اسلام میں شادی بیاہ
اس جذبے كے طاقتور ہونے كے بارے میں كوئی كلام نہیں ۔ اس جذبے كی اسی وقت كو دیكھ كر آسٹریا كا ماہر نفسیات ” فرائیڈ ” سخت غلط فہمی میں مبتلا ہوگیا اور اس حد تك كہ اس كے خیال میں تمام خواہشات كے جڑ جنسی خواہش قرار پائی ۔ حتی كہ بچے كے ماں كے سینے سے دودھ پینے كو بھی وہ اسی جذبے سے منسوب كرتا ہے ۔اس بارے میں كسی بحث كی حاجت نہیں كہ اس فطری خواہش كو پورا كرنا زندگی كے ضروری اور لازمی تقاضوں میں سے ایك ہے ۔البتہ بحث اس بارے میں ہے كہ انسان كی خواہش كو كس طرح پورا كرنا چاہیئے ؟اس كے لئے كوئی ایسا طریقہ اختیار كیا جانا چاہیئے كہ یہ خواہش بھی اعتدال پر آجائے اور اس فطری جذبے كا اصل ہدف پورا ہو اور وہ بھی اس طرح كہ انسانی شرافت اور شخصیت كو كوئی نقصان نہ پہنچے ۔وہ واحد طریقہ جو تمام جنسی خواہشات كی تكمیل كا ذریعہ قرار پاسكتا ہے شرعی اور قانونی نكاح كے ذریعہ رفیق حیات كو حاصل كرنا ہے ۔بلاشبہ شادی ، عمر كے انتہائی بحرانی دور میں آرام و سكون كی زندگی مہیا كرنے كی ضامن ہوتی ہے ۔ اسی لئے اسلام میں شادی كی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے ۔قرآن كریم نے چند چیزوں كو آرام و سكون كا ذریعہ قراردیا ہے ۔ اور انھیں اللہ كی بڑی اور قیمتی نعمتوں میں شمار كیا ہے ۔ ان میں سے چند یہ ہیں:1) سب سے پہلی نعمت گھر ہے۔جو انسان كے لئے آرام ، امن اور سكون كی جگہ ہے ۔ اس نعمت كی قدر ان لوگوں كے سوا اور كوئی نہیں جانتا جو گرمی كے موسم میں كڑی دھوپ اور سروں پر چمكنے والے سورج كی حدت سے سخت پریشان پرتے ہیں یا پھر كڑاكے كی سردیوں میں شاخ بید كی طرح كپكپاتے ہیں اور انھیں كوئی پناہ گاہ نظر نہیں آتی ۔ 12) دوسری نعمت رات كا قیمتی وجود ہے جو اپنے سیاہ خیمے میں انسان كے تھكے ہوئے اعصاب كو آرام و سكون مہیا كرتا ہے ۔ اور زندگی كے پژمردہ جذبے كو پھر سے ایك نئی روح عطا كركے اس كی ساری خستگی اور فرسودگی كو دور كردیتا ہے ۔ 23) تیسری وہ زندگی كا ساتھی ہے جو تمام جنسی خواہشات كی آسودگی كا ذریعہ بنتا ہے ۔ 3یہ واضح رہے كہ اس آرام و آسودگی كا تعلق اس انس و محبت سے ہے جس كی توقع ہر شخص جنس مخالف یعنی اپنے رفیق حیات سے ركھتا ہے ۔اس سكون و آرام كو وہ شخص بخوبی محسوس كرسكتا ہے جس نے تنہائی اور مجرد رہنے كی مشكلات كا مزا چكھا ہو ۔ یا پھر وہ اس اضطراب اور پریشان حالی سے واقف ہو جس سے ایك مجرد جوان دوچار رہتا ہے ۔ہمارے اس انسانی معاشرے میں كتنے جوان ہیں جو جنسی سكون سے محروم ہونے كی بنا پر اپنی بہترین قوتوں اور صلاحیتوں كو ضائع كررہے ہیں اور اسی وجہ سے ان كی عمر كے شرین ترین ایام زندگی كے تلخ ترین لحمات بن گئے ہیں ۔قرآن كریم كا ارشاد ہے كہ ازدواجی زندگی مرد اور عورت دونوں كے لئے سكون اور آرام كا سبب بنتی ہے ۔”ومن آیاتہ ان خلق لكم من انفسكم ازواجاً لتسكنوا الیھا” (سورہ روم )اللہ تعالی كے اس ارشاد كی حكمت اس وقت پوری طرح واضح ہو كر سامنے آتی ہے ۔ جب ہم دور جدید كی نئی نسل اور اس كے مجرد نوجوانوں كو ہیجان اور انار كی كے طوفان میں گھر ہوا دیكھتے ہیں ۔ وہ آج كیسی ناكامیوں اور بے چینیوں كا شكار ہیں ، آج وہ اس آرام وسكون كے كس قدر ضرورت مند ہیں جس كا ذكر قرآن نے كیا ہے ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كا ارشاد ہے:” اے جوانو ! تم میں سے جو بھی اپنے اندر توانائی اور استطاعت پاتا ہے وہ شادی كرلے تا كہ تمہاری نگاہیں عورتوں كا تعاقب كرنے سے محفوظ رہیں اور تمہارا دامن پاك رہے گا ” 4ایك اور موقع پر رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” تم میں سے جو شخص بھی شادی كرے گا وہ نصف دین اور سعادت سے بہرہ مند ہوگا ۔” 5جب كوئی جوان شخص اپنی منہ زور جنسی قوتوں كو شادی كی مہار سے قابو میں لیتا ہے تو عروج شباب كے اس مرحلے میں اس كی طوفان خیز متلاطم روح سكون و اعتدال حاصل كرلیتی ہے اور پھر وہ زندگی كے سفر كو بہتر طریقے پر ، وقار و سكون اور زیادہ آسانی كے ساتھ طے كرنے لگتا ہے ۔” ویل ڈورانٹ ” كہتا ہے:” اگر لوگ اپنی زندگی كے بہترین اور موزوں سالوں میں شادیاں كرنا شروع كردیں تو بے حیائیاں ، خطرناك بیماریاں ، بے نتیجہ تنہائیاں اور ناگوار گوشہ نشینیاں اور وہ بغاویتں اور سركشیاں جو آج كے دور كو داغدار بنا چكی ہیں ، گھٹ كر نصف رہ جائیں ۔” 6آج ماضی كے برعكس بہت سی ركاوٹیں شادی كی راہ میں حائل نظر آتی ہیں ۔ ان میں سے ایك ناكافی آمدنی ہے ۔ آج كی دنیا میں جوانوں كے جنسی بلوغ اور اقتصادی بلوغ كے درمیان ایك فاصلہ پیدا ہوگیا ہے اور یہ چیز شادی دیر سے ہونے كا سبب بنتی ہے ۔جو نوجوان علمی اور صنعتی شعبوں میں اپنی تكمیل چاہتے ہیں انھیں طویل برسوں تك تعلیم حاصل كرنی پڑتی ہے تا كہ وہ كچھ كمائی كرسكیں اور اپنے خاندان تك تعلیم حاصل كرنی پڑتی ہے تا كہ وہ كچھ كمائی كرسكیں اور اپنے خاندان كی ضروریات پوری كرسكیں ۔ لیكن تعلیم كے اس درمیانے عرصے میں ان پر جنسی خواہشات غالب آنے لگتی ہیں اور انھیں فساد اور بگاڑ كے تنگ راستے پر ڈال دیتی ہیں ۔” ویل ڈورانٹ ” لكھتا ہے:” ماضی كی طرح اس دور میں بھی جنسی بلوغ كی منزل جلد آتی ہے جب كہ اقتصادی بلوغ كی منزل دیر میں آتی ہے ۔ ایك دیہاتی زندگی میں ، شہوتوں كو قابو میں ركھنا ، معقول اور عملی دكھائی دیتا ہے ۔ لیكن ایك صنعتی معاشرے میں شادی كو تیس سال كی عمر تك ٹالنا ایك مشكل اور غیر فطری كام معلوم ہوتا ہے۔ شہوت اپنا سر اٹھاتی ہے اور اسے قابو میں ركھنا دشوار ہوجاتا ہے ۔ ” 7پھر بعض لوگ شادی كے مختلف رسوم اور رواج كو اتنی اہمیت دیتے ہیں كہ تھوڑی مدت كے اندر شادی كے انتظامات كرنا ان كے لئے مشكل ہوتا ہے اور وہ اس كے لئے زیادہ وقت لینا چاہتے ہیں ۔ یہ چیز بھی نوجوان نسل كو اكثر گناہوں میں آلودہ كردیتی ہے ۔
اس مسئلے كا حلاس مسئلے كا حل یہ ہے كہ جو نوجوان شادی كی راہ میں ركاوٹوں سے دوچار ہیں اور انھیں یہ اندیشہ بھی ہے كہ جنسی جذبے كو دباؤ كی بنا پر كہیں ان كا قدم دائرہ عفت سے باہر نہ نكل جائے تو ایسے نوجوانوں كے لئے مناسب یہ ہے كہ وہ اپنی پسند كی كسی لڑكی كو اپنے عقد میں لے آئیں ۔ اس سلسلے كے شرعی اور قانونی مراسم انجام دے لیں ۔ البتہ شادی ، رخصتی اور خاندان كی تشكیل كے مرحلے كو چند سالوں كے لئے یعنی تعلیم كی تكمیل تك موخر كردیں ۔ اس طریقے سے بھی وہ اپنی جنسی بے راہ روی كا سدباب كرسكتے ہیں اور اپنی تعلیم كو بھی جاری ركھ سكتے ہیں ۔اسی طرح شادی كے اخراجات ، مہر كی مقدار اور جہیز وغیرہ كے سلسلے میں بھی دكھاوے اور دوسروں كے مقابلے سے پرہیز كریں اور شادی كو سادہ اور آسان بنائیں اور اپنی چادر كے مطابق پاؤں پھیلائیں ۔ ہر شخص كو اپنی استعطاعت كے مطابق زندگی كے وسائل فراہم كرنے چاہئیں اور خاندانی زندگی كی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:” بیوی كی بركتوں میں سے ایك یہ ہے كہ وہ كم خرچ ہو اور اس كی برائیوں میں سے ایك یہ ہے كہ اس كے اخراجات بہت زیادہ ہوں ۔” 8قرآن كریم كا ارشاد ہے:” اپنے بیٹوں اور بیٹیوں كی شادی كے وسائل فراہم كرو ۔ جو لوگ مالی اعتبار سے تہی دست ہوں گے اللہ تعالی اپنے فضل سے انھیں غنی بنادے گا ۔” 9
آپ كی رفقیہ حیات كیسی ہو ؟پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” وہ عورت تمہاری رفقیہ حیات بننے كے لئے سب سے بہترین ہے جو تمہیں اولاد سے بہرہ مند كرنے والی ، مہربان اور پاك دامن ہو ۔ خاندان میں معزز اور باوقار ہو ، شوہر كے سامنے عاجزی و انكساری كرنے والی ہو، شوہر كے لئےبناؤ سنگھار میں كوئی كوتاہی نہ كرتی ہو ، البتہ دوسروں كے سامنے وہ اس قدر وقار كے ساتھ رہتی ہو كہ وہ اپنے لئے اس كی بے اعتنائی كو محسوس كریں خصوصاً ازدواجی تعلقات میں اپنے شوہر كی خواہشات كا لحاظ كرے اور اس كے جائز اور شرعی مطالبات كے آگے سرتسلیم خم كرے لیكن اس كے ساتھ ساتھ اپنی عزت اور وقار كو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے ۔ ” 10
ہم مرتبہ ہوناشادی كی شرائط میں سے ایك شرط ” ہم مرتبہ ” ہونا ہے لڑكے اور لڑكی كا ہم مرتبہ ہونا دولت اور مادی حالات كی بنا پر نہیں ہے بلكہ اس سے مراد دونوں كا پاكدامنی ہونا اور لڑكے كا اس قابل ہونا ہے كہ وہ زندگی كے اخراجات كو پورا كرسكے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:” المومن كفوالمومنة “” مومن مرد مومن عورت كا كفو ہے ” 11امام صادق (ع) نے فرمایا:” كفو ” سے مراد یہ ہے كہ مرد پاكدامن ہو اور وہ زندگی كے اخراجات پورے كرسكتا ہو ۔” 12
كیا باپ لڑكی كی مرضی كے خلاف اس كی شادی كرسكتا ہے ؟یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے كہ اسلام كی روسے كوئی باپ اس بات كا مجاز نہیں ہے كہ وہ مادی اسباب اور اپنی مصلحتوں كی بنا پر اپنی بیٹی كی شادی كے لئے اقدام كرے ۔ اگر لڑكی كی كسی خاص شخص كے اچھے كردار كی بنا پر اس كی جانب مائل ہو تو باپ كو یہ حق حاصل نہیں ہے كہ وہ اسے اس شادی سے باز ركھے اور اس كی شادی كسی ایسے شخص سے كرنا چاہے جس كو وہ پسند نہ كرتی ہو ، كیونكہ شادی كے معاملے میں خود لڑكی كی مرضی كو بنیادی شرط كی حیثیت حاصل ہے ۔ اور اس حد تك كہ اگر باپ لڑكی كی كسی سے شادی كردے اور لڑكی اس شادی سے راضی نہ ہو تو وہ نكاح باطل قرار پائے گا ۔
اس روایت پر غور كیجےایك لڑكی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے باپ كی شكایت كی ۔حضرت ۖ نے دریافت فرمایا كہ:” تیرے باپ نے تیرے ساتھ كیاكیا ہے ؟”اس نے كہا كہ:” میرے باپ نے میری مرضی كے بغیر مجھے اپنے بھتیجے كے عقد میں دے دیا ۔”حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:” اب كہ تیرے باپ نے یہ كام انجام دے دیا ہے تو اسے قبول كرلے اور اس كی مخالفت نہ كر ۔”لڑكی نے عرض كی:” میرے باپ نے جہاں میرا رشتہ كیا ہے اس سے مجھے كوئی رغبت نہیں ہے ۔”حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” جب تجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے تو تجھے اختیار ہے كہ جس شخص كو بھی تو پسند كرتی ہے اسے اپنے لئے منتخب كرلے ۔”اس لڑكی نے جب رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے اس ارشاد كو سنا تو اس نے عرض كی:” حضور ۖ میں اپنے اسی چچا زاد بھائی كو پسند كرتی ہوں لیكن محض اس لئے كہ باپ اپنی لڑكیوں كی شادی ان كی مرضی كے خلاف نہ كیا كریں ، اس لئے میں ان آپ ۖ كی خدمت میں حاضری دی اور آپ سے اس طرح كے سوال جواب كیے تاكہ میں تمام مسلمان عورتوں كے سامنے یہ اعلان كرسكوں اور لڑكیوں كے پاپ یہ جان لیں كہ انھیں یہ اخیتار حاصل نہیں ہے كہ وہ لڑكیوں كی مرضی كے بغیر ایسے اشخاص سے ان كا عقد كردیں جو كو وہ پسند نہ كرتی ہوں ۔” 13
كیا لڑكی كی شادی كے لئے باپ كی مرضی شرط ہے ؟روایات میں آیا ہے كہ كنواری لڑكی كی شادی كے لئے باپ كی رضا مندی لازمی ہے ۔ البتہ یہ شرط خود لڑكی كے مفاد میں ہے ، كیونكہ بصورت دیگر عین ممكن ہے كہ لڑكی جسے ابھی زندگی كا كوئی تجربہ نہیں ہے دھوكہ كھاجائے اور اس شخص كے دام میں آجائے جو اس سے اظہار محبت كرتا ہے اور بعد میں یہ چیز اس كے لئے پشیمانی اور حسرت كا سبب بن جائے ۔باپ كے مرتبے اور احترام كو ملحوظ ركھتے ہوئے بھی بعض روایات میں باپ كی اجازت و مرضی كو ایك شرط قرار دیا گیا ہے ۔————-1. واللہ جعل لكم من بیوتكم سكناً ” سورہ نحل آیہ 80۔2. ھوالذی لكھم الیل لتسكنوا فیہ ” سورہ یونس آیت 67 ۔3. ومن ایاتہ ان خلق لكم من انفسكم آزوجاً لتسكنوا الیھا ” سورہ روم ۔4. مستدرك الوسائل ۔5. وسائل جلد 14 ص 5 ۔6. لذات فلسفہ ص 184 ۔7. لذات فلسفہ ۔8. وسائل الشیعہ جلد 14 ۔ ص 78 ۔9. سورہ نور آیت 32 ۔10. وسائل الشیعہ جلد 14 ۔ ص 14 ۔11. وسائل الشیعہ جلد 14 ۔ ص 43 ۔12. وسائل الشیعہ جلد 14 ۔ ص 52 ۔13. مسالك ، ج 1 ۔ ص 16 ۔ از كتاب نكاح ۔