امامت کے وجوب پر اہم عقلی دلیل (قانون لطف)
۱: توفیق: کام کو انجام دینے کےلۓ ضروری وساﺋل اور اسباب فراهم کرنا-
۲: ارشاد و راهنمائ (راسته دکھلانا)
۳: عمل میں رهبری (مقصود تک پهنچانا) (تمهید الاصول ص۷۶۷)
علامه حلی (رح) اس حوالے سے فرماتے هیں:
امامت دین و دنیا کے امور میں ایک کلی الهی رهبری و حاکمیت هے بعنوان ناﺋب پیغمبر بعض افراد کےلیے یه واجب عقلی هے کیونکه امامت لطف هے ،همیں یقین هے که اگر لوگوں کےلیے ایسا کوئ شخص هو جو انکی رهبری کا ذمه داری اپنے کاندھوں پر لے اور انکی راهنمائ کرے دوسرے لوگ اس کی اطاعت کریں اور وه مظلوم کے حق کو ظالم سے لے اور ظالم کو ظلم سے منع کرے تو لوگ صلاح وخیر کے نزدیک اور فساد سے دور هوجاﺋیں گے (شرح باب حادی عشر ص ۸۳)
لطف کی تعریف:یه الله تعالی کی صفات فعلی میں سے هے ایسا الهی فعل هے که جن کی بنا پر لوگ اطاعت کے قریب اور معصیت سےدور هوجاتے هیں-
لطف کی اقسام
اس کی دو قسمیں بیان هوئ هیں :
۱ : لطف محصل
۲: لطف مقرب
لطف محصل :الله تعالی کی طرف سے ایسے اسباب فراهم هونا که جن پر انسان کی خلقت کا هدف موقوف هے اگر الله تعالی یه اسباب و احکام فراهم نه کرے تو انسانی خلقت لغو هوجاﺋیں مثلا احکام شرعیه بھیجنا ٬دین کی تبلیغ اور حفاظت کےلیے انبیا کا بھیجنا –
لطف مقرب : وه امور الهی که جن کے ذریعے احکام تکلیفه کا هدف پورا هو کیونکه اگر الله تعالی یه لطف نه کرے تو بهت سے بندگان اطاعت و امتثال کےلیے تیار نهیں هوتے مثلا نیک لوگوں کو جنت کا وعده ، برے لوگوں کو جهنم کے عذاب سے ڈراوا اور امتحان لینے کےلیے لوگوں کو نعمات اور مصاﺋب دینا۔ ۔ ۔ اس قسم کا لطف انسان کو الهی احکام بجا لانے کے نزدیک کرتا هے اور سرکشی سے دور کرتا هے –
نتیجه :
اگر لطف محصل نه هو تو تکالیف شرعیه کےلیے انبیا کی بعثت هی نه هوگی اگر لطف مقرب نه هو تو اگرچه انبیاء و آﺋمه کی صورت میں راهنما هونگے احکام شرعیه هونگے لیکن عموما لوگ امتثال و اطاعت نهیں بجا لاﺋیں گے –
قانون لطف کی امامت پر دلالت:
اکثر علماء علم کلام امامت کے مسأله کو لطف مقرب کے مصادیق میں سے شمار کرتے هیں اس طرح که الله تعالی نے بندوں پر کچھ تکالیف واجب کیں تاکه وه ان تکالیف کی پیروی و اطاعت میں کمال و سعادت تک پهنچ جاﺋیں ، یه غرض الهی بغیر امام معصوم کو منصوب کرنے اور لوگوں کو جنت کا وعده اور جهنم کے ڈراوے کے پوری نهیں هوسکتی پس خدا ے حکیم یقینا ان امور کو انجام دے گا تاکه تکالیف شرعیه کے حوالے سے نقض غرض لازم نه آۓاکثر بزرگ علماء اهل کلام یهاں ایک مثال دیتے هیں که جب بھی کوئ غذا تیار کرے اور اس کا م قصد یه هو که لوگوں کو دعوت دے اور وه انهیں پیغام دعوت بھیجے اب وه جانتا هے که لوگوں کے پاس اس کے ایڈریس کےلیے نشانی اور راهنمائ موجود نهیں هے نه کوئ انکے پاس ایسا راهنمنا هے که جو اس کی نشانی بتاۓ اور وه بھی نشانی بتانے کےلیے کوئ راهنما نه بھیجے تو یقینا دعوت والا کام عبث اور فضول هوگا-
اس عهد امامت لطف مقرب کے مصادیق میں سے هے اور امام کا مرتبه پیغمبر کے مرتبہ کے قریب هے لیکن اس فرق کے ساتھ که پیغمبر تکالیف شرعی کو لانے اوربیان کرنے کےلیے هوتے هیں جبکه امام بعنوان ناﺋب پیغمبر ان تکالیف شرعیه کے محافظ اور پاسدار هوتے هیں(انیس الموحدین ٬محمد مهدی نراقی باب امامت)
بلاشبه قوانین الھی کی حفاظت اور امام کے دیگر وظاﺋف سے انسان الهی اوامر کی پیروی کے قریب هوجاتے هیں اور سرکشی سے دور هوجاتے هیں اور جب بھی کسی معاشره کا ایسا رهبر هو جو انکو ظلم سے روکے اور صلح وعدالت کے راسته پر لیجاۓ تو ایسا معاشره صلاح وخیر کے نزدیک اور فساد سے دور هوگا-(کشف المراد ص۳۶۲)
اب ایسا رهبر اگر الله تعالی کی طرف سے هو اور معصوم بھی هو تو پھر اس کے لطف هونے میں کوئ شک نهیں رهے گا کیونکه الھی اور معصوم امام یا رهبر کے منصوب هونے سے نه کوئ مفسده اور نه کوئ مشکل پیش آتی هے که الله اس مشکل کی بنا پر امام کو منصوب نه کرے