امام مہدی علیہ السلام کی طولانی عمر

733

امام مہدی علیہ السلام کی طولانی عمر
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زندگی سے مربوط مسائل میں سے ایک مسئلہ آپ کی طول عمر کا ہے ،بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ ایک انسان کااتنی لمبی عمر پانا کیسے ممکن ہے۔ اس سوال کا سرچشمہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں رائج عمر محدود ہے کہ حد اکثر ۸۰ سے ۱۰۰ سال کے درمیان عمر لمبی ہوسکتی ہے (البتہ اس وقت سوسال سے بھی زیادہ عمر والے افراد مل جاتے ہیں اگرچہ بہت کم ہیں) بعض لوگ اتنی عمر کو دیکھنے اور سننے کے بعد لمبی عمر کو قبول نہیں کرتے اور اسے نا ممکن قراردیتے ہیں۔
سائنس کا نظریہ:انسانی علم اور عقل کے لحاظ سے عمر کا لمبا ہونا ایک نا ممکن امر نہیں ہے اور دانشور حضرات بدن کے اجزاء کا مطالعہ کرتے ہوئے اس حقیقت تک پہنچ چکے ہیں کہ ایک انسان کا لمبی عمر پانا ممکن ہے حتی کہ وہ بوڑھا بھی نہ ہو۔
 
 
برنارڈتاوکہتے ہیں: بیالوجی کے ماہرین حضرات اس علمی اصول کو قبول کرتے ہیں کہ انسان کی عمر کے لئے کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جوکسی خاص علاقے سے مربوط نہیں ہے۔ ( راز طول عمر امام زمانہ علیہ السلام ، علی اکبر مہدی پور، ص۱۳)
پروفیسر اٹینگر لکھتا ہے: میری نظر میں علوم کی ترقی کے ساتھ اور جو کام ہم نے شروع کیا ہوا ہے اس کے تحت اکیسویں صدی کا انسان ہزاروں سال لمبی عمر کرسکے گا۔( مجلہ دانشمند، سال۶، ش۶، ص۱۴۷)
لہذا بڑھاپے پر غلبہ پانے اور عمر کے دراز ہونے کی راہوں کے حصول کے لئے دانشوروں کی کوشش اس قسم کے مسئلے کے ممکن ہونے کو بیان کرتی ہے اوراس راستے میں انسان نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس وقت دنیا کے مختلف علاقوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو آب و ہوا اور خوراک اورجسمانی اور فکری سرگرمیوں کے مناسب ہونے کی وجہ سے تقریباً ۱۵۰سال یا اس سے زیادہ عمر رکھتے ہیں۔
آسمانی کتب اور ادیان کا بیان: ان تمام باتوں سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کی تاریخ میں کئی مرتبہ عمر کے لمبی ہونے کا تجربہ ہوا ہے اور آسمانی اورتاریخی کتابوں میں ایسے کئی انسانوں کے نام اور حالات ذکر کیے گئے ہیں جن کی عمریں اس دور کے انسانوں کے عمر سے لمبی تھیں مثال کے طور پر چند نمونوں کو پیش کرتے ہیں:
۱۔ قرآن کریم میں ایک آیت نہ فقط لمبی عمر بلکہ ہمیشہ کے لئے عمر پانے کو ممکن قرار دیتی ہے اوروہ آیت حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں فرمائی ہے:اگر وہ (یونس علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔( سورہ صافات،آیہ۱۴۴)
اس آیت شریفہ کے پیش نظر انسان اور مچھلی کے لئے لمبی عمر کا پانا ممکن ہے۔
۲۔ قرآن کریم حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں فرماتاہے:اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اوروہ ان کے درمیان ۹۵۰سال رہے۔‘‘( سورہ عنکبوت،آیہ۱۴)
آیت شریفہ میں پیغمبر کی رسالت کی مدت کو بیان کیا گیاہے اوربعض احادیث کی بناپر حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ۲۴۵۰سال تھی۔( کمال الدین، ج۲، باب۴۶، ص۳۰۹)
قابل غور بات یہ ہے کہ امام سجاد علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا: امام مہدی علیہ السلام میں حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی کی سنت ہے اور وہ طول عمر ہے۔ ( کمال الدین، ج۱، باب۲۱، ج۴، ص۵۹۱)
۳۔ قرآن کریم حضر ت عیسی علیہ السلام کے بارے میں فرماتاہے: انہوں نے نہ انہیں قتل کیا ہے اورنہ سولی دی ہے بلکہ دوسرے کو ان کی شبیہ بنادیا گیاتھا … اور انہوں نے یقیناًانہیں قتل نہیں کیا ہے بلکہ خدا نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے اورخدا صاحب غلبہ اورصاحب حکمت بھی ہے۔ ( سورہ نساء، آیہ ۱۵۷)
تمام مسلمان قرآنی آیات اورکثیر تعداد میں احادیث کی بناپر عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلا زندہ ہیں اور آسمانوں میں ہیں اور حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت زمین پر آکر ان کی مدد کریں گے۔امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : امام مہدی علیہ السلام میں چار انبیاء کی چار سنتیں پائی جاتی ہیں اورعیسی علیہ السلام کی سنت یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں وہ وفات پاگئے ہیں جبکہ وہ زندہ ہیں۔ ( بحارالانوار،ج۵۱، ص۲۱۷)
قرآن کے علاوہ توریت اور انجیل میں بھی لمبی عمر کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔توریت میں آیا ہے: آدم علیہ السلام کی عمر ۹۳۰ سال تھی ،انوش کی عمر ۹۰۵سال تھی ، قینان کی عمر ۹۱۰ سال تھی اور متوشالح کی عمر ۹۶۹سال تھی (زندہ روزگاران،ص۱۳۲ بنقل از توریت ترجمہ فاضل خانی۔سفر پیدائش باب پنجم آیات ۵۔۳۲)
انجیل میں بھی ایسی عبارتیں موجود ہیں جو اس مطلب کی عکاسی کرتی ہیں کہ عیسی علیہ السلام پھانسی چڑھنے کے بعد زندہ ہوگئے تھے اور آسمان کی طرف چلے گئے تھے اورایک دن وہ نازل ہوں گے اوریہ مسئلہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی عمر دو ہزار سال سے زیادہ ہے۔( زندہ روزگاران ، ص۱۳۴ بنقل از عہد جدید، کتاب اعمال رسولان، باب آیات۱۔۱۲)
اس بیان سے واضح ہوجاتاہے کہ یہود اورعیسائیت کے آئین کے پیروکار کتاب مقدس پر اعتقاد رکھنے کی وجہ سے طول عمر کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں۔
قدرت الہی:اس کے علاوہ طول عمر کا مسئلہ علمی اور عقلی لحاظ سے قابل قبول ہے اورتاریخ میں اس کے بہت سارے نمونے موجود ہیں اور یہ مسئلہ اللہ تعالی کی لامحدود قدرت کے تحت بھی قابل اثبات ہے آسمانی ادیان کے تمام پیروکاروں کے عقیدہ کے مطابق اس جہان کے تمام ذرات اللہ تعالی کے اختیار میں ہیں اور تمام اسباب کی تاثیر اس کے ارادہ سے وابستہ ہے اور اگر وہ نہ چاہئے تو تمام اسباب بے اثر ہوجائیں اور وہ بغیر مادی اسباب کے خلق کرتاہے۔
وہ ایسا خدا ہے جو پہاڑ سے اونٹ باہر نکال لیتا ہے اورجلانے والی آگ کو ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اورسالم بنا دیتا ہے اورموسی علیہ السلام اوران کے پیروکاروں کے لئے دریا کو خشک اور انکے درمیان پانی کی دو دیواریں بنا دیتاہے یہ ایسے حقائق ہیں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے(سورہ ابنیاء ، آیت ۶۹اورسورہ شعراء آیت ۶۳)
اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ تمام انبیاء اور اولیاء کے جانشین اورگنجینہ الہی کے آخر ی جوہر اورتمام نیک لوگوں کی تمنا اور قرآن کے وعدہ کو واقع کرنے والے کو اگر لمبی عمر عطا کرتاہے تو وہ عاجز ہوجائے گا؟!
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:… غیبت کے دوران اللہ تعالی اس (مہدی علیہ السلام) کی عمر کو لمبا کردے گا اورپھر اپنی الہی قدرت کے ذریعے چالیس سال سے کم عمر کے شخص کی طرح آشکار کرے گا تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ اللہ تعالی ہر کام پر قدرت رکھتاہے۔ ( بحارالانوار،ج۵۱، ص۱۰۹)
عقل کا نظریہ: عقل کی نظر میں تمام امور کو ایک لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
(الف):عادی(معمول کے مطابق) امور: ایسے امور جو عام طور پر واقع ہوتے ہیں اورسب لوگ پہچانتے ہیں اورسائنس کے لئے قابل اثبات ہیں جیسے بادلوں کا آنا ،بارش کا ہونا اور ایک درخت کا اپنے معمولی کے مطابق نمو کرنا پھر پھل دینا۔
(ب):محال امور: ایسے امور جن کا ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ ان میں واقع ہونے کی شرائط نہیں پائی جاتیں اور توجہ کرنا چاہئے کہ امور محال بھی دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔
(۱):محال عقلی: ایسا مر جو عقلی لحاظ سے کسی صورت میں موجود نہیں ہوتا (کیونکہ تناقض لازم آتاہے) جیسے یہ کہ خدا دوسرے خدا کو خلق کرئے یہ امر عقلی طور پر محال ہے کیونکہ خدا واجب الوجود اور مخلوق ممکن الوجود ہے اور ممکن الوجود، واجب الوجود (خدا) نہیں بن سکتا۔
(۲)۔ محال عادی: ایسا امر جس کا عام حالت میں واقع ہونا محال ہے لیکن عقل اس کے واقع ہونے کی نفی نہیں کرتی جیسے انبیاء سے صادر ہونے والے معجزات۔ اس قسم کے امور چونکہ جانی پہچانی شرائط کے تحت واقع نہیں ہوتے اس لئے عادی طور پر محال ہیں لیکن خاص اسباب کے تحت ، عقل ان کی پیدائش کو ممکن قراردیتی ہے (البتہ یہ نظریہ خداوند کی قدرت کا دوسرا بیان ہے)
بنابراین امام زمانہ علیہ السلام کی طول عمر کا مسئلہ مختلف عقلی، علمی اور تاریخی پہلوؤں کے لحاظ سے ایک ممکنہ امر اورقابل قبول ہے اور ان سب سے پہلے خداوند قادر کے ارادہ کا جلوہ ہے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.