تاریخ غدیر کی صحیح تحقیق
تاریخ غدیر کی صحیح تحقیقواقعۂ غدیر کی صحیح شناخت حاصل کرنے کا ایک راستہ اس عظیم واقعہ کی تاریخی حوالے سے صحیح تحقیق ہے، دیکھنا یہ چاہیے کہ غدیر کے دن کونسے واقعات اور حادثات رونما ہوئے رسول اکرم [ص] نے کیا کیا؟ اور دشمنوں اور مخالفوں نے کس قسم کا رویّہ اختیار کیا ؟تا کہ غدیر کی حقیقت واضح اور روشن ہو جائے ،اگر غدیر کا دن صرف اعلان ولایت کے لئے تھا؛ تو پھر رسول اکرم [ص] کی گفتگو اور عمل کو بھی اسی حساب سے صرف ابلاغ و پیغام تک محدود ہوناچاہیے تھا ! یعنی رسول اکرم [ص] سب لوگوں کو جمع کرتے اور حضرت علی ۔ کی لیاقت اور صلاحیّتوں کے بارے میں لوگوں کو آگاہ فرماتے ؛ پھر کچھ اخلاقی نصیحتوں کے ساتھ لوگوں کے لئے دعا فرماتے اور خدا کی امان میں دے دیتے ، بالکل اس طرح سے جیسے آج سے پہلے بعثت کے آغاز سے لے کر غدیر کے دن تک بارہا آنحضرت [ص] کی طرف سے دیکھا گیا تھا ۔اس کے بعد ہر شہر و دیار سے آئے ہوئے مسلمان اپنے اپنے وطن کی طرف لوٹ جاتے ۔ رسول اکرم [ص] اس کام کو مکّہ کے عظیم اجتماع میں حج کے وقت بھی انجام دے سکتے تھے عرفات اور منیٰ کے اجتماعات میں بھی یہ کام کیا جاسکتا تھا ۔لیکن غدیر کے تاریخی مطالعہ کے بعد یہ بات واضح ہو جائے گی اور یہ نظریہ سامنے آئے گا کہ غدیر کی داستان کچھ اور ہے ؛ اعمال حج اختتام پذیر ہو چکے ہیں؛ اور رسول خدا [ص] کے آخری حج کے موقع پر شوق دیدار میں ساری دنیا کے اسلامی ممالک سے آئے ہوئے مسلمان اپنے پیغمبر [ص] کوالوداع کر رہے ہیں ؛ یہ عظیم اجتماع موجیں مارتے ہوئے سیلاب کے مانند شہر مکّہ سے خارج ہو تا ہے اور غدیر خم کے مقام پر جہاں ہر شہر اور دیار سے آئے ہوئے مسلمان ایک دوسرے سے جدا ہو کر اپنی اپنی راہ لینا چاہتے ہیں۔یکایک فرشتۂ وحی آنحضرت [ص] پر نازل ہو کر ایک بہت اہم مطلب کی درخواست کرتا ہے ؛ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ رسول گرامی اسلام ا مت میں اختلاف پیدا ہونے سے ڈر رہے ہیں اور جنگ کی حالت پیدا ہو جانے سے گھبرا رہے ہیں ،تین مرتبہ فرشتۂ وحی آتا ہے اور لوٹ جاتا ہے؛ رسول خدا [ص] پریشان ہیں اور اس کام کے انجام دینے سے اجتناب کر رہے ہیں اور تینوں بار حضرت جبرئیل ۔ سے خواہش کرتے ہیں کہ خدا وند عالم انکو اس آخری وظیفہ کو انجام دینے سے معاف رکھے، وحی الٰہی مسلسل آرہی ہے ؛ یہاں تک کہ پیغمبر گرامی اسلام [ص] کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اگر آج آپ نے اس اہم کام کو انجام نہ دیا تو گویا تم نے اپنی رسالت کاکوئی کام نہیں کیا ! پھر اسکے بعد پیغمبر [ص] کو تسلّی دی جاتی ہے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ؛ خدا وند عالم تمہاری او ر تمہارے دین کی حفاظت کرے گا اور کفّار و منافقین کو رسوا کرے گا او ر تمہیں صرف خدا کی پروا کرنی چاہیے ۔جب رسول خدا [ص] کو خدا وند عالم کی طرف سے یہ تسلی ملی تو آپ نے یہ حکم صادر فرمایا کہ سب لوگ غدیر خم کی سرزمین پر ٹہر جائیں ؛ جو لوگ غدیر کے مقام سے آگے چلے گئے تھے انکو پلٹ آنے کے لئے کہا گیا اور جو لوگ ابھی تک اس مقام تک نہ پہنچے تھے ان کے پہنچ جانے کا انتظار کیا گیا ۔ جب تمام اسلامی ممالک سے آئے ہوئے سارے مسلمان غدیر خم کے میدان میں جمع ہوگئے تو حکم فرمایا کہ اونٹوں کے کجاووں کے ذریعہ ایک بلند جگہ ( منبر) تیّار کیا جائے ، اس بلند مقام پر کھڑے ہو کر پروردگار عالم کی حمد و ثنا کے بعد اہم مسئلہ کو ذکر کیا اور اپنے اور فرشتہ وحی کے درمیان واقع ہونے والے ماجر ے کو لوگوں کے سامنے بیان کیا ، اسکے بعد حضرت امیرالمؤمنین ۔ اور انکی اولاد میں سے گیارہ فرزندوں کی تا قیامت قائم رہنے والی امامت اور ولایت کا اعلان فرمایا اور انکا تعارف کروایا ۔پھر عملی طورپر خود حضرت علی ۔ کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کی ؛ اسکے بعد بیعت عمومی کا فرمان جاری کیا ؛ جسکی وجہ سے تمام مردوزن دوسرے دن تک اس مقام پر ٹہرے رہے اور حضرت علی ۔ کی بیعت کرتے رہے اگر روز غدیر صرف ولایت کا پیغام پہنچانے کے لئے ہوتا تو اتنے سارے انتظامات کیونکر رسول خدا [ص]اور مسلمانوں کی عمومی بیعت بھی تشکیل نہ پاتی ، دلچسپ اور جالب توجہ تو یہ ہے کہ مخالفین کے کلمات سے بھی یہ حقیقت واضح اور روشن ہوتی ہے ،خواہ وہ لوگ جو دست بشمشیر تھے یا وہ لوگ جنہوں نے خیمۂ رسول [ص] کے سامنے کھڑے ہو کر تو ہین آمیز الفاظ استعمال کئے !( کیا تم نے یہ کام جو اپنی رسالت کے اختتام پر کیا ہے خدا وند عالم کے حکم سے کیا ہے ) پیغمبر اسلام [ص] نے جواب میں ارشاد فرمایا 🙁 ہاں خدا وند عالم کے حکم سے انجام دیا ہے ۔)
مخالفتوں کی طرف توجّہ :
جو لوگ روز غدیر سے غافل تھے اور ان کی تمام شیطانی آرزوئیں مٹی میں مل ر ہی تھیں تو رسول خدا [ص] سے توہین آمیز کلمات استعمال کرتے ہوئے مخاطب ہوئے اور کہا:تم نے ہم سے کہا: بت پرستی چھوڑ دو ہم نے بتوں کو پوجنا چھوڑ دیا ۔تم نے کہا :نماز پڑھو ، ہم نے نماز یں پڑھیں ۔تم نے کہا :روز ے رکھو ، ہم نے روز ے ر کھے۔تم نے کہا :خمس و زکات دو ، ہم نے ادا کی۔تم نے کہا: حج پہ جاؤ ، ہم گئے ۔اب یہ کو ن سا حکم ہے جو تم نے صادر کیا ہے ؟ اب ہم سے کہہ رہے ہو کہہ ہم تمہارے داماد کی بیعت کریں ۔حضرت زہرا سلام اﷲِ عَلیہاوامیر المؤمنین ۔ کی ولایت کے اعلان‘‘اور غدیر خم میں عمومی بیعت کے تشکیل پانے کے شروع میں ہی مخالفین کی عہد شکنی اور منافقت سے آگاہ تھیں،جب حارث بن نعمان نے مخالفت کی اور کہا اے خدا ! اگر یہ حق ہے کہ ولایت علی ۔ کا اعلان تیری طرف سے ہوا ہے تو مجھ پر آسمان سے ایک پتھر نازل ہو جو میری زندگی کا خاتمہ کردے ۔ فوراً خدا کا عذاب نازل ہوا ؛ آسمان سے ایک پتھر آیا اور اسے ہلاک کر دیا، حضرت زہرا سلام اﷲِ علیہا نے ایک معنی خیز نگاہ سے جناب امیر المؤمنین ۔ کی طرف دیکھا اور فرمایا:” أَتَظُنَّ یٰا اَبَا الْحَسَن ! أَنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ وَحْدَہُ ؟وَاﷲ ! مٰا ھُو إلاَّ طَلِیْعَۃَ قَوْمٍ لاَ یَلْبِثُوْنَ أَ نْ یُکْشِفُوْا عَنْ وُجُوْھِھِمْ أَ قْنَعَتَہٰا عِنْدَ مٰا تَلُوْحُ لَھُمُ الْفُرْصَۃُ .‘‘اے ابو الحسن ۔ : آیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ غدیر کی مخالفت میں یہ آدمی اکیلا ہے،۔ خدا کی قسم ! یہ پیش قدم ہے ایک قوم کا کہ ابھی تک انکے چہروں سے نقابیں نہیں اتری ہیں، اور جس وقت بھی موقع ملا اپنی مخالفت کو ظاہر کردیں گے ۔)(۱)حضرت علی ۔ نے جواب میں فرمایا:( میں خدا وندعالم اور اسکے رسول [ص] کے حکم کو انجام دیتا ہوں اور خد ا پہ توکل کرتا ہوں کہ وہ بہترین مدد گار ہے ۔)حارث بن نعمان فہری نامی ایک شخص جو امام علی ۔ کی دشمنی دل میں لئے ہوئے تھا اُونٹ پر سوار آگے بڑھا اور کہا: ( اے محمد [ص] ! تم نے ہمیں ایک خدا کا حکم دیا ، ہم نے قبول کیا اپنی نبوّت کا ذکر کیا ہم نے ، لا إلٰہ الّاَ اﷲ و مُحَمّد رسول اﷲ کہا ، ہمیں اسلام کی دعوت دی ہم نے قبول کی تم نے کہا پانچ وقت نماز پڑھو ہم نے پڑھی ،زکات ، روزہ ، حج ،جہاد کا حکم دیا ہم نے اطاعت کی ، اب تم اپنے چحا زاد بھا ئی کو ہمارا ا میر بنا رہے ہو ہمیں معلوم نہیں خدا کی طرف سے ہے یا تمہارے اپنے ارادے اور سوچ کی پیدا وار ہے ؟۔ )رسول خدا [ص] نے ارشاد فرمایا 🙁 اس خدا کی قسم کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، یہ حکم اس خدا ہی کی طرف سے ہے اور میرا کام تو صرف پیغا م پہنچا نا ہے ۔) حارث یہ جواب سن کر غضبناک ہو گیا اور اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھا کر کہنے لگا : ( اے خدا ! اگر جو کچھ محمّد [ص]نے علی ۔ کے بارے میں کہا ہے تیری طرف سے……………( ۱)۔ (الف ) سیرۂ حلبی ، ج ۳ ص ۳۰۸/۳۰۹ :حلبی شافعی ( متوفّیٰ ۱۰۴۴ ھ )(ب) نزھۃ المجالس ، ج ۲ ص ۲۰۹ : ( تفسیر قرطبی سے نقل کیا ہے ) :علامہ صفوری شافعی ( متوفّیٰ ۸۹۴ ھ)
اور تیرے حکم سے ہے تو آسمان سے ایک پتھر مجھ پر آئے اور مجھے ہلاک کر دے۔) ابھی حارث بن نعمان کی بات ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ آسمان سے ایک پتھر گرا اور اسکو ہلاک کر دیا۔ اور اس وقت سورۂ مبارکہ معارج کی آیات ۱ اور ۲ نازل ہوئیں۔( سَأَلَ سٰائلٌ بِعَذ ٰابٍ وٰاقِعٍ لِلکٰافِرٖیْنَ لَیْسَ لَہُ د ٰافِعٌ )(۱) ایک مانگنے والے نے کافروں کے لئے ہو کر رہنے والے عذاب کو ما نگا جس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ……………
۱۔ غریب القرآن : ہروی۲۔ شفاء الصّدور : موصلی۳۔ الکشف والبیان : ثعلبی۴۔ رعاۃ الھداۃ : حسکانی۵۔ الجامع لاحکام القرآن : قرطبی۶۔ تذکرۃ الخواص ، ص ۱۹ : سبط بن جوزی۷۔ الاکتفاء : وصابی شافعی۸۔ فرائد السمطین ، باب ۱۳ : حموینی۹۔ معارج الاصول : زرندی۱۰۔ نظم دررالسمطین : زرندی۱۱۔ ھداۃ السّعداء : دولت آبادی۱۲۔ فصول المہمّۃ ، ص ۴۶ : ابن صباغ۳ ۱۔ جواہر العقدین : سمہودی۱۴۔ تفسیر ابی السعود ، ج ۸ ،ص ۲۹۲ : عمادی۱۵۔ السراج المنیر ، ج ۴ ، ص ۳۶۴ : شربینی۱۶۔ الا ربعین فی فضائل امیر المؤمنین ۔ / ۷ : جمال الدّین شیرازی۱۷۔ فیض القدیر ، ج ۶ ، ص ۲۱۸ : مناوی۱۸۔ العقد النّبوی و السّر المصطفوی : عبد روس۱۹۔ وسیلۃ المآل : باکثیر مکّی۲۰۔ نزہۃ المجالس ، ج ۲ ،ص ۲۴۲ : صفوری۲۱۔ السیرۃ الحلبیّۃ ، ج ۳ ، ص ۳۰۲ : حلبی۲۲۔ الصراط السوی فی مناقب النّبی : قاری۲۳۔ معارج العلیٰ فی مناقب المصطفیٰ : صدر عالم۲۴۔ تفسیر شاہی : محبوب عالم۲۵۔ ذخیرۃ المآل : حفظی شافعی۲۶۔ الرّوضۃ النذیّۃ : یمانی۲۷۔ نور الابصار ، ص ۷۸ : شبلنجی۲۸۔ تفسیر المنار ، ج ۶ ، ص ۴۶۴ : رشید رضا۲۹ ۔ الغدیر ، ج ۱، ص ۲۳۹ : علّامہ امینی ؒاور سینکڑوں سنّی، شیعہ کتب تفاسیرکہ جن میں اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے ۔