خوارج كے ساتھ علي (ع) كا رويہ
وہ اپني خونہ چھوڑيں گے ھم اپني وضع كيوں بدليں
خارجي لوگ دوسروں كے سامنے حضرت علي عليہ السلام كي اہانت كرتے، ليكن امام عليہ السلام خاموش رھتے اور صبر وتحمل سے كام ليتے ۔آپ جب منبر پر تقرير كررھے ھوتے تو كچھ خارجي آپ كي تقرير كے دوران سيٹياں بجاتے اور آوازيں كستے۔ ايك روز آپ تقرير فرمارھے تھے ايك شخص نے امام عليہ السلام سے ايك مشكل ترين سوال كيا، آپ نے اسي وقت اس انداز ميں اس قدر آسان جواب ديا كہ تمام مجمع عش عش كر اٹھا، تكبير كي آوازيں بلند ھوئيں ۔وھاں پر ايك خارجي بيٹھا ھوا تھا اور بولا :
"قاتلہ اللہ ماافقھہ”
كہ خدا ان كو مار ڈالے كس قدر علامہ ھے يہ شخص”
آپ كے اصحاب نے اس شخص كو پكڑ كر مارنا چاہا ليكن امام عليہ السلام نے فرمايا اسے چھو ڑدو اس نے بدتميزي تو مجھ سے كي ھے زيادہ سے زيادہ تو آپ اس كو توبيخ ھي كرسكتے ھيں۔ اس كو اپنے حال پر رھنے دو، جو كھتا ھے كھتا پھرے جن كي فطرت ميں ھو ڈسنا وہ ڈسا كرتے ھيں ۔
علي عليہ السلام حاكم وقت تھے، مسجد ميں نماز، باجماعت پڑھارھے تھے آپ اندازہ فرمايئے كيسا حليم وبردبار ھے ھمارا امام (ع) ان خارجيوں نے آپ كي اقتداء ميں نماز نھيں پڑھى، كھنے لگے علي (ع) تو (نعوذباللہ) مسلمان ھي نھيں ھيں، يہ كافر ومشرك ھيں، حالانكہ حضرت سورہ حمد اور دوسري سورہ كي تلاوت كررھے تھے۔وھاں پر ابن الكواب نامي شخص موجود تھا، اس نے طنزيہ طور پر يہ آيت بلند آواز سے پڑھي :۔
"ولقد اوحي اليك والي الذين من قبلك لئن اشركت ليحبطن عملك” 8
"وہ يہ آيت پڑھ كے يہ باور كرانا چاھتا تھا كہ يا علي (ع) يہ درست ھے كہ آپ سب سے زيادہ پكے مسلمان ھيں، آپ كي عبادات اور ديني خدمات قابل قدر ھيں، چونكہ آپ نے نعوذباللہ شرك كيا ھے "علي عليہ السلام اس آيت كے مطابق :
"واذا قري القرآن فاستمعوالہ وانصتوا” 9
” (لوگو) جب قرآن پڑھا جائے تو كان لگا كر سنو اور چپ چاپ رھو”
آپ خاموش ھو كر نماز پڑھتے رھے اس نے تين چار مرتبہ اسي طرح كا طنز كيا، آپ نے يہ آيت تلاوت فرمائى:
"فاصبر ان وعداللہ حق لا يستخفنك الذين لا يوقنون”
اے رسول !تم صبر كرو "بيشك خدا كا وعدہ سچاھے اور كھيں ايسا نہ ھو كہ جو لوگ (تمہاري) تصديق نھيں كرتے تمھيں (بہكا كر) خفيف كرديں ۔” 10
خوارج كا عقيدہ
كيا خارجيوں نے اس حد تك اكتفاء كيا ھے؟ اگر اتنا ھي كرتے تو حضرت علي عليہ السلام كے لئے كوئي مسئلہ نہ تھا اور نہ ھي اتني پريشاني كي بات تھي ۔انھوں نے آھستہ آھستہ فرقے اور گروہ كي صورت اختيار كر لى، جس طرح ھم نے عرض كيا ھے كہ وہ ظاھري صورت ميں تو مسلمان تھے ليكن وہ پس پردہ كافر ومشرك تھے، كيونكہ انھوں نے اپني طرف سے ايك نظريہ بلكہ عجيب قسم كے نظريات قائم كر لئے تھے ۔ان كا عقيدہ تھا كہ چونكہ حضرت علي (ع) عثمان اور امير معاويہ كے حكم (منصف) كو قبول كيا ھے، اس لئے وہ اپنے اسلامي عقيدہ سے منحرف ھوگئے ھيں ۔ان كے نزديك وہ بھي كافر ھوگئے تھے ۔چونكہ بقول ان كے ھم نے توبہ كرلي ھے اس لئے ھمارا عقيدہ صحيح ھو گيا ھے ان كے نزديك امر بالمعروف اور نھي عن المنكر كي كوئي حيثيت نہ تھي ۔
يہ ظالم حكمران ان كے خلاف قيام كرنے كو جائز نہ سمجھتے تھے۔يہ لوگ دراصل انتھا پسند اور متعصب قسم كے تھے كہ جو خود كو اچھا سمجھتے تھے اور دوسروں پر كيچڑ اچھالتے رھتے تھے ان كاعقيدہ تھا كہ عمل ايمان كا جز ھے وہ كھتے تھے كہ جو
"اشھد ان لاالہ الااللہ واشھد ان محمداً رسول اللہ ”
كھے اور دل سے نہ مانے، تو كھنے سے انسان مسلمان نھيں ھوجاتا ۔اگر وہ نماز پڑھتا ھے، روزہ ركھتا ھے، شراب نہ پيئے، جوا نہ كھلئے، فعل بد كا مرتكب نہ ھو، جھوٹ نہ كھے اگر وہ تمام گناہ نہ كرے تو تب مسلمان ھے ۔اگر ايك مسلمان جھوٹ بول ليتا ھے وہ كافر ھوجائے گا، وہ نجس ھے، اور مسلمان نھيں ھے ۔اگر ايك مرتبہ غيبت كرے يا شراب پي لے تو دين اسلام سے خارج ھے۔ غرض كہ انھوں نے گناھان كبيرہ كے مرتكب كو دائرہ اسلام سے خارج كرديا ھے ۔ يہ لوگ دوسروں كو ناپاك، كافر، مشرك اور نجس سمجھتے تھے ۔ صرف اپنے آپ كو ھر لحاظ سے نيك اور پاك خيال كرتے تھے ۔ گويا يہ زبان حال سے كھہ رھے تھے كہ آسمان كے نيچے اور زمين كے اوپر كوئي بھي ان كے سوا مسلمان وجود نھيں ركھتا ۔ ان كے نزديك امر بالمعروف اور نھي عن المنكر واجب ھے ۔ ليكن اس كي كوئي شرط و غيرہ نھيں ھے ۔ يہ لوگ مولا علي عليہ السلام كو نعوذ باللہ مسلمان نھيں سمجھتے تھے ۔ ان كا كھنا تھا كي علي (ع) كے خلاف قيام كرنا اور ان سے جنگ نہ فقط كار ثواب ھے بلكہ بہت بڑي عبادت ھے ۔ ان جاھلوں اور تنگ نظر لوگوں نے شھر كے باھر خيمہ نصب كيا ۔ اور باغي ھونے كا اعلان كرديا ۔ ان كے عقائد اور نظريات ميں انتھا پسندى، تنگ نظري كے سوا كچھ نہ تھا يہ خارجي چونكہ دوسرے لوگوں كو مسلمان نھيں سمجھتے تھے، اس لئے ان كا عقيدہ تھا كہ ان لوگوں كو رشتہ دينا چاھيے نہ لينا چاھيے ۔ ان كا ذبح شدہ گوشت حلال نھيں ھے، بلكہ ان كي عورتوں اور ان كے بال بچوں كا قتل جائز اور باعث ثواب ھے ۔
انھوں نے شھر سے باھر ايك ڈيرہ جما ليا اور شھر كے باسيوں كي قتل و غارت شروع كردى، يھاں تك كہ ايك صحابي رسول (ص) اپني اھليہ كے ھمراہ وھاں سے گزر رھا تھا وہ بي بي حاملہ تھي انھوں نے اس صحابي سے كھا كہ وہ علي (ع) پر تبرا كريں ۔ جب انھوں نے انكار كيا تو ان ظالموں نے اس عظيم اور بزرگ صحابي كو قتل كرديا اور اس كي بيوي كے شكم كو نيزے سے زخمي كرديا اور كھا تم كافر تھے اس لئے ھم نے تمھارے ساتھ ايسا كيا ۔ يہ خارجي ايك دوسرے خارجي كے باغ سے گزر رھے تھے تو ايك خارجي نے كھجور كا ايك دانہ توڑ كر كھا ليا تو سبھي چيخ پڑے اور بلند آواز سے كھا كہ اس كا مال نہ كھاؤ كيونكہ ھمارا مسلمان بھائي ھے ۔ يعني يہ خارجي اور پليد صفت انسان دوسرے مسلمان كو كافر اور خود كو مسلمان كھا كرتے تھے ۔
خارجيوں كے ساتھ مولا علي (ع) كا مجاھدانہ مقابلہ
خارجيوں كي جارجانہ كاروائياں اور ظالمانہ سرگرمياں جب حد سے تجاوز كرنے لگيں تو مولا علي (ع) نے ان كے مقابلے ميں ايك جري بھادر افراد پر مشتمل ايك لشكر تشكيل ديا، اب دوسرے مسلمانوں اور بے گناہ انسانوں كو خارجيوں كے رحم وكرم پر نھيں چھوڑا جاسكتا تھا ۔آپ نے ابن عباس كو ان سے بات چيت كرنے كيلئے بھيجا "جب وہ وآپس آئے تو مولا كوان الفاظ ميں رپوٹ دى” يا حضرت!ان كي پيشانيوں پر محرابوں كا نشان ھے۔ان كے ہاتھ كثرت عبادت كي وجہ سخت ھوگئے ھيں”پرانا لباس اور زاھدانہ انداز زندگي مولا ميں كس طرح ان كے ساتھ مذاكرات كروں؟ حضرت علي عليہ السلام خود تشريف لے گئے اور ان سے بات چيت كى، اور يہ گفتگو بہت سود مند ثابت ھوئي ۔بارہ ھزار افراد ميں سے آٹھ ھزار آدمي نادم وشرمندہ ھوئے ۔علي عليہ السلام نے ايك علم نصب كيا اور فرمايا جو شخص اس پرچم تلے آجائے گا وہ محفوظ رھے گا ۔آٹھ ھزار آدمي اس پرچم كے سائے ميں آگئے ۔ليكن چار ھزار اشخاص نے كہا كہ ھم كبھي بھي ايسا نھيں كريں گے ۔
كائنات كے عظيم صابر اور بھادر امام نے تلوار اٹھائي اور ان ظالموں كي گردنيں گاجر مولي كي طرف كاٹ ڈاليں ۔ان ميں دس آدميوں نے معافي مانگ لى، آپ نے ان كو چھوڑديا ۔ان نجات پانے والوں ميں سے ايك عبدالرحمٰن بن ملجم تھا۔ يہ شخص خشك مقدس انسان تھا۔حضرت علي عليہ السلام كا نھج البلاغہ ميں ايك جملہ ھے”واقعتاًعلي (ع) علي (ع) ھے "يھاں سے اس عالي نسب امام كي عظمت ورفعت ظاھر ھوتي ھے آپ فرماتے ھيں :۔
"انا فقات عين الفتنۃ ولم يكن ليجتري عليھا احد غيري بعدان ماج غيبھا واشتد كلبھا” 11
"اے لوگو!ميں نے فتنہ وشر كي آنكھيں پھوڑ ڈالي ھيں۔ جب اس كي تاريكياں (موجوں كي طرح) تہ و بالا ھو رھي تھيں اور (ديوانے كتوں كي طرح) اس كي ديوانگي زورں پر تھي تو ميرے علاوہ كسي ايك ميں جرأت نہ تھي كہ وہ اس كي طرف بڑھتا”۔
اس طرح كے لوگ جو خود كو مقدس اور پارسا سمجھتے ھيں ان كا ذھن اتنا تنگ وتاريك ھو چكا ھوتا ھے كہ كسي كي بات كو برداشت نھيں كرتے ۔اپنے دشمنوں اور مخالفوں كو جان سے ماردينے ميں كسي قسم كي پس وپيش نھيں كرتے ۔يھي لوگ تھے جو يزيد كے حق ميں ايك جگہ پر جمع ھوگئے اور امام حسين (ع) اور ان كے ساتھيوں كو شھيد كر ڈالا ۔اس قسم كے لوگوں كا مقابلہ كرنا واقعتاً دل گردے كي بات ھے ۔يہ ايك طرف قرآن مجيد پڑھتے، خدا كي عبادت كرتے تھے دوسري طرف دنيا كے صالح ترين افراد كو قتل كرتے ۔مولا خود فرماتے ھيں كہ ان مشكل ترين حالات ميں ميرے سوا كسي ميں جرأت پيدا نہ ھوئي كہ ان كي جارحيت كا مقابلہ كرتے، حالانكہ اس وقت بڑے بڑے ايسے ايسے لوگ تھے جو خود كو سب سے بڑا مسلمان كہلواتے تھے”ليكن ميں نے ان ظالموں كے خلاف تلوار بلند كي اور مجھے اس پر فخر ھے اس كے بعد فرماتے ھيں:
"بعد ان ماج غيبھا”
"يعني ميں نے فتنہ وشر كي آنكھيں پھوڑ ڈالي ھيں ۔اور جب اس كي تاريكياں (موجوں كي طرح) تہ و بالا ھورھي تھيں”
امام عليہ السلام كا اس امر كي طرف اشارہ ھے كہ اس وقت حالات بہت زيادہ پيچيدہ تھے صورت حال انتھائي خطرناك تھي۔ ابن عباس جب ان كےپاس گئے تو ديكھا يہ تو بہت زيادہ عبادت كرنے والے ھيں ۔ان كي شكل وصورت پرھيز گاروں جيسي ھے’ان كو مارنا اور ان كے خلاف تلوار بلند كرنا واقعتاً مشكل بات تھي۔اگر ابن عباس كي جگہ پر ھم بھي ھوتے تو ان لوگوں كے خلاف ذرا بھي قدم نہ اٹھاتے ۔ليكن علي عليہ السلام كي معرفت اور جرأت كا كيا كہنا؟ آپ نے جب ديكھا كہ يہ لوگ اسلام كا لبادہ اوڑھ كر اسلام كي جڑوں كو كمزور كررھے ھيں تو آپ نے دنيا اور دنياداروں كي پرواہ نہ كرتے ھوئے خارجيوں پر ايسي شمشير زني كي كہ منافقوں كا ستياناس ھوگيا ۔اور اسلام حقيقي كا روشن اور تابناك چھرہ ھميشہ ھميشہ كيلئے نكھر كر سامنے آگيا۔ "واشتدكلبھا ” اور ديوانے كتوں كي طرح اس كي ديوانگي زوروں پر تھي ۔حضرت كا جملہ بہت ھي عجيب وغريب جملہ ھے ۔آپ نے ان لوگوں كو ايك باؤ لے كتے كے ساتھ تشبيہ دي ھے، جب كوئي كتا باؤلے پن كا شكار ھوتا ھے تو اس كے سامنے جو بھي آتا ھے وہ اس كو كاٹ ليتا ھے۔ آپنے پرائے كي پروا نھيں كرتا وہ يہ بھي نھيں ديكھتا كہ يہ اس كا مالك ھے ۔يا يہ كوئي دوسرا شخص ھے ۔ اس قسم كے كتے كي زبان نكلي ھوتي ھے، رال ٹپكا رھا ھوتا ھے، جب كسي گھوڑے سے گزرتا ھے يا كسي انسان سے تو ان كو بھي باؤلے پن كا مريض بناديتا ھے، امام علي عليہ السلام نے فرمايا كہ يہ مقدس مآب اور جعلي شريف نما لوگ ديوانے كتے كي مانند ھيں ۔يہ جس كو بھي كاٹتے ھيں اسے ديوانہ اور پاگل كرديتے ھيں ۔اورر ديوانے كتوں كا ايك ھي علاج ھے ان كو ختم كرديا جائے اگر امام عليہ السلام ان كتوں كا سر قلم نہ كرتے اور شمشير حيدري كے ذريعے انھيں صفحہ ھستي سے نہ مٹاتے تو يہ بيماري پورے معاشرہ ميں پھيل جاتي اور اس كو حماقت، جھالت اور ناداني كا شكار بناديتي۔ميں نے جب ديكھا كہ اسلام اور اسلامي معاشرہ ان جاھلوں كي وجہ سے سخت خطرہ ميں ھے تو ميں نے انتھائي جرأت مندي كے ساتھ اس بڑے فتنہ كو فنا كے گھاٹ اتار كر اسے خاموش كرديا ھے ۔
خارجيوں كي ھٹ دھرمى
خارجيوں كي ايك بات جو قابل ذكر ھے وہ يہ ھے كہ وہ اپنے مقصد ميں انتھائي مضبوط تھے۔جب عقيدہ اور نظريہ كي بات ھوتي تو يہ لوگ مرمٹتے تھے ۔انكي دوسري خوبي يہ تھي كہ يہ لوگ عبادت بہت زيادہ كرتے تھے ۔ان كي يہ صفت دوسروں كو ان كے بارے ميں اچھا تأثر پيدا كرتي تھي يھي وجہ ھے كہ مولا (ع) نے فرمايا كسي ايك كو بھي جرأت نہ ھوئي كہ ان پر شمشير زني كرے ۔ان ميں تيسري بات يہ تھي كہ يہ لوگ جھالت وناداني ميں بھي بہت آگے تھے ۔يعني پرلے درجے كے اجڈ اور ان پڑھ تھے ۔آپ نے ديكھا ھو گا كہ ان كي جھالت اور ناداني كي وجہ سے اسلام پر كيا كيا گزرى؟ نھج البلاغہ بہت عظيم كتاب ھے ھر لحاظ سے عجيب ھے، اسكي توحيد عجيب، اس كي وعظ ونصيحت عجيب اس كي دعا والتجاء عجيب، اس كے تجزيئے عجيب ۔علي عليہ السلام جب معاويہ اور خارجيوں كے بارے تبصرہ فرماتے تھے تو كمال كر ديتے ھے۔ آپ نے خارجيوں سے فرماياكہ "ثم انتم اشرار الناس "كہ تم بدترين لوگ ھو” آخر كيا وجہ ھے كہ آپ ان شريف نما لوگوں كو برے القابات كے ساتھ ياد كر رھے ھو۔
اگر ھم اس جگہ پر ھوں تو ھميں كھيں گے كہ آدمي وہ اچھاھے جو دوسروں كو فائدہ پھنچائے اور نقصان نہ پھنچائے "كچھ لوگ ان شريف نما لوگوں كو ديكھ كر ان كو صالح اور پاكباز انسان كا لقب دے رھے ھيں ۔پھر كيا وجہ ھے كہ مولا علي عليہ السلام ان كو بدترين اشخاص كہہ رھے ھيں؟ اس كے بعد فرماتے ھيں ۔ دراصل تم اور تم جيسے لوگ شيطان كے آلہ كارھيں۔ شيطان تمھارے ذريعہ سے لوگوں كو فريب ديتا ھے اور تمھيں كمان بناكر دوسروں پر تير اندازي كرتا ھے ۔حضرت علي عليہ السلام واضح اور واشگاف الفاظ ميں خارجيوں كي اس لئے مذمت كررھے ھيں يہ لوگ ظاھر ميں قرآن پڑھتے ھيں ليكن حقيقت ميں قرآني تعليمات كے خلاف كام كرتے ھيں ۔نمازيں پڑھتے ھيں، سجدہ كرتے ھيں ليكن ان كي عبادت سے حقيقت كي بو نھيں آتي انھوں نے ظاھري شكل وصورت اور وضع قطع سے عام لوگوں كو فريب دے ركھا ھے ۔
آپ نے تاريخ كو پڑھا ھو گا كہ حضرت علي عليہ السلام كے دور ميں عمرو عاص اور معاويہ جيسے لوگ بھي موجود تھے جو امام عليہ السلام كي غير معمولي صلاحيتوں اور معجزاتي حيثيتوں سے واقف تھے” اور يہ وہ بھي جانتے تھے كہ شجاعت، زھد وتقويٰ علم وعمل ميں علي (ع) كا كوئي ثاني نھيں ھے ۔معاويہ حضرت علي عليہ السلام كي بہت زيادہ تعريفيں كرتا تھا ليكن اس كے باوجود اس نے امام عليہ السلام سے جنگيں كيں، اور مختلف مواقع پر سازشوں كے جال بچھاتا رھا ۔ آخر كيا وجہ ھے كہ وہ سب كچھ جانتے اور مانتے اور ديكھتے ھوئے بھي امام وقت كا مقابلہ كرتا ھے؟ جواب صاف ظاھر ھے اس كي عقل اور اس كے دل پر پردہ پڑ چكا تھا اور وہ عقل كا اندھا شخص شيطان كا آلہ كار بن كروہ كچھ كرتا رھا جو نھيں كرنا چاھيئے تھا ۔ كہا جاتا ھے كہ جب مولا علي عليہ السلام شھيد ھوئے تو آپ كي شھادت كے بعد امام عليہ السلام كا جو بھي صحابي معاويہ كے پاس آتا تو يہ سب سے پہلے جو اس سے فرمائش كرتا تھا وہ يہ تھي ميرے سامنے علي عليہ السلام كے فضائل و مناقب اور ان كي خوبياں بيان كرو، جب اس كے سامنے امام عليہ السلام كا تذكرہ كيا جاتا تو اس كي آنكھوں سے بے ساختہ آنسو چھلك پڑتے، اپنا زانو پيٹتا اور افسوس كرتے ھوئے وہ كھتا تھا ھاے افسوس اب علي عليہ السلام جيسا كوئي دنيا ميں نھيں آئے گا۔
عمر وعاص اور معاويہ جيسے لوگ حضرت علي عليہ السلام كي عظمت و منزلت اور عظيم الشان حكومت سے بخوبي واقف تھے آپ كے ارفع و اعليٰ مقاصد كو بھي اچھي طرح سے جانتے تھے، ليكن دنيا كي زرق برق نے ان كي آنكھوں پر پردہ ڈال ركھا تھا اور سيم و زر كي محبت اور طمع و لالچ نے ان كے دلوں پر تالے لگا ركھے تھے۔ دراصل يہ لوگ منافق تھے۔ انھوں نے لوگوں كو فريب دينے كيلئے ديني طرز كي وضع قطع بنا ركھي تھي۔ ان كا اصل مقصد تو مال ودولت اكٹھا كرنا اور اقتدار وحكومت كو حاصل كرنا تھا ۔ علي عليہ السلام كا دشمن اندر سے كچھ اور باھر سے كچھ تھا۔ اور عمر و عاص، معاويہ اور ابن ملجم جيسے منافقوں، ظالموں، شيطاني آلہ كاروں كا علي عليہ السلام كے ساتھ مقابلہ تھا۔ يہ شيطاني چال چلنے والے ابليس سياست كے پرزے علي۔ عليہ السلام جيسے مرد خدا كو طرح طرح كے جالوں ميں الجھاتے رھے
علي عليہ السلام پر جھوٹے الزامات عائد كيے جاتے، طرح طرح كي تھمتوں سے آپ كے دامن پاك كو داغدار بنانے كي كوشش كي جاتي يھاں تك كہ جو چيز يں علي عليہ السلام ميں نہ تھيں ان كو توڑمروڑ كر آپ كي ذات پاك كے ساتھ نتھي كرديا جاتا تھا۔ ان بدبختوں نے علي عليہ السلام كو كافر، مشرك تك بھي كھا۔ (نعوذباللہ)
كسي نے ابن سينا كي اس رباعي كو سن كركھا تھا كہ ابن سينا كافر ھيں وہ رباعي يہ ھے
كفر چومني گزاف و آسان نبود
محكم تراز ايمان من ايمان نبود
در دھريكي چومن و آن ھم كافر
پس در ھمہ دھر يك مسلمان نبود
"يعني كفر ميرے لئے اتنا سستا اور آسان نھيں تھا۔وہ ميرے ايمان سے زيادہ مضبوط پائيدار نہ تھا زمانے ميں ايك ميں ھوں اور وہ بھي كافر چنانچہ پورے عالم ميں كوئي مسلمان نھيں رھا”۔
دراصل بات يہ ھے كہ اب تك جتنے بھي اسلامي دانشور گزرے ھيں ان خالي خولي مولويوں اور خشك مقدس صوفيوں نے ان كوبھي تعريفي وتوصيفي نگاہ سے نہ ديكھا ۔ان كے بارے ميں كبھي يہ كھا گيا كہ يہ مسلمان نھيں ھيں” كبھي ان كو كھلے لفظوں ميں كافر كہہ كر پكارا گيا”كبھي كھا گيا كہ يہ شيعہ تھا۔ مثال كے طور پر يہ حضرت علي عليہ السلام كا دشمن تھا۔ ميں ّآپ كو ايك واقعہ بيان كرتا ھوں جس سے تمام مسلمان بھائيوں كو متنبہ كرنا مقصود ھے۔ آپ سب مسلمانوں بيدار ھوشيار رھنا چاھيے نھروان كے خارجيوں جيسا رويہ نھيں اپنانا چاھيے، يہ نہ ھو كہ شيطاني قوتيں آپ كو آلہ كاربنا كر آپ سے غلط كام نہ ليں ۔
ايك روز ميرے دوست نے مجھ سے فون پر بات چيت كي جس كو سن كر مجھے بھت حيرانگي ھوئي واقعتاً بہت عجيب و غريب بات تھي۔ اس نے مجھ سے كھا كہ علامہ اقبال پاكستاني نے اپني كتاب ميں امام جعفر صادق عليہ السلام كي توھين كي ھے، اور امام كو گالي بھي دي ھے۔ ميں نے كھا كہ آپ نے كھاں پڑھا ھے كھنے لگا”آپ فلاں كتاب كے فلاں صفحہ پر پڑھ سكتے ھيں۔ ميں نے اس سے پوچھا آپ نے خود اپني آنكھوں سے پڑھا ھے۔ بولا نھيں ايك محترم شخص نے مجھ سے كھا تھا اور ميں نے آپ كو بتا ديا۔ يہ سن كر ميں لرز اٹھا اور كھا كہ ھمارے ايك دوست آقائے سعيدي نے ديوان اقبال كو الف سے ي تك پڑھا ھے انھوں نے تو مجھے اس سے متعلق كچھ نھيں بتايا ۔ ميں نے فوراً!جناب سيد غلام رضا سعيدي سے فون پر رابطہ كيا اور ان سے اس مسئلہ كي بابت دريافت كيا ” وہ بھي حيران ھوكر بولے اس نوعيت كا مسئلہ ميري نظر سے بھي گزرا۔ ميں نے كھا اتنے بڑے دانشور كے بارے ميں اتنا بڑا جھوٹ تو نھيں بولنا چاھيے ۔ايك دو گھنٹے كے بعد انھوں نے مجھ سے رابطہ كركے كھا كہ جي مجھے ياد آگيا دراصل بات يہ ھے كہ ھندوستان ميں دو شخص تھے ايك كا نام جعفر اور دوسرے كا نام صادق جب انگريزوں نے ھندوستان پر قبضہ كيا كہ ان دو اشخاص نے انگريزوں كے مفادات كي خاطر كام كركے اسلامي تحريك كو بھت بڑا نقصان پھنچايا ۔ جناب علامہ اقبال نے اپني كتاب ميں ان دونوں افراد كي مذمت كي ھے ۔
ميرے خيال ميں جب بھي غلطي فھمي ھوتي ھے تو اسي طرح كي ھوتي ھے۔ پھر ميں نے وہ كتاب منگوائي اس كا مطالعہ كيا تو حيران رہ گيا كہ اقبال كيا كھنا چاھتے ھيں اور سمجھنے والوں نے سمجھا واقعتاً جھاں برے لوگ ھيں وھاں اچھے بھي موجود ھيں علامہ اقبال نے يوں كھا۔
جعفر از بنگال و صادق از دكن
ننگ دين ننگ جھاں ننگ وطن
يعني جعفر بنگالي اور صادق دكني نے دين اور وطن كو بہت نقصان پھنچايا ھے۔ اس لئے يھي لوگ ملك و قوم اور دين كے لئے ننگ و عار ھيں ۔ امام جعفر صادق عليہ السلام بنگال يادكن كے رھنے والے تو نھيں تھے كتني غلط بات كھي ھے اس شخص نے جس نے علامہ اقبال جيسے دانشور كے بارے ميں اس قسم كي تہمت لگائي ھے۔ اس كے بعد جب ھم نے تاريخي ريسرچ كي تو پتہ چلا كہ جب انگريزوں نے ھندوستان پر چڑھائي كي تو وھاں كے دو شيعہ مجاھدوں نے ان كا بھر پور طريقے سے مقابلہ كيا ان ميں سے ايك كا نام سراج الدين تھا اور دوسرے كا نام ٹيپو سلطان تھا۔ سراج الدين جنوبي ھندوستان اور ٹيپو سلطان شمالي ھندوستان ميں تھے۔ علامہ اقبال نے ان دو سپوتوں كي بہت زيادہ تعريف كي۔ انگريزوں نے سراج الدين كي حكومتي مشينري ميں جعفر نامي شخص كو تيار كيا اس نےسراج الدين كو اندروني طور پر كمزور كيا اور ٹيپو سلطان كي حكومت ميں صادق نامي شخص كو آلہ كار كے طور پر استعمال كيا ۔ان كي حكومت كو ناقابل تلافي نقصان پھنچايا گيا۔ جس كے نتيجہ ميں انگريز ايك سوسال تك ھندوستان پر مسلط رھا ۔ شيعہ حضرات سراج الدين اور ٹيپو سلطان كا اس لئے احترام كرتے ھيں يہ دونوں بھادر شيعہ تھے۔ سني حضرات اس لئے احترام كرتے ھيں كہ يہ دونوں مسلم قوم كے ھيرو تھے۔ ھندو ان كا اس لے احترام كرتے ھيں كہ يہ مجاھد قومي ھيرو تھے۔ ليكن جعفر و صادق نامي اشخاص سے ھندوستان وپاكستان كا ھر فرد اس لئے نفرت كرتا ھے كہ ان دونوں غداروں نے ملك و قوم كے ساتھ غدداري كي تھي۔
ايك روز ميں نے سوچا كہ آپ لوگ علامہ اقبال كے اشعار اكثر اوقات بلكہ زيادہ اپني محافل و مجالس ميں پڑھتے ھيں اس عظيم شاعر نے امام حسين عليہ السلام كي شان ميں كتنے اچھے اور عمدہ شعر كھے ھيں۔ آپ كے مذھبي حلقوں ميں كچھ لوگ ان كے بارے ميں كھتے ھيں كہ انھوں نے امام جعفر صادق عليہ السلام كا گالياں دي ھيں حالانكہ حقيقت ميں ايسا نھيں ھے۔ اقبال نے تو جعفر بنگالي اور صادق دكني كے منافقانہ رويے كي وجہ سے ان كي مذمت كي ھے۔ ميں حقيقت حال كو ديكھتا ھوں تو حيران ھو جاتا ھوں كہ ھمارے مسلمان بھي كتنے سادہ مزاج ھيں كہ اتني بڑي بات اتنے آسان لفظوں ميں كہہ دي۔ علامہ اقبال ملت السلاميہ كے جليل القدر شاعر ھيں۔ ھم سب كو ان كا احترام كرنا چاھيے ۔ ان كي طويل اسلامي خدمت پر انھيں خراج تحسين پيش كرنا چاھيے۔ آئندہ كوئي شخص بھي ان كے بارے ميں اسي طرح كي كوئي بات كرے تو اس پر ھرگز اعتماد نہ كريں۔
امير معاويہ نے ايك مرتبہ شام ميں بدھ كے روز نماز جمعہ كا اعلان كرديا، چنانچہ بدھ كے دن نماز جمعہ ادا كي گئي۔ اس پر كسي ايك شخص نے اعتراض نہ كيا ۔ معاويہ نے اپنے ايك جاسوس سے كھا كہ علي عليہ السلام كے پاس جاكر كہو كہ ميں ايك ھزار آدمي مسلح لے كر آپ كے پاس آرھاھوں كہ آپ نے بدھ اور جمعہ كا فرق كيوں نھيں بتايا۔ اب ميں آپ كو ختم كردوں گا۔ اب حسينيہ ارشاد بھي گناھگار ھو گيا ھے كہ ايك روز اس ميں فلسطينيوں كے حقوق اور كمك كے لئے اس ميں گفتگو ھوئي ھے”آپ تو بخوبي جانتے ھيں ھمارے وطن عزيز ايران ميں يھوديوں كي بڑي تعداد موجود ھے”يہ لوگ اسرائيل كے ايجنٹ ھيں” اور انتھائي دكھ كے ساتھ كھنا پڑتا ھے كہ ھمارے بعض مسلمان ان يھوديوں كے ايجنٹ ھيں۔ كوئي دن ايسا نھيں كہ حسينيہ ارشاد (امام بارگاہ) كے خلاف اخبارات ميں كوئي بيان نہ چھپا ھو۔
ميں يھاں پر صرف ايك بات كہنا چاھتا ھوں وہ يہ كہ وہ اپني آنكھيں كھول كر ركھيں ھر كام سوچ سمجھ كر كريں۔ اس ملك اور دوسرے اسلامي ممالك ميں يھودي اور ان كے ايجنٹ سرگرم عمل ھيں۔ ان كے پاس وسائل كي فراواني ھے۔اس لئے يہ بدبخت كسي نہ كسي حوالے سے مسلمانوں كے خلاف مصروف كار رھتے ھيں۔ نھروان كے خوارج كي تاريخ دوبارہ نہ دھراني پڑے۔ آخر كب تك ھم اسلام كا نام لے كر مسلمانوں كے سرقلم كرتے رھيں گے؟ ھميں ان محافل و مجالس سے سبق حاصل كرنا چاھيے۔ كيا وجہ ھے كہ ھم ھر سال ايك جگہ پر اكٹھے ھو كر علي عليہ السلام كے نام پر جلسہ منعقد كرتے ھيں؟ اس لئے كہ علي عليہ السلام كي پاك و پاكيزہ زندگي اور آپ كي سيرت طيبہ اپنے سامنے ركھ كر ھم اپني زندگيون كو سنواريں۔
ھميں سيرت علي عليہ السلام كو نمونہ عمل بنانا چاھيے ھميں ديكھنا ھو گا كہ حضرت علي عليہ السلام نے كس طرح خوارج سے مقابلہ كيا؟ انھوں نے خشك مقدس ملاؤں كے خلاف كس انداز ميں نبرد آزمائي كى؟ انھوں نے منافقوں كو كس طرح پامال كيا؟اور جھالت كے خلاف كس طرح جنگ لڑى؟ علي عليہ السلام كو جاھل شيعہ كي كوئي ضرورت نھيں ھے ۔ علي عليہ السلام كو ايسے شيعہ نھيں چاہيئے كہ جو يھوديوں كے ايجنٹوں كے پروپيگنڑے پر عمل كرتے ھوئے كھيں كہ اقبال پاكستاني نے امام جعفر صادق عليہ السلام كو گالي دي ھے ۔ اور يہ بات پورے ملك ميں بڑي تيزي كے ساتھ پھيل گئي ۔ اقبال كو ناصبي تك كہا گيا۔ حالانكہ وہ عظيم شخص اھلبيت اطھار عليھم السلام كے مخلص ترين عقيدت مندوں ميں سے تھا۔ لوگ بھي كتنے عجيب ھوتے ھيں كہ سني سنائي بات كو اتنا اوپر لے جاتے ھيں كہ حقيقت كا گمان ھونے لگتا ھے۔ كسي شخص كو اتني توفيق نصيب نہ ھوئي كہ پاكستاني سفارت خانے يا كسي اور جگہ سے كتاب منگوا كر اس كا مطالعہ كرے۔ علي عليہ السلام كو اس طرح كے شيعہ كي ضرورت نھيں۔علي عليہ السلام اس سے اظھار نفرت كرتا ھے۔
اپني آنكھوں اور كانوں كو كھول كر ركھيں۔ جب بھي كوئي بات سنيں اس پر فوراً يقين نہ كريں۔ جن باتوں اور خبروں سے بد گمانياں جنم ليتي ھوں وہ معاشرہ كے لئے بے حد خطرناك ھوتي ھيں۔ جب آپ كسي بات كي تحقيق كر چكيں تو پھر اللہ تعاليٰ كو حاضر ناظر سمجھ كر جو چاھيں بات كريں۔ ليكن تحقيق اور ثبوت كے بغير كوئي بات نہ كريں۔
عبدالرحمٰن ابن ملجم آتا ھے علي عليہ السلام كو قتل كر ديتا ھے۔ آپ ديكھيں كہ اس وقت كس قدر افسوس كرتا ھے۔ پشيمان ھوتا ھے۔ ايك خارجي كي ايك رباعي ھے اس كے پہلے دو شعر پيش كرتا ھوں وہ كھتا ھے۔
يا ضربۃ من تقي ما اراد بھا
الا ليبلغ من ذي العرش رضوانا
"يعني اس پرھيز گار شخص ابن ملجم (نعوذباللہ) كي ضربت كا كيا كھنا كہ اس كا مطمع نظر رضائے خدا كے سوا اور كچھ نہ تھا ۔ پھر كھتا ھے كہ اگر تمام لوگوں كے اعمال ايك ترازوں ميں ركھے جائيں اور ابن ملجم كي ايك ضربت ايك ترازو ميں ركھي جائے تو اس وقت آپ ديكھيں گے كہ پوري انسانيت ميں ابن ملجم سے اچھا كام كسي نے نھيں كيا ھوگا” نعوذباللہ آپ اندازہ فرمائيں كہ جھالت اسلام اور مسلمانوں كے ساتھ كيا كيا سلوك كرتي ھے۔ كہ ايك شخص نے اسلام كا لبادہ اوڑھا ھوا ھے وہ حضرت علي عليہ السلام جيسے عظيم ومھربان كے قاتل كو كس قدر عمدہ القابات سے ياد كرتا ھے؟
8.سورہ زمر، ۶۵.
9.سورہ اعراف، ۲۰۴.
10.سورہ روم، ۴۰.
11.نھج البلاغہ، خطبہ۹۲.