امامت پر عقلی اور منقوله دلایل

467

اس اختلاف میں حاکمیت عقل، قرآن اور سنت کے ھاتھ ھے۔الف۔قضاوتِ عقلاور اس کے لئے تین دلیلیں کافی ھیں:۱۔ اگر ایک موجد ایسا کارخانہ بنائے جس کی پیداوار قیمتی ترین گوھر هو اور اس ایجاد کا مقصد پیدا وار کے اس سلسلے کو ھمیشہ باقی رکھنا هو، یھاں تک کہ موجد کے حضوروغیاب اور زندگی وموت، غرض ھر صورت میں اس کام کو جاری رکھنا نھایت ضروری هو، جب کہ اس پیداوار کے حصول کے لئے، اس کارخانے کے آلات کی بناوٹ اور ان کے طریقہ کار میں ایسی ظرافتوں اور باریکیوں کا خیال رکھا گیا هو جن کے بارے میں اطلاع حاصل کرنا، اس موجد کی رھنمائی کے بغیر نا ممکن هو، کیا یہ بات قابل یقین ھے کہ وہ موجد اس کام کے لئے ایک ایسے دانا شخص کومعین نہ کرے جو اس کارخانے کے آلات کے تمام رازوں سے باخبر هو اور ان کے صحیح استعمال سے واقف هو ؟! بلکہ اس کارخانے کے انجینئیر کے انتخاب کا حق مزدوروں کو دے دے جو ان آلات سے نا آشنا اور ان دقتوں اور باریکیوں سے نا واقف ھیں ؟!وہ باریک بینی جس کا انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں جاری هونے والے الٰھی قوانین، سنن اور تعلیمات میں خیال رکھا گیا ھے جو کارخانہٴ دین خدا کے آلات واوزار ھیں، کہ جس کارخانے کی پیدا وار ، خزانہٴ وجود کا قیمتی ترین گوھر، یعنی انسانیت کو معرفت وعبادتِ پروردگار کے کمال تک پہچانا اور شہوت انسانی کو عفت، غضب کو شجاعت اور فکر کو حکمت کے ذریعے توازن دے کر، انصاف وعدالت پر مبنی معاشرے کا قیام ھے، کیامذکورہ موجد کے ایجادکردہ کار خانے میں جاری هونے والی باریکی اور دقت نظری سے کم ھے ؟!جس کتاب کی تعریف میں خداوند متعال نے فرمایا<وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ وَّھُدًی وَّرَحْمَةً>[1] اور<کِتَابٌ اٴَنْزَلْنٰہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلیَ النُّوْرِ>[2] اور<وَمَا اٴَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ اٴِلاَّ لِتُبَیِّنَ لَھُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُوْافِیْہِ >[3]اس کتاب کے لئے ایسے مبیّن کا هونا ضروری ھے جو اس کتاب میں موجود ھر اس چیز کا استخراج کر سکے جس کے لئے یہ کتا ب تبیان بن کر آئی ھے، ایک ایسا فردجو انسان کے فکری، اخلاقی اور عملی ظلمات پر احاطہ رکھتے هوئے، عالم نور کی جانب انسان کی رھنمائی کر سکے، جو نوع انسان کے تمام تر اختلافات میں حق و باطل کو بیان کر سکتا هو، کہ جن اختلافات کی حدود مبداء ومعاد سے مربوط وجود کے عمیق ترین ایسے مسائل، جنہوں نے نابغہ ترین مفکرین کو اپنے حل میں الجھا رکھا ھے، سے لے کر مثال کے طور پر ایک بچے کے بارے میں دو عورتوں کے جھگڑے تک ھے جو اس بچے کی ماں هونے کی دعویدار ھیں۔کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ھے کہ عمومی ھدایت، انسانی تربیت، مشکلات کے حل اور اختلافات کے مٹانے کے لئے قرآن کی افادیت، پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے ساتھ ختم هو گئی هو؟!آیا خدا اور اس کے رسول (ص) نے اس قانون اور تعلیم وتربیت کے لئے کسی مفسر ومعلم اور مربی کا انتظام نھیں کیا؟! اور کیا اس مفسر ومعلم ومربی کو معین کرنے کا اختیار، قران کے علوم ومعارف سے بے بھرہ لوگوں کو دے دیا ھے؟!۲۔ انسان کی امامت ورھبری یعنی عقلِ انسان کی پیشوائی وامامت، کیونکہ امامت کی بحث کا موضوع "انسان کا امام ھے”اور انسان کی انسانیت اس کی عقل وفکر سے ھے ((دعامة الإنسان العقل))[4]خلقت انسانی کے نظام میں بدن کی قوتیں اور اعضاء، حواس کی رھنمائی کے محتاج ھیں، اعصاب ِحرکت کواعصا ب ِحس کی پیروی کی ضرورت ھے اور خطا ودرستگی میں حواس کی رھبری عقلِ انسانی کے ھاتھ ھے، جب کہ محدود ادراک اور خواھشاتِ نفسانی سے متاثر هونے کی وجہ سے خود عقلِ انسان کو ایسی عقلِ کامل کی رھبری کی ضرورت ھے جو بیماری وعلاج اور انسانی نقص وکمال کے عوامل پر مکمل احاطہ رکھتی هواور خطاو هویٰ سے محفوظ هو، تاکہ اس کی امامت میں انسانی عقل کی ھدایت تحقق پیدا کر سکے اور ایسی کامل عقل کی معرفت کا راستہ یھی ھے کہ خدا اس کی شناخت کروائے۔ اس لحاظ سے امامت کی حقیقت کا تصور، خدا کی جانب سے نصب امام کی تصدیق سے جدا نھیں۔۳۔ چونکہ امامت قوانین خدا کی حفاظت، تفسیر اور ان کا اجراء ھے، لہٰذا جس دلیل کے تحت قوانین الٰھی کے مبلغ کا معصوم هونا ضروری ھے اسی دلیل سے محافظ، مفسر اور قوانین الٰھی کے اجراء کنندہ کی عصمت بھی ضروری ھے اور جس طرح ھدایت، جو کہ غرض بعثت ھے، اس وقت باطل هوجاتی ھے جب مبلّغ میں خطا وہویٰ آجاتی ھے، اسی طرح مفسر ومجری قوانین الٰھی کا خطا کار هونا اور خواھشات کے زیر اثر آجانا،اضلال وگمراھی کا سبب ھے اور معصوم کی پہچان خداوندِ متعال کی رھنمائی کے بغیر ناممکن ھے۔ب۔ قضاوت قرآن :اختصار کی وجہ سے تین آیات کی طرف اشارہ کرتے ھیں:پھلی آیت :<وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اٴَئِمَّةً یَّھْدُوْنَ بِاٴَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَکَانُوْا بِآیَاتِنَا یُوْقِنُوْنَ>[5]ھر درخت کی شناخت اس کی اصل وفرع، جڑ اور پھل سے هوتی ھے۔شجر امامت کی اصل وفرع، قرآن مجید کی اس آیت میں بیان هوئی ھے۔صبر اور آیات خداوند کریم پر یقین، امامت کی اصل ھے اور یہ دو لفظ انسان کے بلند ترین مرتبہ کمال کو بیان کرتے ھیں کہ کمال عقلی کی بناء پر ضروری ھے کہ امام معرفت الٰھی اور آیات ربانی ۔ کہ جن آیات کوصیغہٴ جمع کے ساتھ ذات قدوس الٰھیہ کی جانب نسبت دی ھے۔کے لحاظ سے یقین کے مرتبہ پر اور ارادے کے اعتبار سے مقام صبر پر، جو نفس کو مکروھات خدا سے دور اور اس کے پسندیدہ اعمال پر پابند کردینے کا نام ھے، فائز هو اور یہ دو جملے امام کے علم اور اس کی عصمت کے بیان گر ھیں۔فرعِ امامت، امرِ خدا کے ذریعے ھدایت کرنا ھے اور امرِ الٰھی کے ذریعے ھدایت سے عالَم خلق اور عالَم امر کے مابین وساطتِ امام ثابت هوتی ھے اورخود یھی فرع جو اس اصل کا ظہور ھے، امام کے علم وعصمت کی آئینہ دار ھے۔وہ شجرہ طیبہ جس کی اصل وفرع یہ هوں، اس کی پرورش قدرت خدا کے بغیر ناممکن ھے، اسی لئے فرمایا: <وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اٴَئِمَّةً یَّھْدُوْنَ بِاٴَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَکَانُوْا بِآیَاتِنَا یُوْقِنُوْنَ>دوسری آیت :<وَإِذِ ابْتَلٰی إِبْرَاھِیْمَ رَبُّہ بِکَلِمَاتٍ فَاٴَتَمَّھُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمِیْنَ >[6]امامت وہ بلند مقام ومنصب ھے جو حضرت ابراھیم (ع) کو کٹھن آزمائشوں، مثال کے طور پر خدا کی راہ میں بیوی اور بچے کو بے آب و گیاہ بیابا ن میں تنھا چھوڑنے، حضرت اسماعیل کی قربانی اور آتش نمرود میں جلنے کے لئے تیار هونے، اور نبوت ورسالت وخلت جیسے عظیم مراتب طے کرنے کے بعد نصیب هوا اور خداوند متعال نے فرمایا <إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا>اس مقام کی عظمت نے آپ علیہ السلام کی توجہ کو اتنا زیادہ مبذول کیا کہ اپنی ذریت کے لئے بھی اس مقام کی درخواست کی تو خداوند متعال نے فرمایا <لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمِیْن> اس جملے میں امامت کو خداوند متعال کے عھد سے تعبیر کیا گیا ھے جس پر صاحب عصمت کے علاوہ کوئی دوسرا فائز نھیں هو سکتا اور اس میں بھی شک وتردید نھیں کہ حضرت ابراھیم(ع) نے اپنی پوری کی پوری نسل کے لئے امامت نھیں چاھی هو گی کیونکہ یہ بات ممکن ھی نھیں کہ خلیل اللہ نے عادل پرودرگار سے کسی غیر عادل کے لئے انسانیت کی امامت کو طلب کیا هو، لیکن چونکہ حضرت ابراھیم (ع) نے اپنی عادل ذریت کے لئے جو درخواست کی تھی،اس کی عمومیت کا دائرہ ذریت کے اس فرد کو بھی شامل کررھا تھا جس سے گذشتہ زمانے میں ظلم سرزد هوچکا هو۔لہٰذا خدا کی جانب سے دئے گئے جواب کا مقصد یہ تھا کہ ایسے عادل کے حق میں آپ کی یہ دعا مستجاب نھیں جن سے پھلے گناہ سرزد هو چکے ھیں بلکہ حکم عقل وشرع کے مطابق امامت مطلقہ کے لئے عصمت وطھارت مطلقہ شرط ھیں۔تیسری آیت :<یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اٴَطِیْعُو اللّٰہَ وَاٴَطِیْعُوا لرَّسُوْلَ وَاٴُوْلِی اْلاٴَمْرِ مِنْکُمْ>[7]اس آیت کریمہ میں اولی الامر کو رسول پر عطف لیا گیا ھے اور دونوں میں ایک <اطیعوا>پر اکتفا کرنے سے یہ بات ظاھر هوتی ھے کہ اطاعت اولی الامر اور اطاعت رسول (ص)کے وجوب کی سنخ وحقیقت ایک ھی ھے اور اطاعت رسول (ص)کی طرح، جو وجوب میں بغیر کسی قید وشر ط اور واجب میں بغیر کسی حد کے، لازم وضروری ھے اور اس طرح کا وجوب ولی ّ امر کی عصمت کے بغیر نا ممکن ھے، کیونکہ کسی کی بھی اطاعت اس بات سے مقید ھے کہ اس کا حکم، اللہ تعالی کے حکم کا مخالف نہ هو اور عصمت کی وجہ سے معصوم کا فرمان، خد اکے فرمان کے مخالف نھیں هو سکتا، لہٰذا اس کی اطاعت بھی تمام قیود وشرائط سے آزاد ھے۔اس اعتراف کے بعد کہ امامت، در حقیقت دین کے قیام اور مرکزِ ملت کی حفاظت کے لئے، رسول (ص)کی ایسی جا نشینی کا نام ھے کہ جس کی اطاعت وپیروی پوری امت پر واجب ھے[8] اور <إِنَّ اللّٰہَ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ >[9] <یَاٴْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ>[10] کے مطابق اگر ولی امر معصوم نہ هو تو اس کی اطاعت ِمطلقہ کا لازمہ یہ ھے کہ خدا ظلم ومنکر کا امر کرے اور عدل ومعروف سے نھی کرے۔اس کے علاوہ، ولی امر کے غیر معصوم هونے کی صورت میں عین ممکن ھے کہ اس کا حکم خدا اور رسول کے فرمان سے ٹکرائے اور اس صورت میں اطاعتِ خدا و رسول (ص)اور اطاعت ولی امر کا حکم، اجتماع ضدین اور ایک امر ِمحال هو گا۔لہٰذا، نتیجہ یہ هوا کہ کسی قید وشرط کے بغیر اولی الامر کی اطاعت کا حکم، اس بات کی دلیل ھے کہ ان کا حکم خدا اور رسول کے فرمان کے مخالف نھیں ھے اور خود اسی سے عصمت ولی امر بھی ثابت هو جاتی ھے۔اور یہ کہ معصوم کا تعین عالم السر و الخفیات کے علاوہ کسی اور کے لئے ممکن نھیں ھے۔ج۔قضاوت سنت:(اھل سنت کے سلسلوں سے مروی روایات کے ذریعے امامت امیر الموٴمنین (علیہ السلام) پر استدلال کا مقصد اتمام حجت اور جدال احسن ھے۔ ورنہ متواتر احادیث کی روشنی میں یہ بات ثابت هونے کے بعد کہ قرآن و سنت میں بیان کردہ امامت کی شرائط، آپ کے نفس قدسی میں موجود ھیں، مذکورہ بالا طریقہٴ استدلال کی قطعاً ضرورت نھیں۔اھل سنت سے منقول روایات پر "صحیح” کا اطلاق انھی کے معیار و میزان کے مطابق کیا گیا ھے، اور شیعہ سلسلوں سے منقول روایات پر صحیح کا اطلاق اھل تشیع کے مطابق روایت کے معتبر هونے کی بناء پر ھے۔ اب خواہ یہ روایات اصطلاحاً صحیح هوں یا موثق، اور اس کا انحصار شیعہ علم رجال کے معیار و میزان پر ھے۔)سنت رسول کی پیروی، ادراکِ عقل کے تقاضے اور حکم کتاب خدا کے مطابق ھے کہ معصوم کی پیروی کرنا ضروری ھے <وَمَا اٴَتَاکُمُ الرَّسُوَلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا>[11]اور ھم سنت میں سے فقط ایسی حدیثیں بیان کریں گے جس کا صحیح هونا مسلّم اور فرمان خدا کے مطابق ان کا قبول کرنا واجب ھے۔ اس حدیث کو فریقین نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ھے اور آنحضرت (ص) سے صادر هونے کی تصدیق بھی کی ھے۔ اگر چہ اس حدیث کو متعدد سلسلہ ھائے اسناد کے ساتھ نقل کیا گیا ھے، لیکن ھم اسی ایک پر اکتفا کرتے ھیں جس کا سلسلہ سند زیادہ معتبر ھے۔ اور وہ روایت زید بن ارقم سے منقول ھے:((قال:لما رجع رسول اللّٰہ (ص) من حجة الوداع ونزل غدیر خم اٴمر بدوحات فقممن، فقال:کاٴنی قد دعیت فاٴجبت، إنی قد ترکت فیکم الثقلین اٴحدھما اٴکبر من الآخر کتاب اللّٰہ و عترتی فانظروا کیف تخلفونی فیھما، فإنھما لن یتفرقا حتی یردا علیّ الحوض، ثم قال: إن اللّٰہ عزّ و جلّ مولای و اٴنا مولی کل موٴمن، ثم اٴخذ بید علی رضی اللّٰہ عنہ فقال: من کنت مولاہ فہذا ولیہ، اللّھم وال من والاہ و عاد من عاداہ، وذکر الحدیث بطولہ ))[12] امت کی امامت آنخضرت (ص) کی نگاہ میں اتنی زیادہ اھمیت کی حامل تھی کہ آپ (ص) نے نہ صرف حجة الوداع سے لوٹتے وقت بلکہ مختلف مواقع پر، حتی زندگی کے آخری لمحات میں موت کے بستر پر، جب اصحاب بھی آپ کے کمرے میں موجود تھے، کتاب وعترت کے بارے میں وصیت فرمائی، کبھی ((انی قد ترکت فیکم الثقلین))[13] اور کبھی ((انی تارک فیکم خلیفتین))،[14] بعض اوقات ((انی تارک فیکم الثقلین))[15] کے عنوان سے اور کسی وقت ((لن یفترقا))[16] اور کبھی((لن یتفرقا))[17] کی عبارت کے اضافے کے ساتھ اور بعض مناسبتوں پر ((لا تقدموھما فتھلکوا ولا تعلموھما فإنھما اٴعلم منکم ))[18] اور کبھی اس طرح گویا هوئے ((إنی تارک فیکم اٴمرین لن تضلوا إن اتبعتموھما))[19]اگرچہ کلام رسول خدا (ص) میں موجود تمام نکات کو بیان کرنا تو میسر نھیں، لیکن چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ھیں :۱۔جملہ ((انی قد ترکت))اس بات کو بیان کرتاھے کہ امت کے لئے آنحضرت (ص) کی طرف سے قرآن وعترت بطور ترکہ ومیراث ھیں، کیونکہ پیغمبر اسلام (ص) کو امت کی نسبت باپ کا درجہ حاصل ھے، اس لئے کہ انسان جسم وجان کا مجموعہ ھے اور روح کو جسم سے وھی نسبت ھے جو معنی کو لفظ او ر مغز کو چھلکے سے ھے۔ اعضاء اور جسمانی قوتیں انسان کو اپنے جسمانی باپ سے ملی ھیں اور عقائد حقہ، اخلاق فاضلہ واعمال صالحہ کے ذریعے میسر هونے والے روحانی اعضاء وقوتیں، پیغمبر (ص)کے طفیل نصیب هوئی ھیں،جو انسان کے روحانی باپ ھیں۔روحانی سیرت وعقلانی صورت کے افاضے کا وسیلہ اور مادی صورت وجسمانی ھیئت کے افاضے کا واسطہ، آپس میں قابل قیاس نھیںھیں،جس طرح مغز کاچھلکے سے، معنی کا لفظ سے اور موتی کا سیپ سے کوئی مقابلہ نھیں۔ایسا باپ اپنے اس جملے ((کاٴنی قددعیت فاجبت ))سے اپنی رحلت کی خبر دینے کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کے لئے میراث وترکہ معین فرما رھا ھے کہ امت کے لئے میرے وجود کا حاصل اور باقی دو چیزیں ھیں ((کتاب اللّٰہ وعترتی )) قرآن امت کے ساتھ خدا، اور عترت امت کے ساتھ رسول (ص)کا رابطہ ھیں۔ قرآن سے قطع رابطہ خدا کے ساتھ قطع رابطہ او ر عترت سے قطع رابطہ پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ قطع رابطہ ھے اور پیغمبر خدا سے قطع رابطہ خود خدا سے قطع رابطہ ھے۔اضافہ کی خصوصیت یہ ھے کہ مضاف، مضاف الیہ سے کسب حیثیت کرتا ھے۔ اگرچہ قرآن کا خدا کی جانب اور عترت کا پیغمبر خاتم (ص)،جو کائنات کے شخص اول ھیں، کی طرف اضافہ، قرآن وعترت کے مقام و منزلت کو واضح وروشن کر رھا ھے لیکن مطلب کی اھمیت کو مد نظر رکھتے هوئے آنحضرت (ص) نے ان دو کو ثقلین سے تعبیر کیاھے جس سے پیغمبر اکر م (ص) کی اس میراث کی اھمیت اور سنگینی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ھے۔قرآن کے معنوی وزن کی سنگینی اور نفاست،ادراک عقول سے بالاتر ھے، اس لئے کہ قرآن مخلوق کے لئے خالق کی تجلی ھے اور عظمت قرآن کو درک کرنے کے لئے یہ چند آیات کافی ھیں<یٰسٓةوَالْقُرآنِ الْحَکِیْمِ>[20]<قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ>[21]، <إِنَّہ لَقُرْآنٌ کَرِیْمٌة فِی کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍةلاَ یَمَسُّہ إِلاَّالْمُطَہَّرُوْنَ >[22]<لَوْ اٴَنْزَلْنَا ھٰذَا القُرْآنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاٴَیَتَہ خَاشِعاً مُّتَصَدِِِّعاً مِِّنْ خَشْیَةِ اللّٰہِ وَ تِلْکَ اْلاٴَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ>[23]اور عترت وقرآن کو ایک ھی وصف سے توصیف کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ھے کہ کلام رسول اللہ (ص) کے مطابق عترت، قرآن کی ھم پلہ وشریک وحی ھے۔پیغمبر خاتم (ص)کے کلام میں، جو میزان حقیقت ھے، عترت کا ھمسرِ قرآن هونا ممکن نھیں مگر یہ کہ عترت <تِبْیَاناً لِِّکُلِّ شَیْءٍ>[24] میں شریک علم اور <لاَ یَاٴْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہ>[25] میں شریک عصمت قرآن هو۔۲۔جملہ ((فإنھما لن یتفرقا)) قرآن وعترت کے لازم وملزوم اور ایک دوسرے سے ھر گز جدا نہ هونے پر دلالت کرتا ھے۔ یعنی ان دونوں میں جدائی هو ھی نھیں سکتی، اس لئے کہ قرآن ایسی کتاب ھے جو تمام بنی نوع انسان کی مختلف ظرفیتوں اور قابلیتوں کے حساب سے نازل هوئی ھے جس میں عوام کے لئے عبارات، علماء کے لئے اشارات، اولیاء کے لئے لطیف نکات اور انبیاء کے لئے حقائق بیان هوئے ھیں اور بنی نوع انسان کے پست ترین افراد، جن کا کام فقط مادی ضرورتوں کو پورا کرنا ھے، سے لے کر بلند مرتبہ افراد، جن کے روحی اضطراب کو ذکر ِخد ا کے بغیر اطمینان حاصل نھیں هوتا اور جو ھمیشہ اسمائے حسنی،امثال علیا اور تحمل اسم اعظم کی تلاش میں ھیں، کو اس کی ھدایت سے بھرہ مند هونا ھے۔اور یہ کتا ب سورج کی مانند ھے کہ ٹھنڈک محسوس کرنے والا اس کی حرارت سے خود کو گرم کرتا ھے، کاشتکار اس کے ذریعے اپنی زراعت کی پرورش چاہتا ھے، ماھر طبیعیات اس کی شعاعوں کا تجزیہ اور معادن ونباتات کی پرورش میں اس کے آثار کی جستجو کرتاھے اور عالم ربانی دنیاومافیھا میں سورج کی تاثیر، طلوع وغروب اور قرب وبعد میں موجود سنن وقوانین کے ذریعے اپنے گمشدہ کوپاتاھے، جو سورج کا خالق ومدبر ھے۔ایسی کتاب کے لئے، جو تمام بنی نوع انسان کے لئے ھے اور دنیا وبرزخ وآخرت میں انسانیت کی تمام ضرورتوں کوپوراکرتی ھے، ایسے معلم کی ضرورت ھے جو ان تمام ضرورتوں کا علم رکھتا هو، کیونکہ طبیب کے بغیر طب، معلم کے بغیر علم اور مفسر کے بغیر زندگی ومعاد کو منظم کرنے والا الٰھی قانون ناقص ھیں اور نہ فقط یہ بات <اَلْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ>[26] کے ساتھ سازگار نھیں بلکہ قرآن کے نزول سے نقضِ غرض لازم آتی ھے اور <وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْءٍ>[27]کے ساتھ قابل جمع نھیں ھے۔ جب کہ حکیم وکامل علی الاطلاق سے قبیح ھے کہ دین کو ناقص بیان کرے اورمحال ھے کہ نقص غرض کرے،اسی لئے فرمایا((لن یتفرقا))۳۔ایک روایت کے مطابق فرمایا((یا اٴیھا الناس إنی تارک فیکم اٴمرین لن تضلوا إن اتبعتموھما)) اور جیسا کہ سابقہ مباحث میں اشارہ کیا جاچکا ھے کہ خلقت کے اعتبار سے انسان، جو موجودات جھان کا نچوڑ اور دینوی، برزخی، اخروی، ملکی وملکوتی موجود هونے کی وجہ سے عالم خلق وامر سے وابستہ ھے اور ایسی مخلوق ھے جو بقا کے لئے ھے نہ کہ فنا کے لئے، ایسے انسان کی ھدایت، سعادت ِابدی اوراس کی گمراھی شقاوت ِابدی کا باعث هو سکتی ھے اور یہ تعلیم وتربیت، وحی الٰھی کی ھدایت کے بغیر نا ممکن ھے،جو ظلمات کے مقابلے میں نور مقدس ھے <قَدْ جَائَکُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ>[28]اور قانون تناسب وسنخیت کے مطابق، معلمِ قرآن کا بھی خطا سے معصوم هونا ضروری ھے، کیونکہ انسان، با عصمت ھدایت اور معصوم ھادی کے ساتھ تمسک کے ذریعے ھی فکری، اخلاقی وعملی گمراھیوں سے محفوظ رہ سکتا ھے، لہٰذا آپ (ص) نے فرمایا ((لن تضلوا إن اتبعتموھما ))۔۴۔اور آپ (ص) کے اس جملے ((ولا تعلموھما فإنھما اٴعلم منکم ))کے بارے میں ایک انتھائی متعصب سنی عالم کا یہ قول ھی کافی ھے کہ ((وتمیزوا بذلک عن بقیة العلماء لاٴن اللّٰہ اٴذھب عنھم الرجس وطھرھم تطھیرا)) یھاں تک کہ کہتا ھے ((ثم اٴحق من یتمسک بہ منھم إمامھم و عالمھم علیّ بن اٴبی طالب کرّم اللّٰہ وجھہ لما قدمناہ من مزید علمہ ودقائق مستنبطاتہ ومن ثم قال اٴبوبکر: علیّ عترة رسول اللّٰہ اٴی الذین حث علی التمسک بھم، فخصہ لما قلنا، وکذلک خصہ بما مر یوم غدیر خم))[29]اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ھے کہ اس تصدیق کے باوجود کہ آیت تطھیر کی وجہ سے علی (ع) باقی تمام علماء سے افضل ھیں، کیونکہ اس آیت کے مطابق رجس سے بطورمطلق پاک ھیں، اور اس اقرار کے باوجود کہ پیغمبر اکرم (ص) علی(ع) کو باقی تمام امت سے اعلم شمار فرماتے تھے اور خدا بھی فرماتا ھے<قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اٴُوْلُو اْلاٴَلْبَابِ>[30]اور<اٴَفَمَنْ یَّھْدِیْ إِلَی الْحَقِّ اٴَحَقُّ اٴَنْ یُّتَّبَعَ اٴَمَّنْ لاَّ یَھِدِّیْ إِلاَّ اٴَنْ یُّھْدٰی فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ>[31] اور اس حدیث ((إنی تارک فیکم اٴمرین لن تضلوا إن اتبعتموھما وھما کتاب اللّٰہ و اٴھل بیتی عترتی)) کے صحیح هونے کے اعتراف کے ساتھ، ضلالت وگمراھی سے نجات پانے کے لئے پوری امت کو علی (ع) کی پیروی کا حکم دیا گیا ھے اور اس طرح علی (ع)کی متبوعیت وعموم امت کی تابعیت کے بارے میں بغیر کسی استثناء کے حجت قائم ھے <قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ>[32]۵۔قانون کو بیان کرنے کے بعد مصداق کو معین کرنے کی غرض سے حضرت علی (ع) کا ھاتھ پکڑ کر آپ کا تعارف کروایا کہ یہ وھی ثقل ھے جو قرآن سے ھر گز جدا نہ هوگا اور اس کی عصمت، ھدایت ِامت کی ضامن ھے اور جس طرح پیغمبر (ص) تمام مومنین کے مولاھےں اسی طرح علی (ع) کا مولاہونا بھی ثابت ھے <إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلاَةَ وَیُوٴْتُوْنَ الزَّکوٰةَ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ>[33]اگر چہ خلافت، امامت عامہ اور امامت خاصہ کا مسئلہ عقل،کتاب اور سنت کے حکم سے روشن هو چکا ھے اور امام کے لئے ضروری اوصاف، ائمہ معصومین علیھم السلام کے علاوہ کسی اور میں نھیں پائے جاتے، لیکن اتمام حجت کے پیش نظر، حدیث ثقلین کے علاوہ، حضرت سید الوصییّن امیر الموٴمنین (ع) کی شان میں چند اور احادیث کو پیش کیا جارھا ھے جن کا صحیح هونا محدثین کے نزدیک ثابت ومسلم ھے۔پھلی حدیثعن ابی ذر رضی اللّٰہ عنہ قال:قال رسول اللّٰہ (ص):((من اطاعنی فقد اطاع اللّٰہ ومن عصانی فقد عصی اللّٰہ ومن اطاع علیا فقد اطاعنی ومن عصی علیا فقد عصانی ))[34]اس حدیث میں، جس کے صحیح هونے کی اکابر اھل سنت تصدیق کرتے ھیںھے، بحکم فرمان رسول (ص)، جن کی عصمت گفتارکا تذکرہ خداوند متعال نے قرآن میں کیا ھے اور اس بات پر عقلی دلیلبھی قائم هوچکی ھے، علی (ع) کی اطاعت وعصیان دراصل اطاعت وعصیان پیغمبر (ص) ھے اور اطاعت وعصیان پیغمبر (ص) دراصل خدا کی اطاعت وعصیان قرار پاتی ھے۔اس توجہ کے ساتھ کہ اطاعت و عصیان کا تعلق امر ونھی سے ھے اور امر ونھی کی وجہ ارادہ وکراہت ھے،لہٰذا علی (ع) کی اطاعت وعصیان کا خدا کی اطاعت وعصیان قرار پانا اسی وقت ممکن ھے جب علی (ع) کا ارادہ و کراہت، خدا کے ارادے وکراہت کا مظھرہو۔اور جس کا ارادہ وکراہت، خدا کے ارادے وکراہت کا مظھر هو اس کے لئے مقام عصمت کا هونا ضروری ھے، تاکہ اس کی رضا وغضب، باری تعالی کی رضا وغضب هو اور کلمہ ((مَنْ ))کی عمومیت کا تقاضا یہ ھے کہ جو بھی خدا وپیغمبر (ص) کی اطاعت کے دائرے میں ھے علی (ع) کے فرمان کے آگے سر تسلیم خم کردے، اور اگر ایسا نہ کرے تو اس نے خدا و رسول کی نافرمانی کی ھے: <وَمَنْ یَعْصِ اللهَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِینًا>[35] <وَمَنْ یَعْصِ اللهَ وَرَسُولَہُ فَإِنَّ لَہُ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدِینَ فِیہَا اٴَبَدًا>[36]اور جس نے حضرت علی علیہ السلام کی اطاعت کی اس نے خدا اور اس کے ر سول کی اطاعت کی ھے: < وَمَنْ یُطِعِ اللهَ وَرَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْاٴَنْہَارُ>[37] <وَمَنْ یُطِعِ اللهَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا>[38] <وَمَنْ یُطِعِ اللهَ وَالرَّسُولَ فَاٴُوْلَئِکَ مَعَ الَّذِینَ اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیْہِمْ>[39]دوسری حدیث((إن رسول اللّٰہ (ص) خرج إلی تبوک واستخلف علیا فقال اٴتخلفنی فی الصبیان والنساء، قال: اٴلاترضی اٴن تکون منی بمنزلة ھارون من موسی إلا اٴنہ لیس نبی بعدی))[40]یہ روایت، اھل سنت کی معتبر کتب صحاح اور مسانید میں ذکر هوئی ھے۔ اکابراھل سنت نے اس حدیث کے صحیح هونے پر اتفاق کو بھی نقل کیا ھے۔ ان کی گفتار کا نمونہ یہ ھے ((ھذا حدیث متفق علی صحتہ رواہ الائمة الحفاظ، کاٴبی عبد اللّٰہ البخاری فی صحیحہ، ومسلم ابن الحجاج فی صحیحہ، واٴبی داود فی سننہ، واٴبی عیسی الترمذی فی جامعہ، و اٴبی عبد الرحمان النسائی فی سننہ، وابن ماجة القزوینی فی سننہ، واتفق الجمیع علی صحتہ حتی صار ذلک اجماعا منھم، قال الحاکم النیسابوری ھذا حدیث دخل فی حدّ التواتر))[41]اس روایت میں منزلت کے عمومی بیان کا تقاضا یہ ھے کہ حضرت موسی (ع) کی نسبت جناب ھارون (ع) کو جو مقام حاصل تھا پیغمبر (ص) کی نسبت حضرت علی (ع) کے لئے بھی وہ مقام ثابت ھے اور استثناء مقام نبوت اس عموم کی تاکید ھے۔قرآن مجید میں حضرت ھارون (ع) کی نسبت، حضرت موسیٰ (ع) سے اس طرح بیان فرمائی گئی ھے <وَاجْعَلْ لِیْ وَزِیْرًا مِّنْ اٴَھْلِیْةھَارُوْنَ اٴَخِیْةاشْدُدْ بِہ اٴَزْرِیْةوَاٴَشْرِکْہُ فِیْ اٴَمْرِیْ>،[42] <وَقَالَ مُوْسٰی لِاٴَخِیْہِ ھَارُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اٴَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ>[43]اور یہ مقام ومنزلت پانچ امور کا خلاصہ ھے:۱۔وزارت : وزیر وہ ھے جو بادشاہ کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر لیتا ھے اور ان امور کو انجام دیتا ھے، اور حضرت علی(ع) کے لئے یہ مقام نہ فقط اس حدیث منزلت، بلکہ اھل سنت کی دیگر معتبر کتب ِحدیث وتفاسیر میں بھی ذکر هوا ھے۔ [44]۲۔اخوت وبرادری :چونکہ حضرت موسی اور ھارون علیھما السلام کے درمیان نسب کے اعتبار سے برادری تھی، رسول خدا(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ اس منزلت کو عقد اخوت کے ذریعے قائم فرمایا، کہ اس بارے میں شیعہ اور سنی روایات کثرت سے موجود ھیں، جن میں سے ایک روایت کا پیش کردینا کافی ھے : عبداللہ بن عمرکاکھنا ھے: مدینہ میں داخل هونے کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے اصحاب کے درمیان اخوت وبرادری کا رشتہ برقرار کیا۔ حضرت علی(ع) آبدیدہ هو کر آپ (ص) کی خدمت میں حاضر هو کر گویا هوئے: یارسول اللہ!آپ نے تمام اصحاب کو اخوت اور برادری کے رشتے میں پرو دیا لیکن مجھے کسی کا بھائی قرار نھیں دیا، آپ (ص) نے فرمایا((یا علی اٴنت اٴخی فی الدنیا و الآخرة))[45]یہ اخوت اس امر کی نشاندھی کرتی ھے کہ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَة۔[46] کے نزول کے وقت حضرت علی علیہ السلام کی منزلت ھر مومن سے اعلی و ارفع تھی۔ کیونکہ فریقین کے منابع و مآخذ کے مطابق آنحضرت نے اصحاب کے مقام و منزلت کے مطابق انھیں ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا تھا۔
جیسے کہ ابوبکر و عمر، عثمان و عبدالرحمن اور ابوعبیدہ و سعد بن معاذ و غیرہ کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا تھا۔[47] جبکہ حضرت علی علیہ السلام کو اپنی اخوت کے لئے چنا تھا۔ لہٰذا حضرت علی علیہ السلام بنی آدم کے درمیان سب سے افضل و اشرف کیوں نہ هوں؟ جبکہ رسول اکرم (ص) نے دنیا و آخرت میں آپ کے ساتھ اپنی اخوت کا صراحتاً اعلان بھی فرما دیا هو۔ یہ اخوت اس امر کو واضح کردیتی ھے کہ حضرت علی اور کائنات کی افضل ترین مخلوق یعنی رسول اکرم (ص) کے درمیان روحی، علمی، عملی اور اخلاقی مشابہت و مساوات وجود میں آچکی تھی <وَلِکُلٍّ دَرَجَاتُ مِمَّا عَمِلُوْا>[48]
جبکہ دنیا و آخرت کے مراتب انسان کی سعی و کوشش اور کسب و اکتساب ھی کے مرھون منت ھیں:<وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَومِ الْقِیَامَةِ فَلاَ تَظْلَمُ نَفْسُ شَیْئاً >[49]
یقینا خداوند متعال علی بن ابی طالب علیہ السلام کے اس حق جھاد کو بہتر جانتا ھے جو آپ علیہ السلام نے خداوند متعال کے لئے انجام دیا۔ یھاں تک کہ آپ علیہ السلام اس دنیا میں اس ھستی کے ھم مرتبہ هوگئے کہ جس کے لئے خداوند تعالیٰ نے یہ فرمایا: <وَ عَسٰی اَنْ یَبْعَثَکَ رَبّکَ مَقَاماً مَحْمُوداً>[50]
اس مقام و منزلت کو بجز آنحضرت کے الفاظ کے علاوہ کسی اور الفاظ میں بیان نھیں کیا جاسکتا کہ جن میںآپ (ص)نے فرمایا: (انت اخی فی الدنیا والآخرة) اور حضرت امیر علیہ السلام، عبودیت الٰھی کے بعد اسی اخوت کے مرتبے پر افتخار کیا کرتے تھے، جیسا کہ خود آپ نے فرمایا:”انا عبد اللہ واخي رسولہ”[51]میں خدا کا بندہ اور رسول خدا (ص) کا بھائی هوں۔ اور بروز شوری آپ(ع)نے فرمایا: کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا شخص ھے جسے رسول خدا (ص) نے اپنا بھائی قرار دیا هوں۔[52]
پشت پناھی
بعض دیگر مروی احادیث کے مطابق رسول اکرم(ص) نے اپنی پشت کو حضرت علی(ع) کے ذریعے مضبوط و مستحکم قرار دینے کی خدا سے درخواست کی۔ خداوند متعال نے بھی نیز حضور کی دعا کو مستجاب فرمایا۔[53]
بلا شبہ خداوند متعال کی جانب سے عائد کردہ فرائض میں سے ختم نبوت کا فریضہ سب سے زیادہ کٹھن اور پر خطر ھے، خاتم المرسلین کے علاوہ، جو خود بھی پشت و پناہِ انبیاء ھیں، کوئی اور اس خطیر و سنگین ذمہ داری کا بوجھ نھیں اٹھا سکتا۔
لہٰذا خداوند متعال کی جانب سے اس سنگین ذمہ داری کو صبر و تحمل سے سنبھالنے کے بعد آپ(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے ذریعے اپنی پشت و بازو اور طاقت و قوت کو مستحکم و مضبوط بنانے کی خداوند تعالی سے دعا کی۔ خدا نے حضرت موسی کی دعا کی مانند آپ کی دعا کو بھی مستجاب فرمایا۔ <سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکَ> [54]
رسول خدا(ص) کی یہ دعا اور خدا کی جانب سے استجابت اس امر کا ثبوت ھے کہ امر رسالت کا پایہٴ تکمیل تک پھنچا صرف اس علی بن ابی طالب کے دست و زبان کے ذریعے ھی ممکن ھے کہ جس کا ھاتھ قدرت الٰھی کے ذریعے ھر شئے پر غالب اور جس کی زبان حکمت خداوندی کے سبب ناطق ھے۔
کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ھے کہ رسول اکرم(ص)کے بعد اس ھستی کے علاوہ کوئی اور اس امت کا حامی و مددگار قرار پائے کہ جو خود رسول اکرم(ص) کا بھی حامی و مددگار تھا۔
نیز کیا یہ ممکن ھے کہ رسول اکرم(ص) کے یارو مددگار کے علاوہ امت کسی اور کو اپنا یارو مددگار قرار دے سکے؟
اصلاح امر:
<وَقَالَ مُوسیٰ لِاَخِیْہِ ھَارُوْنَ اٴخْلُفْنِي فِی قَومِی وَاَصْلِحْ>[55]
 
 
جس طرح سے جناب ھارون، حضرت موسیٰ کی قوم کے مصلح اور اصلاح امت کے سلسلے میں حضرت موسیٰ کے جانشین تھے، اسی طرح سے اس امت میں یہ مقام و منزلت حضرت امیر علیہ السلام سے مخصوص ھے۔ اور بغیر کسی قید و شرط کے ھر قسم کی اصلاح کرنا اسی شخص کی شان هوسکتی ھے جو خود "ھر قسم” کی صلاح و کمال سے متصف هو۔ لہٰذا کسی بھی قسم کی صلاح کے کسی بھی مرتبے و درجے پر فائز شخص مذکورہ بالا منزلت پر فائز نھیں هوسکتا۔ وھی صلاح جو قرآن مجید میں حضرت یحیی < وَسَیِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِیًّا مِنْ الصَّلِحِینَ>[56]
اور حضرت عیسی کے لئے <وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ وَکَہْلًا وَمِنْ الصَّلِحِینَ >[57] بیان کی گئی ھے۔شرکت در امر:
جس طرح سے حضرت ھارون، حضرت موسی کے شریک تھے، مذکورہ حدیث کے مطابق سوائے نبوت کے یھی مقام و منزلت حضرت علی علیہ السلام کے لئے بھی ثابت ھے۔
پیامبر اکرم(ص) کے مناصب میں سے ایک منصب اس کتاب کی تعلیم ھے جس میں تمام چیزیں بیان کردی گئی ھیں۔ نیز اس حکمت کی تعلیم بھی آپ(ص)ھی کی ذمہ داری ھے جس کے بارے میں خداوند متعال ارشاد فرماتا ھے۔ <یُؤْتِی الْحِکْمَةَ مَنْ یَشَاءُ وَمَنْ یُؤْتَ الْحِکْمَةَ فَقَدْ اٴُوتِیَ خَیْرًا کَثِیرًا>[58]
<وَاٴَنزَلَ اللهُ عَلَیْکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَیْکَ عَظِیمًا> [59]
بلا شبہ خداوند متعال کی جانب سے حضور اکرم(ص) پر نازل کردہ کتاب و حکمت کے علوم صرف سابقہ انبیاء و مرسلین پر نازل کردہ علوم کے ھی حامل نھیں بلکہ مزید علوم کے بھی حامل ھیں اور یہ از دیاد و اضافہ آنحضرت(ص)کی نبوت عامہ رسالت خاتمیت نیز تمام انبیاء اور دیگر تمام مخلوقات الٰھی پر آپ کی برتری و بزرگی کے سبب ھے۔
اس کے علاوہ لوگوں کے درمیان اختلاف کی صورت میں ان کے درمیان حکم صادر کرنا بھی آنحضرت کے فرائض رسالت میں سے ھے۔<لِیُبَیِّنَ لَہُمْ الَّذِی یَخْتَلِفُونَ فِیہِ >[60]
< إِنَّا اٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَا اٴَرَاکَ اللهُ >[61]
مزید برآں حضرت ختمی مرتبت کی شان رسالت میں مومنین پر خود ان سے زیادہ باختیار اور اولی هونا بھی شامل ھے۔ بنا برایں حضرت علی علیہ السلام اس ھستی کے شریک کار ھیں جس کے ھاتھ نظام تکوین و تشریع کی ولایت ھے۔خلافت:
جس طرح سے جانب ھارون، حضرت موسی کے خلیفہ تھے، مذکورہ، حدیث کے ذریعے جناب امیر علیہ السلام کی خلافت بلا فصل بھی ثابت هوجاتی ھے۔
خلیفہ اور جانشین اس شخص کا وجود تنزیلی اور قائم مقام ھے جس کے مقام پر وہ خلیفہ مسند نشیں هوا ھے، اس کی غیبت اور عدم موجودگی کے ذریعے پیدا هونے والے خلاء کو خلیفہ ھی پر کرتاتھا۔
جناب خاتم الانبیاء کا جانشین کسی بھی نبی کے جانشین، بلکہ تمام کے تمام انبیاء کی بیک وقت جانشینی کے ساتھ بھی قابل مقایسہ و موازنہ نھیں۔ کیونکہ ختمی مرتبت کا جانشین اس ھستی کا جانشین ھے کہ آدم سے عیسیٰ بن مریم (ع)تک تمام انبیاء اس کے لواء و علم تلے ھیں۔ عرش کے سائے سے کس طرح اس شئے کا موازنہ کیا جاسکتا ھے جو عرش کے سائے سے بھی ادنی هو۔
جی ھاں جناب ھارون، حضرت موسی کے خلیفہ ھیں، اس کے جانشین ھیں کہ جس کی منزلت کے بارے میں خداوند متعال نے یوں فرمایا ھے: <وَنَادَیْنَاہُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الْاٴَیْمَنِ وَقَرَّبْنَاہُ نَجِیًّا>[62]
لیکن علی بن ابی طالب، خاتم النبیین کا خلیفہ ھے۔ اس کا جانشین ھے کہ جس کی منزلت کو خدا نے قرآن میں یوں بیان فرمایا ھے <ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اٴَوْ اٴَدْنَی >[63]
ابان احمر سے روایت صحیحہ میں منقول ھے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اے ابان! لوگ کس طرح سے امیر المومنین کی اس بات کا انکار کرتے ھیں کہ آپ(ع)نے فرمایا: اگر میں چاھوں تو اپنے پیر کو دراز کرکے شام میں پسر ابوسفیان کے سینے پردے ماروں اور اسے اس کے تخت سے نیچے لاکھینچوں لیکن اس بات کا انکار نھیں کرتے کہ آصف، وصیٴ سلیمان، سلیمان کے دربار میں سلیمان کی پلک جھپکنے سے قبل تخت بلقیس کو لانے کی طاقت رکھتاتھا!کیا ھمارے پیغمبر افضل الانبیاء اور ان کا وصی افضل الاوصیاء نھیں ھیں؟
کیا خاتم النبیین کے وصی کوسلیمان کے وصی کی مانند بھی نھیں سمجھتے؟!
ھمارے اور ھمارے حق کے منکروں اور ھماری فضیلت کے جھٹلانے والوں کے درمیان اب خدا ھی فیصلہ کرے”[64]۔
بنا برایں رسول اکرم(ص) کی وزارت، آپ کی پشت کی مضبوطی، آپ کے امر میں شرکت، آپ سے اخوت و برادری، امر امت کی اصلاح اور آپ کی خلافت ھرگز اس شخص سے قابل مقایسہ هوھی نھیں سکتی کہ جس نے رسول اکرم(ص) کے علاوہ کسی اور سے ان فضیلتوں کو پایا هو۔
جو شخص بھی حدیث منزلت میں عمیق غور کرے نیز کتاب میں تدبر اور سنت میں تفقہ کا حامل هو تو وہ یقینا اسی نتیجے پر پھنچے گا کہ آنحضرت(ص)کے ھاتھوں آنحضرت(ص)کی زندگی ھی میں جانشین رسول قرار پانے والی ھستی اور آنحضرت(ص)کے درمیان فصل و جدائی، خلافِ حکم عقل اور قرآن و سنت سے متضاد ھے۔
بکیر بن مسمار سے منقول روایت میں کہ جس کی صحتِ سند کے خود اھل سنت بھی متعرف ھیں، بکیر نے کھاھے: میں نے عامر بن سعد سے سنا کہ معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے پوچھا: ابوطالب کے بیٹے پر سب و شتم کرنے سے تجھے کیا چیز روکتی ھے؟
جواب دیا: جب بھی مجھے وہ تین چیزیں یاد آتی ھیں جو رسول اکرم(ص) نے علی کے بارے میں کھیں تو میں علی پر سب و شتم نھیں کرپاتا اور ان میں سے ھر شئے ایسی ھے جو میرے لئے "حمر نعم” (ھر قیمتی شئے) سے بھی زیادہ محبوب و پسندیدہ ھے۔
معاویہ نے پوچھا: اے ابو اسحاق! وہ تین چیزیں کونسی ھیں؟
ابو اسحاق نے کھا: میں علی پر سب و شتم نھیں کرسکتا کہ جب مجھے یاد آتا ھے کہ رسول خدا(ص) پر وحی نازل هوئی جس کے بعد آپ نے علی ان کے دونوں فرزندوں اور فاطمہ کا ھاتھ تھام کر اپنی عبا کے نیچے جمع کیا اور پھر فرمایا: بار الٰھا! یھی ھیں میرے اھل بیت (علیھم السلام)۔
اور میں سب و شتم نھیں کرونگا کہ جب مجھے یہ یاد آتا ھے کہ آنحضرت نے علی کو غزوہ تبوک کے موقع پر (مدینے میں ھی) باقی رکھا، جس پر علی نے عرض کی: کیا مجھے بچوں اور عورتوں کے ساتھ چھوڑ کر جارھے ھیں؟ آپ(ص)نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نھیں هو کہ تمھیں مجھ سے وھی نسبت ھے جو ھارون کو موسی سے تھی فرق صرف یہ ھے کہ میرے بعد کوئی نبی نھیں آئے گا۔
اور میں علی پر سب و شتم نھیں کرسکتا کہ جب مجھے روز خیبر یاد آتا ھے کہ جب رسول خدا(ص) نے فرمایا: یقینا اس پرچم کو میں اسے دونگا جو خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ھے اور خدا اسی کے ھاتھوں فتح نصیب کرے گا لہٰذا ھم سب اسی سوچ میں تھے کہ دیکھیں رسول اکرم(ص) کی نگاہ انتخاب کس پر ھے؟ کہ آنحضرت نے فرمایا: علی کھاں ھے؟ لوگوں نے جواب دیا: ان کی آنکھوں میں تکلیف ھے۔ فرمایا علی کو بلاوٴ، علی کو بلایا گیا، آنحضرت(ص)نے اپنے لعاب دھن کو علی کے چھرے پر ملا اور اپنا علم سونپا، خداوند متعال نے علی کے ھاتھوں ھی مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔
راوی کہتا ھے: خدا کی قسم جب تک سعد بن ابی وقاص مدینے میں رھے معاویہ نے ان سے کچھ نہ کھا۔ [65]
حاکم نیشا پوری کا کھنا ھے: حدیث موٴاخاة اور حدیث رایت (علم) پر بخاری و مسلم دونوں متفق ھیں۔[66]
بخاری نے سھل بن سعد سے نقل کیا ھے کہ: رسول اکرم(ص) نے بروز خیبر فرمایا: یقینا کل میں یہ علم اسے دونگا کہ جس کے ھاتھوں خدا فتح و کامرانی نصیب کرے گا وہ خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ھے نیز خدا اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ھیں۔
لہٰذا تمام لوگوں نے وہ رات اضطراب و پریشانی کے عالم میں بسر کی کہ دیکھیںرسول خدا یہ علم کس کو عطا کرتے ھیں۔
جب صبح هوئی تو ھم لوگ علم پانے کی امید لے کر رسول خدا کی خدمت میں حاضر هوئے۔
آنحضرت نے فرمایا: علی بن ابی طالب کھاں ھیں؟ جواب دیا گیا: آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ھیں فرمایا: علی کو لاوٴ۔
علی آئے اور آنحضرت نے اپنا لعاب دھن ان کی آنکھوں پر ملا اور دعا فرمائی، درد اس طرح سے دور هوا گویا علی کی آنکھوں میں کوئی تکلیف ھی نہ تھی۔
پھر انھیں علم دیا۔ علی نے عرض کی: یا رسول اللہ! ان لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک کہ یہ لوگ ھماری طرح نہ هوجائیں (ایمان لے آئیں)۔ جس کے بعد آنحضرت نے فرمایا: نرمی اور ثبات کے ساتھ بنا کسی عجلت کے میدان جنگ میں داخل هونا، یھاں تک کہ ان کے لشکر کے مد مقابل پھنچ جاوٴ، اس کے بعد انھیں اسلام کی دعوت دے کر ان پر واجب حق اللہ کی انھیں خبر دینا۔ پس خدا کی قسم! یقینا اگر خدا تمھارے ھاتھوں ایک انسان کی بھی ھدایت کردے تو یہ تمھارے لئے حمر نعم اور ھر قیمتی شئے سے زیادہ بہتر ھے۔[67]
یہ بات مخفی نھیں کہ آنحضرت کا یہ فرمانا: علم اسے دونگا جو خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ھے اور خدا اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ھیں۔ اس راز سے پردہ اٹھاتا ھے کہ اصحاب رسول میں سوائے حضرت علی (ع)کے کوئی بھی شخص مذکورہ بالا صفت سے متصف نہ تھا، ورنہ رسول اکرم(ص)کی جانب سے صرف علی سے اس صفت کو مختص کرنا بغیر ترجیح و سبب کے هوگا اور بارگاہ قدسی رسول اکرم(ص) عقلی و شرعی باطل امور سے مبرّا و منزہ ھے۔
علم کا عطاء کرنا اور علی کے ھاتھوں فتح، حدیث منزلت ھی کی تفسیر ھے اس کے معنی یھی ھیں کہ علی ھی وہ ھستی ھے کہ جس کے ذریعے خداوند تعالی نے اپنے پیغمبر کی پشت کو مستحکم فرمایا اور اپنے نبی کے دست و بازو کی مدد عطا فرمائی۔
مزید برآں، آنحضرت(ص)کا یہ فرمانا کہ خداوند تعالی علی کے ھاتھوں کا فتح عطافرمائے گا، اس امر کا بیانگر ھے کہ فعل الٰھی علی کے ھاتھوں اسی طرح جاری هوتا ھے جس طرح پیامبر کے ھاتھوں جاری هوا جس کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا: وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی[68]
اور خود جناب امیر سے بھی یہ نقل هوا ھے کہ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے در خیبر کو جسمانی طاقت سے نھیں اکھاڑا تھا[69]۔ جی ھاں، جس کے ھاتھوں خداوند متعال در خیبر کو فتح کروائے وھی یداللہ ھے، کیا خدا کی افضل ترین مخلوق کے دست و بازو بجز یداللہ کے کسی اور وسیلے سے مستحکم هوسکتے ھیں:
إِنَّ فِی ذَلِکَ لَذِکْرَی لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ اٴَوْ اٴَلْقَی السَّمْعَ وَهو شَہِیدٌ [70]تیسری حدیث
اس حدیث کو حاکم نیشابوری نے مستدرک[71] اور ذھبی نے تلخیص [72]میں بریدہ اسلمی سے نقل کیا ھے کہ اس نے کھا:”میںایک غزوہ میں علی(ع) کے ساتھ یمن گیا اور آپ(ع) کا ایک عمل مجھ پرناگوار گذرا۔ رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر هو کرمیں نے علی(ع) پر نکتہ چینی شروع کی۔ میں نے دیکھا رسول خدا(ص) کے چھرے کا رنگ متغیر هوگیااور آپ(ص) نے فرمایا: اے بریدہ! آیا میں مومنین کی نسبت ان پر خود ان سے زیادہ اختیار نھیں رکھتا ؟ میں نے کھا : ھاں، یا رسول اللہ(ص)، آپ نے فرمایا: جس جس کا میں مولا هوں علی(ع) اس کے مولاھیں۔”
اوریہ وھی غدیر خم والا بیان ھے جسے آنحضرت(ص) نے بریدہ سے بھی فرمایاھے،اور واقعہٴ غدیر خم کو اکابر محدثین، موٴرخین اور مفسرین[73] نے اپنے اپنے فن میں موضوع کی مناسبت سے ذکر کیا ھے، بلکہ بزرگا ن اھل لغت نے اس واقعہ کو لغت کی کتابوں میں بھی نقل کیا ھے، مثال کے طور پر ابن درید نے جمھرة اللغة میں کھا ھے :((غدیر معروف وھوالموضع الذی قام فیہ رسول اللّٰہ(ص)خطیبا یفضّل اٴمیر الموٴمنین علی ابن ابی طالب (ع)[74]
اور تاج العروس میں کلمہ ((ولی))کے ضمن میں کھا کہ :((الذی یلی علیک اٴمرک…
ومنہ الحدیث : من کنت مولاہ فعلی مولاہ))اور ابن اثیر، "نھایہ” میں کلمہ ((ولی))کے ضمن میں کہتا ھے ((وقول عمر لعلیّ: اٴصحبت مولی کل مومن، اٴی ولی کل مومن ))
اور حدیث غدیر اھل سنت کے نزدیک صحیح سلسلہٴ اسناد کے ساتھ نقل هوئی ھے، اگرچہ سلسلہٴ ھائے اسناد اتنے زیادہ ھیں کہ صحت ِسند کی ضرورت باقی نھیں رہتی۔
حافط سلیمان بن ابراھیم قندوزی حنفی نے ینابیع المودة میں کھا ھے :” مشهور و معروف موٴرخ جریر طبری نے حدیث غدیر خم کو پچھتر مختلف سلسلہٴ اسناد کے ساتھ نقل کیا ھے اور اس موضوع پر ((الولایة))کے نام سے مستقل کتاب بھی لکھی ھے۔ اسی طرح حدیث غدیرکو ابوالعباس احمد بن محمد بن سعید بن عقدہ نے بھی روایت کیا ھے اور اس موضوع پر ((الموالاة ))کے نام سے مستقل کتاب لکھی ھے اور اس حدیث کو ایک سو پچاس مختلف سلسلہٴ اسناد کے ساتھ ذکر کیا ھے۔”
اور اس کے بعد لکھا ھے کہ :”علامہ علی بن موسی اور ابو حامد غزالی کے استاد امام الحرمین علی ابن محمد ابی المعالی الجوینی تعجب کرتے هو ئے کھا کرتے تھے : میں نے بغداد میں ایک جلد ساز کے پاس روایات غدیر کے موضوع پر ایک جلد دیکھی کہ اس پر لکھا تھا :یہ پیغمبر اکرم(ص) کے اس قول ((من کنت مولاہ فعلی مولاہ))کے سلسلہٴ ھائے اسناد کے سلسلے میں اٹھائیسویں جلد ھے۔ انتیسویں جلد اس کے بعد آئے گی۔”[75]
ابن حجر اپنی کتاب تہذیب التہذیب[76]میں حضرت علی(ع) کے حالات زندگی کا تذکرہ کرتے هوئے، ابن عبد البر سے اس حدیث کو حضرت علی(ع)، ابوھریرہ، جابر، براء بن عازب اور زید ابن ارقم کے واسطوں سے نقل کرنے کے بعدکہتا ھے:”اس حدیث کے ذکر شدہ سلسلہٴ ھائے اسناد کے کئی گنا دوسرے سلسلہٴ ھائے اسناد، ابن جریر طبری نے اپنی کتاب میں جمع کیے ھیں۔اور ابوالعباس بن عقدہ نے سلسلہٴ اسناد کو جمع کرنے میں خاص توجہ کی ھے اور حدیث کو ستّر یا اس سے زیادہ اصحاب سے نقل کیا ھے۔”
امیر المومنین(ع) کی ولایت اور خلافت بلا فصل پر اس حدیث کی دلالت واضح و روشن ھے۔
اگرچہ لفظ ((مولیٰ)) متعدد معنی میں استعمال هوا ھے، لیکن جن قرائن سے یہ بات ثابت ھے کہ اس حدیث میں مولیٰ سے ولایت امر مراد ھے ان میں سے بعض کو ھم یھاں ذکر کرتے ھیں :
۱۔ اس مطلب کوبیان کرنے سے پھلے حضرت رسول خدا(ص) نے اپنی رحلت کی خبر دی اور قرآن وعترت کی پیروی کی تاکید فرمائی اور فرمایا کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں هوں گے۔ اس کے بعد اس عنوان کے ساتھ کہ جس جس کامیں مولاهوں علی (ع)اس کے مولاھیں، حضرت علی(ع) کا تعارف کروانا اس بات کی دلیل ھے کہ اس سے آنحضرت(ص) کا مقصد ایسے شخص کی پہچان کروانا ھے کہ جس شخص اور قرآن سے تمسک رکھتے هوئے امت، آپ(ص)کے بعد ضلالت وگمراھی سے نجات پا سکتی ھے۔
۲۔اس عظیم اجتماع کو حج سے واپسی کے دوران فقط یہ بتانے کے لئے کہ علی(ع) اھل ایمان کا دوست، اور مددگار ھے، تپتے هوئے صحراء میں روکنا اور پالان ِ شتر سے منبر بنانا، آپ(ص) کے مقام خاتمیت کے ساتھ تناسب نھیں رکھتا، بلکہ یہ خصوصیات اس امر کی نشاندھی کرتی ھیں کہ کوئی اھم اعلان کرنا مقصود تھا اور لفظ مولا سے ولایت امرھی مراد هو سکتی ھے۔
۳۔واحدی نے اسباب النزول میں ابی سعید خدری سے نقل کیا ھے کہ <یَا اٴَیُّھَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اٴُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ>[77]غدیر خم کے روز، علی بن ابی طالب(ع) کی شان میں نازل هوئی[78]۔
آیت کریمہ کے شان نزول سے معلوم هوتاھے کہ جس مطلب کی تبلیغ کے لئے رسول خدا(ص) مامور تھے اس کی دو خصوصیات تھیں:
اول۔مرتبے کے اعتبار سے اس کی تبلیغ اتنی زیادہ اھمیت کی حامل ھے کہ خداوند متعال فرما رھا ھے :”اگر اسے انجام نہ دیا تو تبلیغ رسالت ھی کو انجام نہ دیا۔”
دوم۔یہ کہ اس تبلیغ میں خدا تمھیں بچانے والا ھے، یعنی معلوم هوتا ھے کہ اس اعلان کے بعد منافقین کی سازشوں کا سلسلہ چل پڑے گاجو آپ(ص)کے ظهور اورتوسیع ِحکومت کے بارے میں اھل کتاب سے سن کر اس حکومت کو حاصل کرنے کے لئے آنحضرت(ص) سے آملے تھے، لہٰذا ((مولیٰ)) کے معنی، ولایت امرکے علاوہ اور کچھ نھیں هوسکتے۔
۴۔خطیب بغدادی نے ابوھریرہ سے روایت نقل کی ھے کہ:”جو اٹھارہ ذی الحجہ کو روزہ رکھے اس کے لئے ساٹھ ماہ کے روزے لکھے جاتے ھیں اور یہ غدیر خم کا دن ھے، جب نبی اکرم(ص) نے علی بن ابی طالب(ع) کا ھاتھ پکڑ کر فرمایا : آیا میں مومنین کا مولاهوں ؟سب نے کھا :ھاں، یا رسول اللہ(ص)، تو فرمایا: جس جس کا میں مولاهوں علی(ع) بھی اس کے مولاھیں۔
یہ سن کر عمر بن خطاب نے کھا : بخٍّ بخٍّ یا ابن ابی طالب، آپ میرے اور تمام مسلمانوں کے مولا قرار پائے ، پھر خدا نے یہ آیت نازل فرمائی <اَلْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ >[79]
وہ چیز جس کے ذریعے اکمال دین واتمام نعمت خدا ھے اور جس کی وجہ سے دین اسلام خدا کے نزدیک پسندیدہ ھے، وہ احکامِ خدا کے معلم اور انھیں عملی جامہ پھنانے والے کا تعین ھے۔
۵۔نور الابصار میں شبلنجی نے لکھاھے [80]:”امام ابو اسحاق ثعلبی اپنی تفسیر میں نقل کرتے ھیں کہ: سفیان بن عیینہ سے پوچھا گیا کہ آیت ِ<سَاٴَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ>[81]کس کی شان میں نازل هوئی ھے؟
اس نے کھا:مجھ سے تم نے ایسے مسئلے کے بارے میں سوال کیا ھے جسے تم سے پھلے کسی اور نے نھیں پوچھا۔ میرے لئے میرے والد نے جعفر بن محمد اورانهوں نے اپنے اجداد سے حدیث بیان کی ھے کہ غدیر خم کے مقام پر جب رسول خدا(ص) نے لوگوں کو بلایا اور سب جمع هوچکے تو آپ(ص) نے علی علیہ السلام کا ھاتھ پکڑکر فرمایا:((من کنت مولاہ فَعلیّ مولاہ))،اس طرح یہ بات شھروں میں مشهور هونے لگی اور جب یہ خبر حارث بن نعمان فھری تک پھنچی تو وہ رسول خدا(ص) کے پاس آیا اور کھا: اے محمد(ص)! تو نے حکم دیا تھا کہ خدا کی وحدانیت اور تیری رسالت کااقرار کریں، سو ھم نے اقرار کیا، تو نے حکم دیا کہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھیں، ھم نے قبول کیا، زکات دینے کو کھا، ھم نے قبول کیا، حکم دیا کہ رمضان کے روزے رکھیں ھم نے قبول کیا، حج کرنے کا حکم دیا، ھم نے یہ بھی مان لیا، لیکن تم اس پر بھی راضی نہ هوئے اور اپنے چچا زاد بھائی کا ھاتھ پکڑکر اسے ھم پر فضیلت دینا چاھی اور کھا ((من کنت مولاہ فعلیّ مولاہ))،آیا یہ تمھارا فیصلہ ھے یا خداوند ِ عزوجل کا حکم ھے ؟
پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:والذی لا إلہ إلا ھو، یقینا یہ خداوند عزوجل کا حکم ھے۔
حارث بن نعمان سوار هونے کے لئے اپنی سواری کی طرف بڑھااور کھا:بار الھا! جو کچھ محمد(ص) کہہ رھا ھے اگر یہ سچ ھے تو ھم پر آسمان سے سنگ یا دردناک عذاب نازل فرما۔
ابھی وہ اپنی سواری تک نہ پھنچا تھا کہ خدا وند عزوجل نے پتھر نازل فرمایا جو اس کے سر پر آیااور دوسری طرف سے نکل گیا او ر وہ وھیں مر گیا۔ اس موقع پرخداوند عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی <سَاٴَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِع ٍة لِِّلْکَافِرِیْنَ لَیْسَ لَہ دَافِعٌة مِّنَ اللّٰہِ ذِی الْمَعَارِجِ>[82]
اس میں کسی قسم کے شک وتردید کی گنجائش نھیں کہ علی(ع) کے بارے میں، لوگوں نے رسول خدا(ص) سے فضائل سن رکھے تھے۔ وہ بات جو حارث بن نعمان جیسے افراد کے لئے نئی، شھروں میں منتشر شدہ اور نا قابل یقین فضیلت تھی، وہ رسول خد ا(ص) کی جانب سے، علی(ع) کے لئے،مولیٰ اور ولی هونے کا اعلان تھا، جو اس جیسے افراد برداشت نہ کر سکتے تھے، نہ یہ کہ مولی کے کوئی دوسرے معنی هوں۔
۶۔احمد بن حنبل نے مسند میں[83]، فخر رازی نے تفسیرمیں[84]،خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں[85] اور ان کے علاوہ دوسروں[86] نے بھی اس روایت کو نقل کیا ھے، لیکن ھم فقط مسند احمد کی روایت پر اکتفا کرتے ھیں :
احمد نے براء بن عازب سے نقل کیا ھے کہ اس نے کھا: ھم رسول خدا(ص) کے ساتھ ھمسفر تھے۔ غدیر خم کے مقام پر رکے، نماز جماعت کے لئے بلایا گیا، رسول خدا(ص) کے لئے دو درختوں کے نیچے جھاڑو دی گئی،آپ(ص) نے نماز ظھر ادا کی اور علی(ع) کا ھاتھ پکڑ کر فرمایا: کیا تم لوگ نھیں جانتے کہ میں مومنین سے ان کی اپنی نسبت اولی هوں؟ سب نے کھا:ھا ں، فرمایا:کیا تم نھیںجانتے هو کہ میںھر مومن سے خود اس کی نسبت اولی هوں ؟سب نے کھا:ھاں، پھر آپ نے علی(ع) کا ھاتھ بلند کر کے فرمایا ((من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللّٰھم وال من والاہ وعاد من عاداہ))۔براء بن عازب کہتا ھے: اس کے بعد عمر نے علی (ع)کے ساتھ ملاقات کی اور آپ سے کھا((ھنیئاً یا ابن ابی طالب، اصحبت وامسیت مولی کل مومن ومومنة))۔
عمر جیسے شخص سے اس طرح کی مبارک باد، ایک ایسی چیز کے لئے جس میں حضرت علی(ع) کے ساتھ دوسرے مومنین بھی شریک هوں، دوستی کے معنی میں نھیں، بلکہ بلا شبہ مبارک باد کا یہ انداز کسی خاص فضیلت کے لئے ھی هوسکتا ھے اور وہ فضلیت زعامت ِامت ومنصب ِخلافت رسول خدا(ص) کے سوا کچھ نھیں۔
وہ حدیث ھے جس کی سند کے صحیح هونے کا محدثین اور رجالِ اھل سنت نے اعتراف کیا ھے۔حدیث ششم:
وہ حدیث ھے جس کی سند کے صحیح هونے کا محدثین اور رجالِ اھل سنت نے اعتراف کیا ھے۔ اس کا خلاصہ یہ ھے کہ کچھ لوگ ابن عباس کے پاس آئے جو امیر المومنین(ع) کے بارے میں ناروا الفاظ استعمال کر رھے تھے، تو ابن عباس نے کھا:ایسے شخص کے بارے میں ناروا کہہ رھے هو جو ایسی دس فضیلتوں کا مالک ھے کہ اس کے علاوہ کسی اور کے لئے نھیں ھیں۔
۱۔جنگ خیبر میں (جب دوسرے گئے اور عاجز هو کر پلٹ آئے تو) رسول خدا(ص) نے فرمایا: ایسے شخص کو بھیجوں گا جسے خدانے ھر گز ذلیل ورسوا نھیں کیا وہ خدا ورسول(ص)سے محبت کرتا ھے اور خدا اور رسول(ص) اس سے محبت کرتے ھیں۔
سب گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے کہ وہ کون ھے ؟ آنحضرت(ص) نے فرمایا: علی(ع) کھاں ھیں؟ آپ دکھتی آنکھوں کے ساتھ آئے، رسول خدا سے شفا پانے کے بعد، آنحضرت(ص)نے علم کو تین مرتبہ لھرانے کے بعد علم علی(ع) کو دیا۔
۲۔فلاں کو رسول خدا(ص) نے سورہٴ توبہ کے ساتھ مشرکین کی جانب روانہ کیا، پھر اس کے پیچھے علی(ع) کو بھیجا اور اس سے سورہ لے کر فرمایا: یہ سورہ اس فرد کے علاوہ کوئی نھیں لے جاسکتا جو مجھ سے ھے اور میں اس سے هوں۔
۳۔رسول خد ا(ص) نے فرمایا: تم میں سے کون ھے جو دنیا او رآخرت میں میرا ولی هو؟ کسی نے قبول نہ کیا، علی(ع)سے فرمایا:دنیا وآخرت میں تم میرے ولی هو۔
۴۔ خدیجہ کے بعد علی(ع) سب سے پھلے ایمان لائے۔
۵۔ رسول خدا(ص) نے چار افراد علی و فاطمہ وحسن وحسین علیھم السلام پر اپنی چادر اوڑھا کر فرمایا:<إِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا>
۶۔ علی(ع) وہ ھے جس نے اپنی جان کو رسول خدا(ص) پر فدا کیا، آنحضرت(ص) کا لباس پھن کر رات بھر آپ(ص) کے بستر پر سوئے اور صبح هونے تک مشرکین آپ(ع) کو پیغمبر سمجھ کر پتھر برساتے رھے۔
۷۔ غروہ تبوک میں علی(ع) کو اپنا نائب بنا کر مدینہ میں رھنے کو کھا۔ جب علی(ع) رسول خدا(ص) کے فراق کی وجہ سے آبدیدہ هوئے تو آپ(ص) نے فرمایا:آیا تم راضی نھیں هوکہ تمھاری نسبت مجھ سے وھی هو، جوھارون کو موسی سے تھی،سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نھیںھے۔ یقینامیرا جانا اسی وقت سزاوار ھے جب تم میرے خلیفہ هو۔
۸۔رسول خدا(ص) نے علی(ع) سے فرمایا:میرے بعد تم ھر مومن ومومنہ کے ولی هو۔
۹۔رسول خدا(ص) نے علی(ع) کے گھر کے دروازے کے علاوہ مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کیا۔
۱۰۔رسو ل خدا(ص) نے فرمایا :((من کنت مولاہ فعلی مولاہ))[111]
آیا پیغمبر(ص) کی اس نص کے باوجود کہ تمام اصحاب کے هوتے هوئے فتح کاعلم علی(ع) کو دیا،صرف اس کو خدا اور رسول(ص)کا حبیب و محبوب کھا، خدا کے پیغام کو دوسروں سے لے کراسے دیا کہ ضروری ھے کہ علی(ع) مبلّغ کلام خدا هو، کیونکہ وہ مجھ سے او رمیں اس سے هوں، اسی طرح آنحضرت(ص) کی یہ تصریح کہ میرا جانا اس وقت تک سزاوار نھیں جب تک کہ تم میرے خلیفہ نہ هو، علی(ع) کی ولایت مطلقہ و کلیہ کا بیان ((اٴنت ولی کل مومن بعدی ومومنة )) اور ((من کنت مولاہ فعلی مولاہ))۔کیا اس سنت صحیحہ کے باوجود علی(ع) کی خلافت بلا فصل میں اھل نظر وانصاف کے لئے کسی قسم کے شک و تردید کی گنجائش باقی رہ جاتی ھے ؟!
اس مختصر مقدمے میں اس موضوع سے متعلق آیات واحادیث کی گنجائش نھیں، جیسا کہ پانچویں صدی ھجری کے نامور افراد میں سے حسکانی حنفی نے مجاھد جیسے بزرگ تابعین اور اعلامِ مفسرین سے نقل کیا ھے کہ علی(ع) کے لئے ستر فضیلتیں ایسی ھیں جن میں سے کوئی ایک بھی، پیغمبر اکرم(ص) کی کسی صحابی کو حاصل نھیں ھے، جب کہ اصحاب پیغمبر(ص) کے تمام فضائل میں علی(ع) ان کے شریک ھیں۔ [112]
اور ابن عبا س سے روایت کی ھے کہ قرآن کی <اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ> جیسی تمام آیا ت کے مصادیق میں علی(ع) سب کے سید وسردار ھیں اور اصحاب محمد(ص)میں سے کوئی ایسا نھیں جس پر خدا نے ناراضگی کا اظھار نہ کیا هو، جب کہ علی(ع) کو اچھائی کے علاوہ یاد نھیںکیا۔ [113]
علی(ع) میں اٹھارہ فضیلتیں ایسی ھیں کہ اس امت کے کسی فرد کے پاس اس جیسی ایک فضیلت بھی هو تو اس کے ذریعے نجات یافتہ هوجائے اور بارہ فضیلتیں ایسی ھیں جو اس امت میں سے کسی کے پاس بھی نھیں ھیں۔[114]
ابن ابی الحدید کہتا ھے:”ھمارے استاد ابوالہذیل سے پوچھا گیا:خدا کے نزدیک علی(ع) کا مقام زیادہ بلند ھے یا ابو بکر کا ؟”
جواب دیا:” خدا کی قسم! خندق کے دن علی(ع) کا عمرو سے مقابلہ، تمام مھاجرین وانصار کے اعمال واطاعت کے برابر ھے، تم تنھاابو بکر کی بات کرتے هو”[115]
حنبلی مذھب کے امام، احمد کا کھنا ھے:((ماجاء لاٴحد من اٴصحاب رسول اللّٰہ من الفضائل ماجاء لعلیّ بن اٴبی طالب))[116]
لغت وادب کے ماھر اور علم عروض کے بانی، خلیل بن احمد کے بقول:”کسی کے بھی فضائل یا دوستوں کے ذریعہ نشر هوتے ھیں یا دشمنوں کے ذریعے۔ علی بن ابی طالب(ع) کے فضائل کو دوستوں نے خوف اور دشمنوں نے حسد کی وجہ سے چھپایا، اس کے باوجود آپ کے فضائل اس طرح سے نشر هوگئے”[117]
اگر دشمنوں کا حسد اور دوستوں کو خوف نہ هوتا اور حکومتِ بنو امیہ و بنی عباس کی اندھیری راتوں کی تاریکیاں اس سورج پر پردے نہ ڈالتیں تو علی(ع) کی فضیلتوں کا نور آفاق کو کس طرح روشن و منور کر دیتا؟!
اس مقدس گفتگو کو آپ(ع) کی شان میں دو آیتوں کے ذکر پر ختم کرتے ھیں:
۱۔<إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلاَةَ وَیُوٴْتُوْنَ الزَّکوٰةَ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ>[118]
اکابر علمائے اھل سنت نے، اس آیت کے امیر المومنین(ع)کی شان میں نازل هونے کا اعتراف کیا ھے،فخر رازی کی نقل کردہ حدیث کو بطور خلاصہ ملاحظہ فرمائیے:
"ابو ذر کہتے ھیں:میں نے ظھر کی نماز رسول خدا(ص) کے ساتھ ادا کی، ایک سائل نے مسجد میں آکر بھیک مانگی۔ کسی نے اسے کچھ نہ دیا، علی(ع) رکوع کی حالت میں تھے، آپ (ع)نے اس انگلی سے، جس میں انگوٹھی تھی،سائل کو اشارہ کیا، سائل نے آپ کے ھاتھ سے وہ انگوٹھی لے لی۔ پیغمبر اکرم(ص) نے خدا سے التجا کی اور فرمایا:خدایا! میرے بھائی موسی پیغمبر نے تجھ سے سوال کیا اور کھا :<رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ> تو نے اس پر نازل کیا <سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاٴَخِیْکَ وَنَجْعَلُ لَکُمْا سِلْطَاناً>، بار الھا! میں محمد تیرا بندہ هوں، مجھے شرح صدر عطا فرما، میرا کام آسان فرما اور میرے اھل سے علی کو میرا وزیر قرار دے۔اس کے ذریعے میری پشت کومضبوط فرما۔ ابو ذر کہتے ھیں: خدا کی قسم! ابھی رسول خدا(ص) کے کلمات ختم نہ هوئے تھے کہ جبرئیل اس آیت کے ساتھ نازل هوئے۔”[119]
رسول خدا(ص) کی دعا کے بعد اس آیت کا نازل هونا آپ(ص) کی دعا کا اثر ھے،کہ جو مقام ھارون کو موسی کی نسبت حاصل تھا وھی مقام و مرتبہ علی(ع) کو رسول خدا(ص) کی نسبت عطا کیا گیا۔
اور اس آیت میں حرف عطف کی بنا پر جو الٰھی ولایت، رسول خدا(ص) کے لئے ھے، علی(ع) کے لئے بھی ثابت ھے۔اور لفظ ((إنما)) انحصار پر دلالت کی وجہ سے اس بات کو ثابت کرتا ھے کہ اس آیت میں خدا، رسول اور علی کی ولایت ایسی ولایت ھے جو صرف ان تین میں منحصر ھے اور ” ولی” کے معانی میں سے اس کا معنی، ولایت امر کے علاوہ کچھ نھیں هوسکتا۔
۲۔<فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَائَنَا وَاٴَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَ اٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللّٰہِ عَلیَ الْکَاذِبِیْنَ>[120]
اس آیت کریمہ میں اھل نظر کے لئے چند نکات ھیں، جن میں سے تین نکات کی طرف،طویل تشریح سے گریز کرتے هوئے اشارہ کرتے ھیں۔
رسو ل خدا(ص)کامباھلہ کے لئے دعوت دینا آپ(ص)کی رسالت کی دلیل وبرھان ھے، جب کہ نصاریٰ کا مباھلہ سے گریزنصرانیت کے بطلان اور آئین محمدی کی حقانیت کا اعتراف ھے۔ لفظ ((اٴنفسنا))امیر المومنین علی(ع) کی خلافت بلا فصل کی دلیل ھے، کیونکہ نص قرآن کے مطابق نفسِ تنزیلی کے هوتے هوئے، جو در حقیقت وجودِ ختمی مرتبت(ص)کا تسلسل ھے،کسی اور کی جانشینی ھی نھیں۔
تمام جیّد مفسرین ومحدثین کا جس بات پر اتفاق ھے وہ یہ ھے کہ((اٴبنائنا))سے مراد حسن وحسین علیھما السلام، ((نسائنا))سے مراد فاطمة الزھر اسلام اللہ علیھا اور((اٴنفسنا))سے مراد علی ابن ابی طالب(ع) ھیں۔ اس سلسلے میں ایک حدیث کا مضمون بطور خلاصہ ملاحظہ هو، جسے فخر رازی نے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ھے:
"رسول خدا(ص) نے جب نجران کے نصاریٰ کے سامنے اپنے دلائل پیش کر دئے اور وہ اپنی جھالت پر قائم رھے تو آپ(ص) نے فرمایا: "خدا نے مجھے حکم فرمایا ھے کہ اگر تم دلیل نھیں مانتے هو تو میں تمھارے ساتھ مباھلہ کروں۔” یہ سن کر انهوں نے کھا:”اے ابو القاسم! ھم جا رھے ھیں، اپنے امور میں سوچ بچار کے بعد دوبارہ لوٹ کر آئیں گے۔”جب وہ پلٹ کر گئے تو انهوں نے اپنے صاحب رائے، عاقب سے پوچھا:”اے عبد المسیح! تیرا کیا مشورہ ھے؟” تو اس نے کھا: اے نصاریٰ تم جان چکے هو کہ محمد خد اکے فرستادہ نبی ھیں اور تمھارے لئے، عیسیٰ کے بارے میں کلامِ حق لائے ھیں۔خدا کی قسم! کسی ایسی قوم نے پیغمبر کے ساتھ مباھلہ نھیں جس کے بڑے زندہ بچے هوں اور چھوٹے پرورش پاسکے هوں، اگر تم نے اس کام کو انجام دیا تو جڑ سے اکھڑ جاؤگے۔ اگر اپنے دین پر باقی رھنا ھی چاہتے هو تو اس سے رخصت هو کر اپنے شھروں کو لوٹ جاؤ۔”
ادھر رسول خدا اس حالت میں باھر آئے کہ حسین کو آغوش میں لئے ھیں، حسن کا ھاتھ تھامے هوئے ھیں، فاطمہ (سلام اللہ علیھا) آنحضرت کے پیچھے اور ان کے پیچھے پیچھے علی علیہ السلام آرھے ھیں۔ آنحضرت(ص) نے ان سے فرمایا: "جب میں دعا کروں، تم آمین کھنا۔”
نجران کے راھب نے کھا:”اے گروہ نصاریٰ،میں ایسے چھرے دیکھ رھا هوں کہ اگر خدا سے چاھیں کہ پھاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دے تو ان صورتوں اور رخساروں کے لئے پھاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دے گا،مباھلہ نہ کرنا کہ ھلاک هوجاو گے اور قیامت تک روئے زمین پر ایک بھی نصرانی باقی نھیں رھے گا۔”
مباھلہ سے جان چھڑا کر صلح پر راضی هوگئے، مصالحت کے بعد رسول خدا(ص) نے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ھے! ھلاکت اھل نجران کے نزدیک تھی۔ اگر مباھلہ وملاعنہ کرتے تو بندر اور سور کی شکلوں میں مسخ هوجاتے، یہ وادی ان کے لئے آگ بن جاتی اور ایک سال کے اندر اندر تمام نصاری ھلاک هوجاتے۔”
اورروایت ھے کہ جب آنحضر ت(ص) سیاہ کساء میں باھر آئے تو سب سے پھلے حسن کو اس کساء میں داخل کیا، پھر اس کے بعد حسین، پھر جناب سیدہ اور اس کے بعد علی کو اور فرمایا <إِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا>
اس کے بعد فخر رازی کہتا ھے:((واعلم اٴن ھذہ الروایة کالمتفق علی صحتھا بین اٴھل التفسیر والحدیث ))[121]
اگر چہ اس آیت اور مورد اتفاق حدیث کی تشریح کی گنجائش تو نھیں، لیکن صرف دو نکات کی طرف اشارہ کرتے ھیں :
۱۔باھر آتے وقت ان ھستیوں کو کساء تلے جمع کرکے یہ ثابت کرنے کے لئے آیت تطھیر کی تلاوت فرمائی کہ ایسی مافوق العادہ دعاجو اسباب طبیعی کو ناکارہ بنا کر بلا واسطہ طور پر خد ا کے ارادے سے تحقق پیدا کرے، ضروری ھے کہ ھر رجس سے پاک روح کی جانب سے سبوح وقدوس کی بارگاہ تک پھنچے کہ<إِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ>[122] اور جس طھارت کا پروردگا ر عالم نے ارادہ کیا ھے وہ ان ھستیوں میں ھی پائی جاتی ھے۔
۲۔نجران کے نصاری کے ساتھ رسول خدا(ص) کا مباھلہ، اس قوم کے لئے رحمت خدا سے دوری کی درخواست تھی اور وہ دعا جس کی قبولیت سے انسان حیوان کی شکل میں منقلب هوجائے،خاک اپنی حالت تبدیل کرکے آگ بن جائے اور ایک امت صفحہ ھستی سے مٹ جائے،<إِنَّمَا اٴَمُرُہ إِذَا اٴَرَادَ شَیْئًا اٴَنْ یَّقُوْلَ لِہ کُنْ فَیَکُوْنُ>[123] کے ارادے سے متصل هوئے بغیر نا ممکن ھے۔ یہ انسان کامل کی منزلت ھے کہ اس کی رضا وغضب خدا کی رضا وغضب کا مظھر هو اوریہ مقام حضرت خاتم(ص) اوران کے جانشین کا مقام ھے۔وہ واحد خاتون جو اس مقام پر فائز هوئیں، صدیقہ کبری کی ھستی ھے، جس سے یہ بات سامنے آتی ھے کہ عصمت کبریٰ جو ولایت کلیہ اورامامت عامہ کی روح ھے، فاطمہ زھرا علیھا السلام میں موجود ھے۔
اور یہ حدیث بھی، کہ علماء اھل سنت جس کے صحیح هونے کے معترف ھیں، اسی امر کو بیان کر رھی ھے کہ رسول خدا نے فرمایا:((فاطمة بضعة منی فمن اٴغضبھا اٴغضبنی))[124] اورباوجود اس کے کہ قرآن وسنت کے حکم کے مطابق پیغمبر(ص) کا غضب، خدا کا غضب ھے،علماء اھل سنت نے یہ حدیث بھی نقل کی ھے: قال رسول اللّٰہ لفاطمة: ((إن اللّٰہ یغضب لغضبک ویرضی لرضاک))[125]
جس کی رضا پر خدا بغیر کسی قید وشرط کے راضی اور جس کے غضب پر غضبناک هو، عقل کا تقاضا یہ ھے کہ اس کی رضا وغضب، خطا اور هویٰ وهوس سے پاک هواور یھی عصمت کبریٰ ھے۔ائمہ اثنا عشر
جو کچھ بیان هو ا وہ مسئلہ امامت کے سلسلے میں مذھب حقہ کے مختصر دلائل تھے۔ ائمہ معصوم کی تعداد کے بارے میں اثنا عشری شیعوں کا عقیدہ یہ ھے کہ امام بارہ ھیں۔ پھلے: علی ابن ابی طالب ،دوسرے :حسن بن علی ، تیسرے: حسین بن علی ، چوتھے :علی بن الحسین ، پانچویں :محمد بن علی ،چھٹے : جعفر بن محمد ، ساتویں: موسی بن جعفر ، آٹھویں: علی بن موسی ، نویں: محمد بن علی ، دسویں: علی بن محمد ، گیارھویں:حسن بن علی ، بارھویں:حضرت محمد مھدی علیھم السلام۔علم، اجابتِ دعوت اور نصّ معصوم کے اعتبار سے، ان میں سے ھر ایک کی امامت کے تفصیلی دلائل، علیحدہ فرصت کے طلبگار ھیں۔
البتہ اھل سنت کی معتبر و قابل اعتماد کتب میں موجود، بعض ان روایات کی طرف اشارہ ضروری ھے، جن میں خود حضرت رسول خد ا(ص) نے اپنے بارہ خلفاء اور بارہ سربراهوں کا ذکر کیا ھے۔
۱۔صحیح بخاری: ((عن جابر بن سمرة قال:سمعت النبی(ص) یقول:یکون اثنا عشراٴمیرا فقال کلمة لم اٴسمعھا، فقال اٴبی:إنہ قال:کلھم من قریش))[126]
۲۔صحیح مسلم :((عن جابر بن سمرة قال:دخلت مع اٴبی علی النبی(ص) فسمعتہ یقول:إن ھذا الاٴمر لا ینقضی حتی یمضی فیھم اثنا عشر خلیفة، قال:ثم تکلم بکلام خفی علی، قال:فقلت لاٴبی:ماقال؟ قال:کلھم من قریش))[127]
۳۔صحیح مسلم:((عن جابر بن سمرة قال:سمعت النبی(ص) یقول:لایزال اٴمرالناس ماضیا ما ولیھم اثنا عشر رجلا، ثم تکلم النبی(ص) بکلمة خفیت علی، فسئلت اٴبی:ماذا قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و سلم؟
فقال:کلھم من قریش))[128]
۴۔صحیح ابن حبان :((سمعت رسول اللّٰہ(ص) یقول:یکون بعدی اثنا عشر خلیفة کلھم من قریش))[129]
۵۔جامع ترمذی:((یکون من بعدی إثنا عشر اٴمیرا، قال :تم تکلم بشیٴ لم اٴفھمہ، فساٴلت الذی یلینی، فقال: قال: کلھم من قریش))[130]
۶۔مسند احمد بن حنبل:((یکون بعدی إثنا عشر خلیفة،کلھم من قریش))[131]
۷۔مسند احمد بن حنبل:((یکون بعدی إثنا عشر اٴمیرا، ثم لا اٴدری ماقال بعد ذلک، فساٴلت القوم کلھم، فقالوا: قال:کلھم من قریش))[132]
۸۔مسند احمد بن حنبل :((یکون بعدی إثنا عشر اٴمیرا، فتکلم فخفی علیّ، فساٴلت الذی یلینی اٴو إلی جنبی، فقال:کلھم من قریش))[133]
۹۔مسند احمد بن حنبل :((یکون بعدی إثنا عشر اٴمیرا،قال:ثم تکلم فخفی علیّ ما قال، قال:فساٴلت بعض القوم اٴو الذی یلینی ماقال؟ قال:کلھم من قریش))[134]
۱۰۔مسند ابن الجعد:((یکون بعدی اثنا عشر امیرا، غیراٴن حصینًا قال فی حدیثہ: ثم تکلم بشیٴ لم اٴفھمہ، وقال بعضھم: فساٴلت اٴبی، وقال بعضھم: فساٴلت القوم فقال:کلھم من قریش))[135]
۱۱۔مسند ابی یعلی:((یقول:لا یزال الدین قائما حتی تقوم الساعة ویکون علیکم إثنا عشر خلیفة کلھم من قریش))[136]
۱۲۔مسند احمد بن حنبل :((عن جابر بن سمرة قال: خطبنا رسول اللّٰہ(ص) بعرفات فقال:لا یزال ھذا الاٴمر عزیزا منیعا ظاھرا علی من ناواہ حتی یملک اثنا عشر کلھم، قال:فلم اٴفھم ما بعد، قال:فقلت لاٴبی ما قال بعد ما قال:کلھم، قال:کلھم من قریش))[137]
۱۳۔مستدرک حاکم :((عن مسروق قال:کنا جلوسا لیلة عند عبد اللّٰہ یقرئنا القرآن فساٴلہ رجل فقال:یا اٴبا عبدالرحمن ھل ساٴلتم رسول اللّٰہ(ص) کم یملک ھذہ الاٴمة من خلیفة؟ فقال عبد اللّٰہ:ماسئلنی ھذا اٴحد منذ قدمت العراق قبلک، قال: سئلناہ، فقال:اثنا عشر عدة نقباء بنی اسرائیل))[138]
اس موضوع سے متعلق روایات صرف ان مذکورہ کتب میں ذکر نھیں هوئیں بلکہ ان کتب میں بھی ذکر شدہ روایات سے کھیں زیادہ روایات ذکر هوئی ھیں،لیکن اختصار کی وجہ سے اس تعداد پر اکتفا کیا گیاھے۔[139]
بارہ اماموں کے بارے میں رسول خدا(ص) سے منقول نصوص جنھیں عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود، سلمان فارسی،ابی سعید خدری، ابی ذر غفاری، جابر بن سمرة،جابر بن عبداللہ،انس بن مالک،زید بن ثابت، زید بن ارقم،ابی عمامہ، واصلة بن اسقع،ابی ایوب انصاری، عمار بن یاسر، حذیفہ بن اسید، عمران بن حصین، سعد بن مالک، حذیفہ بن یمان اور ابی قتادہ انصاری جیسے بزرگ وجلیل القدر اصحاب کے علاوہ دوسرے بزرگان نے بھی روایت کیا ھے، کہ اختصار کے پیش نظر جن کے ذکر سے صرف نظر کیا جاتا ھے۔
اس روایت میں بعض خصوصیات کا تذکرہ ھے ،جیسے :
۱۔خلفاء کا فقط بارہ افراد پر مشتمل هونا۔
۲۔ان بارہ افراد کی خلافت کا قیامت تک باقی رھنا۔
۳۔دین کی عزت واستقامت کا ان سے وابستہ هونا۔
۴۔علمی وعملی اعتبار سے ان کے ذریعے دین کا قائم هونا،کیونکہ قیامِ دین ان خلفاء کے ذریعے ھی ممکن ھے جو علمی اعتبارسے معارف وحقائقِ دین کو بیان کریں اور عملی اعتبار سے حق و قوانینِ عادلہ کو جاری کرنے والے هوں اور ان دو اھم اجزاء کا میسر هونا ان شرائط کے بغیر نا ممکن ھے، جس کے شیعہ، بارہ اماموں کے بارے میں قائل ھیں۔
۵۔نقباء بنی اسرائیل کی نظیر قرار دینے سے کشف هوتا ھے کہ منصوب من اللہ ھیں، جیسا کہ اس آیتِ کریمہ میں بیان کیا گیا ھے<وَبَعَثْنَا مِنْھُمْ إِثْنیٰ عَشَرَ نَقِیْبًا>[140]
۶۔ا ن سب کا قریش سے هونا۔
آیا یہ خصوصیات رکھنے والے خلفاء طریقہٴ حقہ اثنا عشری اور بارہ اماموں کے علاوہ کھیں اور قابل انطباق ھیں؟!
کیا یزید اور یزید جیسوں کی خلافت میں، نقباء بنی اسرائیل جیسی اسلام کی عزت، امت کی نگھداشت اور ویسی حکومت میسر آسکتی ھے ؟!
اور اھل سنت کے بعض محققین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ھے کہ یہ حدیث نہ تو پیغمبر کے بعد کے خلفاء پر قابل انطباق ھے،اس لئے کہ ان کی تعداد بارہ سے کم ھے، نہ سلاطین نبی امیہ پر حمل کی جاسکتی ھے، ان کے مظالم اور تعداد میں بارہ سے زیادہ هونے کی وجہ سے،اور نہ ھی ملوک بنی عباس پر قابلِ تطبیق ھے، کیونکہ ان کی تعداد بھی بارہ سے زیادہ ھے اور انهوں نے بھی آیت<قُلْ لاَّ اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ> [141]کا حق ادا نھیںکیا۔ یہ احادیث آنحضرت(ص) کی آل وعترت کے علاوہ کسی اورمقام پر منطبق نھیں هو سکتیں کیونکہ وہ اپنے اپنے زمانے میں باقی تمام بنی نوع انسان سے اعلم، اجل، اورع اور اتقی هونے کے ساتھ ساتھ حسب ونسب کے اعتبار سے بھی افضل واعلی اور دوسروں کی نسبت خدا کے نزدیک زیادہ صاحب اکرام تھے۔ اھل علم وتحقیق اور اھل کشف وتوفیق نے ان ھستیوں کو اسی مقام ومنزلت پر فائز پایا ھے۔[142]
اور سدی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ھے :”چونکہ سارہ کو ھاجرہ کے ساتھ رھنا ناپسند تھا خداوند کریم نے حضرت ابراھیم(ع) پر وحی نازل کی اور فرمایا: اسماعیل او ران کی والدہ کو یھاں سے سے "نبی تھامی کے گھر” یعنی مکہ لے جاؤ، میں تمھاری نسل کو پھیلاؤں گا اور میرے بارے میں کفر کرنے والوں پر انھیں قدرت عطا کروں گا اور اس کی نسل سے بارہ کو عظیم قرار دوں گا۔”[143]
اور یہ بات تورات میں سفر تکوین کے سترهویں باب میں موجو داس عبارت کے موافق ھے کہ خدا نے حضرت ابراھیم سے فرمایا:”میں نے تمھاری دعا کو اسماعیل کے بارے میں بطور خاص قبول کیا، اب اپنی برکت سے اسے صاحب اولاد بنا ؤں گا اور اس کو بہت کثرت عطا کروں گا،اس سے بارہ سردار بنیں گے اور اس سے عظیم امت پیدا کروں گا۔”
اور بارہ ائمہ کی امامت، صحیح روایات اور معصوم سے مروی متواتر نصوص جو سند کی بحث سے بے نیاز هوتی ھیں، کے ذریعہ ثابت ھے۔ ھم اس مقدمے میں "حدیثِ لوح” پر اکتفا کرتے ھیں، جسے متعدد اسناد کے ساتھ، جن میں سے بعض معتبر ھیں، بزرگ محدثین نے نقل کیا ھے۔ ھم ان میں سے دو روایات کو یھاں ذکر کرتے ھیں :پھلی روایت:
یہ وہ روایت ھے جسے شیخ صدوق ۺنے پانچویں امام(ع) اور انهوںنے جابر بن عبد اللہ انصاری سے نقل کیا کہ جابر بن عبد اللہ انصاری نے کھا: میں حضرت فاطمہ زھرا علیھا السلام کی خدمت میں حاضر هوا، ان کے سامنے ایک لوح رکھی تھی جس پر اوصیا ء کے نام تھے۔میں نے انھیں گنا تو بارہ تھے جن میں سے آخری قائم تھے، تین محمد اور چار علی تھے۔[144]دوسری روایت:
یہ حدیث اخبار غیبی پر مشتمل ھے اور خود اس کا متن اس کے مقام عصمت سے صادر هونے پر گواہ ھے۔ اسے شیعہ اکابر محدثین جیسے شیخ مفید، شیخ کلینی،شیخ صدوق اور شیخ طوسی اعلی اللہ مقامھم نے عبد الرحمن بن سالم، انھوںنے ابی بصیر اور انھوں نے چھٹے امام (ع)سے نقل کیا ھے اور مضمون روایت تقریباً یہ ھے کہ:
"میرے والد گرامی نے جابر بن عبدا للہ انصاری سے فرمایا: "مجھے تم سے ایک کام ھے، تمھارے لئے کس وقت آسانی ھے کہ تم سے اکیلے میں ملوں او راس بارے میں سوال کروں ؟”
جابر نے کھا: "جس وقت آپ پسند فرمائیں ۔”
پھر ایک دن جابر سے تنھائی میں ملاقات کی اور فرمایا:”اے جابر! جو لوح تم نے میری والد ہ گرامی حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ(ص) کے ھاتھ دیکھی تھی اور لوح پر لکھے هوئے کے بارے میں جو میری مادر گرامی نے بتایا تھا، مجھے اس کے بارے میں بتاؤ۔”
جابر نے کھا:”خدا کو گواہ کر کے کہتا هوں کہ رسول خدا(ص) کی زندگی میں آپ کی والدہ گرامی فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کی خدمت میں حاضر هو کر میں نے نھیں ولادتِ امامِ حسین(ع) کی مبارک باد دی۔ان کے ھاتھوں میں سبز رنگ کی ایسی لوح دیکھی کہ جس کی بارے میں مجھے گمان هوا کہ زمرد کی ھے اور اس میں سورج کے رنگ کی مانند سفید لکھائی دیکھی، ان سے کھا: ” میرے ماں باپ آپ پر فدا هوں، اے دختر رسول خدا(ص) ! یہ لوح کیا ھے ؟”
تو آپ نے فرمایا: "یہ لوح خدا نے اپنے رسول کو تحفہ دی ھے، اس میں میرے بابا، میرے شوھر،میرے دوبیٹوں اور میری اولاد میں سے اوصیاء کے نام ھیں اور بابانے یہ لوح مجھے عطا فرمائی ھے تاکہ اس کے ذریعے مجھے بشارت دیں۔”
جابر نے کھا:” آپ کی والدہ گرامی حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیھا) نے وہ لوح مجھے دی، میں نے اسے پڑھا اور اس سے ایک نسخہ اتارا۔” میرے والد نے فرمایا:” اے جابر، کیا وہ نسخہ مجھے دکھا سکتے هو؟”
جابر نے کھا:”ھاں”،پھر میرے والد اس کے ساتھ اس کے گھر گئے، وھاں پھنچ کر نازک کھال پر لکھا هوا ایک صحیفہ نکالا اور فرمایا: "اے جابر!جو میں بول رھاهوں تم اپنے نوشتے سے ملاتے جاوٴ۔”
جابر نے اپنے نسخہ پر نظر کی اور میرے والد نے اس کی قرائت کی، کسی ایک حرف میں بھی اختلاف نہ تھا۔ جابر کہتے ھیں:”خدا کو گواہ بنا کر کہتا هوں کہ لوح میں اس طرح لکھا هوا دیکھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ تحریر خداوند عزیز وحکیم کی طرف سے محمد کے لئے ھے جو اس کا پیغمبر، اس کا نور، اس کا سفیر، اس کا حجاب اور اس کی دلیل ھے، کہ جسے روح الامین نے رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ھے۔ اے محمد! میرے ناموں کی تنظیم کرو، میری نعمتوں کا شکر بجا لاؤاور میرے الطاف باطنی کا انکار نہ کرو، بے شک میں وہ خدا هوں جس کے سوا کوئی دوسرا خدا نھیں،ظالموں کو توڑ دینے والا، مظلوموں کو حکومت عطا کرنے والا، جزا کے دن جزا دینے والا۔ بے شک میں ھی وہ خدا هوں جس کے سوا کوئی دوسرا خدانھیں ھے، جو کوئی بھی میرے فضل کے علاوہ کسی چیز کا امیدوار هو یا میرے عدل کے علاوہ کسی چیز کا خوف کھائے اسے ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا والوں میں سے کسی کو اس طرح کا عذاب نہ دیا هوگا۔ بس میری عبادت کرو اور مجھ پر توکل کرو۔ بے شک ابھی تک میں نے کوئی پیغمبر نھیں بھیجا کہ اس کے دن پورے هونے اور مدت گزرنے سے پھلے اس کا وصی مقرر نہ کردیا هو۔بے شک میں نے تمھیں انبیاء پر اور تمھارے وصی کواوصیاء پر فضیلت دی ھے، حسن اور حسین جیسے دو سبط و شبل عطا کر کے تمھیں احترام بخشا ھے۔
پس حسن کو اس کے والدکی مدت پوری هونے کے بعد اپنے علم کی معدن قرار دیاھے اور حسین کو میں نے اپنی وحی کا خزینہ دار قرار دیا ھے، اسے شھادت کے ذریعے عزت عطا کی، اس کا اختتام سعادت پرکیا، پس وہ تمام شھیدوں سے افضل ھے اور اس کا درجہ تمام شھداء سے بڑھ کر ھے۔ اپنے کلمہ تامہ کو اس کے ساتھ اور اپنی حجت بالغہ کو اس کے پاس رکھا،اس کی عترت کے وسیلے سے ثواب دوں گا اور عقاب کروں گا۔ ان میں پھلا علی ھے جو سید العابدین اور میرے سابقہ اولیاء کی زینت ھے۔ اس کا فرزند محمد اپنے جد محمود کی شبیہ ھے، باقر، جو میرے علم کو شگافتہ کرنے والاھے اور میری حکمت کا معدن ھے۔ جعفر میں شک وتردید کرنے والے جلد ھی ھلاک هو جائیں گے اس کی بات ٹھکرانے والا ایسا ھے جیسے میری بات کو ٹھکرائے۔ میرا یہ قول حق ھے کہ جعفرکے مقام کو گرامی رکھتاهوں اوراسے،اس کے پیروکاروں، انصاراور دوستوں کے درمیان مسرور کروںگا۔اس کے بعد موسیٰ ھے کہ اس کے زمانے میں اندھا وتاریک فتنہ چھا جائے گا، چونکہ میرے فرض کا رشتہ منقطع نھیں هوتا اور میری حجت مخفی نھیں هوتی، بے شک میرے اولیاء سر شار جام سے سیراب هوں گے، جو کوئی ان میں سے کسی ایک کا انکار کرے اس نے میری نعمت کا انکار کیا ھے اور جو کوئی میری کتاب میں سے ایک آیت میں بھی رد و بدل کرے اس نے مجھ پر بہتان باندھا ھے۔ میرے عبد، میرے حبیب اور میرے مختار، موسیٰ کی مدت تمام هونے کے بعد وائے هو علی کا انکار کرنے والوں اور اس پر بہتان باندھنے والوں پرجو میرا ولی،میرا مددگا ر ھے، نبوت کے سنگین بوجھوں کو اس کے کاندھوں پر رکھوں گا اور اس کی انجام دھی میں شدت وقوت سے آزماؤں گا، اسے ایک مستکبر عفریت قتل کرے گا اور جس شھر کی بنیاد، عبد صالح نے رکھی ھے اس میں بد ترین مخلوق کے پھلو میں دفن هو گا۔ میرا یہ قول حق ھے کہ اسے اس کے فرزند محمد کے ذریعے مسرور کروں گا جو اس کے بعد اس کا خلیفہ اور اس کے علم کا وارث هوگا، پس وہ میرے علم کا معدن، میرا رازداں اور خلق پر میری حجت ھے۔کوئی بھی اس پر ایمان نھیں لائے گا مگر یہ کہ بھشت کو اس کا مسکن بنادوںگا۔ اس کی شفاعت اس کے ستر اھل خانہ کے حق میں قبول کروں گا، جو آتش جھنم کے مستحق هوچکے هوں گے۔ اور سعادت کے ساتھ ختم کروں گا اس کے فرزند علی کے لئے جو میرا ولی،میرا مددگا ر، خلق کے درمیان میرا گواہ او رمیری وحی میں میرا امین ھے۔ اس سے اپنی راہ کی جانب دعوت دینے والا حَسن نکالوں گا، جو میرے علم کا خزینہ دار هوگا اور اسے اس کے فرزند م ح م د سے کامل کروں گا ،جو رحمة للعالمین ھے، جس میں موسیٰ کا کمال،عیسیٰ کی ھیبت اور صبر ایوب ھے۔ ا س کے زمانے میں میرے اولیاء ذلیل هوں گے اور ان کے سر، ترک ودیلم کے سروں کی طرح لوگ ایک دوسرے کو تحفے کے طور پر دیںگے۔ وہ مارے جائیں گے، جلائے جائیں گے، خوف زدہ، ڈرے هوئے اور سھمے هوئے هوں گے، ان کے خون سے زمین رنگین هوگی،ان کی عورتوں کی فریاد بلند هوگی، حقا کہ وہ میرے اولیاء ھیں، ان کے ذریعے ھر اندھے فتنے کی تاریکی وسختی کو دور کروں گا۔ ان کے ذریعے زلزلوں کو کشف کردوںگا، بوجھوں اور زنجیروں کو دور کروں گا۔ یہ وہ ھیں جن پر ان کے پروردگا ر کی طرف سے صلوات اور رحمت ھے اور یھی ھدایت پانے والے ھیں۔”[145]
حدیث مکمل کرنے کے بعد ابو بصیر نے عبد الرحمن بن سالم سے کھا:” اگر ساری زندگی اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث نہ بھی سنو تویھی ایک حدیث تمھارے لئے کافی ھے، اسے نا اھل سے چھپا کر رکھنا۔”
اور ائمہ معصومین کی امامت پر اس سے کھیں زیادہ دلائل موجود ھیں، جنھیں ا س مختصر مقدمے میں نھیں سمویا جا سکتا، لیکن امامت کے اعلیٰ مقام کی معرفت کی غرض سے ایک روایت ذکر کر کے اس بحث کو ختم کرتے ھیںاور یہ روایت وہ ھے جسے شیخ المحدثین محمد بن یعقوب کلینی نے محمد بن یحیی سے (کہ نجاشی جس کی شان بیان کرتے هوئے کہتے ھیں: شیخ اٴصحابنا فی زمانہ، ثقة،عین،اور ان سے چھ ہزار کے قریب روایات نقل کی ھیں )، انهوں نے احمد بن محمد بن عیسٰی سے (جو شیخ القمیین ووجھھم وفقیھھم غیر مدافع اور امام رضا، امام تقی وامام نقی علیھم السلام کے صحابی تھے )،انهوں نے حسن بن محبوب سے (جو اپنے زمانے کے ارکان اربعہ میں سے ایک اور ان فقھاء میں سے ھیں کہ جن تک صحیح سند اگر پھنچ جائے تو ان کی منقولہ روایت کی صحت پر اجماع ھے۔)، انهوں نے اسحاق بن غالب سے (بطور خاص توثیق کے علاوہ جن کی شان یہ ھے کہ صفوان بن یحیی جیسی عظیم شخصیت نے ان سے روایات نقل کی ھیں)، انهوں نے ابی عبد اللہ(ع) کے خطبے سے روایت نقل کی ھے، جس میں حضرت نے احوال وصفات ائمہ کو بیان کیا ھے۔ چونکہ کلام امام میں موجود خاص لطافت قابل توصیف نھیں ھے لہٰذا یھاں پر خود متن کا کچھ حصہ ذکر کرتے ھیں:
((عن اٴبی عبداللّٰہ علیہ السلام فی خطبة لہ یذکر فیھا حال الاٴئمة علیھم السلام و صفاتھم: إنّ اللّٰہ عز و جل اٴوضح باٴئمة الھدی من اٴھل بیت نبینا عن دینہ، و اٴبلج بھم عن سبیل منھاجہ، و فتح بھم عن باطن ینابیع علمہ، فمن عرف من اٴُمة محمد(ص) واجب حق امامہ، وجد طعم حلاوة ایمانہ، و علم فضل طلاوة اسلامہ، لاٴن اللّٰہ تبارک و تعالی نصب الامام علماً لخلقہ، و جعلہ حجة علی اٴھل موادہ و عالمہ، و اٴلبسہ اللّٰہ تاج الوقار، و غشاہ من نور الجبار، یمد بسبب الی السماء، لا ینقطع عنہ موادہ، و لا ینال ما عند اللّٰہ الا بجہة اسبابہ، و لا یقبل اللّٰہ اٴعمال العباد إلاّ بمعرفتہ، فهو عالم بما یرد علیہ من ملتبسات الدجی، و معمیّات السنن، و مشبّھات الفتن، فلم یزل اللّٰہ تبارک و تعالی یختارھم لخلقہ من ولد الحسین(ع) من عقب کل إمام یصطفیھم لذلک و یجتبیھم، و یرضی بھم لخلقہ و یرتضیھم، کلّ ما مضی منھم إمام نصب لخلقہ من عقبہ إماماً علما بیّناً، و ھادیاً نیّراً و إماماً قیّماً، و حجة عالماً، اٴئمة من اللّٰہ، یھدون بالحق و بہ یعدلون، حجج اللّٰہ و دعاتہ و رعاتہ علی خلقہ، یدین بھدیھم العباد و تستھل بنورھم البلاد، و ینمو ببرکتھم التلاد، جعلھم اللّٰہ حیاة للاٴنام، و مصابیح للظلام، و مفاتیح للکلام، و دعائم للإسلام، جرت بذلک فیھم مقادیر اللّٰہ علی محتومھا۔
 
فالإمام هو المنتجب المرتضی، و الھادی المنتجی، و القائم المرتجی، اصطفاہ اللّٰہ بذلک و اصطنعہ علی عینہ فی الذرّ حین ذراٴہ، و فی البریة حین براٴہ، ظلا قبل خلق نسمة عن یمین عرشہ، محبوّاً بالحکمة فی علم الغیب عندہ، اختارہ بعلمہ، و انتجبہ لطھرہ، بقیة من آدم (ع)و خیرة من ذریة نوح، و مصطفی من آل إبراھیم، و سلالة من إسماعیل، و صفوة من عترةمحمد(ص) لم یزل مرعیّاً بعین اللّٰہ، یحفظہ و یکلئہ بسترہ، مطروداً عنہ حبائل إبلیس و جنودہ، مدفوعاً عنہ وقوب الغواسق و نفوث کل فاسق، مصروفاً عنہ قوارف السوء، مبرّئاً من العاھات، محجوباً عن الآفات، معصوماً من الزّلات، مصوناً عن الفواحش کلھا، معروفاً بالحلم و البرّ فی یفاعہ، منسوباً إلی العفاف و العلم و الفضل عند انتھائہ، مسنداً إلیہ اٴمر والدہ، صامتاً عن المنطق فی حیاتہ۔
فإذا انقضت مدّة والدہ، إلی اٴن انتہت بہ مقادیر اللّٰہ إلی مشیئتہ، و جائت الإرادة من اللّٰہ فیہ إلی محبتہ، و بلغ منتھی مدة والدہ(ع) فمضی و صار اٴمر اللّٰہ إلیہ من بعدہ، و قلدہ دینہ، و جعلہ الحجة علی عبادہ، و قیمہ فی بلادہ، و اٴیّدہ بروحہ، و آتاہ علمہ، و اٴنباٴہ فصل بیانہ، و استودعہ سرّہ، و انتدبہ لعظیم اٴمرہ، و اٴنباٴہ فضل بیان علمہ، و نصبہ علماً لخلقہ، و جعلہ حجة علی اٴھل عالمہ، و ضیاء لاٴھل دینہ، و القیم علی عبادہ، رضی اللّٰہ بہ إماماً لھم…))۔[146]اگر چہ اس حدیث کا ھر جملہ مفصل تشریح کا طالب ھے، لیکن ھم یھاں بعض جملوں سے متعلق چند نکات ذکر کرتے ھیں:
الف۔پھلے جملے میں امام(ع) نے ائمہ ھدیٰ کو خطبے کا موضوع قرار دیا،کیونکہ امت کے لئے وجود امام کی ضرورت واضح ھے <یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اٴُنَاسٍ بِإِمَامِھِمْ >[147]اور امت کے امام کا امامِ ھدایت هونا ضروری ھے جیسا کہ خداوند متعال نے فرمایا:<وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اٴَئِمَّةً یَّھْدُوْنَ بِاٴَمْرِنَا>[148]،<إِنَّمَا اٴَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ>[149] اور امامِ ھدایت کی معرفت، معرفتِ ھدایت پر متوقف ھے۔معرفتِ ھدایت کے لئے اس موضوع سے متعلق قرآن مجید میں موجود ان آیات میں تدبر وتفکر ضروری ھے جن کی تعداد تقریبا دو سونوے ھے۔ اس مقدمے میں ان کی تشریح کرنا مشکل ھے، اس لئے کہ ھدایت، کمالِ خلقت ھے <قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْ اٴَعْطیٰ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہ ثُمَّ ھَدیٰ>[150]،<سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ اْلاٴَعْلیٰ ة اَلَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ة وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَھَدیٰ>[151] اور مخلوق میں ھر ایک کی ھدایت اس کی خلقت کے تناسب سے ھے۔ اب چونکہ خلقتِ انسان کی اساس احسن تقویم ھے،لہٰذا اس کی ھدایت بھی عالم امکان کا سب سے بڑا کمال اور اشرف المخلوقات کو عنایت کی جانے والی بزرگترین نعمت ھے۔<وَیُتِمَّ نِعْمَتَہ عَلَیْکَ وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا>[152]امام(ع)نے ((ائمہ ھدی)) فرما کر مقام امامت کی عظمت کو بیان فرمایا، بلکہ اھل نظر کے لئے تو امام کی خصوصیات کو واضح کردیا کہ ایسے ملزوم کے لئے کن لوازم کی ضرورت ھے۔ پھر اس اجمال کے بعد تفصیل بیان کی، دین میں امام کے کردار پر روشنی ڈالی کہ خداوند متعال نے اپنے قانون کی تفسیر کا حق ایسی مخلوق کو عطا نھیں کیا جن کی آراء میں خطا اور اختلاف پایا جاتا ھے، اس لئے کہ ان دو آفتوںسے تشریع دین کی غرض نقض هو جائے گی اور امت، نورِ ھدایت کی بجائے گمراھی کی تاریک وادیوں میں بھٹک جائے گی، بلکہ پروردگا رعالم نے اصول وفروع دین میں، انسان کے لئے پیش آنے والے مبھم نقاط کو ائمہ ھدیٰ کے ذریعے دور کیا ھے ((اٴن اللّٰہ عزوجل اٴوضح باٴئمة الھدی من اٴھل بیت نبینا عن دینہ))
ب۔چونکہ فطری تقاضے کے مطابق انسان اپنے خالق اورپروردگا ر عالم کی تلاش وجستجو میں ھے اور یہ فطرت راہ خداتک،جوکہ دین خدا ھے، پھنچے اور اس پر ثابت قدم رھے بغیر اپنے مقصد میں کامیاب نھیں هوسکتی <قُلْ ھٰذِہ سَبِیْلِی اٴَدْعُوْا إِلَی اللّٰہِ عَلیٰ بَصِیْرَةٍ اٴَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ>[153]اور چونکہ اشتباھات اور خواھشاتِ نفسانی جیسے راہ خدا سے منحرف کرنے والے اسباب او ر شیاطینِ جن وانس جیسے لٹیرے، ھر وقت موجود ھیں <وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہ)[154]، <اِشْتَرَوْا بِآیَاتِ اللّٰہ ثَمَنًا قَلِیْلاً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِہ إِنَّھُمْ سَآءَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ>[155] لہٰذا تکوین ِفطرت کی غرض یعنی خدا تک رسائی کے حصول اور دین کی سیدھی راہ، جو خدا تک رسائی کی راہ ھے، کی تشریع کے لئے، ایک ایسے ھادی ورھبر کی ضرورت ھے جس کے نور سے یہ ھدف ومقصد پایہٴ تکمیل تک پھنچ سکے ((وابلج عن سبیل منھاجہ))۔
ج۔انسان میں خلقتِ عقل کی غرض، علم ومعرفت کی حقیقت تک پھنچنا ھے اور ذاتِ انسان کی، خالقِ عقل وادراک سے یہ استدعا ھے کہ پروردگارا! ھر چیز کی حقیقت کو جیسی ھے ویسی ھی مجھ پر نمایاں کر دے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ھے کہ کھاں سے آیا ھے ؟ کھاں ھے؟ کس طرف جارھا ھے؟ اس کے وجود اور کائنات کا آغاز وانجام کیا ھے؟اور ادراکِ انسان کی یہ پیاس، علمِ الٰھی جیسے آبِ حیات کو حاصل کئے بغیر نھیں بجھ سکتی، ور نہ حکمت کا آخری مرحلہ بھی جو حیرةالکمل(کامل ترین افراد کے لئے مقام تحیر ھے) کا مقام ھے،اس کے سوا کچھ نھیںھے کہ انسان یہ جان لے کہ میںنھیں جانتا۔یھی وجہ ھے کہ ایک ایسے الٰھی انسان کے وجود کی ضرورت ھے جو علومِ الٰھی کے سرچشموں کا وارث هو، تاکہ تشنگانِ حقیقت اس کے ھاتھوں سیراب هوں اور خلقتِ عقل وادراک کی غرض حاصل هو، جیسا کہ امام نے ایک معتبر نص میں فرمایا ھے :((من زعم اٴن اللّٰہ یحتج بعبد فی بلادہ ثم یستر عنہ جمیع ما یحتاج إلیہ فقد افتری علی اللّٰہ))[156]
یقینا یہ سمجھنا کہ خداوند متعال کسی کو اپنے بندے پرحجت قرار دے اوروہ تمام چیزیں جن کی اسے ضرورت ھے، اپنی حجت سے چھپالے اور ان کا علم اسے عطا نہ کرے تو یہ ایک ایسی تھمت ھے جو لامتناھی علم،قدرت اور حکمت کی عدم شناخت کی بنا پر لگائی گئی ھے ۔ اسی لئے فرمایا:((و فتح بھم عن باطن ینا بیع علمہ))۔
د۔((والبسہ تاج الوقار))علم اور قدرت ھے جو امام کے سر پر وقار کا تاج ھے،((فدلالة الامام فیما ھی؟ قال:فی العلم واستجابة الدعوة))[157] اس لئے کہ انسان کے اضطراب اور پستی کی وجہ اس کا عجز اور اس کی جھالت ھے اور چوںکہ امام، کتاب خدا کا معلم ھے، جب کہ حدیث ثقلین کی صریح نص کے مطابق، کتاب خدا اور امام ایک دوسرے سے کبھی جدا نھیں هو سکتے اور اس آیت<وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ>[158] کے مطابق، قرآن ھر چیز کو بیان کرنے والا ھے،لہٰذا ممکن ھی نھیں ھے کہ وہ قرآن میں موجود تمام علوم پر احاطہ نہ رکھتا هو اور یہ بات اس معتبر حدیث سے ثابت ھے ((عن ابن بکیر عن ابی عبد اللّٰہ(ع) قال:کنت عندہ فذکرواسلیمان وما اٴعطی من العلم وما اٴوتی من الملک، فقال(ع) لی:وما اٴعطی سلیمان ابن داود إنما کان عندہ حرف واحد من الإسم الاٴعظم، وصا حبکم الذی قال اللّٰہ قل کفی باللّٰہ شھیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتاب، وکان واللّٰہ عند علیٍّ علم الکتاب، فقلت:صدقت واللّٰہ، جعلت فداک))امر اللہ سے مرتبط هونے کی بنا پر امام [159]مستجاب الدعوہ ھے اوراسی علم وقدرت کی وجہ سے تاجِ وقا ر، امام کے سر مبارک کی زینت ھے۔
ہ۔((وغشاہ من نور الجبار)) لفظ نور،اسم مقدس جبار کی طرف اضافہ هواھے۔اسماء الٰھی کی جانب اضافہ هونے والا ھر اسم اضافے کی وجہ سے اسی اسم کی خصوصیات کسب کرلیتاھے اور خداوند عالم جبار هونے کے ناطے ھر ٹوٹ پھوٹ کا مداوا کرنے والا ھے ((یا جابر العظم الکسیر))[160]، امام کے وجود کو نورِ جبار کے نور سے منور کیا گیا ھے تاکہ پیکرِ اسلام ومسلمین میں پڑنے والی دراڑوں کا اس نور کے ذریعے مداوا و ازالہ کرسکے۔
و۔((ائمة من اللّٰہ یھدون بالحق وبہ یعدلون)) امام وہ ھے جو خدا کے اختیار سے مختار، اس کے برگزیدہ کرنے سے مصطفی اور اس کے انتخاب سے امامت ورھبری کے لئے مجتبی ھے۔ اسی لئے ضروری ھے کہ ایک امام کی رحلت کے بعد پروردگار عالم دوسرا امام نصب کرے جو واضح علامت، راہِ دین کو روشن کرنے والا ھادی، سرپرستی کرنے والا رھبر اور صاحب علم حجت هو تاکہ خلقتِ انسان اور بعثتِ انبیاء کی غرض جو دو کلموںمیں خلاصہ هوتی ھے، حاصل هوسکے اور وہ دو کلمے،حق کی جانب ھدایت اور حق کے ساتھ عدالت کا برقرار کرنا ھے جو نظری اور عملی حکمت کا لب لباب اور انسان کے ارادے وعقل کا نقطہ کمال ھے اور ان دو کا تحقق سوائے ایسی عقل، جو ھر چیز کو اس کی حقیقت کے ساتھ جان لے، اور ایسے ارادے، جو ھر کام کو اس کی اصل وحقیقت کے مطابق انجام دے، کے بغیر نا ممکن ھے جو علمی اور عملی عصمت کا منصب ھے، لہٰذا فرمایا((اٴئمة من اللّٰہ یھدون بالحق وبہ یعدلون))
ز۔((اصطفاہ اللّٰہ بذلک واصطنعہ علی عینہ فی الذرحین ذراٴہ))امام وہ ھے جس کے گوھرِ وجود کو خود پروردگار عالم نے عالم ذرّ میں عرش کے دائیں بنایا، اپنی نگرانی میں اس کی تربیت فرمائی اور علم غیب کے ذریعے جو اس ذات مقدس کے علاوہ کسی اور کے پاس نھیں <إِلاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ>[161]اسے حکمت عطا کی ھے۔خلقت میں نسب کے اعتبار سے ذریت نوح کا بہترین، آل ابراھیم کا برگزیدہ، سلالہٴِ اسماعیل اور عترت محمد سے منتخب شدہ ھے۔
اس کا جسم تمام عیوب سے منزہ، جب کہ روح ھر قسم کی لغزش سے معصوم اور ھر گناہ سے محفوظ ھے۔
ابلیس، جس نے کھا تھا کہ <فَبِعِزَّتِکَ لَاٴُغْوِیَنَّھُمْ اٴَجْمَعِیْنَ ة إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ>[162] امام کی مقدس ذات سے اس قدرت کی وجہ سے دور ھے کہ<إِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ>[163]
((وصار اٴمر اللّٰہ إلیہ من بعد ))،وہ امر اللہ کو جو ایک امام کے بعد دوسرے کو نصیب هوتا ھے، چھٹے امام (ع)نے حدیث صحیحہ میں یوں بیان فرمایاھے :((إن اللّٰہ واحد متوحد بالواحدانیة، متفرد بامرہ فخلق خلقا فقدرہ لذلک الامر، فنحن ھم یابن ابی یعفور، فنحن حجج اللّٰہ فی عبادہ وخزانہ علی علمہ والقائمون بذلک ))[164]
ح۔((واٴیدہ بروحہ)) جس روح کے ساتھ خدا نے امام کی تائید فرمائی ھے یہ وہ روح ھے جسے ابو بصیر نے حدیث صحیحہ میں بیان کیا ھے :”میں نے ابی عبد اللہ(ع) کو یہ فرماتے هوئے سنا: <وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قَلِ الرُّوْحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی>[165]جو جبرئیل ومکائیل سے بھی اعظم مخلوق ھے۔ گذشتگان میں سے محمد(ص) کے علاوہ کسی اور کو عطانھیں کی گئی اور وہ روح اب ائمہ کے پاس ھے جو استقامت وثابت قدمی میں ان کی مدد کرتی ھے…۔”[166]
((وآتاہ علمہ ))اور اسے اپنا علم عطا فرمایا ھے۔امام محمد باقر(ع) سے مروی صحیح نص کے مطابق خدا کے دو علم ھیں، ایک علم وہ ھے جسے اس کی ذات کے علاوہ کوئی دوسرا نھیں جانتا اور دوسرا علم وہ ھے جسے اس ذات اقدس نے ملائکہ وپیغمبران علیھم السلام کو تعلیم فرمایا ھے اور جس علم کی ملائکہ وانبیاء علیھم السلام کو تعلیم دی ھے، امام اس سے آگاہ ھے۔[167]
((واستودعہ سرہ))اور اپنا راز اس کے سپرد کیا ھے۔ صحیح حدیث کے مطابق امام ابوالحسن (ع)نے فرمایا:”خدا نے اپنا راز جبرئیل(ع) کے سپرد کیا، جبرئیل نے محمد(ص) کے سپرد کیا اور محمد(ص)نے اس کے سپرد کیا جس کے بارے میں خود خدا نے چاھا۔”[168]
ط۔((رضی اللّٰہ بہ إماما لھم))اس میں کسی قسم کے شک وتردید کی گنجائش نھیں کہ امت کو امام کی ضرورت ھے اور امت کے امام کا خدا کا مورد پسند هونا ضروری ھے۔ وہ خدا جو علم وجھل میں سے علم کو پسند فرماتا ھے<قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ>[169]،سلامتی وآفت میں سے سلامتی کو پسند فرماتا ھے<یَھْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہ سُبُلَ السَّلَامِ >[170]، حکمت وسفاہت میں سے حکمت کو پسند فرماتا ھے<یُوٴْتِی الْحِکْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّوٴْتَ الْحِکْمَةَ فَقَدْ اٴُوْتِیَ خَیْراً کَثِیْرًا>[171]، عدل وفسق میںسے عدل کو پسند فرماتا ھے<إِنَّ اللّٰہَ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ>[172]، حق وباطل میں سے حق کو پسند فرماتا ھے <وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقاً>[173]، اورصواب وخطا میں سے صواب کو پسند فرماتا ھے<لَاَ یَتَکَلَّمُوْنَ إِلاَّ مَنْ اٴَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا>[174]، امت کی اطاعت کے لئے بھی یقینا اس کو پسند فرمائے گا جس کی امامت علم، عدل، سلامتی، حکمت، صواب، حق او رھدایت کی امامت هو۔ ساتھ اس کے کہ بہترین کا انتخاب کرنا خدا کے نزدیک پسندیدہ ھے <اَلَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبُعُوْنَ اٴَحْسَنَہ>[175]، بہترین کو ھی حاصل کرنے کاحکم فرمایاھے<وَاٴْمُرْ قَوْمَکَ یَاٴْخُذُوْا بِاٴَحْسَنِھَا>[176]اور بہترین قول کا حکم دیا ھے <قُلْ لِّعُبَادِی یَقُوْلُوا الَّتِیْ ھِیَ اٴَحْسَنُ>[177] اور مجادلے کے وقت بہترین طریقے سے گفتگو کرنے کا حکم فرمایا ھے <وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اٴَحْسَنُ>[178]اور رد کرتے وقت، بہترین طریقے سے رد کرنے کی تلقین فرمائی ھے <اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اٴَحْسَنُ>[179] اور جو خود ھی احسن جزا دینے والا ھے <وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اٴَجْرَھُمْ بِاٴَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُوْنَ>[180]اور جو خود بہترین حدیث نازل کرنے والا ھے<اَللّٰہُ نَزَّلَ اٴَحْسَنَ الَحَدِیْثِ>[181]، کیا ممکن ھے امت کی امامت کے لئے اکمل، افضل، اعلم،اعدل اوراس احسن حدیث میں موجود تمام صفات کے مالک کے علاوہ کسی او ر کو پسند فرمائے؟!
جب احسن کی اتباع کے حک کا لازمہ یہ ھے کہ احسن کی پیروی هو تو کیسے ممکن ھے کہ پروردگار عالم کسی غیر احسن کی امامت وپیروی سے راضی هوجائے ؟!
<وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ>[182]اور اسی لئے فرمایا:((وانتدبہ بعظیم اٴمرہ واٴنباٴہ فضل بیان علمہ ونصبہ علما لخلقہ وجعلہ حجة علی اٴھل عالمہ وضیاء لاٴھل دینہ والقیم علی عبادہ رضی اللّٰہ بہ إماما لھم ))۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.