وقت ظہور اصحاب امام کا جمع ہونا

357

وقت ظہور اصحاب امام کا جمع ہونا
ظہور کے دن اصحاب کے امام کے گرد جمع ہونے کے بارے میں جو کچھ بیان ہواہے وہ پہلے گروہ سے مربوط ہے۔ خاص اصحاب (۳۱۳افراد) کا مکہ میں حاضر ہونا دو صو رتوں میں قابل تصور ہے:
۱۔ عادی اور معمولی صورت میں یعنی علامات کے ظاہر ہونے کے بعد جو بھی مکہ کے سفر کی استطاعت اور وسائل رکھتے ہونگے، وہ اپنے آپ کو مکہ پہنچائیں گے۔
معجزہ کی صور ت میں : یعنی جن اصحاب کا مکہ میں حاضر ہونا ضروری ہے اوروہ معمولی اور عادی طریقے سے نہیں جاسکتے وہ قدرت الہی اور طی الارض کے ذریعے مکہ میں پہنچیں گے۔
امام باقر علیہ السلام سے نقل ہونے والی ایک روایت میں ہے کہ پس جو شخص راستہ میں ہوگا وہ پہنچ جائے گا اور جو سفر کے لئے نہ نکل سکا ہوگا وہ اپنے بستر سے غائب ہوجائے گا اور یہ وہی امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا: ”اپنے بستروں سے غائب ہونے والے‘‘ نیز اللہ تعالی کا یہ فرمانا کہ : (فاستبقوالخیرات أین ما تکونوایأت بکم اللہ جمیعاً)( بقرہ آیت۱۴۸.) اب تم نیکیوں کی طرف سبقت کرو اور تم سب جہاں بھی رہو گے خدا ایک دن سب کو جمع کردے گا ظہور کے وقت امام مہدی علیہ السلام کے پاس۔( بحار،ج۵۲، ص۲۸۳، ح۱۰.)
لہذا یہاں استطاعت کے ہونے اور نہ ہونے کی بات نہیں ہے، بلکہ خدا کا ارادہ اور اس کی قدرت کا کرشمہ ہے اور اللہ تعالی فرماتاہے:(اِنّما امرہ اذا أَرَادَ شیئاً ان یقولَ لَہُ کُنْ فَیَکُون)( یس، آیت ۸۲.)اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شئے کے بارے میں ارادہ کرے کہ ہو جا وہ شئے ہو وجاتی ہے۔
یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ تمام اصحاب کا معجزے کے ذریعے جمع ہونا بھی ممکن ہے کیونکہ اس بارے میں نقل ہونے والی احادیث میں تفصیلی نکات بیان نہیں ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.