علی (ع) کا اقتدار، مظلومیت اور سرخروئی
امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی زندگی میں تین عناصر اقتدار، مظلومیت اور سرخروئی نمایاں نظر آتے ہیں۔ ظاہراً یہ تین عناصر آپس میں کوئی خاص مطابقت نہیں رکھتے، مگر امیرالمومنین کی زندگی میں یہ تین عناصر نمایاں ہیں۔ اگر امیر المومنین (ع) کے اقتدار کی بات کی جائے تو مشکل ترین و نازک ترین جنگی حالات اور افکار و اذہان کو اسلام کے بلند پایہ مفاہیم سے روشناس کرانے کے مواقع پر آپ کا مضبوط ارادہ اور عزم راسخ آپ کے اقتدار کی گواہی دیتے ہیں۔ آپ کے اقتدار کی بات انسانی تربیت کے شعبے میں کی جائے تو مالک اشتر، عمار، ابن عباس اور محمد ابن ابی بکر جیسی عالم اسلام کی بلند پایہ شخصیات آپ کے اقتدار کی گواہ بن جاتیں ہیں۔ آپ تاریخ بشر میں ایک عظیم تحریک کے بانی قرار پائے کہ جس کی انتہا حکومت جہانی مہدی موعود علیہ السلام ہے۔ یہ سب آپ کے عظیم اقتدار کا مظہر ہے۔ اگر آپ کے اقتدار کو نام دیا جائے تو آپ کا اقتدار منطقی اقتدار، افکار کا اقتدار، سیاسی اقتدار، حکومت اور شجاعت کا اقتدار تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ علی ابن ابی طالب (ع) تاریخ بشر کی مظلوم ترین شخصیت ہیں۔ آپ اپنی زندگی کے ہر دور میں مظلوم رہے۔ علی ابن ابی طالب (ع) وہ شخصیت ہیں جن کی نوجوانی مظلومانہ گزری، جوانی مظلومانہ گزری، پیامبر گرامی (ص) کے بعد اور خلافت کا دور سب ہی علی (ع) کی مظلومیت کی داستان ہے، حتی امیرالمومنین (ع) تاریخ کی وہ مظلوم شخصیت ہیں جن کی مظلومیت ان کی شہادت کے بعد بھی جاری رہی۔ شہادت کے بعد کئی سالوں تک مسلمانوں کے منبروں پر اسلام کے اس شریک بانی پر سب و شتم ہوتا رہا۔ تاریخ اسلام میں دو شخصیات ایسی ہیں جنہیں ثاراللہ کہا گیا ہے۔ ثاراللہ یعنی کیا؟ جب کسی کو ظلم کے ساتھ قتل کر دیا جائے تو اس کے ورثا اس کے خون کے وارث ہوتے ہیں۔ اس کے ورثا اس مقتول کے خون کا بدلہ لینے کا حق رکھتے ہیں۔ ثار یعنی خون کا بدلہ لینے کا حق رکھنے والا، اگر کوئی کسی خاندان کا ثار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اپنے خاندان کے مقتول کے خون کا بدلہ لینے کا حق رکھتا ہے۔ تاریخ اسلام میں دو شخصیات ایسی ہیں جن کے خون کا بدلہ لینے والا خود خدا ہے۔ یہ دو شخصیات امام حسین (ع) اور آپ کے بابا امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (ع) ہیں۔ (یا ثاراللہ وابن ثارہ)۔ امام علی (ع) کی زندگی میں تیسرا نمایاں عنصر سرخروئی ہے۔ امیرالمومنین کی سرخروئی یہی کہ آپ (ع) کی زندگی میں آپ کے سامنے جتنے محاذ کھڑے کیے گئے، آپ (ع) ان میں سرخرو رہے۔ دشمن سخت ترین محاذ کھڑے کرنے کے باوجود علی ابن ابی طالب (ع) کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کرسکے، بلکہ وہ دشمن تھے کہ شکست جن کا مقدر بنی۔ آپ (ع) کی شہادت کے بعد آپ کی شخصیت آہستہ آہستہ واضح تر ہوتی گئی۔ آج اگر دنیا میں نظر دوڑائی جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ سینکڑوں غیر مسلم دانشمند علی ابن ابی طالب (ع) کو تاریخ بشریت کا درخشاں چہرہ مانتے ہیں۔ اس طرح اس گوہر تابناک کا آشکار ہونا اس اجر کے نتیجے میں ہے، جو خداوند متعال نے انہیں ان کی مظلومیت کے بدلے عنایت کیا ہے۔ وہ مظلومیت جو علی نے گزاری، اس خورشید خدا پر اچھالا جانے والا کیچڑ، عجیب و غریب تہمتیں جو آپ پر لگائی گئیں اور ان کے مقابلے میں علی ابن ابی طالب (ع) کا صبر عظیم اجر کا مستحق تھا، جو خدا نے انہیں عطا کیا۔ اجر یہ کہ طول تاریخ بشر میں کوئی ایسی شخصیت نہیں ملے گی جو اتنی درخشاں اور سب انسانوں میں مقبول ہو۔ علی ابن ابی طالب (ع) کے بارے لکھی جانے والی جن کتابوں کے بارے ہم جانتے ہیں، ان میں سے عاشقانہ ترین غیر مسلم دانشمندوں نے لکھی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک وقت میں تین عیسائی دانشمندوں نے علی ابن ابی طالب (ع) کے بارے بہت عاشقانہ کتابیں لکھیں۔ اس عقیدت اور عشق کا آغاز شہادت کے دن سے ہی ہوگیا تھا، شہادت کے بعد سے ہی اس نور خدا کو بجھانے کی کوششیں شروع ہوگئیں اور آپ (ع) پر کیچڑ اچھالا جانے لگا، ان سب کو شامی حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی اور یہ سب وہ لوگ تھے جن کا دل علی ابن ابی طالب (ع) کی عدل و انصاف کی تلوار سے خون ہوچکا تھا۔ یہاں اس کا ایک نمونہ بیان کرنا چاہیں گے کہ کس طرح یہ خورشید خدا ہر دور میں بنو امیہ کی سازشوں کے باوجود اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا رہا۔ عبداللہ ابن عروہ ابن زبیر کے بیٹے نے اپنے باُپ عبداللہ کے سامنے امیرالمومنین (ع) کو نازیبا الفاظ سے یاد کیا (مصعب ابن زبیر کے علاوہ زبیر کا سارا خاندان علی (ع) سے عناد رکھتا تھا) جب عبداللہ ابن عروہ ابن زبیر کے بیٹے نے عبداللہ کے سامنے علی ابن ابی طالب (ع) کی شان میں گستاخی کی تو اس کے باپ عبداللہ نے ایک جملہ کہا جو کسی کے حق میں تو نہیں لیکن اس میں بہت اہم نکتہ پنہان ہے جو میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ عبداللہ نے اپنے اس بیٹے سے کہا (واللہ ما بنی الناس شیا قسط الا ھدمہ الدین ولا بنی الدین شیا فاستطاعت الدنیا ھدمہ) یعنی ہر وہ شے کہ جس کی بنیاد دین پر استوار کی گئی ہو تو اہل دنیا جو بھی کر لیں اسے نہیں مٹا سکتےِ، یعنی یہ کہ مفت میں علی (ع) کی شخصیت کو مٹانے کی کوشش نہ کریں چونکہ علی (ع) کی شخصیت کی بنیاد دین پر استوار ہے۔ اس کے بعد عبداللہ کہتا ہے کہ (الم ترا الی علی کیف تظھر بنو مروان من عیبہ و ذمہ واللہ لکانمہ یاخذون بناصیہ رفعا الی السما) یعنی بنو مروان نے کس طرح جو وہ کرسکتے تھے کیا، ہر مناسبت پر، ہر منبر پر علی ابن ابی طالب (ع) کی ذات کی بدگوئی اور عیب گوئی کی مگر ان کی یہی بدگوئی اور عیب گوئی علی (ع) کی شخصیت کو درخشاں تر اور روشن تر کرتی چلی گئی، یعنی ان کی بدگوئی اور عیب جوئی نے لوگوں کے اذہان میں برعکس اثر کیا، جبکہ اس کے مقابلے میں (وما تری مایندبون بہ موتا ھم من المدح واللہ لکانما یکشفون بہ عن الجیف) بنو مروان اپنے آباواجداد کی تعریف و تمجید کرتے، ان کے فضائل بیان کرتے مگر جتنی زیادہ تعریف کرتے لوگوں کی ان سے نفرت بڑھتی چلی جاتی۔ عبداللہ یہ بات اس وقت کہہ رہا ہے جب علی ابن ابی طالب (ع) کی شہادت کو تیس سال گزر چکے ہیں۔ یعنی امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع) کو تمام مظلومیت کے باوجود ہر دور کی تاریخ کے اوراق اور انسانیت کے اذہان نے زندگی کے ہر دور میں سرخرو لکھا ہے۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع) کا مظلومیت کے ساتھ آمیختہ اقتدار آپ (ع) کی سرخروئی پر منتہی ہوا۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ امیرالمومنین (ع) کے مختصر دوران حکومت جو کہ پانچ سال سے زیادہ نہیں تھا، میں اقتدار اور مظلومیت کا سفر جو سرخروئی پر منتج ہوا تین محاذوں سے نبرد کا سفر تھا۔ تاریخ نے ان محاذوں کو قاسطین، ناکثین اور مارقین کے محاذ کے نام سے قلمبند کیا ہے۔
علی ابن ابی طالب (ع) کی اقتدار اور مظلومیت سے آمیختہ زندگی جو امیرالمومنین کی سرخروئی پر منتج ہوئی میں آپ (ع) کو تین محاذوں پر نبرد ہونا پڑا، قاسطین، ناکثین اور مارقین۔ یہ وہ اصطلاحات ہیں جو سنی اور شیعہ کتابوں میں خود حضرت علی (ع) سے نقل ہوئی ہیں۔ امیرالمومنین (ع) فرماتے ہیں (امرت ان اقاتل الناکثین و القاسطین والمارقین)۔ قاسطین یعنی ستمگران (ستم کرنے والے) امیرالمومنین (ع) نے ان کو ستم گر کہہ کر پکارا ہے۔ یہ لوگ کون تھے ؟ یہ وہ گروہ تھا جنہوں نے ظاہری طور پر اسلام کو قبول کیا ہوا تھا لیکن حکومت علوی کے سرے سے مخالف تھے۔ حضرت علی (ع) نے ان کو سمجھانے کی جو بھی کوشش کی ثمر آور ثابت نہ ہو سکی۔ البتہ یہ لوگ بنی امیہ کی حکومت کے گرد جمع تھے۔ اس گروہ کے معروف افراد میں سے خود معاویہ، مروان اور ولید بن عقبہ جیسے افراد تھے۔ یہ لوگ حضرت علی (ع) کی حکومت کے آغاز سے ہی محاذ آرائی پر ڈٹ گئے۔ شروع میں مغیرہ بن شعبہ اور عبداللہ بن عباس اور کچھ اور افراد نے حضرت (ع) کو مشورہ دیا کہ حکومت مضبوط ہونے تک ان لوگوں کو ساتھ رکھا جائے مگر حضرت علی (ع) نے قبول نہ کیا۔ یہ لوگ خیال کرنے لگے کہ حضرت علی (ع) کو سیاست کے داوو پیچ نہیں آتے مگر بعد کے حوادث نے ثابت کیا کہ ان لوگوں کا یہ گمان غلط تھا۔ حضرت علی (ع) نے جتنی بھی کوشش کی معاویہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ثمر بار نہ ہو سکی۔ اس طرز فکر کے لوگوں کو سرے سے علوی حکومت قبول ہی نہ تھی۔ معاویہ کے مسلمان ہونے سے اس دن تک جب اس نے علی (ع) کے ساتھ جنگ کا ارادہ کیا ابھی تیس سال نہیں گزرے تھے۔ معاویہ اور اس کے ساتھیوں نے سالوں شام میں حکومت کی، وہ لوگ وہاں نفوذ پیدا کر چکے تھے، فوجی چھاونی بنا چکے تھے اب یہ ان ابتدائی دنوں کی طرح نہیں تھے کہ کوئی ان کو کہے تم لوگ تازہ مسلمان ہو بلکہ یہ لوگ اب بہت اثر و رسوخ پیدا کر چکے تھے۔ لہذا یہ لوگ اب علوی حکومت کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے۔ یہ لوگ چاہتے تھے حکومت ان کے پاس ہو اور پھر حکومت ان لوگوں کو ملی بھی، اور تاریخ کے اوراق ان کے طرز حکومت کے گواہ ہیں۔ وہی معاویہ جو علی (ع) سے رقابت کے دوران بعض اصحاب سے محبت اور الفت ظاہر کرتا ہے جب حکومت اس کے ہاتھ لگ جاتی ہے تو بدترین سلوک روا کرتا ہے، اور پھر نوبت یزید کے دور اور حادثہ کربلا تک جا پہنچتی ہے، پھر مروان، عبدالملک، حجاج بن یوسف ثقفی اور یوسف بن عمر ثقفی کے بدترین دور حکومت تک جا پہنچتی ہے۔ یہ سب ان لوگوں کی حکومت کا ثمر ہے۔ یعنی وہ حکومت کہ جس کے جرائم نقل کرتے ہوئے تاریخ کا قلم بھی لرز جائے وہی حکومتیں ہیں کہ جن کی بنیاد معاویہ نے رکھی اور اسی چیز پر علی ابن ابی طالب (ع) سے جنگ کی۔ آغاز سے ہی معلوم تھا کہ یہ لوگ جس چیز کے پیچھے ہیں وہ ایک دنیاوی حکومت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، ایسی حکومت جس کی بنیاد خود پرستی اور ذاتی خواہشات پر ہو، وہی چیزیں جو بنی امیہ کی حکومت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہاں ہمارا مقصود کلامی اور عقیدتی بحث نہیں ہے بلکہ یہ وہ مسلمات ہیں جو سنی شیعہ کتب میں نقل ہوئی ہیں۔ دوسرا محاذ جس پر علی ابن ابی طالب (ع) کو نبرد ہونا پڑا ناکثین کا محاذ تھا۔ ناکثین یعنی توڑنے والے، یہاں ناکثین سے مراد بیعت توڑنے والے ہیں۔ اس گروہ نے پہلے علی ابن ابی طالب (ع) کی بیعت کی اور بعد میں بیعت توڑ دی۔ یہ لوگ مسلمان تھے اور پہلے گروہ کے برعکس مستقل حیثیت کے حامل تھے۔ یہ لوگ صرف اس حد تک حکومت علوی کو قبول کرتے تھے کہ حکومت میں ان کا قابل قدر حصہ ہو، یہ چاہتے حکومتی امور میں ان سے مشورہ لیا جائے، انہیں حکومتی عہدے دئیے جائیں ، حکومت میں شریک ہوں اور وہ مال و ثروت جو ان کے پاس ہے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔ یہ گروہ حکومت علوی کو قبول کرتا تھا مگر اس شرط کے ساتھ کہ ان سے اس مال و ثروت کے بارے جو ان کے پاس ہے کو ئی سوال نہ کیا جائے، نہ پوچھا جائے یہ مال و ثروت کہاں سے ؟ کیسے اور کیوں اکھٹا ہوا؟ یہ مال و ثروت کیوں کھا رہے ہو ؟ کیوں لے جا رہے ہو؟ اس کا اصل مالک کون ہے؟ اور اس طرح کے دوسرے سوال نہ کئے جائیں۔ لہذا یہ لوگ حضرت علی (ع) کی حکومت کے ابتدا میں آتے اور بیعت کر لیتے ہیں، البتہ ان میں سے بھی بعض افراد شروع سے ہی بیعت نہیں کرتے جیسا کہ سعدابن ابی وقاص وغیرہ۔ اس گروہ میں سے جو لوگ آغاز میں بیعت کرتے ہیں ان میں سے طلحہ، زبیر اور کچھ اور سرداران عرب شامل تھے لیکن جب حکومت علوی کو تین چار ماہ گزرے تو ان کو محسوس ہونے لگا کہ کہ جن اہداف اور مقاصد کے لیے یہ لوگ آئے تھے وہ اس حکومت سے حاصل نہیں ہو سکتے، چونکہ علی ابن ابی طالب (ع) کی حکومت ایسی حکومت ہے جو دوست و رفیق کو نہیں جانتی، اپنے لیے کسی حق کی قائل نہیں ہے، اپنے خاندان کے لیے کسی امتیاز کی قائل نہیں ہے، وہ لوگ جنہوں نے اسلام لانے میں سبقت حاصل کی ان کے لیے کسی امتیاز کی قائل نہیں ہے، اس حکومت کے لیےاحکام الہی کا اجرا سب سے اہم ہے اور اس اجرا میں لچک نہیں ہے۔ جب اس گروہ نے یہ سب کچھ دیکھا تو سمجھ گئے کہ ان کے مقاصد اس حکومت میں ممکن نہیں، لہذا یہ لوگ بیعت توڑ دیتے اور جنگ جمل کا سا فتنہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ جمل حقیقت میں اسلام کے لیے ایک بڑا فتنہ تھا۔ یہ لوگ ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کو ساتھ ملاتے اور جنگ جمل کا فتنہ کھڑا کر دیتے ہیں جس میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہہ جاتا ہے۔ البتہ امیر المومنین ع سرخرو رہتے ہیں اور اس قضیہ کو صاف کر دیتے ہیں۔ یہ وہ دوسرا محاذ تھا جس نے علی ابن ابی طالب ع کو کچھ عرصہ کے لیے مصروف رکھا۔
علی ابن ابی طالب (ع) کی مقتدرانہ مگر مظلومانہ زندگی کا سفر جو آپ کی سرخروئی پر منتج ہوا، تین محاذوں پر نبرد کا سفر تھا۔ تیسرا محاذ مارقین کا محاذ تھا۔ مارقین یعنی گریز کرنے والے۔ حضرت علی (ع) نے اس گروہ کو مارق اس لیے کہا کہ یہ لوگ دین سے اس طرح گریزاں تھے جیسے کمان سے نکلا ہوا تیر کمان سے گریزاں ہو جاتا ہے۔ جب آپ تیر کو کمان میں رکھ کر اپنی طرف کھینچ کر چھوڑتے ہیں تو وہ کتنی تیزی سے کمان سے نکلتا اور دور ہوتا چلا جاتا ہے، یہ گروہ اسی طرح دین سے گریزاں ہوگیا تھا البتہ یہ گروہ ظاہراً دین سے تمسک رکھتا تھا اور دین کا نام بھی استمال کرتا تھا۔ یہ گروہ خوارج کا گروہ تھا، ایک ایسا گروہ جس نے اپنے کاموں کی بنیاد انحرافی فہم و ادراک (کہ ایک بہت خطرناک چیز ہے) پر رکھی۔ ان لوگوں نے دین کو علی ابن طالب (ع) جو کہ مفسر قرآن اور کتاب خدا کے عالم تھے، سے نہ لیا بلکہ اپنے دین کی بنیاد اپنی غلط پسند و ناپسند پر رکھی۔ البتہ اس طرح کے افراد معاشرے میں موجود رہتے ہیں لیکن اس طرح کے افراد کا گروہ بنا لینا، منظم ہو جانا یا آج کی اصطلاح میں تنظیم یا جماعت بنا لینا، ایک خاص پالیسی کی اقتضا کرتا ہے اور وہ پالیسی کسی اور جگہ سے امپورٹ ہوتی ہے۔ اہم بات یہ کہ جیسے ہی آپ نے کوئی بات کی، اس گروہ کے افراد مقابلے میں آیہ قرآن لاتے ہیں، امیرالمومنین کی نماز جماعت کے وسط میں آتے اور آیہ قرآن پڑھتے ہیں، تاکہ امیرالمومنین (ع) کو نعوذ باللہ رسوا کیا جائے، علی ابن ابی طالب (ع) کے منبر کے سامنے کھڑے ہوتے اور آیہ قرآن پڑھتے ہیں، تاکہ علی (ع) کو نعوذباللہ رسوا کیا جائے۔ اس گروہ کا نعرہ (لاحکم الا للہ) تھا۔ یعنی ہم آپ کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، یہ افراد کہ جن کا ظاہر اس طرح کا تھا ان کی سیاسی راہنمایی قاسطین اور حکومت شام کے رہبران کیا کرتے تھے، یعنی عمرو عاص اور معاویہ کیا کرتے تھے۔ کچھ سادہ لوح اور فکری طور پر ضعیف افراد اس گروہ کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ یہ وہ تیسرا گروہ تھا جس کے ساتھ علی ابن ابی طالب (ع) کو نبردآزما ہونا پڑہا، البتہ علی ابن ابی طالب (ع) اس محاذ پر بھی سرخرو رہتے ہیں اور جنگ نہروان میں اس گروہ پر کاری ضرب لگاتے ہیں۔ خوارج کی پہچان میں بعض افراد اشتباہ کر بیٹھتے ہیں اور ان کو خشک مقدس نماوں سے تشبیہ دیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے، خشک مقدس نما افراد معاشرے میں گوشہ نشینی کرتے ہیں اور اپنے نماز روزے سے سروکار رکھتے ہیں، یہ افراد خوارج نہیں ہیں، خوارج وہ ہیں جو شورش برپا کرتے ہیں، بحران ایجاد کرتے ہیں، میدان میں اترتے ہیں، کنارہ کشی نہیں کرتے، علی (ع) جیسی شخصیت کے ساتھ جنگ کو ہوا دیتے ہیں اور جنگ کرتے ہیں، لیکن ان کے اس کام کی بنیاد غلط ہوتی ہے، جنگ جو شروع کرتے ہیں وہ باطل ہوتی ہے، جس وسیلے سے استفادہ کرتے ہیں وہ باطل ہوتا ہے، ہدف باطل ہوتا ہے۔ پیامبر گرامی اسلام (ص) اور علی ابن ابی طالب (ع) کے دوران حکومت میں فرق یہ تھا کہ پیامبر گرامی (ص) کے دور حکومت میں صفیں مشخص تھیں، ایمان اور کفر کی صفیں، پیامبر گرامی (ص) کے زمانے میں منافقین کا وجود تھا کہ قرآن مسلسل ان کی تکذیب کرتا رہتا، ان کے مقابلے میں مومنین کی حوصلہ افزائی کرتا، یعنی پیامبر گرامی (ص) کے دور حکومت میں سب چیزیں واضح تھیں، ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑی ہونے والی صفیں مشخص تھیں، ایک صف میں کفر، طاغوت اور جاہلیت کے پیروکار کھڑے ہوتے تو مقابلے میں ایمان، اسلام، توحید اور معنویت کے پیروکار کھڑے ہوتے، البتہ پیامبر گرامی (ص) کے دور میں بھی ہر طرح کے افراد موجود تھے لیکن ایکدوسرے کے مقابلے میں کھڑی صفیں مشخص تھیں۔ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (ع) کے دور حکومت میں یہ صفیں مشخص نہیں تھیں، اس لیے کہ ان گروہوں میں طلحہ و زبیر جیسے چہرے شامل تھے کہ ہر کوئی ان کے مقابلے میں کھڑا ہونے میں شک و تردید کا شکار تھا۔ زبیر وہ شخص تھا جو پیامبر گرامی (ص) کے زمانے میں ایک برجستہ و نمایاں شخصیت، پیامبر گرامی (ص) کا پھوپھی زاد اور آپ (ص) کے نزدیکی ساتھیوں میں سے تھا۔ حتی پیامبر گرامی (ص) کے بعد بھی ان میں سے تھا جنہوں نے سقیفہ میں علی ابن ابی طالب (ع) کے دفاع میں اعتراض کیا۔ (دعا کیا کریں خدا ہم سب کی عاقبت بخیر کرے) بعض اوقات دنیا طلبی، مختلف حوادث، دنیا کے جلوے انسان پر اس طرح کا اثر چھوڑتے ہیں کہ خواص بھی شک و تردید کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ دور بہت سخت تھا۔ اس دور میں جو علی ابن ابی طالب (ع) کے ساتھ رہے اور جنگوں میں شرکت کی بہت زیادہ بصیرت کے حامل تھے۔ امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں (ولا یحمل ھذا العلم الا اھل البصر والصبر) (اس مبارزے کے علم کو آگاہ اور بابصیرت لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں اٹھا سکتا) پہلے مرحلے میں بصیرت ضروری ہے۔ امیر المومنین (ع) کے دشمن منحرف تھے مگر اسلام کے دعوے کے ساتھ میدان میں اترتے، اسلام کی آڑ میں جنگ کرتے۔ پیامبر گرامی اسلام (ص) کے دور میں بھی غلط افکار بہت زیادہ تھے مگر جیسے ہی غلط افکار معاشرے میں سر اٹھاتے آیہ قرآن نازل ہوتی اور ان افکار کو رد کر دیتی، اگر آپ سورہ بقرہ پر غور کریں تو تمام سورہ پیامبر گرامی (ص) کی راہ میں کھڑی کی جانے والی منافقین و یہود کی سازشوں کی وضاحت ہے۔ اسی طرح سورہ مبارکہ اعراف کہ پیامبر گرامی (ص) کے دور کے خرافات سے مقابلہ کرتی ہے۔ مثلاً اسی سورہ کی آیہ ۳۳ میں خدا ارشاد فرماتا ہے کہ (قل انما حرم ربی الفواحش ما ظہر منہا وما بطن) ( اے پیامبر کہہ دو میرے پروردگار نے صرف فحش کام کو چاہے آشکار ہو یا پنہان حرام قرار دیا ہے) یعنی حرام وہ ہے جسے خدا نے حرام کیا ہے، نہ وہ کہ جسے تم نے حرام قرار دیا ہے کہ سائبہ (وہ اونٹ جو بتوں کی نذر کے لیے آزاد کر دیا جاتا ہے) اور بحیرہ (وہ اونٹنی جس نے پانچ دفعہ بچے دیئے ہوں اور آخری بچہ نر ہو) کو حرام قرار دیتے رہے ہو۔ قرآن اس طرح کے خرافات اور باطل افکار سے مقابلہ کرتا ہے، مگر امیرالمومنین (ع) کے زمانے میں آپ (ع) کے مخالف اسی قرآن سے استفادہ کرتے ہیں، آیات قرآن کو ڈھال بناتے ہیں، لہذا علی ابن ابی طالب (ع) کا کام کئی درجے سخت تھا۔ ان سب محاذوں کے مقابلے میں جو محاذ تھا وہ علی ابن ابی طالب(ع) کا محاذ تھا۔ ایسا محاذ جس پر عمار، مالک اشتر، عبداللہ ابن عباس، محمد ابن ابی بکر اور حجر ابن عدی جیسی شخصیات نظر آتی ہیں۔ ان افراد کی بصیرت ان کی اس بحث و تمحیص سے عیاں ہے کہ جب طلحہ و زبیر اور دوسرے افراد بصرہ پر قبضہ کر لیتے ہیں اور کوفہ کی طرف بڑھنے لگتے ہیں تو حضرت علی (ع) حضرت حسن (ع) کی قیادت میں کچھ اصحاب کو ان سے بات چیت کے لیے روانہ کرتے ہیں، یہ افراد مسجد میں ایسی بابصیرت اور شاندار بحث کرتے ہیں کہ تاریخ اسلام کی سنہری اور پرمغز ترین بحث و تمحیص میں سے ہے اور دشمن بھی ان کی اس بصیرت اور ایمان سے آشنا ہوتا ہے۔ لہذا مالک اشتر، عمار، محمد بن ابی بکر اور ان سب کے خلاف کہ جن کے ایمان اور بصیرت سے اسے خطرہ لاحق ہوتا ہے پروپیگنڈہ شروع کر دیتا ہے، ان پر تہمتیں لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر کو شہید کر دیتے ہیں۔ یہ تھی داستان علی ابن ابی طالب (ع) کی زندگی اور حکومت کی۔ اگر اس بحث کو سمیٹنا چاہیں تو یوں کہا جاسکتا ہے حضرت علی ابن ابی طالب (ع) دور حکومت ایک مقتدرانہ مگر مظلومانہ حکومت کا دور تھا کہ آخر میں سرخروئی جس کا مقدر بنی۔ یعنی اپنے زمانے میں بھی دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور اپنی مظلومانہ شہادت کے بعد بھی فراز تاریخ پر ایک شمع روشن کر گئے مگر اس دور میں حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کا خون دل تاریخ کے سخت ترین اور دشوار ترین حوادث میں سے ہے۔