اربعین رهبر شهید

انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی تدفین کے چالیسویں روز کی مناسبت سے

5

قم۔ ایرنا — مجمع جهانی شیعه‌شناسی اور اس سے ہم خیال اداروں نے انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی تدفین کے چالیسویں روز کی مناسبت سے ایک بیان جاری کیا ہے۔
اس بیان میں، جو پیر کی شام ایرنا کو موصول ہوا، کہا گیا ہے:
ایک بار پھر غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی امتِ اسلامی کے موجزن جذبات، ایک ایسے عظیم مرد کی یاد کو دلوں میں تازہ کر رہے ہیں، جس کا بلند مقام پختہ ایمان، گہری بصیرت، بے مثال استقامت اور اسلام، انقلاب اور ولایت کی راہ میں انتھک جدوجہد کا آئینہ دار تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے:
وہ دوراندیش قائد اور اپنے زمانے کے بے مثال مرجعِ تقلید، فقاہت، حکمت، جہاد اور تدبیر کے حسین امتزاج کے ساتھ اہلِ ایمان کے عقیدے کا مضبوط ستون اور دنیا بھر کے مستضعفین کا سہارا بن گئے۔ ان کا نام مسلمانوں کی عزت و سربلندی کی تجدید اور اقوام کی بیداری کے علمبردار کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
بیان کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے:
مجمع جهانی شیعه‌شناسی، ہم خیال مراکز اور اداروں کے ہمراہ، اس ذریعے سے اس دائمی عروج کے چالیسویں دن کو گرامی قدر قرار دیتا ہے اور اس عظیم مجاہد کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے، جس کی یاد ہمیشہ تاریخ کے صفحات اور امتِ اسلامی کے حافظے میں زندہ رہے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے:
اسلام کے دشمن اور دنیا کے مستکبرین برسوں سے جبهۂ حق کے مقابلے میں ہر طرح کی دشمنی اور عناد کو منظم کرتے آئے ہیں؛ زہریلے پروپیگنڈے اور کھلے و پوشیدہ فتنوں سے لے کر ایمان کی روح اور مسلمانوں کے اتحاد پر مختلف النوع یلغار تک۔ لیکن اس تاریخی سفر کی روشن حقیقت یہ ہے کہ جبهۂ حق کے پیکر پر پڑنے والی ہر ضرب نے اہلِ ایمان کی بیداری میں مزید اضافہ کیا اور اسلام کے شجرِ نوخیز کو مزید بارآور اور شاداب کیا ہے۔
بیان کے ایک اور حصے میں آیا ہے:
اس راہ کے شہیدوں اور مجاہدوں کا پاکیزہ خون نہ صرف دنیا بھر کے شیعوں کے لیے باعثِ فخر و سربلندی ہے، بلکہ اسلام کے دشمنوں کی ناکامی کا واضح ثبوت اور مستکبرین کی متزلزل ہوتی ہوئی طاقت کی بنیادوں کے انہدام کا سبب بھی بن چکا ہے، اور اس نے باطل کے راستے کو زوال کی طرف پہلے سے زیادہ تیزی سے دھکیل دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے:
چونکہ دین کی عزت اور ولایت کے بلند و عالی مقاصد کی بقا امت کی مخلصانہ همراهی کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے تمام علما، فضلا، طلاب، جامعات کے اساتذہ، مذہبی ہیئات اور تمام شریف، مؤمن اور انقلابی عوام پر لازم ہے کہ چہلم کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریبات میں بھرپور شرکت کرکے ایک بار پھر اسلام، انقلاب اور ولایت کے آرمانوں کے ساتھ اپنے عہد و پیمان کی تجدید کریں، اور فاتحہ خوانی، دعائے خیر اور زیارت کی تلاوت کے ذریعے اس دوراندیش اور عزیز رہبر اور ان کے ہمراہ شہید ہونے والے عزیزوں کی یاد کو گرامی رکھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے:
مجمع جهانی شیعه‌شناسی اور ذیل میں مذکور ادارے بھی اپنی بساط کے مطابق قرآنی محافل، مجالسِ عزا اور یادگاری پروگراموں کے انعقاد کا اہتمام کرتے ہوئے تمام عقیدت مندوں کی میزبانی کے لیے آمادہ ہیں۔

انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کا جسدِ خاکی تہران، قم، نجف اور کربلا کے شہروں میں تشییع کے بعد 18 تیر کو مشہد مقدس میں سپردِ خاک کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.