يہود و نصارى كى سرنوشت

290

بعض آيات كے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ تا قيامت باقى رہيں گے _ خداوند عالم كا ارشادہے :’ ہم نے نصرانيت كا دعوى كرنے والوں سے عہد ليا _ ليكن انہوں نے ہمارى بعض نصيحتوں كو فراموش كرديا تو ہم نے بھى قيامت تك كيلئے ان كے درميان كينہ و عداوت ڈال دى ‘ _ (مائدہ / 14)دوسرى جگہ ارشاد ہے :’ خدا نے عيسى سے فرمايا: ہم تمہارى دنيوى عمر تمام كرنے والے اور تمہيں اپنى طرف پلٹانے والے اور تمہيں كفار سے نجات دلانے والے اور تمہارا اتباع كرنے والوں كو قيامت كيلئے كفار پر تسلط عطا كرنے والے ہيں ‘ _ (آل عمران / 55)پہلى آيت ميں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے : ہم ان كے درميان قيامت كيلئے كينہ توزى و عداوت ڈالديں گے _ دوسرى آيت ميں فرماتا ہے : نصارى قيامت تك كفار سے بلند رہيں گے _ ان دو آيتوں كے ظاہر كا مقتضى يہ ہے كہ نصارى كا مذہب قيامت تك اور امام مہدى كے زمانہ حكومت ميں بھى باقى رہے گا _
سورہ مائدہ ميں ارشاد ہے:
‘ يہود كہتے ہيں كہ خدا كے ہاتھ بندھے ہوئے ہيں _ حقيقت يہ ہے كہ ان ہى كے ہاتھ بندھے ہوئے ہيں اور يہ اپنے قول كى بناپر ملعوں ہيں اور خدا كے دونوں ہاتھ كھلے ہوئے ہيں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ كرتا ہے اور جو كچھ آپ (ص) كے پروردگار كى طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے اس كا انكار ان ميں سے بہت سول كے كفر اور ان كى سركشى كو اور بڑھادے گا اور ہم قيامت كيلئے ان كے درميان بغض و عداوت پيدا كرديں گے _ (مائدہ -64)
جيسا كہ آپ نے ملاحظہ فرمايا: ان آيتوں كے ظاہر كى دلالت اس بات پر ہے كہ نصارى و يہود كامسلك قيامت تك باقى رہے گا _
بعض احاديث سے بھى يہ بات سمجھ ميں آتى ہے ، مثلاً:
ابوبصير كہتے ہيں : ميں نے امام صادق كى خدمت ميں عرض كى : اہل ذمہ _ يہود و نصارى _ كے ساتھ صاحب الامر كا كيا سلوك ہوگا ؟ فرمايا : پيغمبر كى مانند ان سے مصالحت كريں گے اور وہ بھى نہايت ہى انكسار كے ساتھ جزيہ ديں گے _ (بحار الانوار ج 52 ص 381و ص 376)
حضرت ابو جعفر فرماتے ہيں : مہدى (عج) كو صاحب الامر اس لئے كہا گيا ہے كہ آپ توريت اور تمام آسمانى كتابوں كو اس غار سے نكاليں گے جو كہ انطاكيہ ميں واقع ہے _ توريت والوں كے درميان توريت سے ، انجيل والوں كے درميان انجيل سے اور زبور والوں كے درميان زبور سے قضاوت كريں گے _ (غيبت نعمانى ص 135)
ان احاديث و آيات كے مقابلہ ميں جو مخالف احاديث بھى موجود ہيں كہ جنكى دلالت اس بات پر ہے كہ حضرت مہدى كے زمانہ حكومت ميں روئے زمين پر مسلمانوں كے علاوہ كسى كا وجود نہ ہوگا _ آپ يہود و نصار ى كو دين اسلام قبول كرنے كى دعوت ديں گے جو قبول كريگا وہ نجات پائے گا اور جو انكار كرے گا وہ قتل كيا جائے گا _ مثلاً:
ابن بكير كہتے ہيں : ميں نے حضرت ابو الحسن سے آيہ ‘ ولہ اسلم من فى السموات و الارض طوعاً و كرہاً و اليہ يرجعون’ كى تفسير دريفات كى تو فرمايا:
يہ حضرت قائم كى شان ميں نازل ہوئي ہے _ ظہور كے بعد آپ يہود ، نصارى ، صائبين اور مشرق و مغرب كے كافروں كو دين اسلام قبول كرنے كى دعوت ديں گے ، پس جو شخص راضى برضا اسلام قبول كرے گا ، اسے نماز پڑھنے اور زكوة كى ادائيگى اور ديگر واجبات كا حكم ديں گے اور جو قبول كرنے سے روگردانى كريگا اسكى گردن ماريں گے _ يہاں تك كہ روئے زمين پر موحدين كے علاوہ كوئي باقى نہ رہے گا _ ابن بكير كہتے ہيں : ميں نے عرض كى قربان جاؤں _كيا دنيا كے اتنے لوگوں كو قتل كيا جا سكتا ہے؟ فرمايا : جب خدا كسى كام كا ارادہ كرليتا ہے تو اس وقت كم و زيادہ اور زيادہ كم كرديتا ہے _ (بحار الانوار ج 52 ص 340)
حضرت ابو جعفر فرماتے ہيں : خدا دنيا كے مشرق و مغرب ميں صاحب الامر كو فتح عطا كرے گا آپ اس وقت تك جنگ كريں گے جب تك دين محمد پور ى دنيا ميں نافذ ہوگا _ (بحارالانوار ج 52 ص 390)
ابوجعفر (ع) ہى آيہ ليظہرہ على الدين كلہ و لو كرہ المشركون كى تفسير بيان فرماتے ہيں دنيا ميں ايسا كوئي شخص باقى نہيں بچے گا جو محمد كا كلمہ نہيں پڑھے گا _ (بحار الانوار ج 52 ص 246)
جيسا كہ آپ (ع) نے ملاحظہ فرمايا : احاديث كے دو حصے ہيں _ ان ميں سے ايك قرآن كے موافق اور دوسرا مخالف ہے ، علما پر يہ بات مخفى نہيں ہے كہ قرآن كے موافق والا حصہ مقدم ہے اور مخالف قرآن كا كوئي اعتبار نہيں ہے _ اس بناپر ، حضرت مہدى كے زمانہ حكومت ميں يہود و نصارى باقى رہيں گے ليكن تثليث و
شرك كا عقيدہ ترك كرديں گے صرف خدا كى عبادت كريں گے اور اسلامى حكومت كى پناہ ميں زندگى بسر كريں گے _ باطل حكومتوں كاتختہ الٹ جائے گا اور دنيا كى حكومت با صلاحيت مسلمانوں كے دست اختيار ميں آجائے گى اور دين اسلام تمام اديان پر غالب ہوگا اور ہرجگہ كلمہ توحيد كا ہمہمہ ہوگا امام صادق (ع) فرماتے ہيں _
جب امام مہدى ظہور فرمائيں گے اس وقت زمين كے گوشہ گوشہ سے اشہد ان لا الہ الا اللہ و ان محمداً رسول اللہ كى آواز بلند ہوگى _ (بحار الانوار ج 52 ص 340)
حضرت ابوجعفر (ع) كاارشاد ہے : ظہور قائم كے بعد باطل حكومت ہميشہ كيلئے نيست و نابود ہوجائے گى _ (بحار الانوار ج 51 ص 62)
حضرت ابو جعفر نے فرمايا : خدا ائمہ اور مہدى (عج) كو مشرق و مغرب كا حاكم قرار دے گا _ ان كے ذريعہ دين كو مضبوط كرےگا _ بدعتوں كو ختم كرے گا _ اس وقت ظلم مٹ جائيگا وہ امر بالمعروف اور نہى عن المنكر كا فريضہ انجام ديں گے _ (بحار الانوار ج 51 ص 47)
ابوبصير كہتے ہيں : ميں نے امام جعفر صادق كى خدمت ميں عرض كى فرزند رسول آپ اہل بيت كے قائم كوں ہيں ؟ فرمايا : ابوبصير ميرے بيٹے موسى كے پانچويں فرزند ہيں _ يہ بہترين كنيز كے بطن سے ہوں گے _ ان كى غيبت اتنى طولانى ہوگى كہ ايك گروہ شك ميں پڑجائے گا _ اس كے بعد خداظاہر ہونے كا حكم دے گا اور مشرق و مغرب پر انھيں فتح عطا كرے گا _ عيسى بن مريم نازل ہوں گے اور آپ كى اقتدا ميں نماز ادا كريں گے _ زمين اس وقت نور خدا سے چمك اٹھے گى اور جہاں جہاں بھى غير خدا كى عبادت ہوتى تھى وہاں خدا كى عبادت ہوگى _ صرف دين خداہوگا اگر چہ مشركوں كو يہ ناگوار ہى كيوں نہ ہو _ (بحار الانوار ج 51 ص 146)
پيغمبر اسلام نے حضرت على سے فرمايا: ميرے بعد بارہ امام ہونگے ، ان ميں سے پہلے تم اور آخرى قائم ہے كہ جن كے ہاتھوں پر خدا مشرق و مغرب كو فتح كرے گا _ (بحارالانوار ج 52 ص 378)
(انتخاب از آفتاب عدالت از علامہ امینی رہ)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.