خدائے متعال کا وجود،قدرت اور علم

292

،خدائے متعال فرماتا ہے :(لہ ملک السمٰوات والارض یحی ویمیت وہو علی کل شیء قدیر٭ہوالاوّل والاٰخر والظّاھر والباطن وہو بکل شی ء علیم) (حدید٣٢)”آسمان وزمین کا کل اختیار اسی کے پاس ہے اور وہی حیات وموت کا دینے والا ہے اور ہر شے پر اختیار رکھنے والا ہے ۔وہی اول ہے وہی آخر وہی ظاہر ہے وہی باطن اور وہی ہر شے کا جاننے والا ہے۔”خدا کی قدرت(۔۔۔وللّہ ملک السمٰوات والارض وما بینہما یخلق ما یشآء واللّہ علی کل شی ء قدیر) ( مائدہ ١٧)”اور اللہ ہی کے لئے زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی کل حکومت ہے۔وہ جیسے بھی چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور ہرشے پر قدرت رکھنے والا ہے ”
وضاحتجب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص موٹر کار خرید نے کی قدرت رکھتا ہے ،تو ہمارا مقصد یہ ہو تا ہے ،کہ جو موٹر کار خرید نے کا محتاج ہے اس کے پاس اس کے خریدنے کی مالی طاقت ہے، اور اگر ہم یہ کہیں کہ فلاں شخص بیس کلو گرام وزنی پتھر اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے ،تو ہمارا مقصد یہ ہو تا ہے کہ اس میں بیس کلو گرام پتھراٹھانے کی طاقت موجود ہے ۔حقیقت میں،کسی چیز پر توانائی و قدرت ر کھنے کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس کے تمام ضروری وسائل اس کے پاس ہیں،اور چونکہ عالم ھستی میں جس وجود کو بھی فرض کیاجائے ،اس کی نیاز مندی اور زندگی کی گردش کی ضرورت خدا کے وجود سے پوری ہوتی ہے ،یہ کہنا چاہئے کہ خدائے متعال ہر چیز کی قدرت و توانائی رکھتا ہے اور اسی کی ذات پاک کائنات کا سر چشمہ ہے۔
خدا کا علم(َلا یعلم مَن خلق۔۔۔) (ملک١٤)”کیاپیداکرنے والا نہیں جانتا ہے؟”
وضاحتچونکہ ہرمخلوق اپنی پیدائش وھستی میں خدائے متعال کی لا محدود ذات کی محتاج ہے،اس لئے اس مخلوق اور خدا کے درمیان پردے اور رکاوٹ کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے یا اس کا خداسے پو شیدہ ہونا تصور نہیں کیا جاسکتا،بلکہ اس کے لئے ہر چیز آشکار ہے اور ہر چیز کے داخل وخارج پر تسلّط اور احاطہ کرتا ہے۔
خداکی رحمتجب ہم ایک ناتوان محتاج کو دیکھتے ہیں ،تو اپنی توانائی کے مطابق اس کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں ،یاکسی مصیبت زدہ بے چارہ کی مدد کرتے ہیں یاایک نابینا کاہاتھ پکڑ کر اسے اس کی منرل مقصود تک پہنچاتے ہیں ۔ایسے کاموں کو ہم مہر بانی اوررحمت شمار کر کے پسندیدہ اور قابل ستائش جانتے ہیں ۔جن کاموں کو کارساز اور بے نیازخدا انجام دیتا ہے ،وہ رحمت کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ اپنی بے شمار نعمتوں کو بخش کر سبھی کو بہرہ مند کرتا ہے اور ہر بخشش سے۔خود کسی کا نیاز مند ہوئے بغیر۔مخلوقات کی ضرورتوں کے ایک حصہ کو پورا کرتا ہے ،چنانچہ فرماتا ہے:(۔۔۔و ن تعدوا نعمت اللّہ لا تحصوہا۔۔۔) (ابرا ھیم ٣٤)”اگرتم اس کی نعمتوں کو شمار کرناچاہوگے تو ہر گزشمار نہیں کرسکتے۔”(ورحمتی وسعت کلّ شی ئ۔۔۔) (اعراف١٥٦)”اور میری رحمت نے تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہے۔”
تمام صفات کمالیہ(وربّک الغنیّ ذوالرّ حمة۔۔۔) (انعام٣٤ ١)”تمہارے پروردگار بے نیاز اور صاحب رحمت ہے”
وضاحتکائنات میں موجود ہر خوبی اورزیبائی ،جس کمال کی صفت کے بارے میں تصور کریں ،وہ ایک نعمت ہے جسے خدائے متعال نے اپنی مخلو قات کو عطا کیا ہے اور اس کے ذریعہ خلقت کی ضرورتوں میں سے کسی ایک کوپورا کیا ہے ،البتہ اگر وہ خود اس کمال کا مالک نہ ہوتا ،تو اس کمال کو دوسروں کو بخشنے میں عاجز ہوتا اور خود بھی ضرورتوں میں دوسروں کا شریک بن جاتا ،پس خداوند عالم کے تمام صفات کمال خود اسی کے ہیں اور اس نے کوئی کمال کسی دوسرے سے حاصل نہیں کیا ہے اور اس نے کسی کے سامنے دست نیاز دراز نہیں کیا ہے، بلکہ خود تمام صفات کمال ،جیسے:حیات، علم ،قدرت وغیرہ کا مالک ہے اورتمام صفات عیب اورنیاز مندی واحتیاج کے اسباب جیسے:ناتوانی ،نادانی ،موت،گرفتاری وغیرہ سے پاک ومنزہ ہے ۔
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.