ضرورت اثبات وجود امام زمان عج اللہ فرجہ الشریف

333

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں كہ آخر شيعہ ايك امام كے وجودكوثابت كرنے پر كيوں مصر ہيں ؟ اپنے عقيدہ كے سلسے ميں اتنى جد و جہد كرتے ہيں كہ : اگر امام ظاہر نہيں ہے تو پردہ غيبت ميں ہے _ اس بات كے پيش نظر كہ انبياء نے احكام خدا كو لوگوں كے سامنے مكمل طور پر پيش كرہے _ اب خدا كو كسى امام كے وجود كى كيا ضرورت ہے ؟اسکے جواب میں ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ جو دليل نبوت عامہ كے اثبات پر قائم كى جاتى ہے اور جس سے يہ بات ثابت كى جاتى ہے كہ خدا پر احكام بھيجنا واجب ہے اس دليل سے امام ، حجت خدا اور محافظ احكام كا وجود بھى ثابت ہوتا ہے _ اپنا مدعا ثابت كرنے كيلئے پہلے ميں اجمالى طور پر نبوت عامہ كے برہان كو بيان كرتا ہوں _ اس كے بعد مقصد كا اثبات كروں گا _
 
اگر آپ ان مقدمات اور ابتدائي مسائل ميں صحيح طريقہ سے غور كريں جو كہ اپنى جگہ ثابت ہوچكے ہيں تو ثبوت عاملہ والا موضوع آپ پرواضح ہوجائے گا _
1_ انسان اس زاويہ پر پيدا كيا گيا ہے كہ وہ تن تنہا زندگى نہيں گزار سكتا بلكہ دوسرے انسانوں كے تعاون كامحتاج ہے _ يعنى انسان مدنى الطبع خلق كيا گيا ہے _اجتماعى زندگى گزارنے كيلئے مجبور ہے _ واضح ہے كہ اجتماعى زندگى ميں منافع كے حصول ميں اختلاف ناگزير ہے _ كيونكہ معاشرہ كے ہر فرد كى يہ كوشش ہوتى ہے كہ وہ مادہ كے محدود و منافع سے مالامال ہوجائے اور اپنے مقصد كے حصول كى راہ ميں ركاوٹ بننے والوں كو راہ سے ہٹادے جبكہ دوسرے بھى اسى مقصد تك پہنچنا چاہتے ہيں _ اس اعتبار سے منافع كے حصول ميں جھگڑا اور ايك دوسرے پر ظلم و تعدى كا باب كھلتا ہے لہذا معاشرہ كو چلانے كيلئے قانون كا وجود ناگزير ہے تا كہ قانون كے زير سايہ لوگوں كے حقوق محفوظ رہيں اور ظلم و تعدى كرنے والوں كى روك تھام كى جائے اور اختلاف كا خاتمہ ہوجائے _ اس بنياد پر يہ بات كہى جا سكتى ہے كہ بشريت نے آج تك جو بہترين خزانہ حاصل كيا ہے وہ قانون ہے اور اس بات كا بھى اندازہ لگايا جاسكتا ہے كہ انسان اپنى اجتماعى زندگى كے ابتدائي زمانہ سے ہى كم و بيش قانون كا حامل تھا اور ہميشہ سے قانون كا احترام كرتا چلا آرہا ہے _
2_ انسان كمال كا متلاشى ہے اور كمال و كاميابى كى طرف بڑھنا اس كى فطرت ہے _ وہ اپنى سعى مبہم كو حقيق مقصد تك رسائي اور كمالات كے حصول كيلئے صرف كرتا ہے ، اس كے افعال ، حركات اور انتھك كوششيں اسى محور كے گرد گھومتى ہيں _
3_ انسان چونكہ ارتقاء پسند ہے اور حقيقى كمالات كى طرف بڑھنا اس كى سرشت ميں وديعت كيا گيا ہے اس لئے اس مقصد تك رسائي كا كوئي راستہ بھى ہونا چاہئے كيونكہ خالق كوئي عبث و لغو كام انجام نہيں ديتا ہے _
4_ يہ بھى ثابت ہوچكا ہے كہ انسان جسم و روح سے مركب ہے جسم كے اعتبار سے مادى ہے _ ليكن روح كے ذريعہ ، جو بدن سے سخت ارتباط و اتصال ركھتى ہے ، وہ ترقى يافتہ ہے اور روح مجرّد ہے _
5_ انسان چونكہ روح و بدن سے مركب ہے اس لئے اس كى زندگى بھى لامحالہ دوقسم كى ہوگى : ايك دنيوى حيات كہ جس كا تعلق اس كے بدن سے ہے _ دوسرے معنوى حيات كہ جس كا ربط ا س كى روح اور نفسيات سے ہے _ نتيجہ ميں ان ميں سے ہر ايك زندگى كے لئے سعادت و بدبختى بھى ہوگى _
6_ جيسا كہ روح اور بدن كے درميان سخت قسم كا اتصال و ارتباط اور اتحاد برقرار ہے ايسا ہى دنيوى زندگى اور معنوى زندگى ميں بھى ارتباط و اتصال موجود ہے _
يعنى دنيوى زندگى كى كيفيت ، انسان كے بدن كے افعال و حركات اس كى روح پر بھى اثر انداز ہوتے ہيں جب كہ نفسانى صفات و كمالات بھى ظاہر افعال كے بجالانے پر اثر انداز ہوتے ہيں _
7_ چونكہ انسان كمال كى راہ پر گامزن ہے اور كمال كى طرف راغب ہونا اس كى فطرت ميں داخل ہے ، خدا كى خلقت بھى عبث نہيں ہے _ اس لئے انسانى كمالات كے حصول اور مقصد تك رسائي كے لئے ايسا ذريعہ ہونا چاہئے كہ جس سے وہ مقصد تك پہنچ جائے اور كج رويوں كو پہچان لے _
8_ طبعى طور پر انسان خودخواہ اور منفعت پرست واقع ہوا ہے ، صرف اپنى ہى مصلحت و فوائد كو مد نظر ركھتا ہے _ بلكہ دوسرے انسانوں كے مال كو بھى ہڑپ كرلينا چاہتا ہے اور ان كى جانفشانى كے نتيجہ كا بھى خودہى مالك بن جانا چاہتا ہے _
9_ باوجوديكہ انسان ہميشہ اپنے حقيقى كمالات كے پيچھے دوڑتا ہے اور اس حقيقت كى تلاش ميں ہر دروازہ كو كھٹكھٹاتا ہے ليكن اكثر اس كى تشخيص سے معذور رہتا ہے
كيونكہ اس كى نفسانى خواہشيں اور درونى جذبات عقل عملى سے حقيقت كى تشخيص صلاحيت اور انسانيت كے سيدھے راستہ كو چھپاديتے ہيں اور اسے بدبختى كى طرف كھينچ لے جاتے ہيں _
چونكہ انسان اجتماعى زندگى گزار نے كيلئے مجبور ہے اور منافع ميں اپنے بھائيوں سے مزاحمت بھى اجتماعى زندگى كالازمہ ہے لہذا انسانوں كے درميان قانوں كى حكومت ہونا چاہئے تا كہ اختلاف و پراكندگى كا سد باب ہوجائے _ قانوں بھى معاشرہ كو اسى صورت ميں چلا سكتا ہے كہ جب درج ذيل شرائط كا حامل ہوگا _
1_ قوانين جامع و كامل ہوں تا كہ تمام اجتماعى و انفرادى امور ميں ان كا نفوذ اور دخل ہو _ ان ميں تمام حالات اور ضرورتوں كى رعايت كى گئي ہو ، كسى موضوع سے غفلت نہ كى گئي ہو ايسے قوانين كو معاشرہ كے افراد كى حقيقى اور طبيعى ضرورتوں كے مطابق ہونا چاہئے _
2_ قوانين حقيقى كاميابى و كمالات كى طرف انسان كى راہنمائي كرتے ہوں ، خيالى كاميابى و كمالات كى طرف نہيں _
3_ ان قوانين ميں عالم بشريت كى سعادت و كاميابى كو ملحوظ ركھا گيا ہو اور مخصوص افراد كے مفاد كو پور ا نہ كرتے ہوں _
4_ وہ معاشرے كو انسانى كمالات و فضائل كے پايوں پر استوار كرتے ہوں اور اس كے اعلى مقصد كى طرف راہنمائي كرتے ہوں يعنى اس معاشرے كے افراد دنيوى زندگى كو انسانى فضائل و كمالات كا ذريعہ سمجھتے ہوں اور اسے ( دنيوى زندگى كو) مستقل ٹھكانا خيال نہ كرتے ہوں_
5_ وہ قوانين ظلم و تعدى اور ہرج و مرج كو رد كركے كى صلاحيت ركھتے ہوں اور تمام افراد كے حقوق كو پورا كرتے ہوں _
6_ ان قوانين كى ترتيب و تدوين ميں روح اور معنوى زندگى كے پہلوؤں كى بھى مكمل طور پر رعايت كى گئي ہو يعنى ان ميں سے كوئي قانون بھى نفس اور روح كيلئے ضرر رساں نہ ہو اور انسان كو سيدھے راستہ سے منحرف نہ كرتا ہو _
7_ معاشرے كو انسانيت كے سيدھے راستہ سے منحرف كرنے اور ہلاكت كے غار ميں ڈھكيل دينے والے عوامل سے پاك و صاف كرتا ہو _
8_ ان قوانين كا بنانے والا تزاہم ( ٹكراؤ) مصلحت اور مفاسد كو بھى اچھى طرح جانتا ہو _ زمان و مكان كے اقتضا سے واقف ہو _
انسان يقينا ايسے قوانين كا محتاج ہے اور يہ اس كى زندگى كے ضروريات ميں شمار ہوتے ہيں اور قانون كے بغير انسانيت تباہ ہے _ ليكن يہ بات موضوع بحث ہے كہ كيا بشر كے بنائے ہوئے قوانين اس عظيم ذمہ دارى كو پورا كرسكتے ہيں اور معاشرہ كو چلانے كى صلاحيت ركھتے ہيں يا نہيں ؟
ہمار ا عقيدہ ہے كوتاہ فكر اور كوتاہ انديش افراد گا بنايا ہوا قانون ناقص اور معاشرہ كے نظم و نسق كو برقرار ركھنے كى صلاحيت سے عارى ہے _ دليل كے طور پر چند موضوعات پيش كئے جا سكتے ہيں _
1_ انسان كے علم و اطلاع كا دائرہ محدود ہے _ عام آدمى مختلف انسانوں كى ضروريات خلقت كے رموز و اسرار خير و شر كے پہلوؤں ، زمان و مكان كے اقتضاء كے اعتبار سے فعل و انفعالات ، تاثير وتأثر اور قوانين كے تزاحم سے مكمل طور پر واقف نہيں ہے _
2_ اگر بفرض محال قانون بنانے والے انسان ايسے جامع قانون بنانے ميں كامياب بھى ہوجائيں تو بھى وہ دنيوى زندگى اور معنوى حيات كے عميق ارتباط اور ظاہر حركات كے نفس پر ہونے والے اثرات سے بے خبر ہيں اور كچھ آگہى ركھتے ہيں تو وہ ناقص ہے اصولى طور پر معنوى زندگى ، ان كے پروگرام سے ہى خارج ہے _ وہ بشريت كى خوش بختى اور سعادت مندى كو مادى امور ميں محدود سمجھتے ہيں جبكہ ان دونوں زندگيوں ميں گہرا ربط ہے اور جدائي ممكن نہيں ہے _
2_ چونكہ انسان خودخواہ ہے لہذا دوسرے انسانوں كا استحصال طبيعى ہے چنانچہ نوع انسان كا ہر فرد اپنے مفاد كو دوسروں كے مفاد پر ترجيح ديتا ہے _ پس اختلاف اور استحصال كا سد باب كرنا اس كى صلاحيت سے باہر ہے ، كيونكہ قانون بنانے والے انسان كو اس كى خواہش ہرگز اس بات كى اجازت نہيں ديتى كہ وہ اپنے اور اپنے عزيزوں كے منافع و مفاد سے چشم پوشى كركے لوگوں كى مصلحت كو مد نظر ركھے _
4_ قانون بنانے والا انسان ہميشہ اپنى كوتاہ نظرى كے اعتبار سے قانون بناتا ہے اور انھيں اپنے كوتاہ افكار ، تعصبات اور عادتوں كے غالب ميں ڈھالتاہے ، لہذا چند افراد كے منافع اور مفاد كے لئے قانون بتاتا ہے اور قانون بناتے وقت دوسروں كے نفع و ضرر كو ملحوظ نہيں ركھتا _ ايسے قوانين ميں عام انسانوں كى سعادت كو مد نظر نہيں ركھا جاتا _ صرف خدا كے قوانين ايسے ہيں جو كہ انسان كى حقيقى ضرورتوں كے مطابق اور خلقت كے رموز كے مطابق نبے ہيں ، ان ميں ذاتى اغراض و مفاد او ركجى نہيں ہے اور ان ميں عالم بشريت كى سعادت كو مد نظر نظر ركھا گيا ہے _ واضح ہے كہ انسان قانون الہى كا محتاج ہےاور خدا كے الطاف كا اقتضا يہ ہے كہ وہ مكمل پروگرام بنا كر اپنے پيغمبروں كے ذريعہ بندوں تك پہنچائے _
جس وقت انسان دن رات اپنى دنيوى زندگى ميں سرگرم ہوتا ہے اسى وقت اس كے باطن ميں بھى ايك سربستہ زندگى موجود ہوتى ہے _ ممكن ہے وہ اس كى طرف بالكل متوجہ نہ ہو اور مكمل طور پر اسے فراموش كرچكا ہو _ اس مجہول زندگى كى بھى سعادت و شقاوت ہوتى ہے _ بر حق عقائد و افكار ، پسنديدہ اخلاق اور شائستہ اعمال روحانى ترقى او ركمال كا باعث ہوتے ہيں اور اسے سعادت و كمال كى منزل تك پہنچاتے ہيں جيسا كہ باطل عقائد ، برے اخلاق اور ناروا حركتيں بھى نفس كى شقاوت و بدبختى كا سبب قرار پاتى ہيں _ اگر انسان ارتقاء كے سيدھے راستہ پر گامزن ہوتا ہے تو وہ اپنى ذات كے جوہر اور حقيقت كى پرورش كرتا اور اسے ترقى ديتا ، اپنے اصلى مركز عالم نورانيت كى طرف پرواز كرتا ہے اور اگر روحانى كمالات اور پسنديدہ اخلاق كو اپنى حيوانى قوت و عادت اور خواہش نفس پر قربان كرديتا ہے اور ايك درندہ و ہوس راں ديوبن جاتاہے تو وہ ارتقاء كے سيدھے راستہ سے منحرف ہوجائے گا اور تباہى و بدبختى كے بيابان ميں بھٹكتا پھرے گا _ پس معنوى حيات كے لئے بھى انسان ايك مكمل پروگرام اور معصوم راہنما كامحتاج ہے _ كسى كى مدد كے بغير اس خطرناك راستہ كو طے نہيں كرسكتا كيونكہ اس كى نفسانى خواہشيں اس كى عقل كواكثر صحيح فيصلہ كرنے اور حقيقت بينى سے باز ركھتى ہيں اور اسے ہلاكت كى طرف لے جاتى ہيں ، وہ اچھے كہ برا اور برے كو اچھا كركے دكھاتى ہيں _
صرف خالق كائنيات انسان كے حقيقى كمالات ، واقعى نيك بختى اور اس كے اچھے برے سے واقف ہے اور وہى اس كى نفس كى سعادت و كاميابى اور بدبختى و ناكامى كے عوامل سے بچانے كامكمل دستور العمل انسان كے اختيا رميں دے سكتا ہے _ پس اخروى سعادت تك پہنچنے كے لئے بھى انسان خالق كائنات كا محتاج ہے _
اس سے يہ نتيجہ برآمد ہوتا ہے كہ خدائے حكيم نے انسان كو ، جو كہ سعادت و بدبختى دونوں كى صلاحيت ركھتا ہے ، ہرگز خواہشات نفس اور حيوانى طاقت كا مطيع نہيں بنايا ہے اور جہالت و نادانى كے بيابان ميں سرگرداں نہيںچھوڑا ہے _ بلكہ اس كے بے شمار الطاف كا اقتضا تھا كہ وہ اپنے برگزيدہ پيغمبروں كے ذريعہ ايسے احكام ، قوانين اور مكمل دستور العمل جو كہ دنيوى و اخروى سعادت و كاميابى كا ضامن ہو ، انسانوں تك پہنچائے اور سعادت و كاميابى اور بدبختى و ناكامى سے انھيں آگاہ كرے تا كہ ان پر حجّت تمام ہوجائے اور مقصد تك پہنچنے كا راستہ ہموار ہوجائے _
انسان كى ترقى اور خدا تك پہنچنے كا سيدھا راستہ ، برحق عقائد ، اعمال صالح اور نيك اخلاق ہيں كہ جنھيں خدا نے انبياء كے پاكيزہ قلوب پرنانزل كيا ہے تاكہ وہ انھيں لوگوں تك پہنچاديں ليكن يادرہے يہ راستہ كوئي وقتى اور تشريفاتى نہيں ہے كہ جس كا مقصد سے كوئي ربط نہ ہو بلكہ يہ حقيقى اور واقعى راستہ ہے كہ جس كا سرچشمہ عالم ربوبيت ہے جو بھى اس پر گامزن ہوتا ہے _ وہى اپنے باطن ميں سير ارتقاء كرتا ہے اور بہشت رضوان كى طرف پرواز كرتا ہے _
بعبارت ديگر : دين حق ايك سيدھا راستہ ہے ، جو بھى اسے اختيار كرتا ہے اسكى انسانيت كامل ہوتى ہے اور وہ انسانيت كے سيدھے راستہ سے سرچشمہ كمالات كى طرف چلا جاتا ہے جو ديانت كے سيدھے راستے سے منحرف ہوجاتا ہے وہ مجبوراً انسانيت كے فضائل كى راہ كو گم كركے حيوانيت كے كج راستہ پر لگ جاتا ہے _ حيوانيت و درندگى كے صفات كى تقويت كرتا اور راہ انسانيت كو طے كرنے سے عاجز ہوجاتا ہے ايسے شخص كى زندگى دشوار ہوجاتى اور جہنم اس كى تقدير بن جاتاہے _
خداوند عالم كے لطف كا اقتضا يہ ہے كہ لوگوں تك احكام اور ضرورى قوانين پہچانے كے لئے انبياء كو مبعوث كرے تا كہ وہ مقصد تخليق كى طرف ان كى راہنمائي كريں _ خدا كا يہ مقصد اس صورت ميں پورا ہوسكتا ہے كہ جب اس كے احكام بغير كسى تحريف _ بغير كمى بيشي_ كے لوگوں تك پہنچ جائيں اور ان كا عذر بھى ختم ہوجائے _ اس لئے پيغمبر خطا و نسيان سے معصوم و محفوظ ہوتے ہيں يعنى خدا سے احكام لينے ، ان كا يادركھنے اور لوگوں تك پہنچانے ميں خطا و نسيان سے محفوظ ہوتے ہيں _ اس كے علاوہ ان احكام پر انبياء كو خود بھى عمل كرنا چاہئے تا كہ ان كے قول و عمل ميں تضاد نہ ہو اور قول و عمل كے ذريعہ لوگوں كو حقيقى كمالات كى طرف دعوت ديں كہ ان كے پاس كو ئي عذر و بہانہ باقى نہ رہے اور راہ حق كى تشخيص ميں ادھر ادھر نہ بھٹكين اور پھر پيغمبر ہى احكام خدا كا اتباع نہيں كريں گے تو ان كى تبليغ كا بھى كوئي اثر نہ ہوگا ، لوگان پر اعتماد نہيں كريں گے ، كيونكہ وہ اپنى بات كے خلاف عمل كرتے ہيں اور اپنے عمل سے لوگوں كو احكام كے خلاف عمل كرنے كى دعوت ديتے ہيں
اور يہ بات تو واضح ہے كہ عملى تبليغ اگر قولى تبليغ كے برابر نہيں تو كم بھى نہيں ہے _
ہمارے علوم و مدركات خطا سے محفوظ نہيں ہيں كيونكہ وہ حواس اور قوائے مدركہ كے ذريعہ حاصل حاصل ہوتے ہيں اور حواس سے سرزد ہونے والى غلطى و خطا سب پر عياں ہے _ ليكن لوگوں كى ہدايت كيلئے جو علوم و احكام خدا كى طرف سے وحى كے ذريعہ انبياء پر نازل ہوتے ہيں _ ان كى يہ كيفيت نہيں ہے ، انھيں انبياء نے حواس اور قوہ مدركہ كے ذريعہ حاصل نہيں كيا ہے ورنہ ان كى معلومات ميں خطاكار واقع ہونا ضرورى ہوتا اور اس طرح لوگوں تك حقيقى احكام نہيں پہنچ سكتے تھے _ بلكہ ان كے علوم كا طريقہ يہ ہے كہ وہ عالم غيب سے ان كے قلب پر نازل ہوتے ہيں ، ان حقائق كو وہ علم حضورى كى صورت ميں مشاہدہ كرتے ہيں اور جن چيزوں كا وہ دل كى آنكھوں سے مشاہدہ كرتے ہيں وہ ان پر عالم بالا سے نازل ہوتے ہيں اور وہ انھيں لوگوں كے اختيار ميں ديتے ہيں ، چونكہ انبياء ان حقائق كا ادراك كرتے ہيں اسلئے ان كے سمجھنے اور يادر كھنے ميں كوئي خطا واقع نہيں ہوتى _
اسى لئے وہ ان احكا م كى مخالفت اور عصيان سے بھى معصوم و محفوظ ہوتے ہيں ، اپنے علم پر عمل كرتے ہيں كيونكہ جو شخص عين حقائق اور اپنے كمالات و سعادت كا مشاہدہ كرتا ہے وہ يقين كے ساتھ اپنے مشاہدات پر عمل كرتا ہے اور ايسا انسان اپنے كمال كو نہيں گنواتا ہے _
نبوّت عامہ كى دليل كى وضاحت كے بعد آپ اس بات كى ضرور تصديق كريں گے كہ اسى برہان كا اقتضا يہ ہے كہ جب لوگوں كے درميان كوئي پيغمبر نہ ہو تو اس وقت كسى انسان كو نبى كا جانشين اور احكام خدا كا خزينہ دار ہونا چاہئے كہ جو احكام كى حفاظت اور ان كى تبليغ ميں كوشاں رہے _ كيونكہ انبياء كى بعثت اور لوگوں تك احكام بھيجنے ميں جو خدا كا مقصد ہے وہ اسى وقت پورا ہوگا اور اس كے الطاف كمال كوپہنچيں گے اور اس كے بندوں پرحجت تمام ہوگى جب اس كے تمام قوانين و احكام لوگوں ميں بغير كسى تحريف كے محفوظ رہيں گے _ پس پيغمبر كى عدم موجودگى ميں لطف خدا كا اقتضاء يہ ہے كہ انسانوں ميں كسى كو ان احكام كى حفاظت و نگہدارى كا ذمہ داربنائے _
اس منتخب شخص كو بھى احكام لينے ، يادركھنے اور لوگوں تك پہنچانے ميں خطا و نسيان سے معصوم ہونا چاہئے تا كہ خدا كا مقصد پورا ہوجائے اور اس كے بندوں پر اسكى حجت تمام ہوجائے _ احكام دين كو اس ميں جلوہ گر ہونا چاہئے ، خود ان پر عمل پيرا ہونا چاہئے تا كہ دوسرے اپنے اعمال و اخلاق اور اقوال كى اس كے اعمال سے مطابقت كريں _ اس كا اتباع كريں ، اور راہ حقيقت كو تلاش كرنے ميں كسى شك و تردد ميں مبتلا نہ ہوں اور ہرطريقہ سے حجت تمام ہوجائے _ چونكہ وہ اس اہم ذمہ دارى كے قبول كرنے ميں خطا و اشتباہ سے معصوم ہے _ اس لئے كہا جا سكتا ہے كہ اس نے حواس اور قوہ مدركہ كے ذريعہ علوم كسب نہيں كئے ہيں اورلوگوں كے علوم سے بہت زيادہ مختلف ہيں ،بلكہ پيغمبر كى ہدايت سے اس كى چشم بصيرت چمك اٹھتى ہيں وہ دل كى آنكھوں سے انسانيت كے حقائق و كمالات كو مشاہدہ كرتا ہے اس لئے وہ بھى خطا سے محفوظ و معصوم ہے اور يہى حقائق و كمالات كا مشاہدہ ان كى عصمت كى علت ہے اور اپنے علوم و مشاہدات كے مطابق عمل كرنے كا باعث ہے اور علم و عمل كے ذريعہ لوگوں كا امام بنتا ہے _
بہ عبارت ديگر : نوع انسان كے درميان ہميشہ ايسے انسان كامل كا وجود ضرورى ہے كہ جو خدا كے برحق عقائد كا معتقد اورانسانيت كے نيك اخلاق و صفات پر عمل پيراہو
اور احكام دين پر عمل كرتاہو اور سب كو اچھى طرح جانتا ہو ، ان مراحل ميں خطا و عصيان سے معصوم ہو ، علم و عمل كے ذريعہ تمام انسانى كمالات اس ميں وجود پذير ہوگئے ہوں اور وہ لوگوں كا امام ہو ں جس زمانہ ميں ايسا شخص موجود نہ ہوگا اس زمانہ ميں خدا كے وہ احكام ، جو كہ لوگوں كى ہدايت كے لئے نازل ہوئے ہيں ، ختم ہوجائيں گے اور حق تعالى كے فيوض و غيبى امداد كا سلسلہ منقطع ہوجائے گا اور عالم ربوبيت و عالم انسانى ميں كوئي رابطہ برقرار نہ رہے گا ں
بہ عبارت ديگر: نوع انسان كے درميان ہميشہ ايسے شخص كو موجود ہونا چاہئے جو كہ مستقل ، خدا كى تائيد و ہدايت اور فيضان كا مركز ہو اور وہ معنوى فيوض ، باطنى مدد كے ذريعہ ہر انسان كو اس كى استعداد كے مطابق مطلوبہ كمال تك پہنچائے اور احكام الہى كا خزينہ دار ہوتا كہ ضرورت كے وقت مانع نہ ہونے كى صورت ميں لوگ اس كے علوم سے مستفيد ہوں _ امام حجّت حق ، نمونہ دين اور انسان كامل ہے جو بشر كى توانائي كى حد تك خدائي معرفت ركھتا اور اس كى عبادت كرتا ہے _ اگر اس كا وجود نہ ہوگا تو خدا كى كامل معرفت اور عبادت نہ ہوگى _ امام كا قلب خدا كے علوم كا خزينہ دار اور اسرار الہى كا مخزن ہے ايك آئينہ كى مانند ہے كہ جس ميں عالم ہستى كے حقائق جلوہ گر ہوتے ہيں تا كہ دوسرے ان حقائق كے انعكاس سے مستفيد ہوں _
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.