امامت کی تکمیل و تعیین الٰہی ذریعہ سے ہی ممکن ہے
ہم نے گذشتہ صفحات میں قرآن کی روشنی میں امامت کی تعریف کی وضاحت کی ہے اور امام اور امامت کے سلسلے میں قرآن کریم کے متعین کردہ مفہوم کو پیش کیا ،نیز ہم نے واضح و روشن دلائل اور قرآنی نصوص کی بنیاد پر یہ بتایا کہ امامت کا مفہوم انسان کو اس کی زندگی کے تمام اختیاری امور میں عروج کمال تک پہنچانا ہے۔ اب ہم یہاں پر قرآن میں موجود نظریۂ امامت پر بحث کریں گے چوں کہ امامت ایک ربانی منصب ہے لہٰذا خدا جسے چاہتا ہے منتخب کرتا ہے۔لہٰذا امامت کی تعیین و تحدید کا اختیار صرف اللہ کیلئے ہے اور یہ اختیار لوگوں کے پاس نہیں ہے اور ہم دیکھیں گے کہ قرآن میں یہ بات نہایت تاکید کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ امامت ایک ربانی امر ہے۔ اس منصب کو انجام دینے کیلئے اللہ لوگوں کو منتخب کرتا ہے اور اللہ نے امامت کے امور کو لوگوں کی اپنی پسند اور اختیار پر نہیں چھوڑا ہے گزشتہ صفحات میں مذکورہ باتیں بذات خود اس بات کی دلیل ہیں کہ منصب امامت کا تعیین و تقرر خدا کی طرف سے ہونا چاہیے کیوں کہ امامت سے مراد انسان کی اس کے تمام اختیاری امور میں اللہ کے متعین کردہ حدود کے مطابق قیادت کرنا ہے۔ اس مفہوم سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ منصب امامت کے فرائض کو انجام دینے کیلئے انتخابِ امام کا امر اللہ کے ساتھ مختص ہے۔ عام انسانوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ خود امامت کی اہلیت و صلاحیت رکھنے والوں کا انتخاب کردیں۔ بہرحال یہ بات واضح ہے کہ منصب امامت کی تحدید و تعین صرف اللہ کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
قرآن کی تحدید کے مطابق امامت کا یہ مفہوم بذات خود نظریہ النص اور تعین الٰہی کیلئے لازمی حیثیت رکھتا ہے تاہم اس نکتے سے قطع نظر قرآن میں یہ بات بالکل صاف اور واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن نے صرف منصب امامت کیلئے کسی فرد کے من جانب اللہ تعین و تقرر کی تاکید و تصریح پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ قرآن نے عملی طور پر بھی برت کر دکھایا ہے ۔ہم مناسب جگہ پر اس پر روشنی ڈالیں گے۔
یہاں پر ہمارا موضوع بحث قرآن میں منصب امامت کی تعین کا نظریہ ہے اور ہم اس حوالے سے قرآن کی چند ایسی آیتوں کا ذکر کریں گے جن میں اس کی تاکید کی گئی ہے کہ منصب امامت کیلئے کسی شخص کے تعین و تقرر کا اختیار صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مختص ہے۔اس ضمن میں قرآن میں بہت ساری آیات وارد ہوئی ہیں۔ ہم نمونے کے طور پر مندرجہ ذیل آیات کو بیان کریں گے۔
١_ آیات امر
یہ آیتیں اس بات پر دلالت کرتی کہ امر و حکومت صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مختص ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے ظاہر ہے ۔
(بَلْ لِلَّہِ الَْمْرُ جَمِیعًا) (١)
‘بلکہ اللہ ہی کے لئے تمام حکومت ہے۔’
دوسری جگہ ہے :
(لَہُ الْخَلْقُ وَالَْمْرُ) (40)
‘اس نے سب کچھ بنایا اور اس کیلئے حکومت ہے۔’
اس عبارت میں حصر کا معنی پایا جاتاہے کیوں کہ اس میں تقدیم کو تاخیر کیا گیا ہے جیساکہ جار اور مجرور کو عامل پر مقدم کرنا اور مفعول کو فاعل پر مقدم کرنا جیساکہ اس آیت میں :
(ِیَّاکَ نَعْبُدُ وَِیَّاکَ نَسْتَعِینُ) (41)
‘ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ‘
حصر پر دلالت کرتی ہے۔
اللہ کے اس قول (لَہُ الْخَلْقُ وَالَْمْرُ)کا مفہوم یہ ہے کہ خلق وامر صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مختص ہے ۔اس میں اس کا کوئی شریک کار نہیں ۔اب ہم اس پوری آیت کو دیکھتے ہیں جیساکہ قرآن کریم میںوارد ہے کہ :
(ِنَّ رَبَّکُمْ اﷲُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالَْرْضَ فِی سِتَّةِ َیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بَِمْرِہِ َلاَلَہُ الْخَلْقُ وَالَْمْرُ تَبَارَکَ اﷲُ رَبُّ الْعَالَمِینَ) (42)
‘بے شک تمہارا مالک اللہ ہے جس نے آسمانوں و زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ جہاں کے انتظام کی طرف متوجہ ہوا۔وہ رات سے دن کو ڈھانپتا ہے اور
رات دن کے پیچھے لگی دوڑی آرہی ہے اور سورج اور چاند تاروں کو پیدا کیا کہ وہ سب اس کے حکم کے تابعدار ہیں۔ سن لو اسی نے سب کچھ پیدا کیا اسی کی حکومت ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی برکت ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔’
اس آیت کے مفہوم کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز اللہ کے حکم کے تابع ہے لہٰذا خلق اور امر و حکومت بھی اسی کیلئے ہے چنانچہ امرونہی اللہ کے لئے ہے لہٰذا کسی اور کوامر ونہی کرنے کا حق نہیں ہے۔اللہ کی ذات کے ساتھ امر کے خاص ہونے کا مقصود یہ ہے کہ اقتدار و سلطنت صرف اسی کے قبضہ و قدرت میں ہے نہ کہ اس کے غیر کے۔لہٰذا امر کا معنی سلطنت اور حکم کے ہے اور اسی لئے ان دونوں کیلئے امارت کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور قائد او رحاکم کیلئے ‘امیر کا لفظ’ آیا ہے۔یہ آیت حاکمیت کے ذات باری تعالیٰ پر موقوف و منحصر ہونے پر دلالت کرتی ہے اور جب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ حاکمیت و اقتدار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے تو یہ بات بھی خودہی واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ ہی انسانی معاشرے کا حاکم مطلق ہے۔ وہی اپنی نیابت میں انسان کیلئے امام و قائد کا انتخاب کرتا ہے اور حاکم و امام اور امیر کے تعین کا حق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے۔
٢_ آیات حکم
ان آیت کریمہ میں بھی یہ بات واضح طور پر بیان کردی گئی ہے کہ حکم و فیصلہ (حکومت) صرف باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے ۔چنانچہ حکم اسی کیلئے اور فیصلہ کا حق اسی کو ہے اس کے علاوہ کسی کو اس کا کوئی حق و جواز نہیں۔جیسا کہ اس آیت سے صاف طور پر ظاہر ہے:
(َلاَلَہُ الْحُکْمُ) (43)
‘سن لو حکومت صرف اللہ کیلئے ہے۔’
اسی طرح دوسری جگہ پر ہے :
(ِنْ الْحُکْمُا ِلاَّ لِلَّہِ) (44)
‘ حکومت صرف اللہ کیلئے ہے۔’
نیز فرمایا:
(وَلاَ یُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ َحَدًا) (45)
‘اس کی حکومت میں کوئی اس کا ساجھی نہیں۔’
اس کے حکم میں کسی کو اس کا ساجھی اور شریک ٹھہرانا ممکن نہیں ہے اور حکم کو اللہ اور اس کے غیر یا عوام اور اللہ کے درمیان تقسیم کرنا ممکن نہیں ہے بلکہ حکم صرف اللہ کیلئے خاص ہے۔ اور حکم و فیصلہ اور حاکم کا تعیین و تقرر پر سارے امور اللہ کی ذات پر ہی موقوف ہیں۔ اس میں اس کا کوئی شریک اور شراکت دارنہیں۔
٣_ آیات ملک
اس آیت میں بھی بادشاہت و حکومت کو صرف اللہ کیلئے خاص کردیا گیا ہے اللہ نے فرمایا :
(قُلْ اللّٰھُُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ منْ تَشَائُ وَتاَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمنْ تَشَائُ) (٤6)
‘(اے پیغمبر)کہہ دو میرا خدا سارے ملک کا مالک ہے تو جس کو چاہے بادشاہ بنادے اور جس سے چاہے بادشاہت چھین لے۔’
اس آیت سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ملک و بادشاہت صرف اللہ کے لئے خاص ہے وہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے ۔پھر آگے ارشاد ہوتا ہے:
(وَتُعِزُّ منْ تَشَائُ وَتُذِلُّ منْ تَشَائُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ) (47)
‘اور تو جس کو چاہے عزت دے اور تو جس کو چاہے ذلت دے ساری بھلائی تیرے ہی مبارک ہاتھ میں ہے۔’
اس آیت کے آخر میں ‘عزو ذل’ جو دو الفاظ مذکور ہیں ہم ان کے مفہوم پر بحث کریں گے کیوں کہ یہ ایک اہم بحث ہے اور ان دونوں الفاظ کے مفہوم کا امامت اور ولایت کے مفہوم سے بڑا گہرا تعلق ہے ۔یہاں اس جانب اشارہ کرنا مناسب ہوگا کہ امر و حاکمیت سے متعلق اوپر پیش کردہ تمام قرآنی مفاہیم ایک وسیع ہمہ گیر، متحد المعنی اور باہم ہم آہنگ نظام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر ایک مفہوم سے دوسرے مفہوم کی تکمیل ہوتی ہے اور ہر ایک مفہوم کا دوسرے سے گہرا رابطہ ہوتا ہے۔اس سیاق میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عزت و ذلت کے مفہوم کا امامت سے گہرا ربط ہے، ان دونوں کو قرآن کریم کے نظام تفہیم میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ جیساکہ قرآن کے اس آیت کے ٹکڑے(بِیَدِکَ الْخَیْرُ) ‘تمام خیر و فلاح اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے’میں لفظ ‘الْخَیْرُ خاص قرآنی مفہوم رکھتا ہے اور اس کا امامت کے معنی سے بھی خصوصی ربط ہے۔ کیوں کہ امامت کمال انسانی کا ذریعہ ہے اور وہ خیر کے ان تمام معانی کو شامل کرتا ہے جو اللہ
سبحانہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ لہٰذا انسان کے لئے خیر کا حصول صرف نظام امامت کے ذریعہ ہی ہوسکتا ہے ہمارا موضوع اس وقت اس آیت کی تفسیر و توضیح نہیں ہے بلکہ ہم تو بطور شہادت آیت کے اس ٹکڑے کو پیش کرنا چاہیں گے کہ اللہ نے فرمایا:
(قُلْ اللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ منْ تَشَائُ) (48)
‘کہہ دو ! اے خدا ملک کا مالک تو ہی ہے تو جسے چاہتا ہے بادشاہ بنا دیتا ہے۔ ‘
اس آیت میں یہ بات صاف طور سے بیان کردی گئی کہ بادشاہت کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے وہی جسے چاہتا ہے بادشاہ بنا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہت چھین لیتاہے۔
قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہے:
(وَاﷲُ یُؤْتِی مُلْکَہُ منْ یَشَاء) (49)
‘اللہ جسے چاہتا ہے اپنی بادشاہت عطا کرتا ہے۔ ‘
اس آیت میں ہم نے دیکھا کہ لفظ ‘ملک’ کی اضافت اللہ کی طرف ہے۔ جس سے اس بات کی توثیق و تائید ہوجاتی ہے کہ ملک و بادشاہت صرف اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔
اس آیت میں اور اس جیسی دوسری آیتوں میں امامت کے تعین کے نظریہ کیلئے صریح قرائن موجود ہیں۔ چنانچہ یہ آیت جو بنی اسرائیل کے بارے میں نازل ہوئی :
(وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْا ِنَّ اﷲَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکًا) (50)
‘اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنایا ہے ۔’
لفظ ‘مَلِکً’ صراحت کے ساتھ بادشاہت پر دلالت کرتا ہے اور اس میں کسی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس سے مراد صاحب سلطان اور سیاسی قائد ہے۔اس آیت سے صاف طور پر یہ واضح ہوگیا کہ بغیر کسی شک و شبے کے کہ بادشاہت کے معاملات صرف اللہ سبحانہ کی ذات عالی کے ساتھ ہیں وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اس آیت کے سیاق و سباق پر نظر ڈالنے سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے بادشاہت کے امور میں دخل دینے کی کوشش کی اور ربانی اختیار و انتخاب پر اعتراض کیا ۔یہ کہتے ہوئے کہ
نَّی یَکُونُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ َاحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِنْ الْمَالِ) (5١)
‘طالوت ہمارا بادشاہ کیونکر ہوسکتا ہے طالوت سے تو ہم زیادہ حقدار ہیں بادشاہت کے۔ اور اس کو مال و دولت کی فراغت بھی نہیں۔’
چنانچہ اللہ نے ان کی مقابلے میں یہ آیت نازل فرمائی :
(قَالَا ِنَّ اﷲَ اصْطَفَاہُ عَلَیْکُمْ وَزَادَہُ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ وَ اﷲُ یُؤْتِی مُلْکَہُ منْ یَشَاء وَاﷲُ وَاسِع عَلِیم) (5٢)
‘اللہ نے تمہارے لئے پسند کیا ہے کیوں کہ وہ علم اور جسم میں تم سے بڑا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی بادشاہت عطا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔’
اللہ کے علاوہ کسی بھی شخص کو امور بادشاہت اور سیاسی قیادت میں دخل دینے کا حق نہیں ہے کیوں کہ بادشاہت و قیادت صرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بادشاہ بنا دیتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے کہ ‘ اللہ جسے چاہتا ہے بادشاہت عطا کرتا ہے’۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ تعین الٰہی یا من جانب اللہ نصب امامت کے نظریہ سے حکومت و ولایت میں امت کا کردار کالعدم نہیں ہوجاتا بلکہ حقیقت میں امت کا بھی اس سلسلہ میں اہم کردار ہوتا ہے قرآن کے مطابق ،حکومت میں امت کا بنیادی کردار ہوتا ہے اور وہ کردار حکومت کو قوت بہم پہنچاتا ہے ۔اس لئے کہ سیاسی حکومت کو عوام ہی سے اطاعت و قوت کی شکل میں مدد اور طاقت حاصل ہوتی ہے ۔اگر عوام اپنے سیاسی قائد سے خوش نہ ہوں تو وہ قائد یاحاکم بجا طور پر حکومت کی ذمہ داری نہیں نبھا سکتا ظالم کو ظلم کی سزا اور طالب انصاف کو انصاف نہیں دلا سکتا۔ بنابریں ایسی عوام کی رضامندی ناگزیر ہے جس پر یہ ا لٰہی قیادت اعتماد اور بھروسہ کرسکے تو نصب امامت کا جو نظریہ ہم پیش کر رہے ہیں وہ حقیقت میںقرآنی نظریہ ہے اسی نظریہ کا تقاضا ہے کہ حکومت کو اللہ کے ساتھ خاص سمجھا جائے،اور سیاسی قیادت کے قانون جواز کو من جانب اللہ نسب امامت میں محصور سمجھا جائے، لیکن حقیقت میں قیادت کے خدائی تعین سے صرف اس کا قانونی جواز ہی ثابت ہوتا ہے ،عوام کو اس نظام حکومت میں خصوصی مقام حاصل ہے اور وہ اسے ضرورت قوت اور مدد پہنچاتا ہے تاکہ وہ قیادت اپنا فریضہ ٹھیک ٹھیک طور پر انجام دے سکے۔
مختصراً ہم یہ کہہ سکتے کہ امامت و بادشاہت اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے اس کے علاوہ کسی اور کیلئے نہیں ہے اس کا مفہوم و مطلب یہ ہے کہ ملک و بادشاہت اور سیاست قیادت کا قانونی جواز صرف اللہ کی ذات میں منحصر ہے لہٰذا قائد و امام کا تعیین ربّانی تعیین کے ذریعے ضروری ہے تاکہ لوگوں کے درمیان بادشاہت و حکومت کی باگ ڈور کا سنبھالنا قائد کے لئے ممکن ہوسکے کیوں کہ قیادت کا قانونی قائد الٰہی تعیین کے بغیر حاصل نہیں کرسکتا ۔لیکن اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زمین پر اللہ کے حکم کا نفاذ اور لوگوں کی قیادت کا عمل قائد کے لئے کب ممکن ہوگا؟اس کا جواب یہ ہے کہ قیادت کے امور کی انجام دہی کیلئے عوامی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ لہٰذا امت یا عوام کا اصل کردار قیادت کو قوت و مدد دینا ہے۔ جہاں تک سوال قیادت کے قانونی جواز کا ہے تو یہ صرف اللہ ہی سے حاصل ہوگا کیوں کہ امامت، حکومت و بادشاہت سے متعلق کچھ آیات یہ بھی ہیں:
(لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالَْرْضِ) (53)
‘ اس کیلئے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے۔’
دوسری جگہ یوں ارشاد ہے:
(وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیک فِی الْمُلْکِ)(54)
‘ اور آپ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیںجس کے پاس کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک و ساجھی ہے۔’
اللہ کے اس قول کہ ‘اس کی حکومت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے’ سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی حکومت میں کسی شریک و ساتھی کو پسند و قبول نہیں کرتا ہے ایسے ہی اپنی بادشاہت میں بھی کسی شریک و ساجھی کو قبول نہیں کرتا ہے ۔
(تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر) (55)
‘اللہ کی ذات بڑی برکت والی ہے جس کے ہاتھ میں سارے جہان کی بادشاہت ہے۔’
نیز فرمایا:
(فَتَعَالَی اﷲُ الْمَلِکُ الْاحَقُّ) (56)
‘ اللہ ہی کیلئے ملک و بادشاہت ہے۔’
چنانچہ ان آیات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حقیقی بادشاہ اور مالک صرف اللہ ہے اس کے علاوہ کوئی بھی بادشاہ و مالک نہیں اور وہ بادشاہ جس کا تعیین و تقرر اللہ کی طرف سے نہ ہو وہ حقیقی بادشاہ نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
(قُلْ َعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ں مَلِکِ النَّاسِ)
‘آپ کہہ دیجئے کہ میں لوگوں کے رب سے پناہ مانگتا ہوں جو لوگوں کا مالک بھی ہے۔ ‘
اللہ سبحانہ ہی بادشاہ حق اور مالک حقیقی ہے او راس کے ساتھ بادشاہت و حکومت ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔
٤_ ولایت سے متعلق آیات
ان آیات میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ ولایت بھی اللہ کی ملکیت ہے باری تعالیٰ فرماتا ہے :
(مَا لَہُمْ مِنْ دُونِہِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَ یُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ َحَدًا) (57)
‘ان کے سوا ان کا کوئی کام بنانے والا نہیں اور وہ اپنے فرمان میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔’
ایک اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے ایسی تعبیراور اصطلاح استعمال کی ہے جس میں یہ بات نہایت تاکید کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ بادشاہت وحکومت اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ ساتھ ہی اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ قرآن نے اہتمام کے ساتھ سب سے پہلے حکومت کے مسئلہ کو بیان کیا ہے۔ امر وحکم کو اللہ کی ذات کے ساتھ مختص ہونے کو دوسرے درجہ میں رکھا ہے اور اس میں تعیین الٰہی کو تیسرے درجہ میں رکھا ہے۔ارشاد خداوندی ہے:
(َمْ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِا َوْلِیَاء فَاﷲُ ہُوَ الْوَلِیُّ) (58)
‘کیا انہوں نے اللہ کے علاوہ کسی اور کو ولی و دوست بنالیا سن لو اللہ ہی ولی ہے۔’
ولایت اللہ کی ذات کے ساتھ مختص ہے اور وہی ،لوگوں سے جسے چاہتا ہے ان کے امو و معاملات کو انجام دینے کیلئے ولی مقرر کرتا ہے نیز فرمایا:
(اِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اﷲُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ ں وَمنْ یَتَوَلَّ اﷲَ وَرَسُولَہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا فَِنَّ حِزْبَ اﷲِ ہُمْ الْغَالِبُونَ) (59)
‘تمہارے دوست اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جودرستی سے نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جھکے رہتے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے دوستی رکھے گا اور اللہ ہی کا گروہ غالب رہے گا’
دوسری جگہ ہے:
(ثُمَّ رُدُّوا ِلَی اللَّہِ مَوْلاَہُمْ الْحَقِّ) (60)
‘پھر سب بندے خدا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں جو ان کا حقیقی مالک ہے۔’
گویا حقیقی اور سچا ولی و مولیٰ، صرف اللہ ہی ہے اس کے علاوہ دوسرا کوئی اس کی ولایت میں شریک نہیں۔ اس مفہوم و معنی کے حوالے سے بکثرت آیات موجود ہیں۔
٥_ آیات اطاعت
ان کی دو قسمیں ہیں۔
پہلی قسم میں ایسی آیات ہیں جن میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا بغیر کسی استثناء کے مطلقاً حکم دیا گیا ہے یعنی اللہ اور رسول کی اطاعت میں کسی طرح کے فرق کا لحاظ نہیں دکھایا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:
(َطِیعُوا اﷲَ وََطِیعُوا الرَّسُولَ) (61)
‘اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔’
دوسری قسم :
(منْ یُطِعْ الرَّسُولَ فَقَدْ َطَاعَ اﷲَ) (62)
‘ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔’
ان جیسی تمام آیات میں اللہ اور رسول کی اطاعت کو مطلق واجب قرار دیا گیا ۔دوسری
آیت میں ‘اولی الامر ‘کی اطاعت کو بھی مطلقاً واجب قرار دیا گیا ہے چنانچہ فرمایا :
(َطِیعُوا الرَّسُولَ وَُوْلِی الَْمْرِ مِنْکُمْ) (63)
‘ اللہ و رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی اطاعت کرو۔’
اس آیت سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ اولی الامر کی اطاعت بھی مطلقاً واجب ہے اور یہ طرح کے امر و نہی پر مشتمل ہے۔ اس آیت کے مفہوم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ یہ ولی معصوم ہو اور امر و نہی سے ذرہ برابر بھی پہلو تہی کرنے والا نہ ہو تاکہ اس کی اطاعت بلا کسی استثناء کے واجب اور ضروری ہوسکے۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ امام معصوم من جانب اللہ ہی ہو ۔اس لئے کہ وہی معصوم اور بے گناہ انسان کی شناخت رکھتا ہے اور عصمت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے اللہ نے فرمایا:
(فَلاَ تُزَکُّوا َنفُسَکُمْ ہُوَ َعْلَمُ بِمنْ اتَّقَی) (64)
‘تو اپنی پاکیزگی مت جتائو وہ خوب جانتا ہے کہ کون پرہیزگار ہے۔’
دوسری جگہ مذکور ہے :
(َلَمْ تَرَا ِلَی الَّذِینَ یُزَکُّونَ َنفُسَہُمْ بَلْ اﷲُ یُزَکِّی منْ یَشَاء) (65)
‘کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں آپ کو پاک اور مقدس بتاتے ہیں(یہ سب غلط ہے) بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے پاک و مقدس بناتا ہے۔’
عصمت اللہ کے ہاتھ میں اور اطاعت اس کی ذات و صفات کے ساتھ خاص ہے ۔جب
اولو الامر کی اطاعت و فرمانبرداری کا امر حکم مطلق ہے تو اس مطلق اطاعت سے یہ بات ضروری ہوجاتی ہے کہ ولی امر کا تعیین ہر حال میں اللہ کی طرف سے ہو کیوں کہ وہی تمام راز اور پوشیدہ چیزوں اور معصوم و طاہر انسان کا علم رکھتا ہے۔
آیت کی دوسری قسم ان آیات سے مختلف فیہ مسائل کو اولوالامر کے سامنے پیش کرنے کا وجود ثابت ہوتا ہے ہر نزاعی مسئلہ میں اولو الامر سے رجوع اس طرح ضروری ہے جس طرح اس نوع کے مسائل کو رسول ۖ کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَِذَا جَائَہُمْامر مِنَ الَْمْنِ َوْ الْخَوْفِ َذَاعُوا بِہِ وَلَوْ رَدُّوہُا ِلَی الرَّسُولِ وَا ِلَی ُوْلِی الَْمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِینَ یَسْتاَنْبِطُونَہُ مِنْہُمْ) (66)
‘اور جب ان کے پاس کوئی امن یا ڈر کی خبر آتی ہے تو ا س کو اڑا دیتے ہیں اور اگر ڈرنے سے پہلے اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس لے جاتے (ان سے اس خبر کی تحقیق کرتے) تو جن لوگوں کو خبر کی تلاش رہتی ہے (ان اڑانے والوں میں سے ) وہ خود ان سے (یعنی پیغمبر سے اور سرداروں سے) اس خبر کو اچھی طرح معلوم کرلیتے۔’
دوسری جگہ فرمایا:
(فَِانْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْئٍ فَرُدُّوہُا ِلَی اﷲِ وَالرَّسُولِ) (67)
‘پھر اگر تم میں اور حاکم وقت میں کسی مقدمہ میں جھگڑا ہو تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو۔’
ان آیات سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ہر وہ امر جس میں نزاع و اختلاف پیدا ہوجائے اسے اللہ اور رسول کے سامنے لانا ضروری ہے یعنی مختلف فیہ امر کا فیصلہ اللہ اور رسول کے قول کے مطابق ہی ہونا چاہیے ،انسان کے ہر فعل اختیاری میںنزاع پایا جاتا ہے جیساکہ ہم پہلے ہی ذکر کرچکے ہیں کہ نزاع و اختلاف کا تحقق اختیاری امور میں ہی ہوتا ہے یہ دونوں آیتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ مختلف فیہ مسائل کا جس طرح اللہ اور رسول کے سامنے پیش کرنا واجب ہے اسی طرح اولو الامر کے سامنے پیش کرنا بھی ضروری ہے ۔
پھر یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ اولو الامر میں وہ کون لوگ شامل ہیں جن کے فیصلہ کے بعد اختلاف ممکن نہ ہو اور ان کا فیصلہ صحیح اور قابل نفاذ ہو اور تمام لوگوں کیلئے قابل قبول ہو نیز یہ ضروری ہے کہ ان کی بات میں سچائی ہو اور وہی معیار حق بھی ہوں کیونکہ اختلاف کے وقت وہی مرجع ہوتے ہیں جن کے ذریعہ حق کا تعیین و تحقق ہوسکے اور وہی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ وہ معصوم و بے گناہ ہو اور اس کا تعین و تقرر اللہ کی طرف سے ہوا ہو۔
٦_ آیت اختیار
ارشاد خداوندی ہے:
(وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَاء وَیَخْتَارُ مَا کَانَ لَہُمْ الْخِیَرَةُ سُبْحَانَ اﷲِ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ں وَرَبُّکَ یَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُورُہُمْ وَمَا یُعْلِنُونَ ں وَہُوَ اﷲُ لاَِلَہَا ِلاَّ ہُوَ لَہُ الْحَمْدُ فِی الُْولَی وَالْآخِرَةِ وَلَہُ الْحُکْمُ وَِلَیْہِ تُرْجَعُونَ) (68)
‘تیرا مالک جو چاہتا ہے وہ پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے (پیغمبری کیلئے) چن لیتا ہے اور ان کو کوئی(مستقل ) اختیار نہیں ہے یہ جن جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کا شریک بتاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے کہیں پاک اور برتر ہے ۔اور(اے پیغمبر) جو باتیں اپنے دل میںچھپاتے ہیں اور جس کا اظہار کرتے ہیں تیرا مالک ان سب کو جانتا ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں دنیا اور آخرت میں اسی کو تعریف سجتی ہے اور دونوں جگہ اسی کی حکومت ہے اور اسی کے پاس تم کو لوٹ جانا ہے۔’
یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ تخلیق و اختیار کے درمیان مماثلت پائی جاتی ہے چنانچہ جس طرح اللہ تعالیٰ تخلیق کے عمل میں اکیلا ہے اس میں اس کا کوئی شریک کار نہیں اسی طرح اختیار کے عمل میں بھی وہ واحد و یکتا ہے یعنی اختیار و انتخاب کے عمل میں اسی کی ذات کوبنیادی مرتبہ حاصل ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کو اس میں کوئی عمل دخل نہیں وہی انسان کیلئے حق اور خیر کا تعین کرتا ہے۔
چنانچہ ہر فرد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام امور کو اللہ کے اوامر و نواہی کو پیش نظر رکھتے ہوئے انجام دے کیوں کہ ہر قسم کی خیر و بھلائی صرف اللہ کے قبضہ میں ہے ،اس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔مذکورہ بالا تمام آیتوں میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ بادشاہت کا اصل حقدار اللہ تعالیٰ ہے اور تمام تر خیر و بھلائی اللہ کے ہاتھ میں ہے اس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ نے فرمایا :
(مَا کَانَ لَہُمْ الْخِیَرَةُ) (69)
‘ان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔’
جب کسی بھی عمل کا انتخاب آدمی اپنی پسند او رمرضی کے مطابق نہیں کرسکتا ہے اس لئے کہ اختیار و انتخاب اللہ کے لئے خاص ہے ۔لہٰذا امامت و قیادت جیسے اہم ترین معاملہ میں بھی جس کا تعلق مکمل طو رپر دین سے ہے او ریہ ان اہم امور میں شامل ہے جس میں لوگ اختیار خداوندی کی طرف محتاج ہوتے ہیں۔تمام تر اختیارات اللہ کیلئے خاص ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ منصب امامت کے فرائض کو انجام دینے کیلئے کسی بھی شخص کا انتخاب کرسکتا ہے ۔اس لئے کہ انتخاب و اختیار اﷲ کیلئے خاص ہے۔لہٰذا امامت و قیادت جیسے اہم ترین معاملہ میں بھی جس کا تعلق مکمل طور پر دین سے ہے اور یہ ان اہم امور میں شامل ہے جس میں لوگ اختیار خداوندی کی طرف محتاج ہوتے ہیں تمام تر اختیارات اﷲ کیلئے خاص ہوں گے اﷲ تعالیٰ منصب امامت کے فرائض کو انجام دینے کیلئے کسی بھی شخص کا انتخاب اپنی منشاء کے مطابق کرے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تمام تر اختیارات اﷲ کی ذات کیلئے مخصوص ہیں تو شوریٰ کی اس آیت(وََمْرُہُمْ شُورَی بَیْنَہُمْ) (70) کا کیا مفہوم ہوگا کیونکہ بظاہر (مَا کَانَ لَہُمْ الْخِیَرَةُ) اور (وََمْرُہُمْ شُورَی بَیْنَہُمْ) ان دونوں آیتوں کے درمیان تعارض نظر آرہا ہے مگر ان دونوں آیتوں کے مفہوم میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان میں تعارض نہیں۔ مذکورہ بالا آیت میں یہ صراحت موجود ہے کہ انسانی سماج کے تمام امور کے فیصلہ کا ذمہ دار صرف
اﷲ ہے اس میں اس کا کوئی شریک کار نہیںہے۔اسی طرح امامت جیسے دینی امر کے فیصلے کے تمام تر اختیارات اﷲ کیلئے ہی خاص ہیں۔وہ جسے چاہتا ہے اس کیلئے معین و مقرر کرتا ہے جیسا کہ اﷲ نے امامت کی نسبت رسول کی طرف کر کے اپنے حق اختیار کا اظہار کیا،چنانچہ اﷲ نے رسول کو لوگوں کا امام مقرر فرمایا جس طرح حضرت ابراہیم ـ اور ان کی ذریت میں سے نیک لوگوں کو امامت کے مرتبہ سے سرفراز کیا۔مگر آیت شوریٰ اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ صاحب قرار کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں دیگر مؤمنین سے مشورہ طلب کرے۔جب اﷲ تعالیٰ منصب امامت کے فرائض کو انجام دینے کیلئے کسی کو متعین کرتا ہے(جیسا کہ رسول ـ کو امام مقرر فرمایا) تو اس پر یہ بات واجب ہوجاتی ہے کہ وہ کسی بھی امر شرعی میں فیصلہ لیتے وقت دیگر مؤمنین سے بھی رائے طلب کرے۔اگر لوگوں کی رائے حق اور مصلحت کے خلاف ہو تو ان کی رائے کا ماننا رسول کیلئے ضروری نہیں ہے اور مشورہ کر لینے کے بعد وہ اپنی مرضی اور صوابدید کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے۔ شوریٰ کا یہی اختلافی مفہوم لغت میں بھی مذکور ہے۔
یہاں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ لفظ شوریٰ کا مفہوم یہ ہے کہ امام اختلافی شرعی امور میں باہم مشورہ سے کام لے اس لفظ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ ہی حتمی فیصلہ کا ذمہ دار ہے اور آیت شوریٰ ہرگز اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے کہ شوریٰ ہی دراصل صاحب رائے ہے۔دوسری آیتوں میں بھی رسول کو مشورہ کا حکم دیا گیا ہے۔ (وَشَاوِرْہُمْ فِی الَْمْرِ فَِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اﷲِ)(7١) اس آیت کریمہ میں رسولـ کو اولاً مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی ان کو اس کی اجازت بھی دی گئی کہ آخری فیصلہ ان کی رائے پر موقوف ہوگا۔
اس آیت میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ اﷲ کے رسول کو فیصلہ کا ذمہ دار بنایا گیا ہے اور تمام مومنین پر ان کی اطاعت واجب ہے۔پھر بھی اﷲ نے رسول کو آخری فیصلہ سے پہلے مشورہ کا حکم دیا ہے۔یہاں ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ شوریٰ کو فیصلہ کا ماخذبنیاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔کیونکہ شوریٰ باہمی طور پر آراء و خیالات کے تبادلے کا نام ہے اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے(وََمْرُہُمْ شُورَی بَیْنَہُمْ) میں مسلمانوں پر یہ واجب قرار دیا گیا ہے کہ جب کبھی ان کا کسی امر شرعی میںاختلاف ہوجائے تو آخری فیصلہ کرنے سے پہلے باہم مشورہ کریں۔تاہم اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ اس فیصلہ کو نافذ العمل کرنے کا ذمہ دار کون ہوگا؟
جبکہ آیات اختیاری میں اس کی صراحت کر دی گئی ہے کہ ہر طرح کے امر کا اختیار اور فیصلہ کا حق صرف اﷲ کی ذات کے ساتھ مختص ہے لہٰذا ہر حال میں فیصلہ اسی کی طرف سے صادر ہوگا۔ پھر وہ شخص اس منصب کا حقدار اور اصل ہوگا جس کا تعیین اﷲ کی طرف سے عمل میں آیا ہو۔یا قرآن کے لفظوں میں وہ ایمان والوں میں سے بہتر شخص (َوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ) یا دوسرے لفظ میں اولوالامر ہو۔
منصب امامت پر فائز شخص کو اس بات کا مامور بنایا گیا ہے کہ وہ درپیش کسی بھی اختلافی مسئلہ میں باہمی مشورہ سے فیصلہ کرے(وََمْرُہُمْ شُورَی) اس بات میں صریح ہے کہ لوگ کوئی فیصلہ لیتے وقت دوسروں کی آراء سے روشنی حاصل کریں۔یہ بات انسان کی اپنی ذاتی زندگی کے بھی تمام امور کیلئے ضروری اور نفع بخش ہے۔ا س کیلئے مناسب ہے کہ وہ دوسروں سے مشورہ کرے اور ان کی رائے کی روشنی میں فیصلہ کرے۔اگر ان کی رائے حقیقت امر کے موافق نہ ہو تو آخری فیصلہ اپنی صوابدید کے مطابق کرے اور مشورہ دینے والے کی رائے کا ماننا ضروری نہیں ہے۔مثلاً اگر آپ نے کسی سے مشورہ کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مشورہ دینے والے کا مشورہ آپ کیلئے واجب ہوگا بلکہ آخری فیصلہ کا حق و اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے آپ جو چاہیں فیصلہ لیں۔
پس اﷲ تعالیٰ اپنے نبیۖ سے یوں مخاطب ہوتا ہے:
(وَشَاوِرْھُمْ فِی الامْرِ فِاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ)
اس آیت سے یہ صاف ظاہر ہے کہ آخری فیصلہ کا اختیار مشورہ دینے والے افراد کو نہیں دیا گیا ہے ان کی حیثیت شوریٰ کے ممبروں کی ہے اور ان کا کام یہ ہے کہ جب ان سے مشورہ طلب کیا جائے تو مشورہ دیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔لہٰذا لوگوں سے مشورہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن فیصلہ کا اختیار اﷲ کو اور اس شخص کو ہوگا جسے اﷲ نے اس منصب کیلئے مقرر کر رکھا ہے۔اس مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے آیت شوریٰ اور آیت اختیار کے درمیان کسی طرح کا کوئی تعارض نظرنہیں آتا ہے۔
٧_آیہ تحکیم
اللہ نے فرمایا:
(فَلاَوَرَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَیَجِدُوا فِی َنفُسِہِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیمًا) (72)
‘ اے پیغمبر قسم ہے تیرے پروردگار کی وہ مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے جھگڑوں کا فیصلہ تجھ سے نہ کرائیں ،پھر تیرے فیصلے سے ان کے دلوں میں کچھ اداسی نہ ہو اور خوشی خوشی مان کر منظور کرلیں۔’
اس آیت نے واضح طور پر یہ بیان کر دیا کہ جب کبھی ایمان والوں کا کسی امر میں اختلاف ہو تو رسولۖکو حکم بنائیں۔ یہ بات عموم کے ساتھ ان کے درمیان تمام اختلافات کے لئے بیان کی گئی ہے لہٰذا اس حکم و فیصلہ کے امر کو صرف حکومت و قضاء کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جا سکتا بلکہ لوگوں پر یہ بات واجب کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے ہر طرح کے اختلافی امور کا فیصلہ اللہ کے رسول سے کرائیں۔ یہ کسی خاص امر یا کسی زمانہ یا مسلمانوں کے کسی ایک جماعت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
نہ تو آیت ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے رسولۖکا زمانہ پایا اور انہیں دیکھا۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسول سے فیصلہ کرانا اور ان کو حکم بنانا تمام مسلمانوں کیلئے زمانہ میں ایمان کی شرط کے طور پر بیان کیا گیا او ریہ حکم صرف زمانہ رسول کے مسلمانوں اور مومنین کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ ہر زمانے کے مسلمانوں کے لئے عام ہے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد رسول ۖ سے فیصلہ کرانے کے امر کی تکمیل کیسے ہوگی؟ جبکہ یہ حکم علی الاطلاق نازل ہوا ہے اور تمام مسلمانوں کے لئے اس پر عمل کرنا واجب ہے اس کا جواب یہ ہے کہ فرض کیجئے کہ ہم نے رسول کا زمانہ تو پالیا مگر ہمارا قیام یمن کے اندر تھا جو کہ رسول کی سرزمین سے دور تھا تو ہم کس طرح اپنے اختلافی امور کا فیصلہ رسول سے کراتے۔ یہ بات طبعی طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ ہم اس شخص کے سامنے اپنے مسئلہ کو پیش کریں گے جس کو رسول کریم ۖ نے ہمارے لئے حاکم مقرر کیا ہے۔
اس زمانہ میں یمن میں مقیم مومنین کے درمیان جب بھی کسی مسئلہ میں اختلاف ہوتا تھا تو اللہ کے رسول سے فیصلہ کراتے تھے اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ اللہ کے رسول امیر المومنین یا معاذ بن جبل کو ان کے یہاں حاکم بنا کر بھیجتے تھے ،چنانچہ اہل یمن نے امیر المومنین یا معاذ بن جبل کے فیصلہ کو تسلیم کرکے یہ ثابت کردیا کہ انہوں نے اللہ کے رسولۖ سے فیصلہ کردیا ہے اور اس آیت پر عمل کیا، یہ مسئلہ تو مقام کی دوری کی صورت میں تھا، اسی طرح زمانی فاصلہ کی صورت میں بھی اس شخص سے فیصلہ کرانا واجب اور ضروری ہے جس کو اللہ کے رسول ۖ نے لوگوں کا امام مقرر کیا ہو اور لوگوں کے لئے مرجع بنایا ہو تاکہ لوگ آپۖ کی وفات کے بعد اس سے رجوع کریں جبکہ ہمارا زمانہ اور رسولۖ کے زمانہ میں کافی لمبا فاصلہ اور دوری ہے، چنانچہ ہمارے لئے یہ بات واجب کر دی گئی ہے کہ جب بھی ہمارا کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہم رسول سے فیصلہ کرائیں اور اس فیصلہ کا تحقق اس طور پر ہوگا کہ ہم اس شخص کی طرف رجوع کریں جس سے رجوع کرنے کا رسولۖ نے ہمیں حکم دیا ہے اور جسے ہمارے لئے ولی مقرر کیا ہے۔ اور لوگوں کے درمیان اس کو منصب امامت سے سرفراز کیا ہے (ہمارا اس کی طرف رجوع کرنا اور اس سے فیصلہ کرانا رسولۖ کی طرف رجوع کرنے اور ان سے فیصلہ کرانے کا مصداق ہوگا)۔
=================================================
(39) سورہ رعد ،آیت٣٦۔
(40) سورہ اعراف،آیت٥٤۔
(41) سورہ حمد،آیت٥۔
(42) سورہ اعراف ،آیت٥٤۔
(43) سورہ انعام ،آیت٦٢۔
(44) سورہ انعام ،آیت٥٧۔
(45) سورہ کہف ،آیت٢٦۔
(46) سورہ آلعمران ،آیت٢٦۔
(47) سورہ آل عمران ،آیت٢٦۔
(48) سورہ آل عمران،آیت٢٦۔
(49) سورہ بقرہ،آیت٢٤٧۔
(50) سورہ بقرہ ،آیت٢٤٧۔
(5١) ، (٢5) سورہ بقرہ ،آیت ٢٤٧۔
(53) سورہ بقرہ ،آیت١٠٧۔
(54) سورہ اسراء ،آیت١١١۔
(55) سورہ ملک ،آیت١۔
(56) سورہ طہٰ،آیت١١٤۔
(57) سورہ کہف،آیت٢٦۔
(58) سورہ شوریٰ،آیت٩۔
(59) سورہ مائدہ،آیت٥٥،٥٦۔
(60) سورہ انعام،آیت٦٢۔
(61) سورہ نسائ،آیت٥٩۔
(62) سورہ نساء ،آیت٨٠۔
(63) سورہ نسائ،آیت٥٩۔
(64) سورہ نجم،آیت٢٣۔
(65) سورہ نساء ،آیت٤٩۔
(66) سورہ نسائ،آیت٨٣۔
(67) سورہ نسائ،آیت٥٩۔
(68) سورہ قصص ،آیت٦٨ تا ٧٠۔
(69) سورہ قصص،آیت٦٨۔
(70) سورہ شوریٰ،آیت٣٨۔
(71) سورہ آل عمران،آیت ١٥٩۔
(72) سورہ نسائ،آیت ٦٥۔