی رعایت کے بغیر)فحاشی یا تمام تر اس کی ذلتیں جائز بنا لیتے ہیں ۔اس طرح کے ظاہری اعمال اور غلط دستاویز خود غرض لوگوں کے ہاتھوں میں آجانے سے انہوں نے اس مورد میں اپنی خطرناک پروپیگنڈے کو آگے بڑھایاہے ۔اور یہی سبب ہے کہ متعہ کا نام یا عوام کے بقول” صیغہ”اس قدر نفرت کا شکار ہوا کہ قوانین اسلام سے ناواقف افراد اس کوایک قسم کی انسان فروشی کا اسلامی اور شرعی جواز سمجھنے لگے ۔یہاں تک کہ مسلمان مرد اور عورتیں بھی اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کو عورت کے لئے ذلت و رسوائی کا سبب سمجھتے ہیں ۔لیکن ہم اظہار افسوس کے ساتھ ایک سوال کرتے ہیں وہ یہ ہے: فرض کریں اگر ایک قاضی اپنے مقام اور اس حفاظت اور نگہبانی کے ساتھ جو قانون کے پاس موجود ہے سوء استفادہ کرے اور اس کے ذریعے لوگوں کو( ؟؟؟؟سرکیسہ) اور اپنے شخصی مسائل کو سلجھائے یا اس طرح کے دوسرے کام کرے ، تو کیا اس صورت میںقضاوت کے مسئلے کوسرے سے ختم کر دیا جائے یاقانون کے سوء استفادہ کرنے پر روک لگائی جائے ؟ یا مثلا ایک لکھنے والااپنی جیب کو بھرنے کے لئے اپنے فن تحریر کا سوء استفادہ کرتا ہے اور لوگوں کو فریب اورانکی شہوات کو متحرک کرے اور ہنگامہ کرنے والے جھوٹے موضوعات جعل کرے اور مختلف پارٹیوں کے لئے دلالی کرے ، آیا قلم کی آزادی ، مطبوعات، لوگوںکے افکار کوبیدار کرنے والی تمام سودمند نشریات کو کلی طور پر مسدود کردیاجائے، یا فقط سوء استفادہ کرنے والے قلم کو توڑنا چاہیے؟!کون سی منطق اور عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ قوانین اور سودمند قوانین کو بعض لوگوں کے سوء استفادہ کرنے کی وجہ سے ختم کر دیا جائے ۔؟ کیا ایک بے نمازی یا سو بے نمازی کی وجہ سے مسجد کے دروازے کو بند کیا جا سکتاہے ۔؟کون سا ایک قانون یا مورد ہے کہ جسکا سوء استفادہ نہیں ہو ا ؟ سوء استفادہ پر روک لگانی چاہیے یا قوانین کو چکنا چور کر دینا چاہیے ؟ مسلم بات ہے کہ ہر عاقل انسان پہلے راستے کو اختیار کرے گا ۔مختصر یہ ہے کہ یہ ان تمام غلط فہمیوں سے قانون اسلامی کی ماہیت اور اس کے مفید آثار اور نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔لہذا ضروری ہے کہ اس قانون کا اجرا کیا جائے اور سوء استفادہ کا سد باب کیا جائے ۔
متعہ ،معاشرے کی ضرورت کیوں ہے؟یہ ایک عام اور کلی قانون ہے :” اگرانسان کے فطری غرائز کو پورا کرنے میں مناسب قدم نہ اٹھائے جائیں تو وہ اس کو گمراہی کے راستے کی طرف کھینچ لیتے ہیں ہیں ۔اس بنیاد پر معاشرے کی اصلاح اور برائی کے حوالے سے دو جملوں میں فیصلہ کیا جا سکتاہے: اصلاح یعنی فطری غرائز کے پوراکرنے میں راہنمائی کرنا اور جسم و روح کی ضرورتوں کا صحیح طریقے سے سامان مہیہ کرنا ۔برئی یعنی ہدایت کا فقدان اور ضرورتوںکے پورا کرنے میں کوئی مناسب اقدام نہ کرنا ۔یہ بات بھی قابل انکارنہیں ہے کہ فطری غرائز کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے ۔(اور ختم کرنابھی نہیں چاہیے)۔لیکن اس کی روش کو بدلا جا سکتا ہے ۔اس بنا پر معاشرے کے فساد کے خاتمے کے لئے بہترین راہ حل یہی ہے کہ انسان کے فطری غرائز اور اس کے جسم و روح کی ضرورتوں کو صحیح طریقے سے شناخت کریں اور معقول طریقے سے اس کو پورا کیا جائے ۔یہ بات واضح ہے کہ اس معاملے میں معمولی غلطی کا نتیجہ سوائے مفسدہ اور معاشرتی بحران کے کچھ اور نہیں ہو سکتا ۔اگر اس حقیقت کے روشن کرنے کے لئے ہم یہاں ایک مثال پیش کریں تو بہتر ہوگا ۔انسان ایک ہی قسم کی فعالیت ،اور اکتا دینے والی یک سوئی سے اکتا جاتا ہے اور ایک ہی طرح کے کام سے تھک جاتا ہا ہے لہذا اس کو تفریح اور تنوع کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس لئے کہ تفریح اور تنوع تھکے ہوئے اعصاب کے لئے روغن کاری کا کام کرتے ہیں ،اور پزمردہ روح کے لئے نشاط آوری کا ۔اس کے بغیر انسان کی روح اپنا نشاط کھو دیتی ہے اور ایک اضطراب اور سرکشی کی حالت اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔اس لئے تفریح اور سرگرمی کا مسئلہ ایک معاشرے کی ضرورت شمار ہوتا ہے ، جس کی مقدار زندگی کی کارکردگی کے مطابق ہوتی ہے ۔ہاں اگریہ تفریح اور سر گرمی سالم اور شرعی راستے اور فطری ضرورتیں صحیح طریقے سے فراہم نہ ہو توپھر یہ افرادغلط اور گمراہ کرنے والی مصروفیات کی طرف مائل ہو جائیں گے اور اپنی ضرورت کو اس راستے سے حاصل کریںگے ۔
جوانوں کے جنسی مسائل: اب ہم اس حقیقت کو “جنسی غریزہ” کے حوالے سے زیر بحث لائیں گے ۔ جنسی غریزہ کے بارے میں بہت سے ماہر نفسیات کاکہنا ہے کہ یہ انسان کا قوی ترین غریزہ ہے (یا حد اقل قوی اور طاقتور غرائز میں سے ایک ہے)بارہابہت سے جوانوں نے اس مسئلے کوہمارے سامنے کتبی صورت میں کبھی شفہی صورت میں پیش کیاہے ۔ ان کے خیال کے مطابق اس وقت پاکیزہ جوانوںکے لئے جنسی مسائل کے راہ حل مسدود ہیں ۔ اور ان مسائل کو حل کر نے میں وہ ہم سے مدد مانگتے ہیں ۔اس وقت معاشرے میں جوانوں کے جنسی مشکلات بہت اہم اور غورطلب ہیں ، اس لئے کہ :ایک طرف اکثر جوانوں کا مالی اعتبار سے قوی نہ ہوناجس پر تقریبا سبھی جوانوں کا اتفاق ہے ۔اور مخصوصا نوجوانوں کا حال کمرتوڑدینے والے اخراجات کے مقابلے میں، اور اس سے زیادہ سخت تعلیم کوجاری رکھنے کا موضوع کہ جس میں تقریبا ۲۰ سے ۲۵ سال لگتے ہیں ۔اور یہ ہی وہ وقت ہے جب جنسی غریزہ طغیانی کے عالم میں ہوتا ہے ، اور اس وقت حالات ان کو شادی کی اجازت نہیں دیتے ۔اور ددسری جانب “مطلق پارسائی ” اس غریزہ سے چشم پوشی کرلیتی ہے،یہ غریزہ نہایت ہی طاقتور اور سرکش ہوتاہے اور افسوس کامقام یہ ہے اس دور کے تحریک آمیز مناظر اس میں مزید شدت پیدا کر دیتے ہیں،لہذاس کا مقابلہ بہت سخت اور بعض لوگوں کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا کرنا چاہیے ؟ اگرچہ بے ہودہ اور بے لگام افراد فحاشی کے اڈوں پر جاکراپنے گمان میں اس کواپنی مشکل کا حل سمجھتے ہیں ۔لیکن ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ پاک دامن جوانوں کے لئے کیا راہ حل ہے؟یہ مشکل یونیورسٹی کے طلبہ کے لئے زیادہ اہم ہے کہ جو دکھاوے کے لئے دوسرے ملک جاتے ہیں ، اس لئے کہ تنہائی ، عزیز و رشتہ داروں سے دوری اور لڑکے لڑکیوں کے ساتھ معاشرت کی آزادی جیسا کہ مغربی اور امریکی ممالک میں پائی جاتی ہے، اور اعلی تعلیم کے لئے طویل مدت کا درکار ہونااس مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے ۔اور شادی شدہ افراد بھی اس دور سے گذرتے ہیں کہ زندگی کی ضروریات کی خاطر ان کو کئی مہینوں یا اس سے بھی زیادہ عرصہ کے لئے تجارت یا کسی دوسرے کام کی خاطر باہر جانا پڑتا ہے، اور مہینوں بیوی بچوں سے دور رہنا پڑتا ہے ۔اگرچہ معاشرتی ضرور تیں تنہا اسی میں منحصر نہیں ہیں،بلکہ دوسرے اور بہت سے موارد ہیں جن میں اس کی ضرورت پیش آتی ہے ۔
اس مشکل کا راہ حل کیا ہے؟یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کی ضرورت معاشرے میں ہمیشہ محسوس ہوتی رہی ہے،اور ہمارے اس دور میں اس کی ضرورت شدید ہو گئی ہے اوراس نے جوانوں کو گھیر لیا ہے ۔ آیا ان حقائق سے چشم پوشی کرکے انہیں فراموش کیا جا سکتا ہے ؟ اوپر دیئے گئے جوابات اور ان جہات سے درگزر کرسکتے ہیں اور حقائق سے آنکھ چرا سکتے ہیں؟جو لوگ آنکھ کان بند کرکے یہ کہتے ہیں کہ ” متعہ ایک قسم کی جائز اور شرعی انسان فروشی ہے اور عورت کے مرتبہ کو پست کردیتی ہے” وہ ہمیں بتائیں کہ ان جوانوں کو ہم کیا جواب دیں ؟کیا ایسے لوگوںنے اپنی پوری زندگی میں کبھی جوانوں کی جنسی مشکلات کو سلجھانے کے بارے میں سوچا ہے ۔؟کیا ان جوانوںکو جوانی کے عالم میں پارسائی اور جنسی امور سے چشم پوشی کی دعوت دی جا سکتی ہے ؟ البتہ ہم اس کا انکار نہیں کرتے اس لئے کہ ممکن ہے کام کچھ جوانوں کے لئے جو زیادہ توانائی اور نفس پر تسلط رکھتے ہیں وہ اس راستے کو اختیار کرلیں، لیکن کیا یہ تمام جوانوں کے لئے ممکن ہے؟قطعانہیں ۔اپنے دل سے بتائیے کہ متعہ کے بارے میں جو اعتراض کرتے ہو، تم نے اپنے جوانی کے ایام کس طرح گزارے ؟ یا اگر غیر شادی شدہ جوان ہو تو کیا کرتے ہو ۔؟ ہم تم سے یہ نہیں کہتے کہ اس سوال کے جواب کو سب کے لئے لکھو ، بلکہ خود اپنے نفس کو اس کا جواب دو ۔کیا اس طرز تفکر کے ساتھ تم جوانوں کے لئے” سوائے ان کو فساد کے مراکز تک لے جانے کے” راہ حل پیدا کر سکتے ہو۔ اگر تمہارے پاس کوئی راہ حل ہے تو پھربتائیے کیوں نہیں کرتے ؟آیا فحاشی اور عورت کا خود کو فروش کرنا اور تمہارے بدنام مراکز کی رسوائی ( لفظ تمہارے اس لئے کہہ رہے ہیں کہ یہ غلط افکار تمہارے بنائے ہوئے ہیں )کیا عورت کی شخصیت کا احترام ہے؟ٓآیا دنیا کے بہت سے شہروں میں فساد کے مراکز کا ایجاد کرنا ( ظاہری طور پر یا مخفی طور پر)عورتوں کی کنیزی کے خاتمہ کا سبب یا آدم فروشی کے جواز کو ختم کرتا ہے؟یہ یاد رہے کہ یہ تمام برائی کے مراکز اور ذلت ورسوائی کہ جس میں آج کا معاشرہ آلودہ ہے تمہاری اور تم جیسے افراد کی جنایتوں کا نتیجہ ہے کہ جنہوں نے معاشرے کی اس مشکل کے لئے صحیح راہ حل کے بجائے گمراہی کی نشاندہی کی ہے ۔!آیا تم نے متعہ (ان تمام شرائط کے ساتھ جسکی اسلام نے وضاحت کی ہے جسکی طرف پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے)کی مخالفت کر کے کہ جسے تم یہ کہتے ہو” کہ لا پروا اور آزاد قسم کے لوگ اس پر عمل کرتے ہیں”فحاشی کا کھلے عام اعلان نہیں کیا ؟کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ متعہ کو ہمارے ملک کے مدنی قانون سے نکال دیا جائے ؛ اس لئے کہ یہ” حقوق انسانی کے منشور” کے ساتھ مناسب نہیں ہے! لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ چہز جس کا نام منشور حقوق بشر رکھا گیا ہے، جس کی ایک مثال نسل پرستی کا خاتمہ ہے، دنیا کے متمدن ممالک میں اس پر آج تک عمل نہیں ہو سکا ، اس منشورمیں یہ کہاں لکھا ہے کہ متعہ ممنوع اور فحشاء آزاد ہے ؟ خدا کے واسطے اس طرح کے منشور جسے تم نے مٹنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا ہے اس سے پوچھیں کہ جوانوں کے جنسی مسائل کیسے حل کئے جا سکتے ہیں ؟ کیا وہ بھی تمہاری طرح منفی پروپیگنڈہ کرتا ہے؟آیا یہ بہتر نہیں ہے کہ کہ آزادی اور ناجائز تعلقات کے بجائے، جوافراد ایک دوسرے سے رابطہ پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ متعہ کا ایک محدود او ر وقتی رشتہ پیدا کرلیں اور اس کے تمام شرائط کی رعایت کرتے ہوئے بالکل اسی طرح جیسے ایک شادی شدہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں مرتبط ہو جائیں، اور ایک فضا میں صحیح زندگی بسر کریں، اور اگر نصیب سے کوئی اولاد وجود میں آجائے تو وہ ان سے متعلق رہے ۔انصاف سے بتائیے کہ اس عاقلانہ اور عادلانہ قانون میں کون سی برائی پائی جاتی ہے؟!
متعہ کا فلسفہ:مذکورہ بالا بیان سے متعہ کا فلسفہ اچھی طرح روشن ہو جاتا ہے ۔اسلام نے جنسی مشکلات کے حل کے لئے (خصوصا جوانوں کے لئے )
اور ان تمام افراد کے لئے جو کسی وجہ سے شادی نہیں کرسکتے ہیں راہ حل کی نشان دہی کی ہے اور ان کو پیش کش کی ہے :اس طرح کی صورت حال میں اگر کوئی مرد و عورت ایک دوسرے وابستگی پیدا کرناچاہتے ہیں تو بغیر اس کے کہ سنگین ذمہ داریوں کو تحمل کریں یعنی شادی کریں ، محدود مدت کے لئے متعہ کا رشتہ بر قرار کر سکتے ہیں ، اور اس رشتہ کو بعینہ شادی کے رشتہ کی مانند محترم شمار کریں ۔اور عورت” حریم زوجیت “کو مدت کے ختم ہونے کے بعد عدت(حد اقل ۴۵ دن یا دو بار ماہواری سے فارغ ہونے تک) کی تکمیل کی رعایت کرے ۔یہ بدیہی امر ہے کہ انسان کے لئے متعہ کی ذمہداری شادی کی طرح سنگین نہیں ہے اس میں طرفین اس کے سہل اور آسان شرائط کی رعایت کرتے ہوئے اس عمل کو انجام دے سکتے ہیں ۔اس لئے کہ متعہ میں شخص زندگی بھر کے لئے شریک حیات نہیں ہوتا ہے کہ عورت و مردایک دوسرے کے انتخاب میں مشکل سے فیصلہ کریں ۔اور دوسرے بات یہ کہ اس میں نفقہ شرعی طور پر نہیں پایا جاتا ہے صرف مہر ہوتا ہے جس کی مقدار طرفین کو معین کرتے ہیں
 ( جیسا کہ پہلے اس کے بارے میں پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے)اس کے علاوہ متعہ میں طلاق کادرد سر یا کشمکش نہیں ہے (اگر فرضا آپس میں ہم آہنگی نہیں ہو پاتی ) متعہ کی مدت ختم ہونے پر رشتہ تمام ہو جائے گا ۔ یہاں تک کہ مرد باقی بچی ہوئی مدت عورت کو بخش کر اپنے حق سے صرف نظر کر سکتا ہے اور اس سے جدا ہو سکتا ہے ۔اور طرفین کی رغبت کی ساتھ آسانی سے (تجدید عقد کے ذریعے )مدت کو بڑھایا جا سکتاہے ۔اس مقام پر یہ کہا جا سکتا ہے : متعہ ایک ایساموثر اسلحہ ہے کہ جس کے ذریعے فحاشی اور دوسرے جنسی انحرافات سے مقابلہ کیا جا سکتاہے ۔اور جوانوں کی ایک بڑی اہم جنسی مشکل کا راہ حل بن سکتاہے ، اور معاشرے میں اس راہ سے انے والے بہت سے مفاسد جس سے چھوٹے بڑے سب دوچار ہوتے ہیں ختم کیا جاسکتا ہے ۔ متعہ کے صیغے کا اجراء شادی کے صیغے کے مانندہے ،اور اس کے تمام اسلامی دستورات نہایت ہی آسان اور سادہ ہیں ۔ اور سبھی توضیح المسائل میں اس کو لکھا گیا ہے ۔البتہ اس بات پر توجہ رہنی چاہیے کہ یہی آسان امر اس دستخط جیسا ہے جو کسی قیمتی ستاویز پر کیا جاتا ہے لہذا اس دستخط کو بعد ان قوانین کی پابندی کرنا ضروری ہے ۔
دوسرا اہم نکتہ :یہاں پر ایک اساسی نکتہ ہے جس کو دقت کے ساتھ سمجھنا ہوگا اور وہ یہ ہے : یہ نظام اس صورت میں مثبت نتیجہ دے سکتا ہے ، کہ جب اس کو صحیح طریقے سے اجرا کیا جائے اور شادی کی طرح اس کا بھی ایک خاص نظام ہو، اور نظم و ضبط کے سائے میں بر قرار ہو ۔یعنی موجودہ شرائط کے مطابق مرد و عورت کے کوائف وتفصیلات شادی کے مخصوص دفتر میں مندرج ہوں، اور متعہ کا عقد نامہ تیار کیا جائے یا کوئی دوسرا طریقہ جو قابل اطمئنان ہو اختیار کیا جائے ۔ کہ عورت کے لئے عدت کا وقت تمام ہونے سے قبل دوسرا متعہ یا شادی نہ ہو سکے ، اور اس کے ذریعے بڑی مقدارمیںقانون کے سوء استفادہ کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ضروری ہے کہ اس موضوع کی نظارت کے لئے ایک ادارہ تشکیل دیاجائے ،اوریہ ادارہ نظارت کے ساتھ ساتھ اس مہم مسئلہ کے بارے میں فریقین کو ضروری تعلیمات بھی فراہم کرے ، اور ان کو یہ بھی سمجھائے کہ متعہ کے اجراء کے بعد معین مدت تک ایک دوسرے کے شریک رہیں گے ، ایک دوسرے سے رشتہ برقرار رکھیں گے اور ایک مشترک زندگی کے تمام اصولوں کا احترام کریں گے ۔یقینا اگر اس مسئلہ کو اوپر بیان کئے گئے بیان کے مطابق عملی جامہ پہنا دیا جائے تو فحاشی فقط آزاد، لاپرواہ اور بے لگام افرادکی حد تک محدود ہو جائیگی ۔ اور یہ بعینہ ایک حدیث کا مضمون ہے جس کو اس کتاب میں نکاح کی بحث میں امیر المومنین علیہ السلام سے نقل کیا گیا ہے ۔ان شرائط کے ساتھ عورت حقارت اور رسوائی کے احساس سے بھی محفوظ ہو جاتی ہے ، نہ مرد اپنے اپ کو عورت کا مالک اور خریدار سمجھتا ہے ۔اور نہ ہی یہ عمل معاشرے میں ذلت آمیز تصور کیا جائیگا،اور نہ ہی شریف افراد اس سے نفرت کا اظہار کریں گے ۔بلکہ شادی کی طرح ایک عادی اور مناسب امر کی طرح اس کا خیر مقدم کیا جائیگا ۔آیا یہ عظیم حکم ” ایک قسم کا شرعی اور جائز آدم فروشی ” ہے ؟ کیوں بغیرمعلومات اور تحقیق کے اس مہم مسئلہ کے بارے میں فیصلے کئے جاتے ہیں اور ناواقف افراد کو گمراہ کیا جاتا ہے ۔؟
متعہ کی اولاد:صرف ایک سوال اس مقام پر باقی رہ جاتا ہے ،جس پر بہت زیادہ ہنگامہ کیا جاتا ہے، اس وجہ متعہ کے احکام کے بارے میں بے توجہی ہے ،اور غیر مطلع افراد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اس موضوع کا ایک ضعیف پہلو ہے جبکہ معمولی سے معمولی اشکال بھی اس موضوع میں نہیںپایا جاتا، اور وہ یہ ہے کہ :جو اولاد متعہ کے سبب پیدا ہوتی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟، آیا متعہ کی اولاد ناجائز اولاد ہیں؟ ان کے مستقبل کا کیا ہوگا ؟میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کا جواب اگر گزشتہ مطالب پر توجہ کی جائے تو بالکل واضح ہوجاتا ہے اس لئے کہ جو اولاد متعہ کا ثمرہ ہیں وہ شادی کے سبب پیدا ہونے والی اولاد سے کسی بھی جہت سے مختلف نہیں ہیں ۔ان کو وہ تمام شرعی اور قانونی حیثیت حاصل ہے جو دوسری اولاد کو حاصل ہوتی ہیں ۔اور خاص طور پر اگر عورت اور مرد کے کوائف و حالات وغیرہ کو مخصوص دفتر میں ثبت و ضبط کیا جائے اور عقد نامہ وغیرہ کو تشکیل دیا جائے تو پھر کوئی پریشانی ان بچوں کو پیش نہیں آئے گی ۔ہمیں تعجب اس بات کا ہے کہ ناجائز تعلقات کی بنیاد پر پیدا ہونے والے ناجائز بچوں کی بڑی تعداد جو آج کے معاشرے میں پائی جاتی ہے
 ( خصوصا مغربی اور امریکی ممالک میں پختہ ثبوت کے ساتھ یہ موضوع ایک رسوائی کی صورت میں سامنے آیا ہے) اس نے لکھنے والوں کو پریشان نہیں کیا گویا یہ لوگ ان کو نا معلوم اور سرگرداں نہیں سمجھتے ہیں، لیکن متعہ سے پیدا ہونے والے بچوں کے بارے میں وہ پریشان ہو جاتے ہیں،جن کی ہر چیز واضح ہے ماں باپ ،انکے نکاح کے شرائط، آخر کار ان کی ہر چیز معلوم ہے اور وہ ایک پاک نطفہ اور پاکیزہ رحم سے پیدا ہوئے ہیں ؟یہ بات بھی قابل بیان ہے کہ اگر طرفین بچہ کے خواہش مند نہ ہوں تو اسلام میں اس کی کو ئی ممانعت نہیں ہے یا کسی اور ذریعے سے نطفہ منعقد ہونے پر روک لگائی جا سکتی ہے ۔لیکن اس بات کا خیال رہے کہ نطفہ کے انعقاد کے بعد بچے کا اسقاط کرنا ” حتی اگر نطفہ ایک دن ہی کا کیوں نہ ہو ” کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے اور اسلامی قوانین کی نظر میں اس کے لئے سخت سزا معین کی گئی ہے ، جو جنین کے حالات کے ساتھ بدلتی ہے ۔
وقتی شادی ( مسیار)دلچسپ بات یہ ہے کہ متعہ کا انکار کرنے والے افراد (یعنی اکثر اہل سنت )جس وقت جوانوں اپنے کے اور دوسرے افراد کی جنسی مشکلات کا مشاہدہ کرنے اور ان کے تلاش کرتے اور ان کے تلاش میں نا کام ہوتے ہیں تو پھر آہستہ آہستہ ایک قسم کی شادی “متعہ کے مانند”کوماننے پر تیار ہو جاتے ہیں جس کو وہ “مسیار” کا نام دیتے ہیں اگرچہ وہ اس کو متعہ کا نام نہیں دیتے ، لیکن عمل کے حوالے سے اس میں اور متعہ میں کوئی فرق نہیں ہے،وہ اس کی طریقے سے اس (مسیار ) کی اجازت دیتے ہیں کہ شادی کا ضررورت مند کسی عورت سے (دائمی) شادی کرے( جبکہ وہ اس بات کا قصد پہلے سے کئے ہوئے ہے کہ کچھ مدت کے بعد اس کو طلاق دے دے گا )اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس سے نفقہ ، رات گزارنے ،اور ارث کا مطالبہ نہیں کریگی ، یعنی بالکل متعہ کی مانند سوائے ایک فرق کے ساتھ کہ اس میں طلاق کے ذریعے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں اورمتعہ میں مدت کے تمام ہوجانے پر یا اس کے بخش دینے پر، یعنی آغاز میں دونوں کی نظر میں مدت معین تھی ۔اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اہل سنت کے جوان جو شادی کی مشکلات میں گرفتار اور پریشان تھے ، انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ ہم متعہ کے مسئلہ میں شیعوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں کیا پیروی کرنے میں کوئی مانع تو نہیں ہے؟
 ہم نے کہا کہ نہیں کوئی مانع نہیں ہے ۔!یہ لوگ متعہ کا انکار کرتے ہیں ، لیکن” نکاح مسیار “کو قبول کرتے ہیں ،در حقیقت نام کو قبول نہیں کرتے مسمی کو قبول کرتے ہیں ۔جی ہاں ضرورت انسان کو حقیقت قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے،ہرچند انسان اس کا نام زبان پر نہ لائے ۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے ، کہ جو لوگ متعہ کی مخالفت پر اڑے ہوئے ، وہ جانے ان جانے میں فحاشی کا راستہ ہموار کر رہے ہیں ،مگر یہ کہ وہ متعہ کی مانند یعنی نکاح مسیار کی پیش کش کریں ۔ اسی وجہ سے اہل بیت سے مروی روایات میں بیان ہو ا ہے کہ ” اگر متعہ کی مخالفت نہ ہوتی تو کوئی بھی زنا سے آلودہ نہ ہوتا”اسی طرح جن لوگوں نے متعہ سے سوء استفادہ کیا ہے ۔کہ جوواقعا ضرورت مند افراد اور محروم افراد کے لئے جائز کیا گیا تھا، اور انہوں نے اس کے چہرے کو بدنما بنا کرپیش کیا اور اس کو اپنی ہوس کے پورا کرنے کا وسیلہ بنالیا ، ان افراد نے بھی اسلامی معاشرے کے لئے زنا کا راستہ ہموار کیا ہے ، اور اس میں آلودہ ہونے والے افراد کے گناہ میں شریک ہیں ۔ اس لئے کہ یہ افراد اس کے صحیح استعمال کرنے میں عملی طور پر رکاوٹ بنے رہے ۔بہر حال اسلام ایک الہی دستور العمل ہے اور ہمیشہ انسانی فطر ت کے ساتھ رہتا ہے ۔ اورجس نے انسان کی تمام واقعی ضرورتوں کی پہلے سے پیشین گوئی کی ہے، اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس نے وقتی شادی کا ذکر اپنے دستورات میں نہ کیا ہو اور جیسا کہ آگے ذکر کیا ہوگا کہ وقتی شادی کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے اور احادیث نبوی (ص) میں بھی اور صحابہ نے بھی اس پر عمل پر کیا ہے ۔ البتہ بعض افراد اس حکم کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں اگر چہ اس بارے میں ان کے پاس محکم دلایل موجود نہیں ہیں ۔
“متعہ” کے سلسلے میں بحث کا نتیجہ اب تک جو بحث متعہ کے بارے میں کی گئی اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے:نکاح، ایک ایسارابطہ ہے جو مرد وعورت کے درمیان مختلف حقوقی اثرات کے ساتھ بر قرار ہوتا ہے ۔شادی میں عقد کی ضرورت ہوتی ہے جو انجاب و قبول کے ذریعے اپنے خاص شرائط کے ذریعے انجام پاتا ہے ۔اگرنکاح ” مدت”کے اعتبار سے بغیر کسی قید اورمحدودیت کے انجام پائے تو وہ “شادی” کی صورت اختیار کر لیتا ہے ، کہ جو ہمیشہ کے لئے باقی رہے گی ،مگریہ کہ طلاق یا اس کے مانند کے کسی چیز کے ذریعے اس کے رابطہ کو منقطع کر دیا جائے ۔لیکن اگر مدت کے اعتبار سے اس کو ایک دن ، ایک مہینہ ایک سال یا زیادہ سے مقید کردیا جائے تو اس کو متعہ کا نام دیا جاتا ہے ۔لیکن نکاح کے معنی اور شریک حیات کے حوالے سے ان دونوں (شادی اور متعہ ) میں کوئی فرق نہیں ہے ۔تنہا مدت کے حولے سے فرق پایا جاتا ہے ۔یہ دونوں احکام کے حوالے سے اکثر موارد میں مشتر ک ہیں ، صرف مدت کی قید میں ایک دوسرے سے الگ ہیں ،لیکن یہ فرق اصولی اور جوہری فرق نہیں ہے ۔ بلکہ ایک صنف کی ایک نوع کے مانند ہے جیسے نسل کے اعتبار سے سفید اور کالے کا فرق کہ جس میں کلمہ اور حقیقت کی وحدت کا خیال رکھا گیا ہو۔اور یہ اختلاف کی کیفیت فقط عقد نکاح اور دو انسانوں کا ایک دوسرے کا شریک حیات ہونے، میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس کی بہت سی مثالیں معاملات اور مالکیت کے موارد جس میں واسطہ کے ذریعے خرید و فروخت عمل میں آتی ہے” پائی جاتی ہیں ۔مثلا کبھی انسان کوئی معاملہ بغیر قید اور شرط کے انجام دیتا ہے لہذا اس طرح کے معاملے میں جو آثار مترتب ہوتے ہیں وہ دائمی اور ہمیشگی مالکیت کے ہوتے ہیں ۔
متعہ کے بارے میں گفتگوٓمگر یہ کہ بعد میں کسی اختیاری چیز کے ذریعے جیسے دوبارہ خرید و فروش ،ہبہ اور صلحہ سے یاغیر اختیاری چیز کے ذریعے جیسے نقصان ، اور موت ہو جانے کی صورت میں یہ مالکیت زائل ہو جاتی ہے ۔اور کبھی کبھی شروع ہی سے ملکیت کو محدود وقت کے ساتھ خاص کر دیا جائے جیسے فسخ اور انفساخ کی شرط معاملے میں لگا دی جائے ۔ یہ بات بدیہی ہے کہ ملکیت کی عمر کا معین ہونا یا کم ہونا اسی عقد کے مطابق ہوگی جو اس میں معین کی گئی ہے،( یعنی قہری فسخ اور انفساخ کے وقت تک )بہر حال یہ وہ مطالب ہیںجن میں عقل اور شریعت دونوںکا اتفاق ہے ۔اب ہم دانشمند افراد ، علماء اسلام ، اورصاحبان قلم سے یہ سوال کر سکتے ہیں کہ متعہ کے بارے میں ( جو شادی کی ایک قسم ہے)یہ ہنگامہ کس بات کا ہے ؟ آیایہ موضوع واقعا سر زنش کا مستحق ہے کہ تم ہمیشہ شیعوں پر اس کے حوالے سے مسلسل حملے کرتے ہو اور ان کی مذمت کرتے ہو۔ ؟کیا یہ مختصر اور موجز بحث کافی نہیں ہے جو تم کو مسلمانوں میں دشمنی کی آگ کو بھڑکانے سے باز رکھ سکے اور حق کے سامنے اطاعت اور تسلیم کا تقاضاکرے؟میں حق کی عزت اور شرافت کی قسم کھا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ بھی اس مقام پر کہا ہے وہ سوائے حق کی حمایت کے کچھ نہیں ہے، اگر کہیں تنقید بھی کی ہے تو وہ تنہا باطل کے لئے ہے،ہم ہمیشہ خدا پر تکیہ کرتے ہیں ، آخر کا ر ہم سب کو اس کی بارگاہ میں جانا ہے ۔شیعوں کے نقطہ نگاہ سے شادی کی اس بحث کو ہم اسی پر قناعت کرتے ہیں۔البتہ نکاح کے احکام، اولاد ، نفقہ ، عدت کی قسمیں،اور اس کے مانند دوسری بحثوں کے بارے میں زیادہ مطالعہ کے لئے شیعوں کے گراں قدر دانشمندحضرات کی فقہی کتابوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ۔اس بارے میں خوش قسمتی سے بہت سی کتابی موجودہیں بعض اس حد تک مختصر ہیں،کہ اختصار کے ساتھ تمام فقہی ابواب ،طہارت سے حدود اور دیات تک تمام مطالب کو شامل ہیں۔اسی کے مقابلے میں بعض ددسری کتابیں اس قدر شرح کے ساتھ موجود ہیں جن میں تنہا فقہ کے ابواب کو بیس جلدوں میں پیش کیا ہے(جس میں ہر جلد صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے برابر ہے)جیسے کتاب “جواھر”اور “حدائق”اور دونوں کے درمیان متوسط کتابیں بھی اس قدر موجود ہیں جو شمار میں نہیں آسکتی ہیں ۔۱۔ اس قسم کے اقدامات اس لئے عاقالانہ نہیں ہیں کہ یہ قانون خلقت کا مقابلہ کرنا ہے ۔۲۔ امام صادق (علیہ السلام ) کا قول ہے” لولا ما نھی عمر عنھاما زنی الا شقی” ترجمہ: اگر عمر اس امر سے منع نہ کرتا تو سوائے شقی کے کوئی زنا کا ارتکاب نہ کرتا۔(وسائل الشیعہ جلد ۱۴) اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں یہ حدیث تفصیل سے بیان کی گئی ہے ۔ قال علی
(علیہ السلام ) ” لو لا ان عمر نہی عن المتعہ ما زنی الا شقی” ترجمہ: اگر عمر متعہ سے منع نہ کرتا تو سوائے شقی انسان کے کوئی اس کا مرتکب نہ ہوتا۔ (تفسیرطبری، جلد ۵ صفحہ ۱۱۹؛ تفسیر در منثور ، جلد ۲، صفحہ ۱۴۰ ، و تفسیر قرطبی ، جلد ۵ صفحہ ۱۳۰)۳۔ ” شرط انفساخ” ایک قسم کا ” شرط نتیجہ” ہے جو معروف فقہ میں اس معنی میں پایا جاتا ہے کہ دو شخص ایک معاملہ کو کسی شرط کے ساتھ منعقد کریں اور کوئی واقعہ پیش آجائے یا دونوں میں کوئی ایک کسی کام کو انجام دے تو معاملہ بغیر اس کے کہ فسخ کا صیغہ اجراء کیاجائے خود بخود فسخ ہو جاتا ہے ۔۴۔جو اسلامی علوم منز ل کمال تک پہنچ چکے ہیں ان میں سے ایک علم فقہ ہے ، یہ بات سچ کہ اس زمانے میں وسعت اور نظم و دقت کے اعتبار سے شیعوں کی فقہ بے نظیر ہے،جب تک کوئی اس کو نزدیک سے نہیں دیکھتا یقین نہیں کرتا۔بہت سے مشکل اور پیچیدہ مسائل یہاں تک کہ فقہی نادر فروعات کو بھی شیعوں کی مفصل فقہی کتابوں میں مکمل طور پر زیر بحث لایا گیا ہے ۔حتی فروعات اور نئے مسائل
 ( وہ مسائل جو ہمارے زمانے میں پائے جاتے ہیں)جن سے انسان دو چار ہوتا ہے ، بیمہ ، ایڈوانس منی ، مختلف کمپنیز،حق طبع وغیر پر بھی مستقل کتابیں تالیف ہوئی ہیں۔ اورشیعہ اس کامیابی کے پس منظر میں پہلے مرحلے میں اہل بیت (علیھم اسلام ) کے مدیون ہیں جنہوں نے شیعوں کے لئے باب اجتہاد مسدود نہیں کیا ، اور اپنی روایات اور احادیث کے ذریعے مسلسل ھدایت کرتے رہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.