نواب اربعہ اوران کے ماتحت افراد کے امور میں رابطہ کا بنیادی کردار

264

عصر غيبت صغري ميں يہ رابطے کا کردار امام عليہ السلام کي غيبت کي وجہ سے اہم مقام کا حامل ہوا؛ کيونکہ اس دور ميں ناحيہ مقدسہ کے سفير شيعوں کے حضرت مہدي عليہ السلام کے وجود شريف سے رابطہ کا واحد ذريعہ تھے۔البتہ بہت کم ایسے موارد بھی ہيں کہ یہ روابط آنحضرت کے مخصوص قاصدوں کے ذريعہ برقرار ہوئے تھے کہ اس کا ايک نمونہ قم کےوفد کی حکایت پر اشارہ کيا جا سکتا ہے۔
عصر غيبت صغري ميں توقيع نويسي ،امام کا شیعوں سے رابطے کا ذریعہ
عصر غيبت صغري ميں ناحيہ مقدسہ سے رابطہ کا عام اور رائج ترين ذريعہ شيعوں کے لئے ناحيہ مقدسہ کي طرف سے صاد رشدہ توقيعات تھيں۔ توقيع ايک ايسا مکتوب تھا جو سطروں کے درميان نوشتہ يا ان کے ذيل ميں سوالات کے جوابات کی صورت میں ذکرہوتي تھي۔البتہ يہي توقيعات کا صدور اس دور کے شيعہ معاشرہ کي مشکل برطرف کرنے کا اہم ذريعہ بھي تھا۔ ناحيہ مقدسہ کي توقيعات زيادہ تر نواب اربعہ کے ذريعہ شيعوں تک پہنچتي تھيں۔ليکن بعض موارد ميں بعض ممتاز وکلاءبھي يہ صلاحيت رکھتے تھے کہ توقيع کے صدور کا سبب بنيں ،مثلاً محمد بن جعفر اسد ي رازي جو ري کے علاقے ميں ناحيہ مقدسہ کےنماياں وکيل[1] اور قاسم بن علاء آذر بائيجاني جو آذربائيجان [2]کے علاقہ ميں وکيل تھے، انکي طرف اشارہ کيا جاسکتاہے۔
توقيع کے اندر معمولاً مندرجہ ذيل موارد ميں سے کوئی ايک مورد ہوتا تھا ؛ شيعہ ملت میں اختلافات[3] اور شکوک و شبہات کا برطرف کرنا، وکيلوں کو وکالت کے منصب پر فائز کرنا[4] ، غدار وکيلوں کي معزولي کا اعلان[5] ٬ نيابت اور بابيت کے جھوٹے دعويداروں پر لعن کا اعلان[6]٬ شرعي سوالات کا جواب[7]،شيعوں کي خاص مشکلات کا حل جيسے گھريلو مشکلات[8] اور وکيلوں کو احکامات دینا وغیرہ۔[9]
بلاشبہ مذکورہ دو کردار کے ساتھ ساتھ نيابت اوروکالت کا عہدہ ٬ شيعوں کي ہدايت٬ رہنمائي اورارشاد کا بھي ذمہ دار تھا۔ بالفاظ ديگر٬ ناحيہ مقدسہ کے سفراء اور وکلاء کي اصلي ذمہ داري شيعوں کو خالص امامت کي طرف ارشاد و رہنمائي، عباسي حکام کي شیطانی سازشوں سے نجات دينا اورانہيں حيراني و سرگرداني سے چھٹکارا دلانا نیزنيابت کے جھوٹے دعويداروں کے دعووں اور بعض نيابتوں کے قالب ميں سابقہ اصحاب کي غداري سے بچاناتھا۔
[1] ۔رجال شيخ طوسي ٬ نجف٬ مکتبۃ الحيدريۃ٬ ١٣٨٠ ھ ق؛ ص٤٩٦؛ الغيبۃ ٬ ص٢٥٧؛ تنقيح المقال ٬ علامہ مامقاني ٬ نجف ٬ مکتبۃ المرتضويۃ٬ ١٣٥٧ ھ ق ٬ ج٢ ٬ ص٩٢ ٬ص٩٢ ٬ از ابواب فاء.
[2] ۔بحارالانوار٬ ج٥١ ٬ ص٣٠٣.
[3] ۔الغيبۃ ٬ ص١٧٨.
[4] ۔وہي منبع ٬ صص١٧٠ و ١٩٢.
[5] ۔وہي منبع ٬ صص١٧٤ و ١٨٧ ؛رجال کشي ٬ ص٤٥٠.
[6] ۔وہي منبع.
[7] ۔کمال الدين و تمام النعمۃ ٬ صص٣٨٢ و٤٠٧.
[8] ۔الغيبۃ٬ صص ٬ ١٨٤ ٬ ١٨٥ و ١٩٧؛ الارشاد٬ شيخ مفيد ٬ بيروت ٬ مؤسسۃ الاعلمي ٬ ١٤١٠ ھ ق ٬ ص٣٣٢.
[9] ۔الغيبۃ ٬ صص٢٤١۔٢٤٢.
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.