زمانہ غيبت ميں مسلمانوں كا فريضہ

307

دانشوروں نے كچھ فرائض معين كركے كتابوں ميں رقم كئے ہيں _ جيسے امام زمانہ كيلئے دعا كرنا ، آپ(ع) كى طرف سے صدقہ دينا ، آپ(ع) كى طرف سے حج كرنا يا كرانا ، آپ سے استعانت و استغاثہ كرنا _ يہ چيزيں سب نيك كام ہيں اور ان ميں بحث كى ضرورت نہيں ہے ليكن روايات ميں جو اہم ترين فريضہ بيان ہواہے اور جس كى وضاحت كى ضروت ہے ، وہ انتظار فرج كى فضيلت كے بارے ميں ائمہ اطہار كى بہت زيادہ احاديث حديث كى كتابوں ميں موجود ہيں مثلاً:حضرت امام جعفر صاق كا ارشاد ہے ‘جو شخص ہم اہل بيت كى محبت پر مرتا ہے جبكہ وہ منتظر فرج بھى ہو تو ايسا ہى ہے جيسے حضرت قائم كے خيمہ ميں ہو’_( كمال الدين ج 2 ص 357)حضرت امام رضا (ع) نے اپنے آباء و اجداد كے واسطہ سے رسول خدا سے نقل كيا ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا:
‘ميرى امت كا بہترين عمل انتظار فرج ہے ‘ (كمال الدين ج 2 ص 357)
حضرت على بن ابى طالب كا ارشاد ہے :
‘جو شخص ہمارى حكومت كا انتظار كرتا ہے اس كى مثال راہ خدا ميں اپنے خون ميں غلطان ہونے والے كى ہے ‘ (كمال الدين ج 2 ص 388)_
حضرت امام رضا (ع) فرماتے ہيں :
‘صبر اور انتظار فرج كتنے بہترين چيز ہے؟ كيا لوگوں نے نہيں سنا ہے كہ خداوند عالم قرآن ميں فرماتا ہے : تم انتظار كرو ميں بھى منتظر ہوں پس صبر كرو كيونكہ نااميدى كے بعد فرج نصيب ہوگا _ تم سے پہلے والے زيادہ بردبار تھے’ (كمال الدين ج 2 ص 358)
ايسى احاديث بہت زيادہ ہيں ، ائمہ اطہار (ع) نے شيعوں كو انتظار فرج كے سلسلہ ميں تاكيد كى ہے _ فرماتے تھے: انتظار بجائے خود ايك فرج و خوشحالى ہے ، جو شخص فرج كا منتظر رہے گا اس كى مثال اس شخص كى سى ہے جو ميدان جنگ ميں كفار سے جہاد كرے اور اپنے خون ميں غلطان ہوجائے _ اس اعتبار سے زمانہ غيبت ميں انتظار فرج بھى مسلمانوں كا عظيم فريضہ ہے _ اب ديكھنا يہ ہے كہ انتظار فرج كے معنى كيا ہيں؟ اور انسان فرج كا منتظر كيسے ہوسكتا ہے كہ جس سے مذكورہ ثواب حاصل ہوسكے ؟ كيا انتظار فرج كيلئے اتنا ہى كافى ہے كہ انسان زبان سے يہ كہدے كہ ميں امام زمانہ كے ظہور كامنتظر ہوں ؟ يا كبھى كبھى فرياد و آہ كے ساتھ يہ بھى كہے :
اے اللہ امام زمانہ كے فرج ميں تعجيل فرمايا يا نماز پنجگانہ كے بعد اور متبرك مقامات پر ظہور تعجيل كى دعا كرے يا ذكر و صلوات كے بعد اللہم عجل فرجہ الشريف
كہے : يا جمعہ ، جمعہ با گريہ وز ارى دعائے ندبہ پڑھے؟
اگر چہ يہ تمام چيزيں بجائے خود بہت اچھى ہيں ليكن ميں سمجھتا ہوں كہ انسان ايسے امور كى انجام وہى سے حقيقى فج كے منتظر كا مصداق نہيں بن سكے گا كيونكہ ائمہ كى زبانى اسكى اتنى زيادہ فضيليتيں بيان ہوئي ہيں _ انتظار فرج كرنے والے كو ميدان جہاد ميں اپنے خون ميں غلطان انسان كے برابر قرار ديا ہے _
جو لوگ ہر قسم كى اجتماعى ذمہ داريوں اور امر بالمعروف و نہى عن المنكز كے فريضہ سے پہلو تہى كرتے ہيں ، فساد و بيدادگرى پر خاموش بيٹھے رہتے ہيں ،ظلم و ستم و كفر و الحاد اور فساد كو تماش بينوں كى طرح ديكھتے ہيں اور ان حوادث پر صرف اتناہى كہتے ہيں : خدا فرج امام زمانہ ميں تعجيل فرماتا كہ ان مفاسد كو ختم كريں _ ميرے خيال ميں آپ كا ضمير اتنى سى باتوں سے مطمئن نہيں ہوگا اور انھيں آپ ان لوگوں كى صف ميں كھڑا نہيں كريں گے جنہوں نے دين سے دفاع كى خاطر اپنے اہل و عيال اور مال و دولت سے ہاتھ دھوليئےيں اور ميدان جہاد ميں اپنى جان كو سپر قرار ديكر جام شہادت نوش كيا ہے _
اس بناپر انتظار فرج كے دقيق اور بلند معنى ہونا چاہئيں_ اس مدعا كى مزيد وضاحت كيلئے پہلے ميں دو موضوعوں كو مقدمہ كے عنوان سے پيش كرتا ہوں _ اس كے بعد اصل مقصد كا اثبات كروں _
مقدمہ اول : احاديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ امام زمانہ كے امور كا منصوبہ بہت وسيع اور دشوار ہے _ كيونكہ آپ كو پورى دنيا كى اصلاح كرنى ہے _ ظلم و ستم كا نام و نشان مٹانا ہے ، كفر و الحاد اور بے دينى كے نشانات كو محو كرنا ہے _ سارے انسانوں كو خداپرست بنانا ہے _ دين اسلام كو دنيا والوں كيلئے سركارى دين قرار دينا ہے _ روئے زمين پر عدل و انصاف كو نافذ كرنا ہے _ موہومى سرحدوں كو انسان كے ذہن سے نكالنا ہے تا كہ وہ سب صلح و صفائي كے ساتھ پرچم توحيد كے سايہ ميں زندگى بسر كريں _ نوع انسان كى تمام اقوام و ملل اور نسلوں كو توحيد كے علم كے سايہ ميں لانا ہے اور اسلام كى عالمى حكومت كى تشكيل كرنا ہے _ محققين و دانشور جانتے ہيں كہ ايسے قوانين كا نفاذ بہت مشكل كام ہے اور اتنا ہى دشوار ہے كہ ايك گروہ اسے ناممكن سمجھتا ہے _ اس بناپر يہ كام اسى صورت ميں ممكن ہے كہ جب بشريت كا مزاج ايسے پروگرام كو قبول كرنے كيلئے تيار ہوجائے اور عام افكار اتنى ترقى كرليں كہ ايسے خدائي دستور العمل كى خواہش كرنے لگيں اور امام زمانہ آفتاب عدالت كے انقلاب كے اسباب ہر طرح سے فراہم ہوجائيں _
دوسرا مقدمہ :
اہل بيت كى احاديث سے يہ بات بھى سمجھ ميں آتى ہے كہ امام زمانہ اور آپ كے اصحاب وانصار جنگ و جہاد كے ذريعہ كفر و الحاد پر كامياب ہوں گے اور جنگى توانائي سے دشمن كى فوج اور ظلم و ستم و بے دينى كے طرف داروں كو مغلوب كريں گے _ اس سلسلہ كى احاديث ميں سے چند يہ ہيں :
امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا:
‘مہدى اپنے جد محمد (ص) سے اس لحاظ سے مشابہ ہيں كہ شمشير كے ساتھ قيام كريں گے اور خدا و رسول (ص) كے دشمنوں ، ستمگروں اور گمراہ كرنے والوں كو نہ تيغ كريں گے تلوار كے ذريعہ كامياب ہوں گے آپ كے لشكر ميں سے كسى كو بھى ہزيمت نہيں ہوگى _ (بحار الانوار ج 51 ص 218)
بشير كہتے ہيں : ميں نے امام محمد باقر (ع) كى خدمت ميں عرض كى : لوگ كہتے ہيں كہ جب مہدى قيام كريں گے تو اس وقت ان كے امور طبيعى طور پر روبرو و ہوجائيں گے اور فصد كھلوانے كے برابر بھى خونريزى نہيں ہوگى ؟ آپ (ع) نے فرمايا :
‘ خدا كى قسم حقيقت يہ نہيں ہے _ اگر يہ چيز ممكن ہوتى تو رسول خدا كيلئے ہوتى _
ميدان جنگ ميں آپ كے دانت شہيد ہوئے اور پيشانى اقدس زخمى ہوئي _ خدا كى قسم صاحب الامر كا انقلاب اس وقت تك برباد نہ ہوگا _ جب تك ميدان جنگ ميں خونريزى نہيں ہوگى _ اس كے بعد آپ نے پيشانى مبارك پر ہاتھ ملا _ ‘ (بحار الانوار ج 52 ص 358)
ايسى احاديث سے يہ بات واضح ہوتى ہے كہ مہدى موعود كو صرف الہى تائيد اور غيبى مدد كے ذريہ كاميابى نہيں ہوگى اور يہ طے نہيں ہے كہ ظاہرى طاقت سے مدد لئے بغيرہ معجزہ كے طور پر اپنے اصلاحى منصوبوں كو عملى جامہ پہنائيں ، بلكہ تائيد الہى كے علاوہ آپ(ص) جنگى اسلحہ اور فوج كو استعمال كريں گے _ علوم و صنعت اور خوفناك جنگى اسلحہ كى اختراع كو بھى مد نظر ركھيں گے _
مذكورہ دونوں مقدموں كو ملحوظ ركھتے ہوئے يہ ديكھنا چاہئے كہ مہدى موعود كے ظہور كے شرائط كيا ہيں؟ آپ(ع) كے انقلاب و تحريك كے سلسلہ ميں مسلمانوں كاكيا فريضہ ہے اور كس صورت ميں كہا جا سكتاہے كہ مسلمان آپ(ع) كے عالمى اور دشوار قيام كے لئے تيار ہيں اور خدا كى قوى حكومت كى تشكيل اور ظہور كے انتظار ميں دن گن رہے ہيں؟
اہل بيت كى احاديث سے ميرى سمجھ ميں يہ بات آتى ہے كہ غيبت كے زمانہ ميں مسلمانوں كا اہم ترين فريضہ يہ ہے كہ پہلے وہ سنجيدگى اور كوشش سے اپنے نفسوں كى اصلاح كريں ، اسلام كے نيك اخلاق آراستہ ہوں ، اپنے فردى فرائض كو انجام ديں قرآن كے احكام پر عمل كريں ، دوسرے اسلام كے اجتماعى پروگرام كا استخراج كريں اورمكمل طور سے اپنے درميان نافذ كريں اور اسلام كے اقتصادى پروگرام سے اپنى اقتصادى مشكلوں كو حل كريں ، فقر و نادارى اور ناجائز طريقوں سے مال جمع كرنے والوں سے جنگ كريں اوراسلام كے نورانى قوانين پر عمل پيرا ہو كر ظلم و ستم كا سد باب كريں _ مختصر يہ كہ سياسى اجتماعى ، اقتصادى ، قانونى اور اسلام كے عبادى پروگراموں كو مكمل طور پر اپنے درميان جارى كريں اوردنيا والوں كے سامنے اس كے عملى نتائج پيش كريں _
تحصيل علم و صنعت ميں سنجيدگى سے كوشش كريں اور اپنى گزشتہ غفلت و سستى اور پسماندگى كى تلافى كريں _ بشرى تمدن كے كاروان تك يہنچنا كافى نہيں ہے بلكہ ہر طريقہ سے دنيا والوں سے باز جيت لينا ضرورى ہے _ دنيا والوں كو عملى طريقے سے يہ بتائيں كہ اسلام كے نورانى احكام و قوانين ہى ان كى مشكلوں كو حل كر سكتے ہيں اور انكى دو جہان كى كاميابى كى ضمانت لے سكتے ہيں _ اسلام كے واضح اور روشن قوانين پر عمل كركے ايك قوى اور مقتدر حكومت كى تشكيل كريں اور روئے زمين پر ايك طاقت ور و متمدن اور مستقل اسلامى ملت كے عنوان سے ابھر يں _
مشرق و مغرب كى سينہ زور يوں كوروكيں اور دنيا والوں كى قيادت كى زمام خو سنبھاليں _ جہاں تك ہو سكے دفاعى طاقت كو مضبوط اور نظامى طاقت كو محكم بنائيں اور جنگى اسلحہ كى فراہمى كے لئے كوشش كريں _ تيسرے :اسلام كے اجتماعى ، اقتصادي اور سياسى منصوبوں كا استخراج كريں اور دنيا والوں كے گوش گزار كرديں _ خدائي منصوبوں كى قدر و قيمت سے لوگوں كو آگاہ كريں _ قوانين الہى كو قبول كرنے كيلئے دنيا والوں كے افكار كو آمادہ كريں _ اسلام كى عالمى حكومت اور ظلم و بيدادگرى سے جنگ كے مقدمات و اسباب فراہم كريں _
جو لوگ اس راہ ميں كوشش كرتے ہيں اور امام زمانہ كے مقصد كى تكميل او رآپ كے انقلاب كيلئے اسباب فراہم كرتے ہيں ، انہى كو فرج كا منتظر كہا جا سكتا ہے اور ان كے بارے ميں كہا جا سكتا ہے كہ وہ خود كو امام زمانہ كے قيام كيلئے تياركررہے ہيں _ ايسے فداكار اور كوشاں افراد كے سلسلہ ميں كہا جا سكتا ہے كہ انكى مثال ان لوگوں كى سى ہے جو ميدان جنگ ميں اپنے خون ميں غلطان ہوتے ہيں _
ليكن جو لوگ اپنى مشكلوں كو انسان كے وضع كردہ قوانين سے حل كرنا چاہتے ہيں اور اسلام كے اجتماعى و سياسى قوانين كواہميت نہيں ديتے ، احكام اسلام كو صرف مسجدوں اور عبادت گاہوں ميں محدود سمجھتے ہيں ، جن كے بازار اور معاشروں ميں اسلام كا نشان نہيں ہے ، جو فساد و بيدادگرى كا مشاہدہ كرتے ہيں اور صر ف يہ كہہ كر خاموش ہوجاتے ہيں كہ اے اللہ فرج امام زمانہ ميں تعجيل فرما _ علوم و فنون ميں دوسرے آگے ہيں ، ہمارے درميان اختلافات و پراكندگى كى حكمرانى ہے _ غيروں سے روابط ہيں ، اپنوں سے دشمنى ہے ايسى قوم كے بارے ميں يہ نہيں كہا جا سكتا كہ وہ فرج آل محمد اور انقلاب مہدى كى منتظر ہے _ ايسے افراد اسلام كى عالمى حكومت كے لئے تيار نہيں ہيں اگر چہ وہ دن ميں سيكڑوں بار اللہم عجل فرجہ الشريف كہتے ہوں _
اہل بيت (ع) كى احاديث سے ميں اس بات كو اچھى طرح سمجھتا ہوں _ اس كے علاوہ دوسري روايات ميں بھى اس موضوع كى طراف اشارہ ہوا ہے مثلاً: امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا: ‘ ہمارے قائم ك ے ظہور اور انقلاب كيلئے تم خود كو آمادہ كرو اگر چہ ايك تير ہى ذخيرہ كرو’ (بحارالانوار ج 52 ص 366) عبد الحميد واسطى كہتے ہيں : ميں نے امام محمد باقر (ع) كى خدمت ميں عرض كى : ہم نے اس امر كے انتظار ميں خريد و فروخت بھى چھوڑدى ہے فرمايا:
‘ اے عبد الحميد كيا تم يہ گمان كرتے ہو كہ جس نے اپنے جان راہ خدا ميں وقف كردى ہے _ خدا اس كى فراخى كيلئے كوئي انتظام نہيں كرے گا ؟ خدا كى قسم اس كے لئے راستے كھل جائيں گے اور امور آسان ہوجائيں گے خدا رحم كرے اس شخص پر جو ہمارے امر كو اہميت ديتا ہے ‘ _ عبدالحميد نے كہا: اگر انقلاب قائم سے پہلے مجھے موت آگئي تو كيا ہوگا؟ فرمايا: ‘ تم ميں سے جو شخص بھى يہ كہتا ہے كہ اگر قائم آل محمد كا ميرى حيات ميں ظہور ہوگا تو ميں آپ كى مدد كروں گا _ اس كى مثال اس شخص كى ہے جسن نے امام زمانہ كى ركاب ميں تلوار سے جہاد كيا ہے بلكہ آپ (ع) كى مدد كرتے ہوئے شہادت پائي ہو ‘ (كمال الدين ج 2 ص 357)_
ابوبصير كہتے ہيں : ايك روز امام صادق (ع) نے اپنے اصحاب سے فرمايا:
‘ كيا ميں تمہيں وہ چيز بتاؤں كہ جس كے بغير خدا بندوں كے اعمال قبول نہيں كرتا ہے ؟’ ابوبصير نے عرض كى : (مولا) ضرور بتايئے فرمايا:’ وہ ايك خدا اور محمد (ص) كى نبوت كى گواہى دينا ، خدا كے دستوارت كااعتراف كرنا ، ہمارى محبت اور ہمارے دشمنوں سے بيزارى اختيار كرنا ، ائمہ كے سامنے سراپا تسليم ہونا ، پرہيزگارى ، جد و جہد اور قائم كا منتظر رہنا ہے _
اس كے بعد فرمايا: ہمارى حكومت مسلّم ہے جب خدا چاہے گا تشكيل پائے گى جو شخص ہمارے قائم كے اصحا ب و انصار ميں شامل ہونا چاہتا ہے _ اسے چاہئے كہ انتظار فرج ميں زندگى بسر كرے _ پرہيزگارى كو اپنا شعار بنائے ، اخلاق حسنہ سے آراستہ ہو اور اسى طرح ہمارے قائم كے انتظار ميں زندگى بسر كرتا رہے اگر وہ اسى حال ميں رہا اور ظہور قائم آل محمد سے پہلے موت آگئي ، تو اسے اتنا ہى اجر و ثواب ملے گا كہ جتنا امام زمانہ كے ساتھ رہنے والے كو مليگا _
شيعہ كوشش كرو اور امام مہدى كے منتظر رہو _ اے خدا كى رحمت و لطف كے مستحقو كاميابى مبارك ہو _( غيبت نعمانى ص 106)(انتخاب از آفتاب عدالت از علامہ امینی رہ)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.