فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا باپ كے بعد

166

جناب فاطمہ (ع) نے حجة الوداع كے بعد خواب ديكھا كہ ان كے ہاتھ ميں قرآن ہے اور اچانك وہ ان كے ہاتھ سے گرا_ اورغائب ہوگيا_ آپ وحشت زدہ جاگ اٹھيں اور اپنے خواب كواپنے والد كے سامنے نقل كيا، جناب رسول خدا(ص)نے فرمايا،ميرى آنكھوں كى نور ہيں وہ قرآن ہوں كہ جس كو تم نے خواب ميںديكھا ہے، انہيں دنوں ميں نگاہوں سے غائب ہوجاؤں گا(1)_آپ پر آہستہ آہستہ بيمارى كے آثار ظاہر ہونے لگے_ آپ نے ايك لشكر جناب اسامہ كى سپہ سالارى ميں مرتب كيا اورفرمايا كہ تم روم كى طرف روانہ ہوجاؤ، آپ نے چند آدميوں كے خصوصيت سے نام لئے اورفرمايا كہ يہ لوگ اس جنگ ميں ضرور شريك ہوں آپ كى اس سے غرض يہ تھى كہ مدينہ ميں كوئي منافق نہ رہے اور خلافت اعلى كا مسئلہ كسى كى مدافعت اور مخالفت كے بغير حضرت على (ع) كے حق ميں طے ہوجائے_ رسول خدا(ص) كى بيمارى ميں شدت آگئي اور گھر ميں صاحب فراش ہوگئے_ پيغمبر(ص) كى بيمارى نے جناب فاطمہ (ع) كو وحشت اور اضطراب ميں ڈال ديا، كبھى آپ باپ كے زرد چہرے اور ان كے اڑے ہوئے رنگ كو ديكھتيں اور روديتيں اور كبھى باپ كى صحت اور سلامتى كے لئے دعا كرتيں اور كہتيں خدايا ميرے والد نے ہزاروں رنج اور مشقت سے اسلام كے درخت كا پودا لگايا ہے اور ابھى ثمر آور ہوا ہى ہے اور فتح و نصرت كے آثار ظاہر ہوئے ہيں_ مجھے اميد ہوگئي تھى كہ ميرے والد كے واسطے سے دين اسلام غالب ہوجائے گا اور كفر اور بت پرستي، ظلم اور ستم ختم ہوجائيں گے ليكن صد افسوس كے ميرے باپ كى حالت اچھى نہيں_ خدايا تجھ سے ان كى شفا اور صحت چاہتى ہوں_پيغمبر(ص) كى حالت شديدتر ہوگئي اور بيمارى كى شدت سے بيہوش ہوگئےجب ہوش ميں آئے اور ديكھا جناب ابوبكر اور عمر اور ايك گروہ كہ جن كو اسامہ كے لشكر ميں شريك ہوتا تھا شريك نہيں ہوئے اور مدينہ ميں رہ گئے ہيں آپ نے ان سے فرمايا كہ كيا ميں نے تم سے نہيں كہا تھا كہ اسامہ كے لشكر ميں شريك ہوجاؤ؟ ہر ايك نے اپنے جواب ميں كوئي عذر اور بہانہ تراشا، ليكن پيغمبر(ص) كو ان كے خطرناك عزائم اور ہدف كا علم ہوچكا تھا اور جانتے تھے كہ يہ حضرات خلافت كے حاصل كرنے كى غرض سے مدينہ ميں رہ گئے ہيں_اس وقت پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا كہ كاغذ اور دوات لاؤ تا كہ ميں وصيت لكھ دوں حاضرين ميں سے بعض نے چاہا كہ آپ كے حكم پر عمل كيا جائے ليكن حضرت عمر نے كہا_ كہ آپ پر بيمارى كا غلبہ ہے، ہذيان كہہ رہے ہيں لہذا قلم و قرطاس دينے كى ضرورت نہيں ہے(2)_جناب زہراء (ع) يہ واقعات ديكھ رہى تھيں آور آپ كا غم اور اندوہ زيادہ ہو رہا تھا اپنے آپ سے كہتى تھيں كہ ابھى سے لوگوں ميں اختلاف اور دوروئي كے آثار ظاہر ہونے لگے ہيں_ ميرے باپ كے كام اور حكم اللہ كى وحى سے سرچشمہ ليتے ہيں اور آپ ملت كے مصالح اور منافع كو مد نظر ركھتے ہيں پس كيوں لوگ آپ كے فرمان سے روگرانى كرنے لگے ہيں، گويا مستقبل بہت خطرناك نظر آرہا ہے گويا لوگوں نے مصمّم ارادہ كرليا ہے كہ ميرے والد كى زحمات كو پائمال كرديں_تعجب اور تبسمپيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى حالت سخت ہوگئي آپ نے اپنا سر مبارك حضرت على (ع) كے زانو پر ركھا اور بے ہوش ہوگئے، حضرت زہراء (ع) اپنے باپ كے نازنين چہرے كو ديكھتيں اور رونے لگتيں اور فرماتيں_ آہ، ميرے باپ كى بركت سے رحمت كى بارش ہوا كرتى تھى آپ يتيموں كى خبر لينے والے اور بيواؤں كے لئے پناہ گاہ تھے_ آپ كے رونے كى آواز پيغمبر(ص) كے كانوں تك پہنچى آپ نے آنكھيں كھوليں اور نحيف آواز ميں فرمايا بيٹى يہ آيت پڑھو_’و ما محمد الّا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اور قتل انقلبتم على اعقابكم’ (3)موت سے گريز نہيں جيسے سابقہ پيغمبر(ص) مرگئے ہيں ميں بھى مروں گا كيوں ملت اسلامى ميرے ہدف كا پيچھا نہيں كرتى اور اس كے ختم كرنے اور لوٹ جانے كا قصد ركھتى ہے_اس گفتگو كے سننے سے حضرت زہراء (ع) كے رونے ميں شدت پيدا ہوگئي رسول خدا كى حالت اپنى بيٹى كو روتے اور پريشان ديكھ دگرگوں ہوگئي_ آپ نے انہيں تسلى دينا چاہى مگر كيا آپ كو آسانى سے آرام ميں لايا جاسكتا تھا؟ اچانك آپ كى فكر ميں ايك چيز آئي، جناب فاطمہ (ع) سے فرمايا ميرے پاس آؤ جب جناب فاطمہ (ع) اپنا چہرہ اپنے باپ كے نزديك لے گئيں تو آپ نے جناب فاطمہ (ع) كے كان ميں كچھ كہا_ حاضرين نے ديكھا كہ جناب فاطمہ (ع) كا چہرہ روشن ہوگيا اور آپ مسكرانے لگيں، اس بے جا ہنسى اور تبسم پر حاضرين نے تعجب كيا تبسم كى علت آپ سے دريافت كى تو آپ نے فرمايا كہ جب تك ميرے باپ زندہ ہيں ميں يہ راز فاش نہيں كروں گى آپ نے آن جناب كے فوت ہونے كے بعد اس راز سے پردہ اٹھايا اور فرمايا كہ ميرے باپ نے ميرے كان ميں يہ فرمايا تھا كہ فاطمہ (ع) تمہارى موت نزديك ہے تو پہلى فرد ہوگى جو مجھ سے ملحق ہوگى (4)_انس نے كہا ہے كہ اس زمانے ميں جب پيغمبر(ص) بيمار تھے جناب فاطمہ (ع) نے امام حسن (ع) اور امام حسين (ع) كا ہاتھ پكڑا اور باپ كے گھر آئيں اپنے آپ كو پيغمبر(ص) كے جسم مبارك پر گراديا اور پيغمبر(ص) كے سينے سے لگ كر رونے لگيں_ پيغمبر(ص) نے فرمايا، فاطمہ (ع) روو مت، ميرى موت پر منھ پر طمانچے نہ مارتا، بالوں كو پريشان نہ كرنا، ميرے لئے رونے اور نوحہ سرائي كى مجلس منعقد كرنا اس كے بعد پيغمبر خدا(ص) كے آنسو جارى ہوگئے اور فرمايا اے ميرے خدا ميں اپنے اہلبيت كو تيرے اور مومنين كے سپرد كرتا ہوں (5)_راز كى پرستشامام موسى كاظم عليہ السلام فرماتے ہے كہ پيغمبر(ص) نے اپنى زندگى كى آخرى رات حضرات علي، فاطمہ، حسن اور حسين عليہم السلام كى دعوت كى اور گھر كا دروازہ بند كرديا اور انہيں كے ساتھ تنہائي ميں رہے جناب فاطمہ (ع) كو اپنے پاس بلايا اور كافى وقت تك آپ كے كان ميں كچھ فرماتے رہے چونكہ آپ كي گفتگو طويل ہوگئي تھى اس لئے حضرت على (ع) اور حضرت حسن (ع) اور حضرت حسين (ع) وہاں سے چلے آئے تھے اور دروازے پر آكھڑے ہوئے تھے اور لوگ دروازے كے پيچھے كھڑے ہوئے تھے_ پيغمبر(ص) كى ازواج حضرت على (ع) كو ديكھ رہى تھيں_ جناب عائشےہ نے حضرت على (ع) سے كہا كہ كيوں پيغمبر(ص) نے آپ كو اس وقت وہاں سے باہر نكال ديا ہے اور فاطمہ (ع) كے ساتھ تنہائي ميں ہيں آپ نے جواب ديا ميں جانتا ہوں كس غرض كے لئے اپنى بيٹى سے خلوت فرمائي ہے اور كون سے راز انہيں بتلا رہے ہيں؟ تمہارے والد اور ان كے ساتھيوں كے كاموں كے متعلق گفتگو فرما رہے ہيں_ جناب عائشےہ ساكت ہوگئيں_حضرت على (ع) نے فرمايا بہت زيادہ دير نہ گزرى تھى كہ جناب فاطمہ (ع) نے مجھے بلايا جب ميں اندر گيا تو ديكھا كہ پيغمبر(ص) كى حالت خطرناك ہے تو ميں اپنے آنسؤں پر قابو نہ ركھا سكا_ جناب پيغمبر(ص) نے فرمايا يا على (ع) كيوں روتے ہو فراق اور جدائي كا وقت آپہنچا ہے تمہيں خدا كے سپرد كرتا ہوں اور پروردگار كى طرف جا رہا ہوں، ميرا غم اور اندوہ تمہارے اور زہراء (ع) كے واسطے ہے اس لئے كہ لوگوں نے ارادہ كيا ہے كہ تمہارے حقوق كو پائمال كريں اور تم پر ظلم ڈھائيں، تمہيں خدا كے سپرد كرتا ہوں خدا ميرى امانت قبول فرمائے گا_يا على (ع) چند ايك اسرار ميں نے فاطمہ (ع) كو بتلائے ہيں وہ تمہيں بتلائيں گى ميرے دستورات پر عمل كرنا اور يہ جان لو كہ فاطمہ (ع) سچى ہے اس كے بعد پيغمبر(ص) نے جناب فاطمہ (ع) كو بغل ميں ليا آپ كے سر كا بوسہ ليا اور فرمايا، بيٹى فاطمہ (ع) تيرا باپ قربان جائے اس وقت زہراء (ع) كے رونے كى صدا بلند ہوگئي_ پيغمبر (ص) نے فرمايا خدا ظالموں سے تمہارا انتقام لے گا_ واى ہو ظالموں پر_ اس كے بعد آپ نے رونا شروع كرديا_حضرت على (ع) فرماتے ہيں كہ پيغمبر(ص) كے آنسو بارش كى طرح جارى تھے آپ كى ريش مبارك تر ہوگئي اور آپ اس حالت ميں فاطمہ (ع) سے جدا نہ ہوئے تھے، اور آپ نے سر مبارك ميرے سينے پر ركھے ہوئے تھے اور حسن (ع) اور حسين (ع) آپ كے پاؤں كا بوسہ لے رہے تھے اور چيخ چيخ كر رو رہے تھے، ميں ملائكہ كے رونے كى آوازيں سنى رہا تھا_ يقينا اس قسم كے اہم موقع پر جناب جبرئيل نے بھى آپ كو تنہا نہيں چھوڑا ہوگا_ جناب فاطمہ (ع) اس طرح رو رہى تھيں كہ زمين اور آسمان آپ كے لئے گريہ كر رہے تھے پيغمبر(ص) نے اس كے بعد فرمايا بيٹى فاطمہ (ع) ، خدا تمہارا ميرى جگہ خليفہ ہے اور وہ بہترين خليفہ ہے_ عزيزم مت رو كيونكہ تمہارے رونے سے عرش خدا اور ملائكہ اور زمين اور آسمان گريا كناں ہيں_ خدا كى قسم ، جب تك ميں بہشت ميں داخل نہ ہوں گا كوئي بھى بہشت ميں داخل نہ ہوگا اور تم پہلى شخصيت ہوگى جو ميرے بعد بہترين لباس كے ساتھ، بہشت ميں داخل ہوگى اللہ تعالى كى تكريم تمہيں مبارك ہو، خدا كى قسم تم بہشتى عورتوں ميں سے بزرگ ہو_ خدا كى قسم دوزخ اس طرح فرياد كرے گى كہ جس كى آواز سے ملائكہ اور انبياء آواز ديں گے، پروردگار كى طرف سے خطاب ہوگا كہ چپ ہوجاؤ، جب تك فاطمہ (ع) جناب محمد(ص) كى دختر بہشت كى طرف جارہى ہے، بخدا يہ اس حالت ميں ہوگا كہ حسن (ع) تيرے دائيں جانب چل رہے ہوں گے اور حسين (ع) بائيں جانب اور تم بہشت ميں داخل ہوگي، بہشت كے اوپر والے طبقے سے محشر كا نظارہ كروگي، جب كہ محمد(ص) كا پرچم حضرت على (ع) كے ہاتھ ميں ہوگا_ خدا كى قسم اس وقت اللہ تعالى تمہارے حق كا دشمن سے مطالبہ كرے گا اس وقت جن لوگوں نے تمہارا حق غصب كيا ہوگا اور تمہارى دوستى كو چھوڑ ديا ہوگا_ پشيمان ہوں گے ميں جتنا بھى كہتا رہوں گا خدايا ميرى امت كى داد كو پہنچو، ميرے جواب ميں كہا جائے گا تمہارے بعد انہوں نے دستورات اور قوانين كو تبديل كيا ہے اس لئے وہ دوزخ كے مستحق ٹھہرے ہيں (6)_فاطمہ (ع) باپ كے بعداس حالت ميں كہ پيغمبر(ص) كا سر مبارك حضرت على (ع) كے زانو پر تھا اور جناب فاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسين (ع) ، پيغمبر(ص) كے نازنين چہرے كو ديكھ رہے تھے اور رو رہے تھے كہ آپ كى حق بين آنكھ بند ہوگئي اور حق گو زبان خاموش ہوگئي اور آپ كى روح عالم ابدى كى طرف پرواز كرگئي، پيغمبر(ص) كى اچانك اور غيرمنتظرہ موت سے جہان كا غم اور اندوہ حضرت فاطمہ (ع) پر آپڑا وہ فاطمہ (ع) كہ جس نے اپنى عمر غم اور غصّہ اور گرفتارى ميں كاٹى تھى صرف ايك چيز سے دل خوش تھيں اور وہ تھا ان كے والد كا وجود مبارك_ اس جانگداز حادثہ كے پيش آنے سے آپ كى اميدوں اور آرزؤں كا محل يكدم زميں پر آگرا_ اسى حالت ميں آپ باپ كى كمرشكن موت ميں گريہ و زارى اور نوحہ سرائي كر رہى تھيں، اور حضرت على (ع) آپ كے دفن كے مقدمات كفن اور دفن ميں مشغول تھے اچانك يہ خبر ملى كہ مسلمانوں كے ايك گروہ نے سقيفہ بنى ساعدہ ميں اجتماع كيا ہے تا كہ پيغمبر(ص) كے جانشين كو مقرر كريں زيادہ وقت نہيں گزرا تھا كہ دوسرى خبر آملى كہ انہوں نے جناب ابوبكر كو پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا جانشين اور خليفہ منتخب كرليا ہے_گريہ و بكا اور غم و غصہ كے اس بحرانى وقت ميں اتنى بڑى خبر نے حضرت فاطمہ (ع) اور حضرت على (ع) كے مغز كو تكان دى اور ان كے تھكے ماندے اعصاب كو دوبارہ كوٹ كر ركھ ديا_ سبحان اللہ _ كيا ميرے باپ نے حضرت على (ع) كو اپنا جانشين اور خليفہ مقرر نہيں كيا؟ كيا دعوت ذوالعشيرہ سے لے كر زندگى كے آخرى لمحات تك كئي مرتبہ حضرت على (ع) كى خدمت كى سفارش نہيں كرتے رہے؟ كيا چند مہينہ پہلے ايك بہت بڑے اجتماع ميں غدير خم كے مقام پر انہيں خليفہ معين نہيں فرمايا تھا؟ كيا ميرے شوہر على (ع) كے جہاد اور فداكارى كا انكار كيا جاسكتا ہے؟ كيا على (ع) كى علمى منزلت كا كوئي شخص انكار كرسكتا ہے؟ مگر ميرے باپ نے على (ع) كو بچپن سے اپنى تربيت اور تعليم ميں نہيں ركھا تھا؟ خدايا اسلام كا انجام كيا ہوگا؟ اسلام كو ايسے رہبر كى ضرورت ہے جو مقام عصمت پر فائز ہو اور لغزش اور انحراف سے دوچار نہ ہو_ آہ_ مسلمان كس خطرناك راستے پر چل پڑے ہيں؟اے ميرے خدا ميرے باپ نے اسلام كے لئے كتنى زحمت برداشت كى ہے، ميرے شوہر نے كتنى فداكارى اور قربانى دى ہے؟ ميدان جنگ ميں سخت ترين اور خطرناك ترين حالت ميں اپنى جان كو خطرے ميں نہيں ڈالا؟ ميں ان كى زخمى بدن اور خون آلودہ لباس سے باخبر ہوں_ خدايا ہم نے كتنى مصيبتيں اور زحمات ديكھى ہيں_ فاقہ كاٹے ہيں وطن سے بے وطن ہوئے_ يہ سب كچھ توحيد اور خداپرستى كے لئے تھا، مظلوموں كے دفاع كے لئے تھا اور ظالموں كے ظلم كا مبارزہ اور مقابلہ تھا_ مگر ان مسلمانوں كو علم نہيں كہ اگر على (ع) مسلمانوں كا خليفہ ہو تو وہ اپنى عصمت اور علوم كے مقام سے جو انہيں ميرے باپ كے ورثہ ميں ملے ہيں مسلمانوں كے اجتماع اور معاشرے كى بہترين طريقے سے رہبرى كرے گا اور ميرے باپ كے مقدس ہدف اور غرض كو آگے بڑھائے گا اور جو اسلام كو سعادت اور كمال كيطرف لے جائے گا_جى ہاں يہ اور اس قسم كے دوسرے افكار جناب زہراء (ع) كے ذہن اور اعصاب پر فشار وارد كرتے تھے اور اس بہادر اور شجاع بى بى كے صبر اور تحمل كى طاقت كو ختم كرديا تھا_——–1) رياحين الشريعة، ج 1 ص 239_2) الكامل فى التاريخ، ج 2 ص 217 و صحيح بخاري، ج 3 ص 1259_3) سورہ آل عمران، آيت ص 144_4) الكامل فى التاريخ، ج 2 ص 219 و بحار الانوار، ج 22 ص 470_ ارشاد مفيد، ص 88 طبقات ابن سعد، ج 2 قسمت دوم ص 39، 40_ صحيح مسلم، ج 4 ص 1095_5_ بحار الانوار، ص 22 ص 460_
6) بحار الانوار، ج 22 ص 490_
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.