منکر مہدی کافر ہے

284

چنانچہ جناب جلال الدین سیوطی ” العرف الوردی فی اخبار المہدی(ع) ” میں، محدث بزرگ ابراہیم بن محمد جوینی نے ” فراید السمطین ” میں،ابن حجر ہیثمی نے "القول المختصرفی علامات المہدی المنتظر (ع)” میں اور سید محمد حسن صدیق قنوجی نے ” الازاعہ لماکان ومایکون بین یدی الساعة ” میں ،علامہ شہاب الدین احمد حلوانی ” خمس رسائل” میں ، علامہ ابو طیب ” الاشاعة لماکان ومایکون بین یدی الساعة ” میں، علامہ ابوالقاسم السہیلی ” شرح السیر ” میں ،علامہ سفارینی حنبلی ” لوایع الانوار البہیہ ” میں ، علامہ محمد جواد مغنیہ ” الشیعہ والتشیع” میں، علامہ ابوبکر السکانی” فواید الاخبار” میں، مفتی وحافظ قندوزی ” ینابیع المودة” میں ، اور حافظ متقی ہندی نے ” البرہان فی علامات مہدی (ع) آخرالزمان” میں جابربن عبداللہ الانصاری سے نقل کیا ہے "عن جابربن عبداللہ الانصاری ، انّ رسول اللہ قال: من کذب بالمہدی فقد کفر۔”(۔البرہان فی علامات مہدی آخرالزمان ، ص۷۷۱)
رسول اکرم (صلی اللہ علیہ والہ) نے فرمایا:جس نے (عقیدہ) مہدی کو جٹھلایا وہ کافر ہوا
دوسری حدیث میں یوں بیان فرمایا:” من انکر خروج المہدی فقد کفر بما انزل علی محمد (ص)”
( ینابیع المودة، باب۴ ۹، ص ۷۴۵ ، عقد الدر فی اخبار المہدی المنتظر ، باب ۱۷فی شرفہ وعظیم منزلتہ ومقدمہ ابن خلدون ، ج۲، ص ۹۸۱، باب امر الفطمی ومایذہب الیہ الناس)۔
یعنی جس نے مہدی(ع) کے وجود یاظہور کو جھٹلایا وہ محمد (ص) پر نازل ہونے والے دین کا کافر ہوگیا۔
ان دونوں حدیثوں کا مفہوم یہ ہوا کہ وجود حضرت مہدی(عج) کا منکر بھی کافر ہے ، اورظہور مہدی کا منکر بھی کافر ہے ، اوراگر کوئی شخص مجمع عام میں آپ(ع) کی شان میں گستاخی کرے تو آپ ہی فیصلہ کریں وہ کیا ہے ؟
منکر مہدی واجب القتل ہے
منکر مہدی نہ صرف یہ کہ کافر ہے بلکہ بزرگ سنی علماءکے نزدیک اگر وہ حق کی طرف پلٹ کر نہ آئے تو اس کا خون مباح ہے ۔
حافظ ملا علی متقی ہندی حنفی ، صاحب کنز العمال ” البرہان فی علامات مہدی(ع) آخرالزمان ” میں لکھتے ہیں :
یہ فتوی ۹۵۵۲ھ مین صادر ہوا ہے اور مندرجہ ذیل فقہاءکا ہے ، ابن حجر ہیثمی شافعی ، شیخ ابوالسرور بن صبا حنفی ، محمد بن خطابی مالکی اورشیخ یحیٰ بن محمد حنبلی ، یہ چاروں علماء” مکی” ہیں اورمذاہب اربعہ کے فقہاءمیں اور جو شخص بھی ان کے فتووں پر غور کرے تواسے یقین حاصل ہوجائے گا یہ چاروں فقہاء، احادیث حضرت مہدی(ع) کے متواتر ؛ہونے پر متفق ہیں اور یہ کہ منکر مہدی(ع) کو مارنا ، اہانت کرنا واجب ہے یہاں تک وہ اپنی مرضی سے حق کی طرف پلٹ کرآئے ورنہ اس کاخون مباح ہے ۔
(۔البرہان، باب ۳۱، فی فتویٰ علماءالعرب من اہل مکہ فی شان المہدی، ص ۷۷۱۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.