خدا كے صفات
اللہ كے صفات كو كلي طور پر دو حصوں ميں تقسيم كيا جاتا ھے (۹) صفات ثبوتيہ يا جماليہ (۱۰) صفات سلبيہ يا جلاليہ ۔صفات ثبوتيہ
ھر وہ صفت جو اصل وجود كے كمال اور اس كي اھميت ميں اضافہ اور اس كي ذات كو كامل كرنے كے لئے لائي جائے اس شرط كے ساتھ كہ موصوف اور ذات ميں كوئي تغير و تبديلي لازم نہ آئے، ان صفات كو جماليہ يا صفات ثبوتيہ كھتے ھيں جيسے علم و قدرت حيات و تكلم ۔
ان صفات كي اھميت كو سمجھنے كے لئے آسان سي مثال ديتے ھيں، اگر ھم دو آدميوں ميں علم و جھل كے عنوان سے تقابل كريں تو اس مطلب كو بخوبي درك كر سكتے ھيں كہ جاھل كے مقابلے ميں عالم پُر اھميت اور فائدہ بخش ھے، لہٰذا يہ عالم جاھل كے مقابلے ميں برتري و فضيلت كا پھلو ركھتا ھے لہذا ھم فيصلہ كريں گے كہ كمالات كے صفات ميں ايك علم بھي ھے، اور ايسے ھي دوسري صفتوں كو مقايسہ كرنے پر حقيقت و برتري صفات جماليہ كي كھل كر روشن ھوجائيگي اور يہ تمام صفات اس كے لئے ثابت ھيں، اس مطلب كو مزيد واضح كرنے كے لئے ھم دو دليلوں پر اكتفا كرتے ھيں ۔
پھلي دليل: خداوند عالم نے خير و خوبي اور اچھائيوں كو لوگوں كے لئے پيدا كيا ھے كيونكہ انسان اپنے وجود ميں خدا كا محتاج ھے ايسے ھي اپنے صفات اور وجودي كمالات ميں بھي اسي كا محتاج ھوتا ھے، خداوند عالم نے انسان كو پيدا كيا، ليكن اپني بقا ميں انسان مستقل وجود نھيں ركھتا ھے، تمام خير و خوبيوں كو خدا نے انسان كے لئے پيدا كيا، مگر خود يہ خوبياں اپني بقا ميں مستقل وجود نھيں ركھتي ھيں معلوم ھوا خواہ ذات ھوں اور خواہ صفات ھر حال ميں اسي كي محتاج ھيں (بے نياز نھيں ھيں) لہٰذا خدا ھي ان صفات كمال و جمال كا پيدا كرنے والا ھے ۔
اگر ھم تھوڑا دھيان ديں تو يہ حقيقت كھل كر آشكار ھوجائے گي كہ خدا نے انسان كے لئے تمام كمالات كو پيدا كيا ھے يہ كيسے ممكن ھے كہ ان كمالات سے اپنے كو خالي ركھے، يا اس كے پاس موجود نہ ھو اگر اس كے پاس نہ ھوگا تو دوسروں كو كيسے دے سكتا ھے (فاقد الشيء لا يعطي الشي ء) لہذا ماننا پڑے گا كہ خدا كے پاس تمام كمالات و خوبياں موجود ھيں، اور اسي نے لوگوں كے لئے ان صفات كو قرار ديا ھے، جب تك چراغ روشن نہ ھو، دوسروں كو روشن نھيں كر سكتا جب تك پاني خود تر نہ ھو دوسري چيزوں كو تر نھيں كر سكتا ھے ۔
دوسري دليل: ذات پروردگار عالم مطلق ھے يعني اس كي ذات ميں كسي طرح كي قيد و حد اور نقص نھيں پايا جاتا ھے جب وہ محدود و ممكن نھيں ھے تو وہ كسي كا محتاج بھي نھيں اور نہ ھي اپنے وجود كو كسي دوسرے سے ليا ھے اس لئے كہ محتاج و ضرورت مند وہ ھوتا ھے جو محدود ھو يا جس ميں كمي پائي جاتي ھو ليكن خدا كي ذاتِ مطلق تام و كامل و واجب الوجود ھے لہٰذا جو صفت بھي كمال كے اوپر دلالت كرے گي خدا وند عالم كے لئے ثابت ھے اس سے خدا كي ذات محدود يا مقيد نھيں ھوتى، بلكہ اس صفات كا خدا ميں نہ پايا جانا اس كي ذات ميں نقص كا باعث ھے كيونكہ ان صفات كماليہ كا خداوندعالم ميںنہ پايا جانا ضرورت اور احتياج كا سبب ھے، جب كہ خدا كي ذات واجب الوجود اوربالذات بے نياز ھے ۔
صفات ثبوتيہ: خداوند عالم ميں پائي جانے والي صفتيں يہ ھيں:
۔ قدرت: خدا قادر ھے يعني جس كام كو انجام دينا چاھے انجام ديتا ھے كسي كام كے كرنے پر مجبور اور عاجز نھيں ھے اور نہ ھي اس كي قدرت كے لئے كوئي جگہ مخصوص ھے بلكہ اس كي قدرت حد بندي سے خالي ھر جگہ موجود ھے ۔
۔ علم: خدا عالم ھے يعني تمام چيزوں كو جاننے والا اور تمام موجودات پر احاطہ و قدرت ركھنے والا ھے اس سے كوئي چيز پوشيدہ نھيں ھے يہاں تك كہ بندوں كے افكار و خيالات سے بھي واقف ھے اور ھر چيز اس كے سامنے ھے ۔
۔ حيات: خدا حي ھے خداوند عالم اپنے كاموں كو علم و ارادہ و قدرت سے انجام ديتا ھے خدا انسانوں كي طرح سانس كے آنے اور جانے كے مثل زندہ نھيں ھے وہ چونكہ اپنے كام كو علم و اراد ہ اور قدرت سے انجام ديتا ھے اس لئے اس كو حي كھتے ھيں۔
۔ ارادہ: خدا مريد ھے اپنے كاموں كو قصد و ارادہ سے انجام ديتا ھے آگ كي طرح نھيں كہ بغير ارادہ جلادے خداوند عالم كا وجود، وجودِ كامل ھے جو اپنے ارادہ سے كام كو انجام ديتا ھے، مثلِ فاعل مجبور اور بے ارادہ نھيں ھے ۔
۔ بصير ھے: خداوند عالم ديكھنے والا ھے تما م پيدا ھونے والي چيزوں كو ديكھنے والا ھے كوئي چيز اس سے پوشيدہ نھيں ھے ۔
۔ سميع ھے: خدا سننے والا ھے تمام سننے والي چيزوں كو سنتا ھے كسي چيز سے غافل نھيں ھے۔
۔ قديم و ابدي ھے: قديم يعني ھميشہ سے ھے اس كي كوئي ابتدا نھيں ھے ابدي يعني ھميشہ رھے گا اس كي كوئي انتھانھيں ھے ۔
۔ تكلم ھے: حقيقت كو دوسروں كے لئے اظہار اور اپنے مقصد كو دوسروں تك پھنچاتا ھے۔
انصفات كو صفات ثبوتيہ يا جماليہ كھتے ھيں جو خداوند عالم ميں موجود اور اس كي عين ذات ھيں ۔ياد دہانى
چونكہ ھم ناقص ھيںاس لئے ھم اپنے كام كو بغير كسي آلات، كے انجام نھيں دے سكتے قدرت و طاقت كے باوجود بھي اپنے اعضا و جوارح كے محتاج ھيں سننے كي طاقت كے باوجود كان كے ضرورت مند ھيں ديكھنے كي طاقت كے ھوتے ھوئے آنكھ كے محتاج ھيں، چلنے كي طاقت كے ھوتے ھوئے بھي پاؤں كے نيازمند ھيں ۔ خداوند عالم كي ذات جو كمال مطلق كي حامل ھے وہ كسي كام ميں دوسروں كي محتاج نھيں ھے، لہذا خداوند عالم قادر مطلق بغير آنكھ كے ديكھتا ھے، بغير كان كے سنتا ھے، بغير اعضا وجوارح (جسم و جسمانيت سے خالي) كے تمام كام كو انجام ديتا ھے، ھر ايك كي بگڑي بناتا ھے ۔
ھمارے خيال ميں ديكھنے اور سننے كے لئے فقط آنكھ، كان ھي كي راہ پائي جاتي ھے، لہذا جس كا كان صحيح اور آنكھ ديكھنے والي ھے تو كھتے ھيں كہ وہ ديكھتا اور سنتا ھے، ورنہ اندھا و بھرہ ھے ۔
ليكن ديكھنے اور سننے كي اس كے علاوہ بھي راہ پائي جاتي ھے اور در حقيقت وھي اصل ديكھنا اور سننا ھے اگر آنكھ كے وسيلہ سے ديكھا تو كيا ديكھا، كان كے ذريعہ سے سنا تو كيا سنا، خدا كسي بھي وسيلہ و اسباب كا محتاج نھيں ھے، لہذا بغير وسيلہ كے سنتا اور ديكھتا ھے كوئي چيز اس سے مخفي نھيں ھے۔
ھم محدود و محتاج ھيں لہذا ھر كام ميں كسي كے محتاج ھيں اگر اس دائرہ سے باھر ھوں يعني محدود و ناقص نہ ھوتے تو ھم بھي بغير آنكھ كے تمام چيزيں ديكھتے، اور بغير كان كے تمام آوازيں سنتے اور كھاجائے كہ سننے اور ديكھنے كي حقيقت در اصل اس پر صادق آتي ھے، جيسے ھم خواب ميں بغير آنكھ و كان كے ديكھتے اور سنتے اور تمام كام انجام ديتے ھيں ۔
مگر خداوند عالم كي ذات والا صفات جو نہايت درجہ كمال اپنے وجود ميں ركھتا ھے، اس كي بنائي ھوئي تمام چيزيں، اس كا ھر ايك كام، بے عيب و نقص ھے كيونكہ وہ كامل ھے اس كے افعال بھي حد درجہ كمال ركھتے ھيں ۔خدا كي صفات ذاتيہ اور فعليہ
صفات ثبوتيہ كي دو قسميں ھيں: (۱۱) صفات ذاتيہ (۱۲) صفات فعليہ
صفات ذاتيہ: ان صفات كو كھاجاتا ھے جو ھميشہ خدا كي ذات كے لئے ثابت ھيں اور اس كي ذات كے علاوہ كسي چيز پر موقوف نھيں ھے، ان كو صفات ذاتيہ كھتے ھيں جسے علم و قدرت وغيرہ ۔
يہ صفات ذاتيہ ھميشہ خدا كے ساتھ ھيں بلكہ اس كي عين ذات ھيں ان كا ثبوت كسي دوسرے وجود پر موقوف نھيں ھے خدا كي ذات عالم تھي دنيا كو خلق كرنے سے پھلے قادر ھے چاھے كسي چيز كو نہ پيدا كرے، ھميشہ سے زندہ ھے اور ھميشہ رھے گا موجودات رھيں يا نہ رھيں، اس كا علم و قدرت و حيات وغيرہ سب عينِ ذات ھيں، كبھي بھي اس كي ذات ان صفات كماليہ سے خالي نھيں ھو سكتي ھے، اس لئے كہ وہ عين ذات ھے، ورنہ خدا كي ذات كا محدود و ناقص اور محتاج ھونا لازم آئے گا جو خدا كي ذات سے بعيد ھے ۔
صفات فعليہ: ان صفات كو كھتے ھيںجو خداوند عالم كے بعض كاموں سے اخذ كي جاتي ھيں جيسے رازق و خالق اور جواد وغيرہ، جب اس نے موجودات كو خلق كيا تو خالق پكارا گيا، جب مخلوقات كو رزق عطا كيا تو رازق كھاگيا، جب بخشش و كرم كا عمل انجام ديا تو جواد ھوا، جب بندوں كے گناھوں اور عيبوں كو پوشيدہ اور معاف كيا تو غفور كھلايا،اس طرح كے صفات خدا اور بندوں كے درميان ايك خاص قسم كے رابطہ كي طرف اشارہ كرتے ھيں ۔ايك حديث
حسين بن خالد بيان كرتے ھيں: ميں نے امام علي بن موسيٰ الرضا (ع) كو فرماتے ھوئے سنا: آپ ارشاد فرمارھے تھے: خدا ھميشہ سے قادر اور عالم و حي ھے، ميں نے عرض كي يا بن رسول (ص) اللہ ! بعض لوگوں كا خيال ھے كہ علم خدا زائد بر ذات ھے، قادر ھے مگر زائد بر ذات ھے، زندہ ھے مگر زائد بر ذات ھے، قديم ھے مگر قديم زائد بر ذات ھے، ايسے ھي سميع و بصير ديكھنے اور سننے والا ھے، مگر ديكھنا اور سننا زائد برذات ھے؟ امام (ع) نے فرمايا: جس شخص نے خدا كے ان صفات كو زائد بر ذات جانا وہ مشرك ھے اور وہ ھمارا پيرو كار اور شيعہ نھيں ھے، خدا ھميشہ سے عالم و قديم حي قادر اور سميع و بصير ھے (اور رھے گا) ليكن اس كي ذات اور يہ صفات عين ذات ھيں ۔ (۱۳)صفات سلبيہ
ھر وہ صفات جو يہ بيان كرے كہ اس كي ذات نقص و عيب سے پاك و مبرا ھے اسے صفات سلبيہ كھتے ھيں، خداوند عالم كي ذات كامل اور اس ميں كوئي عيب و نقص نھيں پايا جاتا ھے، لہذا ھر وہ صفات جو نقص يا عيب خداوند عالم پر دلالت كرے ان صفات كو سلب اور جدا كرنا ضروري ھے ۔صفات سلبيہ يا جلاليہ يہ ھيں
{1) خدا مركب نہيں ہے: ہر وہ چيز جود و جز يا اس سے زائد اجزا سے مل كر بنے اسے مركب كہتے ہيں، اور خدا مركب نہيں ہے اور نہ اس ميں اجزا كا تصور پايا جاتا ہے، كيونكہ ہر مركب اپنے اجزا كا محتاج ہے اور بغير اس اجزا كے اس كا وجود ميں آنا محال ہے، اگر اللہ كي ذات بھي مركب ہو تو، مجبوراً اس كي ذات ان اجزا كي ضرورتمند ہوگى، اور ہر وہ ذات جو محتاج، ناقص اور بہت سے اجزا كا مجموعہ ہو، وہ واجب الوجودا ورخدا نہيں ہو سكتي ۔
دوسرے: ہر مركب علت كا محتاج ہوتا ہے يہاں تك كہ اس كے اجزائے تركيبيہ مليں اور اس كو تشكيل ديں، پھر علت آكر اس كو وجود ميں لائے اگر خدا ايسا ہے تو اس كو اپنے وجود ميں علت اور اجزائے تركيبيہ كا محتاج ہونا لازم آئے گا، لہٰذا جو ذات ناقص اور اپنے وجود ميں علت كي محتاج ہو، وہ واجب الوجود خدا نہيں ہو سكتي ۔
{2) خدا جسم نہيں ركھتا: اجزا سے مركب چيز كو جسم كہتے ہيں، اور اوپر بيان ہوا كہ خدا مركب نہيں ہے، لہذا وہ جسم بھي نہيں ركھتا ہے ۔
دوسرے: ہر جسم كے لئے ايك جگہ و مكان كا ہونا ضروري ہے، اور بغير مكان كے جسم نہيں رہ سكتا، جب كہ خداوند عالم خود مكان كو پيدا كرنے والا ہے اس كا ضرورتمند و محتاج نہيں ہے اگر خدا جسم ركھے اور مكان كا محتاج ہو تو وہ خدا واجب الوجود نہيں ہو سكتا ہے ۔
{3) خدا مرئي نہيں: خدا دكھائي نہيں دے سكتا ہے، يعني اس كو آنكھ كے ذريعہ كوئي ديكھنا چاہے تو ممكن نہيں، اس لئے كہ دكھائي وہ چيز ديتي ہے جو جسم ركھے اور خدا جسم نہيں ركھتا ہے لہذا اس كو نہيں ديكھا جا سكتا ۔
{4) خدا جاہل نہيں ہے: جيسا كہ صفات ثبوتيہ ميں بيان ہوا، خدا ہر چيز كا عالم ہے، اور اس كے علم كے لئے كسي طرح كي قيد و شرط و حد بندي نہيں ہے، اور جہالت و ناداني عيب و نقص ہے اور خداوند عالم وجود مطلق عيب و نقص سے پاك ہے۔
{5) خدا عاجز و مجبور نھيں: پھلے بھي صفات ثبوتيہ ميں گذر چكا ھے كہ خدا ھر كام كے كرنے پر قادر اور كسي بھي ممكن كام پر مجبور و عاجز نھيں ھے اور اس كي قدرت كے لئے كسي طرح كي كوئي مجبوري نھيں ھے اسلئے كہ عاجزي و مجبوري نقص ھے اور خدا كي ذات تمام نقائص سے مبراو منزہ ھے۔
{6) خدا كيلئے محل حوادث نھيں: خداوند عالم كي ذات ميں كسي طرح كي تبديلي و تغيير ممكن نھيں ھے جيسے كمزورى، پيرى، جواني اس ميں نھيں پائي جاتي ھے، اس كو بھوك، پياس، غفلت اور نيند نيز خستگي وغيرہ كا احساس نھيں ھوتا، اسلئے يہ تمام چيزيں جسم و مادہ كے لئے ضروري ھيں اور پھلے گذر چكا ھے كہ خدا جسم و جسمانيات سے پاك ھے لہٰذا خدا كي ذات محل حوادث يعني تغير و تبديلي كي حامل نھيں ھے ۔
{7) خدا كا شريك نھيں: اس مطلب كي دليليں توحيد كي بحث ميں ذكر كي جائيں گي ۔
{8) خدا مكان نھيں ركھتا: خدا وند عالم كسي جگہ پر مستقر نھيں ھے نہ زمين ميں اور نہ ھي آسمان ميں كيونكہ وہ جسم نھيں ركھتا، اس لئے مكان كا محتاج نھيں ھے ۔
خدا نے مكان كو پيدا كيا،اور خود ان مكانات سے افضل و برتر،نيز تمام موجودات پر احاطہ كئے ھوئے ھے، كوئي جگہ اس كے وجود كو نھيں گھير سكتي وہ تمام جگہ اور ھر چيز پر تسلط ركھتا ھے، اس كا ھر گز يہ مفھوم نھيں ھوتا كہ اس كا اتنا بڑا جسم ھے، جو اس طرف سے لے كر اس طرف تك پورا گھيرے ھوئے ھے، بلكہ اس كا وجود، وجود مطلق ھے يعني اس ميں جسم و جسمانيات كا گذر نھيں ھے، اور نہ اس كے لئے كوئي قيد و شرط (يہاں رھے يا اس وقت وہاں رھے) پائي جاتي ھے لہذا كسي جگہ كا وہ پابند نھيں تمام موجودات پر احاطہ ركھتا ھے، كوئي چيز اس كے دست قدرت سے خارج نھيں ھے، لہذا اس كے لئے يہاں اور وہاں كھنا درست نھيں ھے ۔
سوال يہ پيدا ھوتا ھے كہ پھر دعا كے وقت ہاتھوں كو كيوں آسمان كي طرف اٹھاتے ھيں؟ آسمان كي طرف ہاتھوں كے اٹھانے كا يہ مطلب نھيں ھے كہ خداوند عالم كي ذات والا صفات آسمان پر ھے، بلكہ ہاتھوں كو آسمان كي طرف بلند كرنے سے مراد درگاہ خدا ميں فروتني و انكساري و عاجزي و پريشاني كے ساتھ سوال كرنا ھے ۔
مسجد اور خانہ كعبہ كو خدا كا گھر كيوں كھتے ھيں؟ اس لئے كہ وہاں پر خدا كي عبادت ھوتي ھے، اور خدا نے اس مقام كو اور زمينوں سے بلند و برتر و مقدس بنايا ھے (جيسے خداوند عالم نے مومن كے دل (قلب) كو اپنا گھر كھاھے اور كھتا ھے خدا ھر جگہ و ھر طرف موجود ھے، (فَاَينَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجہُ اللّٰہِ) (۱۴)
{9) خدا محتاج نھيں: خداوند عالم كسي شي كا محتاج نھيں ھے، اس لئے كہ اس كي ذات ھر جھت سے كامل و تام ھے اس ميں نقص اور كمي موجود نھيں ھے جو كسي چيز كا محتاج ھو اور اگر محتاج ھے تو پھر واجب الوجود خدا نھيں ھو سكتا ھے ۔
پھر خداوند عالم نے ھمارے لئے روزہ و نماز جيسے فريضہ كو كيوں واجب كيا ھے؟ اس كا سبب يہ نھيں ھے كہ خدا كي ذات ناقص ھے اور ان عبادتوں كے ذريعہ اپني كمي كو پورا كرنا چاھتا ھے، بلكہ خدا كا مطمحِ نظر يہ ھے كہ انسان عبادت كرے اور اپنے نفس كو نوراني اور كامل كركے اس كي ھميشہ آباد رھنے والي جنت كے لائق ھو جائے ۔
خدا جو ھم سے چاھتا ھے كہ ھم خمس و زكواة و صدقہ ديں، تو اس كا مطلب يہ ھے كہ خدا غريب و فقير، ضرورتمندوں كي مدد اور ان پر احسان كرنا چاھتا ھے، تاكہ لوگ نيكي و احسان ميں آگے آگے رھيں، اس وجہ سے نھيں كہ ھماري معمولي اور مادي مدد سے وہ خود اپني ضرورت كو پورا كرے كيونكہ خود يہ خمس و زكات اور صدقات ھمارے سماج كي اپني ضرورت ھے اور لوگوں كے فائدے كے مدنظر بعض كو واجب قرار ديا اور بعض كو مستحب، ليكن ھر ايك كا مصرف انھيں ضرورتمند افراد كو قرار ديا ھے، قطع نظران چيزوں كے، اگر ھم غور و فكر كريں كہ خدا كي راہ ميں خرچ كرنا مجبوروں اور غريبوں پر احسان و مدد كرنا اور سماج كي ضروريات كو پورا كرنا (جيسے مسجد و امام بارگاہ و مدرسہ كي تعمير كرنا) خود ايك بھترين عبادت اور نفس كو منزل كمال پر پھنچانے اور آخرت ميں منزل مقصود تك پھونچنے كا بھترين راستہ ھے ۔
10) خدا ظالم نھيں: اس كي دليل عدل كي بحث ميں ذكر كي جائيگي ۔حوالاجات
9. خدا مرئي نھيں: خدا دكھائي نھيں دے سكتا ھے، يعني اس كو آنكھ كے ذريعہ كوئي ديكھنا چاھے تو ممكن نھيں، اس لئے كہ دكھائي وہ چيز ديتي ھے جو جسم ركھے اور خدا جسم نھيں ركھتا ھے لہذا اس كو نھيں ديكھا جا سكتا ۔
10. خدا جاھل نھيں ھے: جيسا كہ صفات ثبوتيہ ميں بيان ھوا، خدا ھر چيز كا عالم ھے، اور اس كے علم كے لئے كسي طرح كي قيد و شرط و حد بندي نھيں ھے، اور جہالت و ناداني عيب و نقص ھے اور خداوند عالم وجود مطلق عيب و نقص سے پاك ھے۔
11. خدا مركب نھيں ھے: ھر وہ چيز جود و جز يا اس سے زائد اجزا سے مل كر بنے اسے مركب كھتے ھيں، اور خدا مركب نھيں ھے اور نہ اس ميں اجزا كا تصور پايا جاتا ھے، كيونكہ ھر مركب اپنے اجزا كا محتاج ھے اور بغير اس اجزا كے اس كا وجود ميں آنا محال ھے، اگر اللہ كي ذات بھي مركب ھو تو، مجبوراً اس كي ذات ان اجزا كي ضرورتمند ھوگى، اور ھر وہ ذات جو محتاج، ناقص اور بھت سے اجزا كا مجموعہ ھو، وہ واجب الوجودا ورخدا نھيں ھو سكتي ۔ دوسرے: ھر مركب علت كا محتاج ھوتا ھے يہاں تك كہ اس كے اجزائے تركيبيہ مليں اور اس كو تشكيل ديں، پھر علت آكر اس كو وجود ميں لائے اگر خدا ايسا ھے تو اس كو اپنے وجود ميں علت اور اجزائے تركيبيہ كا محتاج ھونا لازم آئے گا، لہٰذا جو ذات ناقص اور اپنے وجود ميں علت كي محتاج ھو، وہ واجب الوجود خدا نھيں ھو سكتي ۔
12. خدا جسم نھيں ركھتا: اجزا سے مركب چيز كو جسم كھتے ھيں، اور اوپر بيان ھوا كہ خدا مركب نھيں ھے، لہذا وہ جسم بھي نھيں ركھتا ھے ۔
13. بحار الانوار، ج۴، ص ۶۲ ۔
14. لہٰذا تم جس جگہ بھي قبلہ كا رخ كر لو گے سمجھووھيں خدا موجود ھے۔ سورہٴ بقرہ آٓيت ۱۱۵.