سب سے پھلے مومن قرآن مجید میں علی (ع)کے فضائل
آپ اور آپ کے اھل بیت ھی طاھر و مطھر ھیں
سب سے پھلے مومن
ترمذی نے اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے روایت کی ھے کہ حضرت علی علیہ السلام نے سب سے پھلے اسلام قبول کیا۔[1]
حضرت رسول اکرم (ص)نے فرمایا:
اٴولکم واردا عليَّ الحوض، اٴولکم اسلاماً، علی بن ابی طالب۔
تم میں سے سب سے پھلے میرے پاس حوض کوثر پر وہ پھنچے گا جو تم میں سب سے پھلے اسلام لایا ھو اور وہ حضرت علی ابن ابی طالب ھیں۔[2]
سعد بن ابی وقاص ایک گروہ کے پاس کھڑے تھے ان میں سے ایک شخص حضرت علی ابن ابی طالب پر سب و شتم کر رھاتھا اس وقت سعد نے کھااے شخص تو علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کیوں کہہ رھاھے؟۔
کیا وہ سب سے پھلے مسلمان نہ تھے؟
کیا انھوں نے سب سے پھلے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز کیا وہ سب سے زیادہ زاھدنہ تھے؟
کیا وہ سب سے زیادہ عالم نہ تھے؟
کیا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کا عقد ان سے نھیں پڑھا ؟
کیا وھی جنگوںاور اسلامی معرکوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علمبردار نہ تھے؟
اس کے بعد سعدروبقبلہ ھو کر دونوں ہاتھ کو بلند کر کے کھنے لگے :
اے اللہ جس نے تیرے اولیاء میں سے اس ولی پر سب و شتم کیا ھے وہ تیری قدرت کا نظارہ دیکھے بغیر اس جگہ سے نہ جانے پائے (اس روایت کے راوی)متین بن حازم کھتے ھیں۔
خدا کی قسم ھم اس سے جدا ھوئے ھی تھے کہ اس کے سر پر کھجور کے دانے کے برابر پتھر آکرلگا اور اس کا بھےجاٹکڑے ٹکڑے ھوگیا۔[3]
ابن حجر،لےلی غفاریہ کی سند سے روایت کرتے ھیں وہ کھتی ھیں کہ میں حضرت نبی اکرم( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ھمراہ کسی غزوہ میں شرےک تھی، اس غزوہ میں میری ذمہ داری زخمیوں کو مرھم پٹی کرنے کے ساتھ ساتھ بیماروں کی تیمار داری کرنا تھی ،جب حضرت علی علیہ السلام بصرہ کی طرف روانہ ھوئے تو میں بھی ان کے ساتھ چل دی میں نے وہاں حضرت عائشہ کو دیکھاتو اس کے پاس گئی اور اس سے پوچھا:
کیا تم نے حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کوئی فضیلت سنی ھے؟۔
نھیں پڑھی ؟ حضرت عائشہ کھنے لگی:
ہاں ایک دن حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور وہ (حضرت علی علیہ السلام) بھی ھمارے ساتھ تھے،حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص قسم کی چادر اوڑھ رکھی تھی اورعلی (ع) ھمارے سامنے آ کر بیٹھ گئے۔
میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھاکہ آپ کو اس سے بڑا مکان نھیں مل سکتا جہاں ھم سب آسانی سے رہ سکیں تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:
” یا عائشہ دعی لی اخی فانہ اول الناس اسلاماً ، وآخر الناس لی عھداً واٴول الناس بي لقیا یوم القیامہ”
اے عائشہ! میرے بھائی کو میرے پاس بلا کر لے آؤ۔وہ لوگوں میں سب سے پھلے اسلام لانے والے ، آخر تک میرے عھد پر قائم رھنے والے اور قیامت کے دن سب سے پھلے مجھ سے ملاقات کرنے والے ھیں۔[4]
حضرت عمر ابن خطاب سے مروی ھے کہ تم میں سے کوئی بھی علی علیہ السلام کا مقام و عظمت حاصل نھیں کر سکتا کیونکہ میں نے حضرت رسول اکرم(ص)کو یہ فرماتے ھوئے سنا ھے کہ ان میں تین خصوصیات ایسی ھیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی میرے پاس ھو تی تووہ مجھے کائنات کی ھرچیز سے زیادہ محبوب تھی ۔
حضرت عمر کھتے ھیں:میںحضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا ھمارے ساتھ حضرت ابو بکر، حضرت ابو عبیدہ بن الحراج اور صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی تھی حضرت رسول اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:
"اٴنت اٴول الناس اسلاماً، و اٴول الناس ایماناً، واٴنت منی بمنزلةِ ھارونَ مِن موسیٰ۔”
آپ (ع)ھی سب سے پھلے اسلام لانے والے ، سب سے پھلے ایمان لانے والے ھیں ،آپ(ع) کی مجھ سے وھی نسبت ھے جو حضرت ہارون(ع) کو حضرت موسیٰ (ع) سے تھی۔[5]
ایک دوسری سند کے ساتھ ابن عباس سے اس طرح مروی ھے کہ عمر ابن خطاب نے کھاکہ کوئی بھی علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کی برابری نھیں کر سکتا کیونکہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ھوئے سناھے کہ حضرت علی علیہ السلام کے اندر تین خصلتیں ایسی ھیںجنھیں کوئی بھی نھیں پا سکتا مندرجہ بالا حدیث کا سیاق بھی گزشتہ حدیث کی طرح ھے ۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ھیں:
انّ الملائکہ صلت عليَّ وعلیٰ عليٍ سبع سنےن قبل اٴن ےسلم بشر۔
تمام لوگوں کے اسلام قبول کرنے سے سات سال پھلے ملائکہ مجھ پر اور علی(علیہ السلام) پردرود و سلام بھیجتے تھے۔[6]
محمد ابن اسحاق سے روایت ھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرسب سے پھلے ایمان لانے والے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام تھے اور جو کچھ آپ اللہ کی طرف سے لائے اس کی تصدیق کرنے والے بھی حضرت علی علیہ السلام ھی تھے، اس و قت آپکی عمر ۱۰ سال تھی اور آپ پر اللہ کا یہ خصوصی اکرام ھے کہ آپ کی پرورش حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوش میں ھوئی ۔[7]
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! تین اشخاص نے سبقت حاصل کی ھے ،حضرت موسی ٰکی طرف یوشع بن نون ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف صاحب ےٰسےن نے اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طر ف حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے سبقت حاصل کی۔[8]
عبد اللہ ابن مسعود کھتے ھیں:حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سب سے پھلی چیز کا جب مجھے علم ھواتو میں اپنی پھوپھی کے ھمراہ مکہ میں آیا وہاں ھمیں عباس بن عبدالمطلب کے پا س بھیجا گیا ھم نے ان کو زمزم کے پاس بیٹھے ھوئے دیکھا۔
ھم بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ اس وقت ھم نے ایک شخص کو باب صفا سے داخل ھوتے دیکھا۔ جس کارنگ سرخ ، لمبے بال، خوبصورت اورلمبی ناک،سفید دانت ،آنکھیں اور ابرو ملی ھوئی ھیں، گھنی داڑھی ،مضبوط بازو،اور خوبصورت چھرہ ھے۔
ایک عورت ان کے پاس آکر کھڑی ھوئی جو پردے میں تھی یہ سب لوگ حجر اسود کی طرف بڑھے اور سب سے پھلے اس شخص نے سلام کیا اس کے بعد اس نوجوان نے اور آخر میں اس خاتون نے سلام کیا پھر اس ھستی نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا اور اس کی اتباع میں اس نوجوان(حضرت علی علیہ السلام) اور اس خاتون نے بھی طواف کیا۔
اس وقت ھم نے پوچھا اے اباالفضل اس دین کو ھم نھیں پہچانتے ،کیا یہ کوئی نیا مذھب ھے؟ ۔اس نے جواب دیا یہ میرے بھائی کے فرزندحضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھیں اور یہ نوجوان حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور یہ خاتون خدیجہ بنت خویلد ھیں ،اس کرہ ارض پر ان تینوں کے علاوہ کوئی بھی اللہ تعالی کی اس طرح عبادت نھیں کرتا۔[9]
شرح نھج البلاغہ میں ابن ابی الحدید کھتے ھیں: جان لیجئے ھمارے علماء متکلمین ا س با ت پر متفق ھیں کہ لوگوں میں سب سے پھلے اسلام لانے والے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ھیں۔[10]
اس کے بعد ابن ابی الحدید کھتے ھیں۔ مذکورہ تمام چیزیں ا س بات کی دلیل ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام سب سے پھلے اسلام لائے اور اگر کوئی اس کا مخالف ھے تو اس کی مخالفت شاذ ونادر ھے۔
اور شاذو نادر کا اعتبار نھیں کیا جاتا ۔
عمر بن خطاب کھتے ھیں کہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا:
"انّک اٴوّل المؤمنین معي ایماناً واٴعلمھم بآیات اللہِ واٴوفاھم بعھد اللّہ واٴراٴفھم بالرعیہ واٴقسمھم بالسویہ و اٴعظمَھم عند اللّہ مزیہ[11]
بیشک آپ مومنین میں سب سے پھلے مجھ پر ایمان لانے والے ،سب سے زیادہ اللہ کی آیات جاننے والے،سب سے زیادہ بھتر انداز میں اللہ کے عھد کو نبھانے والے،سب سے زیادہ لوگوں کے ساتھ مھربان ھیں اور برابر سے تقسیم کرنے میں سب سے زیادہ بھتر ھیں آپ کا مرتبہ اللہ تبارک تعالی کے نزدیک عظیم ھے۔
ترمذی نے روایت کی ھے کہ راوی نے کھامیں نے حضرت علی علیہ السلام کو یہ کھتے ھوئے سنا ھے:
"اٴناعبد اللّہ واٴخو رسولہ واٴنا الصدیّق الاٴکبر لا یقولھا بعدي الاَّ کاذب مفتر ، صلےت مع رسول اللہ قبل الناس بسبع سنین۔
میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بھائی ھوں۔ میں صدیق اکبر ھوں اور میرے بعد یہ دعوی کرنے والا جھوٹا بھتان باندھنے والا ھے اورسب سے پھلے میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ سات سال کی عمر میں نماز پڑھی۔[12]
شیخ مفید اعلی اللہ مقامہ نے خدیجہ بن ثابت انصاری ،صاحب ذی الشھادتین رضی اللہ عنہ سے یہ اشعار نقل کیے ھیں ۔
ما کنت احسب ھذا الاٴمر منصرفاً
عن ھاشم ثم منھا عن اٴبي حسن
اٴلیس اٴول من صلّیٰ لقبلتھم
واٴعرفُ النّاسِ بالآثار والسننِ
وآخرُ الناسِ عھداً بالنبي و مَن
جبریل عونٌ لہ فی الغسلِ والکفنِ
من فیہ ما فیھم لا یمترون بہ
ولیس فی القومِ ما فیہِ من الحسنِ
ما ذا الذي ردّکم عنہ فنعلمہ
ھا ان بیعتکم من اٴغبن الغبن
میں یہ سوچ بھی نھیں سکتا کہ امر خلافت کو بنی ھاشم میں حضرت ابو الحسن علیہ السلام سے دور رکھا جائے گا ۔میں کبھی بھی جناب ہاشم اور پھر ان کی اولاد سے منہ موڑنے والوں کو دوست نھیں رکھتا، میں حضرت ابوالحسن علیہ السلام کی اس فضیلت کو نظر انداز نھیں کر سکتا ۔ کہ وہ پھلی شخصیت ھیں جنھوں نے تمہار ے ساتھ قبلہ کی طرف نماز پڑھی اور وہ سنن نبی(ص) کے سب سے زیادہ عارف ھیں اور آخر دم تک عھد نبی(ص) پر قائم رھے حضرت نبی(ص) کو غسل و کفن دینے میں جبرئیل انھیں کے مددگار تھے اس میں کوئی شک نھیں ھے ۔قوم کی تمام خوبیاں ان میں بدرجہ کامل تھیںاور پوری قوم میں ان جیسی خوبیاں نھیں ھیں۔ کیا چیز ھے جس نے تمھیں ان سے ہٹادیا ھے تاکہ ھم بھی اسے جان لےں خبردار تمہاری بےعت دھوکوں میں سب سے بڑا دھوکا ھے[13]
ابن حجر اپنی کتاب الاصابہ میں ابی لیلہ غفاری سے روایت بیان کرتے ھوئے کھتے ھیں کہ ابی لیلہ غفاری نے کھاکہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ھوئے سنا:
ستکون من بعدی فتنة فاذا کان ذلک فآلزموا علی بن اٴبي طالب فانہ اٴول من آمن بی واٴولُ من ےُصافحنی یوم القیامہ وھو الصدیق الاکبر وھو فاروق ھذہ الامة وھو ےعسوب المؤمنین والمالُ یعسوبُ المنافقین۔
عنقریب میرے بعد فتنے اٹھیں ھوں گے ا س وقت تم حضرت علی (ع)کے دامن کو تھام لینا کیونکہ وہ پھلے شخص ھیں جو مجھ پر ایمان لائے وہ پھلے شخص ھوں گے جو قیامت کے دن مجھ سے مصافحہ کریں گے وہ اس امت کے صدیق اکبر اور فاروق اعظم ھیں اور وہ مومنین کے رھنما ھیں جبکہ مال منافقین کا رھنما ھے۔[14]
قرآن مجےد میں علی (ع) کے فضائل
قرآن کریم میں ارشاد ھو تا ھے:
< اِنَّماَ وَلِیُّکُمُ اللهُ وَ رسُولُہ وَ الَّذِین آمَنُوا الّذِینَ یُقیمُونَ الصَّلوٰة ویُؤتُون الزَّکَاةَ وَہُمْ راکعونَ>[15]
بےشک اللہ اور اس کا رسول اور اس کے بعد وہ تمہاراولی ھے جو ایمان لایا اورنماز قائم کی اور رکوع کی حالت میں زکات ادا کی۔
زمخشری اپنی کتاب کشاف میں بیان کرتے ھیں کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں اس وقت نازل ھوئی جب آپ نے نما ز پڑھتے وقت حالت رکوع میں سائل کو اپنی انگوٹھی عطا کی۔ زمخشری مزید کھتے ھیں کہ اگر کوئی شخص اعتراض کرے کہ اس آیت میں تو جمع کا لفظ آیا ھے اور یہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لئے کس طرح درست ھو سکتا ھے۔
اس کا جواب یہ ھے کہ جب کسی کام کا سبب فقط ایک ھی شخص ھو تو وہاں اس کے لئے جمع کا لفظ استعمال ھو سکتا ھے تا کہ لوگ اس فعل کی شبیہ بجا لانے میں رغبت حاصل کرےں اور ان کی خواھش ھو کہ ھم بھی اس جیسا ثواب حاصل کرلےں۔[16]
نیزاللہ تعالی کا ارشاد ھے:
< اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بینةٍ مِنْ رَبّہِ وَ ےَتْلُوْہُ شَاھِد مِنْہُ۔>[17]
کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلےل پر قائم ھے اور اس کے پیچھے پیچھے ایک گواہ ھے جواسی سے ھے۔
سیوطی درمنثور میں کھتے ھیں کہ اس سے مراد حضرت علی علیہ السلام ھیں اور مزیدکھتے ھیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اٴفمن کان علیٰ بینةٍ من ربہِ و ےتلوہ شاھدٌ منہ۔
وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلےل پر قائم ھے وہ میں ھوں اور اس کے پےچھے پےچھے ایک گواہ بھی ھے جو اسی سے ھے اوروہ حضرت علی علیہ السلام ھیں۔[18]
نیزاور اللہ کا یہ ارشاد ھے :
< اٴَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لاَیَسْتَوُون>َ [19]
کیا ایمان لانے والا اس شخص کے برابر ھے جو بد کاری کرتا ھے ؟یہ دونوں برابر نھیں ھیں۔
واحدی نے مذکورہ آیات کے اسباب نزول کے بارے میں ابن عباس سے روایت کی ھے کہ ولےد بن عقبہ بن ابی محےط نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے کہا۔
میں آپ سے عمر میں زیادہ ،زبان میںگویا تر اور زیادہ لکھنا جانتا ھوں۔ حضرت علی علیہ السلا م نے اس سے کھاکہ خاموش ھو جاؤ تم تو فاسق ھو اور اس وقت یہ آیت نازل ھوئی :
< اٴَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لاَیَسْتَوُونَ ۔>
کیا ایمان لانے والا شخص اس کے برابر ھے جو کھلی بدکاری کرتا ھے؟ یہ دونوں برابر نھیں ھو سکتے ۔
ابن عباس کھتے ھیں اس سے معلوم ھوا کہ حضرت علی علیہ السلام مومن ھیں اور ولےد بن عقبہ فاسق ھے ۔[20]
نیز اللہ کا فرمان ھے :
<إِنْ تَتُوْبَا إِلَی اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا وَ إِنْ تَظَاھَرَا عَلَیْہِ فَاِنَّ اللهَ ھُوَ مَوْلٰیہ وَجِبْرَےْلُ وَصَالِحُ الْمؤمنین وَالمَلٰا ئِکَةُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِےْرٌ۔>
( اے نبی کی ازواج ) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کر لو (تو بھتر ھے ) کیونکہ تمہارے دل کج ھو گئے ھیں اگر تم دونوں نبی کے خلاف کمر بستہ ھو گئےں توبےشک اللہ ،جبرئےل اور صالح مومنین اس کے مدد گار ھیں اور ان کے بعد ملائکہ کے بعد ملائکہ ان کی پشت پر ھیں ۔[21]
ابن حجر کھتے ھیں طبری نے مجاھد کے حوالہ سے نقل کیا ھے صالح المومنین حضرت علی علیہ السلام ‘ ابن عباس ، حضرت امام محمد بن علی ا لباقر اور ان کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام ھیں ۔ ایک دوسری روایت میں مروی ھے کہ صالح المومنین سے مراد حضرت علی علیہ السلام ھیں[22]
اسی طرح خداوندعالم کا یہ ارشاد :
< لِنَجْعَلَہَا لَکُمْ تَذْکِرَةً وَتَعِیَہَا اٴُذُنٌ وَاعِیَةٌ > [23]
اس واقعہ کو تمہارے لیئے یادگار بنا دیں تاکہ یاد رکھنے والے کان اس کو یا د رکھیں۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی اس آیت وتعیھااٴُذن واعیہ کی تلاوت فرمائی اور پھر حضرت علی علیہ السلام کی طرف متوجہ ھو کر فرمایا:
اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کے کانوں کو ان خصوصیات کا مالک بنا دے حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں کہ میں رسول اکرم سے جس چیز کو بھی سنتا تھااسے فراموش نھیں کرتا تھا۔[24]
حضرت علی کے متعلق اللہ تعالی کا ایک اور یہ فرمان ھے:
< اٴَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ>[25]
آپ تو محض ڈرانے والے ھیں اور ھر قوم میں ایک نہ ایک ھدایت کرنے والا ھوتا ھے۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ھیں: اٴنا المنذر وعلي الہادي وبک یا علی ےھتدی المھتدون من بعدی۔ میں ڈرانے والا اور حضرت علی علیہ السلام ہادی ھیں ،اس کے بعداسی جگہ فرمایا:اے علی(علیہ السلام) میرے بعد ھدایت چا ھنے والے تیرے ذریعے ھدایت پائیں گے[26]
اسی طرح خداوند متعال کا ایک اور فرمان ھے:
<الَّذِینَ یُنفِقُونَ اٴَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَعَلاَنِیَةً فَلَہُمْ اٴَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَہُمْ یَحْزَنُونَ >
وہ لوگ جو دن اور رات میں اپنا مال پوشیدہ اور آشکار طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میںخرچ کرتے ھیں ،ان کے رب کے پاس ان کا اجر ھے اور انھیں کسی قسم کا خوف و غم نھیں ھے۔[27]
ابن عباس کھتے ھیں کہ یہ آیت حضرت علی ابن ابی طالب کی شان میں نازل ھوئی آپ کے پاس چار درھم تھے آپ نے ایک درھم رات میں، ایک درھم دن میں، ایک درھم چھپا کر اور ایک درھم علانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کیاتو یہ آیت نازل ھوئی۔[28]
نیزاللہ کا فرمان ھے:<إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَیَجْعَلُ لَہُمْ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۔>[29]
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کئے عنقریب خدائے رحمن ان کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں پیدا کرے گا ۔
حضرت علی علیہ السلام کے فضل و کمال کے سلسلہ میں نازل ھونے والی آیات میں خداوندمتعال کاارشاد سیجعل لھم الرحمن ودا خصوصی طور پر آپ کی بابرکت شان کی عکاسی کرتا ھے ۔اسی کے بارے میں ابوحنفیہ کھتے ھیں کہ کوئی مومن نھیں ھے جس کے دل میں حضرت علی علیہ السلام اور ان کے اھلبیت کی محبت قائم نہ ھو۔[30]
نیز اللہ تعالی کا ارشاد ھے:
<إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ۔>[31]
جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے یھی لوگ مخلوقات میں سب سے بھتر ھیں۔
ابن عباس کھتے ھیں کہ جب یہ آیت نازل ھوئی تو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
یا علي تاتي اٴنت و شےعتک یوم القیامة راضےن مرضےن و یاٴتي عدوک غضا باً مقمَّحےن۔
(اے علی (ع))وہ خیر البریہ آپ اور آپ کے شیعہ ھیں آپ اور آپ کے شیعہ قیامت کے دن خوشی و مسرت کی حالت میں آئیں گے اور آپ کے دشمن رنج و غضب کی حالت میں آئیں گے۔
قال: ومن عدوی؟
حضرت علی نے کہایا رسول اللہ میرا دشمن کون ھے ؟
قال:من تبراٴ منک ولعنک
آپ نے فرمایا:
جو آپ سے دوری اختیار کرے اور آپ کو برا بھلا کھے وہ آپ کا دشمن ھے۔[32]
اسی طرح خداوندمتعال کا ایک اور فرمان ھے :
< یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ ۔>[33]
اے مومنین ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ھو جاؤ ۔
سورہ تو بہ کی اس آیہ شریفہ کے ذیل میں جناب سیوطی کھتے ھیں: ابن مردویہ نے ابن عباس سے روایت بیان کی ھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالی کا یہ فرمان :
< اتَّقُوا اللهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ >[34]
اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ھو جاؤ۔[35]
اس میں سچوں کے ساتھ ھونے کا مطلب یہ ھے کہ حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ ھو جاؤ۔
نیزاللہ کا فرمان ھے:< اٴَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَجَاہَدَ فِی سَبِیلِ اللهِ لاَیَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ۔>[36]
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آبادکرنے کے کام کو اس شخص کی خدمت کے برابر سمجھ لیا ھے جو اللہ تعالی اور روز قیامت پر ایمان لا چکا ھے اور اللہ کی راہ میں جہاد بھی کر چکا ھے یہ دونوں خدا کے نزدیک برابر نھیں ھو سکتے اور خدا ظالموں کو سیدھے راستہ کی ھدایت نھیں کرتا۔
السدي کھتے ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام ،جناب عباس اور شبیر بن عثمان آپس میں فخر کیا کرتے تھے ،حضرت عباس کھتے تھے میںآپ سب سے افضل ھوں کیونکہ میں بیت اللہ کے حاجیوں کو پانی پلاتا ھوں ،جناب شبیر کھتے تھے کہ میں نے مسجد خدا کی تعمیر کی ۔حضرت علی علیہ السلام کھتے ھیں: میں نے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ) کے ساتھ ھجرت کی اور ان کے ساتھ مل کر اللہ کی راہ میں جہاد کیا تو خدا نے یہ آیت نازل فرمائی:
< الَّذِینَ آمَنُوا وَہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ بِاٴَمْوَالِہِمْ وَاٴَنفُسِہِمْ اٴَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ وَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْفَائِزُونَ ۔ یُبَشِّرُہُمْ رَبُّہُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْہُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَہُمْ فِیہَا نَعِیمٌ مُقِیمٌ >۔[37]
وہ لوگ جو ایمان لائے اور ھجرت کی اور اللہ تعالی کی راہ میں جان ومال کے ذریعہ جہاد کیا اللہ تعالی کے نزدیک انکا بھت بڑا مقام ھے ،یھی لوگ کا میاب ھیں اللہ تعالی نے انھیں اپنی رحمت کی بشارت دی ھے باغات اور جنت انھیں کے لیئے ھیں اور وہ ھمیشہ وہاںرھیں گے۔
نیز اللہ تعالی یوں ارشاد فرماتا ھے:
< وَقِفُوْھُمْ اِنّھُمْ مَسْؤلُون۔>[38]
انھیں روکو-، ان سے سوٴال کیاجائے گا۔
ابن حجر کھتے ھیں کہ دیلمی نے ابو سعید خدری سے روایت کی ھے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجےد کی اس آیت سے مراد یہ ھے کہ انھیںروکو،کیونکہ ان سے ولایت علی (ع)ابن ابی طالب علیہ السلام سے متعلق سوال کیاجائے گا۔
اسی مطلب کو واحدی نے بھی بیان کیا ھے کہ اللہ تبارک وتعالی کے فرمان وقفوھم انھم مسئولون ۔کہ انھیں ٹھھراؤ یہ لوگ ذ مہ دار ھیں اس سے مراد یہ ھے کہ یہ لوگ حضرت علی علیہ السلام اور اھل بیت کی ولایت کے سلسلے میں جواب دہ ھیں کیونکہ اللہ تبارک تعالی نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا ھے کہ لوگوں کو بتاؤ کہ میں تم سے تبلیغ رسالت کا فقط یھی اجر مانگتا ھوں کہ میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔
کیا ان لوگوں نے(حضرت) علی علیہ السلام اور اولاد علی (ع) سے اسی طرح محبت کی جس طرح رسول اللہ(ص)نے حکم دیا تھا یا انھوں نے ان سے محبت کرنے کا اھتمام نھیں کیا اور اسے اھمیت نھیں دی لہٰذا اس سلسلہ میں ان لوگوں سے پوچھا جائے گا۔[39]
خداوندعالم کا ارشاد ھوتا ھے :
< یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَسَوْفَ یَاٴْتِی اللهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ اٴَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اٴَعِزَّةٍ عَلَی الْکَافِرِینَ یُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَیَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللهِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ >۔[40]
اے ایمان والو! تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو ان کی جگہ پر لے آئے گا جنھیں اللہ دوست رکھتا ھے اور وہ اللہ سے محبت رکھتے ھونگے ،مومنین کے ساتھ نرم اور کافروں کے ساتھ سخت ھونگے اور وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کے ملامت سے نھیں ڈریں گے،یہ خدا کی مھربانی ھے ،جسے چاھے عطا فرمائے اور خدا صاحب وسعت اور جاننے والا ھے۔
فخر الدین رازی اور علماء کا ایک گروہ اس آیہ مبارکہ کی تفسیر کرتے ھوئے کھتے ھیں :
یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ھوئی ،اور اس پر دو چیزیں دلالت کرتی ھیں پھلی یہ کہ جب حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غدیر کے دن فرمایا:
لاٴدفعن الرایہ غداً الیٰ رجلٍ یحب اللہ ورسولہ ویحبہ اللہ ورسولہ۔
کل میں یہ پرچم اس شخص کے حوالے کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول کومحبوب رکھتا ھے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ھیں۔اس کے بعد پرچم حضرت علی علیہ السلام کے حوالے کیا لہٰذا یہ وہ صفت ھے جو آیت میں بیان ھوئی ھے ۔
دوسری یہ کہ ا للہ نے اس آیت کے بعد مندرجہ ذیل آیت بھی حضرت علی علیہ السلام کے حق میںبیان فرمائی:
< إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ>
تمہارا حاکم اور سردار فقط اللہ،اس کا رسول،اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پابندی سے نماز پڑھتے ھیں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ھیں ۔
ابن جریر کھتے ھیں:
اگریہ آیت یقینا حضرت علی علیہ السلام کے حق میں نازل ھوئی ھے تو اس سے پھلی والی آیت کا حضرت علی کے حق میں نازل ھونا اولی ھے۔ [41]
نیزاللہ تعالی کا یہ فرمان :
< فَاسْاٴَلُوا اٴَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ>[42]
اگر تم نھیں جانتے تو اھل ذکر سے سوال کرو۔
جابر جعفی کھتے ھیں کہ جب یہ آیت "فاُسئلوا اٴھل الذکر ان کنتم لا تعلمون”نازل ھوئی تو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے تھے ھم اھل ذکر ھیں۔[43]
اللہ تبارک وتعالی فرماتا ھے:
< اٴَفَمَنْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَہُ لِلْإِسْلاَمِ فَہُوَ عَلَی نُورٍ مِنْ رَبِّہِ فَوَیْلٌ لِلْقَاسِیَةِ قُلُوبُہُمْ مِنْ ذِکْرِ اللهِ اٴُوْلَئِکَ فِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ >
کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیئے کھول دیا ھے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور(ھدایت)پر ھے اس کے برابر ھو سکتا ھے جو کفر کی تاریکیوں میں پڑا رھے پس افسوس ھے ان لوگوں پر جن کے دل یاد خدا کے سلسلے میں سخت ھو گئے ھیں وھی لوگ کھلی گمراھی میں ھیں ۔[44]
یہ آیت بھی حضرت علی علیہ السلام کے فضائل کو بیان کرتی ھے کیونکہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام ،حضرت حمزہ علیہ السلام ‘ابو لھب اور اس کی اولاد کے متعلق نازل ھوئی حضرت علی علیہ السلام اور حضرت حمزہ وہ ھیں جن کے سینوں کو اللہ تبارک تعالی نے اسلام کے لیئے کھول دیا ھے اور ابولھب اور اس کی اولاد وہ ھے جن کے دل سخت ھیں۔[45]
ایک اور آیت میں اللہ فرماتا ھے:
< مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللهَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا>[46]
مومنین میں سے بعض ایسے بھی ھیں جنھوں نے خدا سے کیا ھوا عھد سچ کر دکھایا ان میں سے بعض ایسے ھیں جو اپنی ذمہ داری پوری کر چکے ھیں اور بعض (شہادت) کے منتظر ھیں اور انھوں نے( ذرا سی بھی)تبدیلی اختیار نھیں کی ۔
حضرت علی علیہ السلام کوفہ میں منبر پر خطبہ دے رھے تھے وہاں آپ سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :
یہ آیت میرے چچا حمزہ اور میرے چچا زاد بھائی عبیدہ بن الحارث بن عبد المطلب اور میری شان میں نازل ھوئی ھے۔ عبیدہ اپنی ذمہ داری بدر کے دن شھید ھو کر پوری کرگئے اور حمزہ احد کے دن درجہ شہادت پر فائز ھو کر اپنی حیات مکمل کر گئے ۔اور میں اس کا منتظر و مشتاق ھوں۔ پھر اپنی ریش مبارک اور سر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ وہ عھد ھے جو مجھ سے میرے حبیب حضرت ابوالقاسم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لیاھے ۔[47]
اس طرح خدا وند عالم کا ارشاد ھے:
<وَالَّذِی جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہِ اٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُتَّقُونَ >[48]
اور جو سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یھی لوگ( تو) پرھیز گار ھیں۔
ابو ھریرہ کھتا ھے کہ صدق کو لانے والے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی تصدیق کرنے والے حضرت علی علیہ السلام ھیں[49]
ایضاً اللہ ارشاد فرماتا ھے:
< مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لاَیَبْغِیَان فَبِاٴَیِّ اٰ لآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان>۔[50]
اس نے آپس میں ملے ھوئے دو دریا بھادئیے ھیں اور دونوں کے درمیان ایک پردہ ھے جو ایک دوسرے پر زیادتی نھیں کرتا پھر تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوںکو جھٹلاؤ گے ان دونوں سے موتی اور مونگے ( لو لو اور مرجان) نکلتے ھیں۔
ابن مردویہ نے ابن عباس سے مرج البحرین یلتقیان کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا ان سے مراد حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ (ع) ھیں اور برزخ لا یبغیان سے مراد حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ھیں اور یخرج منھما اللؤلؤ و المرجان سے مراد حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام ھیں۔[51]
ایضاًاللہ تعالی ارشاد فرماتا ھے:
< اٴَمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ اٴَنْ نَجْعَلَہُمْ کَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ سَاءَ مَا یَحْکُمُونَ >
جو لوگ برے کاموں کے مرتکب ھوتے رھتے ھیں کیا انھوں نے یہ خیال کر رکھا ھے کہ ھم ان کو ان لوگوں کی مانند قرار دیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رھے کیا ان کا جینا و مرنا مساوی ھے یہ لوگ (کیسے کےسے )برے حکم لگایا کرتے ھیں۔[52]
کلبی کھتے ھیں کہ یہ آیت حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ،حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ اور تین مشرکین عتبہ ،شیبہ اور ولید بن شیبہ کے بارے میں نازل ھوئی ھے ۔
یہ تینوں مومنین سے کھتے تھے کہ تم کچھ بھی نھیں ھو اگر ھم حق کہہ دیں تو ھمارا حال قیامت والے دن تم سے بھتر ھو گا۔ جیسا کہ دنیا میں ھماری حالت تم سے بھتر ھے۔لیکن اللہ تبارک و تعالی نے اپنے اس فرمان کے ساتھ ان کی نفی کی ھے کہ یہ واضح ھے کہ ایک فرمانبردار مومن کا مرتبہ و مقام ایک نا فرمان کافر کے برابر ھرگزنھیں ھو سکتا ۔[53]
ایضاً اللہ تعالی ارشاد فرماتا ھے :
<وَہُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنْ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَہُ نَسَبًا وَصِہْرًا وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیرًا >
اور وھی قادر مطلق ھے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس کو بیٹا اور داماد بنا دیا (اور)پروردگار ھر چیز پر قادر ھے ۔[54]
محمد بن سرین اس آیت کی تفسیر میں کھتا ھے کہ یہ آیت حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و االہ و سلم اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں نازل ھوئی ھے جو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و االہ و سلم) کے چچا زاد اور آنحضرت کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا کے شوھر ھیں گویا "نسباً”اور” صھراً "کی تفسیرےھی ھستی ھے۔[55]
ایضاً پروردگار عالم کا ارشاد ھے:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ ۔ إِلاَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ [56]
زمانے کی قسم بےشک انسان خسارے میں ھے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے اور باھم ایک دوسرے کو حق کی وصیت اور صبر کی تلقین کرتے ھیں۔
سیوطی کھتے ھیں کہ ابن مردویہ نے ابن عباس سے یہ قول نقل کیا ھے کہ وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ،سے مراد ابوجھل بن ھشام ھے اور”إِلاَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ” سے مرادحضرت علی علیہ السلام اور حضرت سلمان ھیں۔[57]
ایضاًاللہ تعالی کا ارشاد ھوتا ھے :
<ٌ وَعَلَی الْاٴَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلًّا بِسِیمَاہُمْ ۔>[58]
اعراف پر کچھ ایسے لوگ (بھی )ھوں گے جولوگوں کی پیشانیاں دیکھ کر انھیں پہچان لیں گے ۔
ثعلبی نے ابن عباس سے روایت بیان کی ھے کہ ابن عباس کھتے ھیں پل صراط کی ایک بلند جگہ کا نام اعراف ھے اور اس مقام پر حضرت عباس ، حضرت حمزہ اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام موجود ھوں گے وہاں سے دو گروہ گزریں گے یہ لوگ اپنے محبوں کو سفید اور روشن چھروںاور اپنے دشمنوں کو سیاہ چھروں کے ذریعے پہچان لیں گے ۔[59]
قارئین کرام !تھی یہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شان اور فضیلت میں نازل ھونے والی آیات کی یہ ایک جھلک ھے کیونکہ آپ کی شان میں نازل شدہ تمام آیات کو اس مقام پر بیان کرنا مشکل ھے۔بھرحال خطیب بغدادی ابن عباس سے روایت کرتے ھیں کہ آپ نے فرمایا حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت اور شان میں تین سو سے زیادہ آیات نازل ھوئی ھیں ۔[60]
ابن حجر اور شبلنجی ابن عامر اور ابن عباس سے روایت کرتے ھیں کہ کسی کے متعلق بھی اس قدر آیات نازل نھیں ھوئیں جتنی آیات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے متعلق نازل ھوئی ھیں ۔[61]
ھم حضرت علی علیہ السلام کی بلند و بالا اور اعلیٰ وارفع شان اور آپ کی فضیلت اور اللہ کے نزدیک آپ کی عظیم منزلت کے متعلق نازل ھونے والی آیات کریمہ کا آنے والے ابواب میں تذکرہ کریں گے ۔
[1] صحیح ترمذی ج ۲ ص۳۰۱،اسی طرح حاکم نے بھی مستدرک ج۳ ص ۱۳۶پر اس مطلب کو ذکر کیا ھے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یھی مطلب بیان کیا ھے۔
[2] المستدرک ج ۳ ص ۱۳۶۔
[3] حاکم کھتے ھیں کہ شیخین کی شرط پر یہ حدیث صحیح ھے۔مستدرک الصحیحین ج۳ ص۴۹۹
[4] ابن حجر ، الاصابہ فی تمیز الصحا بہ ج ۸، قسم اول، ص ۱۸۳
[5] کنز العمال ج ۶ ص۳۹۵ ۔
[6] کنز العمال۶ ص ۱۵۶ ۔
[7] کشف الغمہ ج ۱ ص ۷۹۔
[8] کشف الغمہ ج ۱ ص ۸۳۔
[9] مناقب خوارزمی ص ۵۶۔
[10] شرح نھج البلاغہ ج ۴ ص ۱۲۲۔
[11] کشف الغمہ ج۱ ص ۸۵۔
[12] تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۶۔
[13] ارشاد ج۱ ص۳۲۔
[14] ابن حجرا لاصابہ ج ۷ حصہ اول ص۱۶۷۔
[15] سورہ مائدہ آیت ۵۵۔
[16] الکشاف ج۱ ص ۶۴۹۔
[17] سورہ ھود آیت ۱۷۔
[18] سیوطی نے در منثور میں اس آیت کے ذیل میں اس مطلب کو بےان کےا ھے۔
[19] سورہ سجدہ :آیت۱۸۔
[20] واحدی اسباب نزول ص۲۶۳۔
[21] سورہ تحرےم:آیت۴۔
[22] ابن حجر العسقلانی فتح الباری ،ج ۱۳ ص ۲۷۔
[23] سورہ حاقة آیت ۱۲۔
[24] تفسیر ابن جریر الطبری ج ۲۹ ص ۳۵۔
[25] سورہ رعد آیت ۷۔
[26] کنز العمال ج ۶ ص۱۵۷۔
[27] سورہ بقرہ آیت ۲۷۴۔
[28] اس روایت کو اسد الغابہ میں ابن اثیر جزری نے ج ۴ ص ۲۵، ذکر کےا ھے۔ اور اسی مطلب کو زمحشری نے تفسیرکشاف میں نقل کیا ھے ان کے علاوہ دوسری کتب میں بھی ےھی تفسیر مذکور ھے ۔
[29] سورہ مریم آیت ۹۶۔
[30] ریاض النضرہ ج ۲ ص ۲۰۷،الصواعق ابن حجر ص۱۰۲، نور الابصار شبلنجی ص ۱۰۱۔
[31] سورہ البینہ آیت ۷
[32] صواعق محرقہ ابن حجر ص ۹۶،نور الابصار شبلنجی ص ۷۰ اور ص ۱۰۱ ۔
[33] سورہ توبہ آیت ۱۱۹۔
[34] سورہ توبہ آیت ۱۱۹۔
[35] سوره توبه آیت 19.
[36] سیوطی در منثور در ذیل آیت۔
[37] سورہ توبہ آیت ۲۰تا ۲۱۔، تفسیر ابن جریر طبری ج ۱۰ ص ۶۸۔
[38] سورہ صافات آیت۲۴۔
[39] الصواعق محرقہ ابن حجر ص ۷۹ ۔
[40] فخر رازی نے تفسیر کبیر میں سورہ مائدہ کی اس آیت کے ذیل میں یہ تفسیر بیان کی ھے ۔
[41] سورہ مائدہ آیت ۵۴۔
[42] سورہ نحل آیت۴۳۔
[43] تفسیر ابن جریرطبری ج ۱۷ ص۵۔
[44] سورہ زمر: ۲۲۔
[45] ریاض النضرہ ‘محب طبری ج ۲ ص ۲۰۷۔
[46] سورہ احزاب :۲۳۔
[47] صواعق محرقہ ابن حجر ص ۸۰۔
[48] سورہ زمر :۳۳۔
[49] سیوطی در منثور ذیل تفسیر آیہ ۔
[50] سورہ رحمن: ۱۹تا ۲۲ ۔
[51] سیوطی در منثور ۔
[52] سورہ جاثیہ : ۲۱۔
[53] تفسیر کبیر ،فخر الدین رازی ذیل تفسیر آیہ۔
[54] سورہ فرقان: ۵۴۔
[55] نور الابصار شبلنجی ص۱۰۲۔
[56] سورہ عصر۔
[57] درمنثور تفسیر سورہ عصر۔
[58] سورہ اعراف :۴۶ ۔
[59] صواعق محرقہ ابن حجرص ۱۰۱۔
[60] تا ریخ بغداد’ خطیب بغدادی ج۶ ص ۲۲۱۔
[61] صواعق محرقہ ص ۷۶ ،نور الابصار ص ۷۳۔