امام مہدی (عج) احادیث کے آینہ میں (دوسري قسط)

327

امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا اے فرزند رسول تقیہ کب تک ہے تو آپ نے فرمایا: وقت معلوم کے دن تک اور وہ دن ہم اہل بیت کے قائم کا دن ہے پس جس نے ہمارے قائم کے خروج سے پہلے تقیہ چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور امام رضا علیہ السلام نے فرمایا میرا چوتھا (نسل کے اعتبار سے) فرزند کنیزوں کی سردار کا فرزند ہوگاکہ اللہ تعالی اس کے ذریعہ زمین کو ظلم و جور کی آلودگی سے پاک فرمائے گااور وہ امام ہے کہ بعض اس کی ولادت میں شک رکھیں گے اور ظہور کرنے سے پہلے طویل عرصہ تک غائب رہے گا اور جب ظہور کرے گا تو زمین اس کے وجود کے نور سے روشن ہوجائے گی لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کا ترازو رکھا جائے گا پس کوئی کسی پر ظلم نہ کرے گا، وہ ایسا امام ہوگا کہ زمین اس کے پاؤں کے نیچے روشن نظر آئے گی اور اس کا جسم سایہ کے بغیر ہوگا اور وہی ہوگا کہ آسمانی آواز جسے سب سنیں گے اس کی طرف بلائے گی اور کہے گی جان لو کہ حجت خدا بیت اللہ کے پاس ظاھر ہوگئی ہے اس کی طرف چل پڑو کہ حق اس کے ساتھ ہے اور اس کے وجود میں ہے اور یہ اللہ کی کلام ہے کہ اس نے فرمایا ان نشا تنزل علیھم السماء آیۃ فظلت اعناقھم لھا خاضعین کہ اگر ہم چاہیں ان پر آسمان سے آیت نازل کریں تو ان کی گردنیں اس آیت کی خاطر جھک جائیں گی (کمال الدین ص ۳۷۱)
ایک اور حدیث میں آپ کے بعض شاگرد آپ سے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں سوال و جواب کرتے ہیں تو امام فرماتے ہیں : قائم کا مسئلہ پروردگار کی طرف سے یقینی ہے جس طرح کہ سفیانی بھی خروج کرے گا، تو ایک شخص نے پوچھا کیا اس سال ہوگا آپ نے فرمایا ماشاء اللہ جیسا اللہ چاہے پھر اس نے پوچھا آیندہ سال؟ آپ نے فرمایا یفعل اللہ ما شاء اللہ جو چاہے وہی کرتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہ امام علیہ السلام کے ظہور کو سفیانی کے خروج سمیت ایک یقینی بات فرماتے ہیں لیکن ظہور کے زمانہ کے بارے میں وضاحت نہیں فرماتے ، اس چیز کو اللہ تعالی کی مشیت و مرضی پر چھوڑ دیتے ہیں، حدیث دعبل میں کہ جب قائم آل محمد علیھم السلام کا ذکر آتا ہے تو ان کا نام ، ان کی علامات اور ان کی بعض خصوصیات کے بارے میں دعبل کو بتاتے ہیں اور آخرمیں فرماتے ہیں کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ کب اور کس زمانے میں ظہور کریں گے یہ گویا ان کے وقت ظہور کی خبر ہے، میرے والد محترم اپنے والد محترم سے وہ اپنے آباؤ واجداد سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ اس سوال کے جواب میں کہ آیا قائم آپ کی ذریت اور نسل مبارک سے ہے اور کب ظہور کریں گے ؟ فرماتے ہیں اس کی مثال قیامت کی مانند ہے کہ پروردگار فرماتاہے لایجلھا لوقتھا الا ھو ثقلت فی السموات والارض لایاتیکم الا بغتۃ وہ (اللہ) اسے اپنے وقت پر ظاھر کرے گا مگر یہ کہ وہ (گھڑی) آسمانوں اور زمین پر بھاری ہوئی اور تم پر اچانک آجائے گی (اعراف آیت ۱۸۷)(کمال الدین ص ۳۷۳)
طولانی غیبت:
عبد السلام بن صالح ھروی ایک حدیث میں امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ اپنے اباؤ و اجداد کے پاکیزہ سلسلہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قسم ہے اس پروردگار کی کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ بشیر بنا کر بھیجا ، قائم میری اولاد میں سے ہے میری طرف سے اس پر عھد ہونے والی غیبت کی وجہ سے وہ پس پردہ رہیں گے اور یہ غیبت اس قدر طولانی ہوجائے گی کہ اکثر لوگ کہیں گے کہ اللہ تعالی کو آل محمد کی ضرورت نہیں ہے اور ایک گروہ ان کی ولادت کے بارے میں شک کرے گا، پس جو بھی ان کے زمانہ کو درک کرے تو اپنے دین کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے شک اور تردید کی وجہ سے شیطان کو اپنے اندر راستہ نہ دے کہ وہ اسے دین سے خارج کردے گا جس طرح کہ تمہارے ماں باپ (آدم وحوا) کو جنت سے نکالا تھا و ان اللہ عزوجل جعل الشیاطین اولیاء للذین لایومنون (اعراف آیہ ۲۷)یقینا اللہ تعالی عزوجل شیاطین کو ان لوگوں کا دوست اور سرپرست قرار دیتا ہے کہ جو ایمان نہیں رکھتے (کمال الدین ص ۵۱)
اسی طرح یہی راوی عبد السلام بن صالح ھروی جو کہ محدث و مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ امام رضا علیہ السلام کے خادم بھی تھے ایک اور مفصل حدیث امام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ اپنے اباؤ و اجداد کے پاکیزہ سلسلہ کے وسیلہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : فرایت اثنا عشر نورا فی کل نور سطر اخضر علیہ اسم وصی من اوصیای اولھم علی بن ابی طالب و آخرھم مہدی امتی فقلت یا رب ھولاء اوصیائی من بعدی؟۔ ۔ ۔ ۔
میں نے بارہ نور دیکھے کہ ہر نور میں گہرے سبز رنگ کی سطر تھی کہ جن پر میرے اوصیا میں سے کسی وصی کا نام لکھا تھا کہ ان میں پہلا نور علی ابن ابی طالب ہیں اور سب سے آخر والے میری امت کے مہدی ہیں تو میں نے پوچھا اے میرے پروردگار یہ میرے بعد میرے اوصیاء ہیں؟ آواز آئی اے محمد یہ میرے اولیاء اور لوگوں پر تمہارے بعد میری حجت ہیں یہ تمہارے جانشین اور اوصیا ہیں اور تمہارے بعد میری افضل ترین مخلوق ہیں ،مجھے میری عزت و جلال کی قسم دین کو ان کے وسیلے سے فتح دوں گا اور اپنے کلمہ کو ان کے وسیلے سے بلند کروں گا اور ان میں سے آخری (مہدی علیہ السلام) کے ذریعہ زمین کو اپنے دشمنوں کی آلودگی سے پاک کردوں اور اور انہیں زمین کے مشارق و مغارب میں طاقت بخش دوں گا ،ہوائیں اس کے لئے مسخر کردوں گا اور سخت ترین بادلوں کو اس کے لئے رام کردوں گا اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی نصرت کروں گا تاکہ میری دعوت ظاھر کرے اور لوگوں کو میری وحدانیت پر اکھٹا کرے، میں اس کی سلطنت و ملک کو دوام عطا کردوں گا۔ ۔ ۔ (علل الشرائع ص۶)
طالموں کی حکومت ابھی تک باقی ہے:
امام رضا علیہ السلام کی امام مہدی عج کے بارے میں احادیث کے درمیان قابل توجہ نکات میں سے ایک نکتہ دنیا پر ظلم و ستم کے نظام کا غلبہ ہے اور یہی وجہ امام مہدی عج کی غیبت کی باعث ہے جب تک حالات مناسب نہیں ہوں گےاللہ تعالی اپنی حجت کو ظاھر نہیں فرمائے گا بعض یہ سمجھتے تھے کہ عباسیوں کی ظالمانہ حکومت ختم ہونے والی ہے ان کی شان و شوکت ختم ہوچکی ہے تو اب سفیانی کیوں نہیں خروج کررہا اور قائم آل محمد کے ظہور کا وقت کونسا ہے؟
حالانکہ یہ ظاھر میں دیکھ رہے ہیں کہ اگر ہم ان حکومتوں کی گہرائی میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ خاندان تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن حاکموں کو سوچ اور روش کبھی بھی وہ نہیں ہے کہ جس کا وحی اور کتاب الھی نے تقاضا کیا ہے۔
حسن بن جھم کہتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا اللہ تعالی ہمارے کاموں کو پورا کرے، لوگ کہتے ہیں بنی عباس کی حکومت ختم ہوتے ہی سفیانی خروج کرے گا ؟ امام نے فرمایا : کذبوا انہ لیقوم و ان سلطانھم لقائم (محمد بن ابراھیم نعمانی ص ۳۰۳)
وہ جھوٹ بولتے ہیں کہ سفیانی خروج کرے گا جبکہ بنی عباس کی حکومت برپا ہوگی اس حدیث میں بہت اھم نکتہ ہے کہ اگرچہ صدیاں گزر گئیں بنی عباس کی حکومت ختم ہوگئی ہے لیکن ان کی جگہ جو حکومتیں آئیں وہ بھی انہی کی مانند ظلم و ستم کی بنیاد پر قائم ہیں اور خدا اور رسول کے فرامین کے خلاف چل رہی ہیں گویا کہ بنی عباس ہی کی حکومت باقی ہے۔
میں امام قائم نہیں ہوں:
ان احادیث رضوی میں ایک خوبصورت نکتہ یہ ہے کہ ایک حدیث کے مطابق آپ کے بعض اصحاب نے چاہا کہ آپ کو قائم کے عنوان سے یاد کیا کریں لیکن امام معصوم نے ان کے اس خیال کی صراحت سے نفی کی ۔
ایوب بن نوح کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا مجھے امید ہے کہ آپ صاحب امر ہوں اللہ تعالی امامت و حکومت بغیر تلوار چلائے آپ کی طرف پلٹا دے کیونکہ (مامون کی طرف سے) آپ کی بیعت لی جاچکی ہے اور سکہ آپ کے نام سے چل رہا ہے تو امام نے جواب میں اس کی بات کی نفی فرمائی اور فرمایا : حتی یبعث اللہ عزوجل لندا الامر رجلا خفی المولد والمشاء غیر خفی فی نسبہ حتی کہ اللہ تعالی ایسے شخص کو اس کام کے لئے اٹھائے گا کہ جس کی ولادت اور پرورش مخفی ہوگی لیکن اس کا نسب جانا پہچانا ہوگا(کمال الدین ص ۳۷۰)
امام حسین(ع) کے قاتلوں سے انتقام:
عبد السلام بن صالح ھروی روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ جب قائم عج قیام کریں گے اور ظہور فرمائیں گے تو امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی اولاد کو ان کے آباؤ و اجداد کے ظالمانہ کاموں کے بدلے میں قتل کریں گے؟
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالی کی تمام باتیں صحیح اور سچی ہیں لیکن نکتہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی اولاد اپنے اباؤ و اجداد کے اس فعل پر راضی ہے اور اس پر فخر کرتی ہے اور جو بھی کسی عمل پر راضی ہو گویا اس طرح ہے کہ اسے انجام دیا ہے اگرچہ کوئی شخص مشرق میں قتل ہو اور مغرب میں کوئی شخص اس کے اس فعل پر راضی اور خوش ہو تو اللہ کے نزدیک ایسا شخص قاتل کا شریک شمار ہوگا اور امام مہدی(عج) اسے لئے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی نسل کو قتل کریں گے کیونکہ وہ اپنے آباؤ واجداد کے کاموں پر راضی اور خوش ہوں گے۔(عیون الرضا ع ج۱ ص ۲۷۳)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.