حقوق اھل بیت اھلسنت کی تفسیروں میں
سبب نزول
حاکم نیشاپوری (متوفی ٤٠٥ق) رقمطراز ہیں کہ بروایت عبداللہ بن جعفر جب رسول خدا ۖ نے آسمان سے رحمت الٰہی کو اترتے ہوئے دیکھا تو باربار فرمانے لگے کہ ” میرے پاس بلائو ۔ میرے پاس بلائو”صفیہ نے پوچھا : ” یا رسول اللہ ! کس کو بلائوں ؟۔ فرمایا: ” میرے اہلبیت کو ، علی ، فاطمہ، حسن اور حسین کو”۔جب ان حضرات کو بلایا گیا تو پیغمبر ۖ نے اپنی کساء ان کے اوپر اوڑھائی ، اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور فرمایا: خدایا ! یہ میرے اہلبیت ہیں محمد اور ان کے اہلبیت پر درود نازل فرما۔چنانچہ رب کریم نے آیۂ تطہیر کو اتارا۔مصنف اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں :ھذٰا حدیث صحیح الاسناد۔(حاکم نیشاپوری، المستدرک ج ٣ ص ١٤٨)۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔دیگر صحابہ جیسے عمر بن ابی سلمہ۔ ابوسعید خدری وغیرہ کی متعدد روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آیہ تطہیر پنج تن پاک کی شان میں ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی اور نہ صرف یہ کہ یہ آیت ، حضرات اہل بیت اور بطور خاص فاطمہ زہرا (س) کی شان میں اتری ہے بلکہ یہ اصحاب کساء تھے جو اس آیت کے نزول کا سبب قرار پائے۔
نزول آیت کے بعد سیرت پیغمبرۖ١: ابن عباس کی روایت:۔میں دیکھتا تھا کہ پورے نو مہینے تک رسول خدا ۖ ہر روز پانچ مرتبہ ہر نماز کے وقت علی ابن ابی طالب (ع) کے گھر پر تشریف فرما ہو کر فرماتے تھے۔ ” خدا کا درود اور اس کی رحمت اور برکتیں ہوں تم پر اے اہل بیت ۔ اور تمہیں مبارک ہو”۔ انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت و تطھرکم تطھیرا۔ نماز اور اس عمل کو نبی رحمت ہر روز پانچ مرتبہ انجام دیتے تھے”۔٢: انس بن مالک کی روایت؛۔پیغمبر ۖچھ ماہ تک ہر روز فاطمہ زہرا (س) کے گھرسے گذرتے تھے اور فرماتے تھے اے اہل بیت ! نماز !حاکم حسکانی نے بھی اس روایت کو مختلف اسناد سے نقل کیا ہے۔٣: ابوہرزہ کہتے ہیں : میں نے سترہ ماہ تک رسول خدا ۖ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ نماز کے لئے نکلتے وقت در فاطمہ پر آ کر فرماتے تھے۔ ” تم پر ہمیشہ اور مسلسل سلام و درود ہو۔ انما یرید اللہ لیذھب ۔۔۔۔”٤: ابو الحمراء کہتے ہیں: مجھے یاد ہے کہ آٹھ ماہ تک نبی ۖ مدینے میں جب بھی نماز صبح کے لئے گھر سے برآمد ہوتے تھے علی کے دروازے پر آکر اپنے دونوں ہاتھوں کو دروازے کے دونوں طرف رکھ کر فرماتے تھے نماز! نماز! انما یزید اللہ الخ۔پیغمبر ۖ سے اس عمل کا تکرار ، ایک ماہ تک چھ ماہ تک، ساتھ ماہ تک نماز صبح کے وقت، نو ماہ تک اور دس ماہ تک نقل ہوا ہے۔٥: ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول خدا ۖ چالیس دن تک فاطمہ زہراء (س) کے دروازے پر آکر فرماتے تھے ”تم پر سلام اے اہل بیت!اور خدا کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، انما یرید ۔۔۔الخ۔ تم جس کے ساتھ دشمنی رکھو گے میں اس کا دشمن ہوں اور جس کے ساتھ دوستی رکھو گے میں اس کا دوست ہوں۔
شان نزول بقول معصومینفریقین کے منابع میں سیکڑوں روایتیں بتاتی ہیں کہ معصومین علیھم السلام نے اس آیت کواپنی شان میں قرار دیا ہے اور اپنے حق میں اس سے استدلال کیا ہے چنانچہ پیغمبر اسلام ۖ سے لے کر حضرت امام حسن عسکری تک ہر معصوم نے اس سے اپنے حق میں استدلال کیا ہے ۔
شان نزول صحابہ اور ازواج نبی ۖکی زبانیصحابہ اور ازواج سمیت کل ٢٦ افراد نے اس آیت کو اہل بیت کی شان میں قرار دیا ہے جن میں ام المومنین عائشہ ، ام المومنین سلمہ اور ام المومنین زینب شامل ہیں۔ان کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام نے شوریٰ کے سامنے کہ جسے حضرت عمر نے نامزد کیا تھا اپنے حق کے اثبات کے لئے آیہ ٔ تطہیر سے استدلال کیا ۔امام حسن علیہ السلام نے دوبار اس آیت سے استدلال کیا۔ ایک بار اس روز جب علی کے سر اقدس پر ضربت لگی اور دوسری بار حضرت علی کی شہادت کے بعد آپ نے منبر سے استدلال کیا۔امام حسین علیہ السلام نے استدلال کیا۔ امام زین العابدین نے اس آیت سے استدلال کیا ایک شامی کے جواب میں۔ صحابہ میں سے ابن عباس نے ایک گروہ کے مقابلے میں ،سعد بن ابی وقاص نے معاویہ کے خلاف اور واثلہ بن اسقع نے ایک گروہ کے مقابلہ میں جو علی علیہ السلام کو دشنام دے رہا تھا اس آیت سے استدلال کیا اور انہیں اس برائی سے باز رکھا۔
بعض علماء اہل سنت کا موقفاہل سنت کے بہت سے علماء اور بزرگان تفسیر و حدیث نے صرف اہلبیت کو اصحاب کساء قرار دیا ہے جن کی فہرست ٣٢ افراد پر مشتمل ہے جن میں جمہور اہل سنت امام شافعی، احمد بن حنبل ، امام طحاوی ،شلنجی ، حاکم نیشاپوری وغیرہ شامل ہیں۔لاتعداد مفسرین ، محدثین ، رجال اور بزرگان اہل سنت نے حدیث کساء کے صحیح ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ابن جریر طبری، طحاوی اور احمد طبری میں سے ہر ایک نے سولہ روایتیں ، سیوطی نے پندرہ حدیثیں ، ابن مردویہ نے انیس روایتیں اور ابو حاتم نے آٹھ حدیثیں نقل کی ہیں جن سب کی دلالت اس امر پر ہے کہ آیۂ تطہیر اصحاب کساء کے بارے میں اتری ہے۔اہل بیت اور صحابہ کے چالیس افراد نے حدیث کساء کو مختلف مضامین کے ساتھ نقل کیا ہے۔حاکم حسکانی نے شواہد التنزیل میں تقریبا ١٣٨ حدیثیں چودہ صحابیوں سے مختلف اسناد سے حدیث کساء کی صحت کے بارے میں نقل کی ہیں اس نے حدیث کساء کو رسول اسلام ۖ کی زوجہ ام سلمہ سے ٦٩ مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے۔اس باب میں ابن مردویہ کا اعتراف ہے کہ سو سے زیادہ اسناد میں آیا ہے کہ آیۂ تطہیر علی، حسن اور حسین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔امام رازی اور نیشا پوری نے دعویٰ کیا ہے کہ اہل تفسیر اور حدیث ، حدیث کساء کی صحت پر اتفاق رکھتے ہیں ۔حضرمی کا کہنا ہے کہ امت کا اجماع ہے کہ اصحاب کساء سے مراد اہل بیت ہیں۔ابن تیمیہ نے عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث کو نقل کر کے اعتراف کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ابو بکر نقاش نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ اکثر اہل تفسیر کا اجماع ہے کہ آیہ تطہیر علی ،فاطمہ، حسن اور حسین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔