حضرت امام مہدی عج حضرت عیسیٰ (ع) کی امامت فرمائیں گے

738

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کے پیچھے نماز ادا کریں گےکتب صحاح اور غیر صحاح میں کثیر تعداد میں روایات حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کی جن کی شخصیت آپ علیہ السلام کے نسب ، نام، اوصاف کو بیان کر رہی ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا اتنی ساری گواہیوں کے بعد بھی کسی مسلمان کے لئے حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کے عقیدہ سے متعلق کسی اور دلیل کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟! ذات امام علیہ السلامکی اطاعت اور ہر قسمی انحرافات سے بچنے کا انتظام ان شواہد میں موجود ہے، تمام روایات اس بات کی بھی تصدیق کر رہی ہےں کہ نبی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور حضرت امام مہدی علیہ السلام بن الحسن العسکری علیہ السلام کی امامت میں نماز ادا کریں گے، جیسا کہ شیعہ بارہ امامی کا عقیدہ ہے اہل سنت کی روایات میںبھی اسی بات کو بیان کیا گیا ہے چند روایات ملاحظہ ہوں ۔۱۔ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب “المصنف” میں ابن سیرین سے روایت بیان کی ہے‘ ‘ مہدی(علیہ السلام) اس امت سے ہیں اور وہی عیسیٰ علیہ السلام بن مریم (سلام اللہ علیہا) کے امام ہوں گے”۔(حوالہ :المصنف/ابن ابی شیبہ ج۵۱/۸۹۱/حدیث ۵۹۴۹۱)۲۔ حافظ ابونعیم نے عبداللہ بن عمر سے روایت بیان کی ہے “مہدی علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کے پیچھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھیں گے”۔(الحاوی للفتاوی ،اسیوطی ۲/۸۷)۳۔ یہ جوحدیث ہے کہ” ہم ہی سے وہ شخصیت ہیں جن کے پیچھے عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام نماز پڑھیں گے” اس حدیث کی شرح میں “المنادی” نے لکھا ہے، ہم سے مراد حضور پاک کی اہل بیت علیہ السلام ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ بن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے، یہ آخری زمانہ میں ہوگا آپ علیہ السلام صبح کی نماز کے وقت دمشق کی شرقی جانب”منارہ بیضاءپر اتریں گے، وہ اس وقت دیکھیں گے کہ حضرت امام مہدی(علیہ السلام) نماز شروع کرنے والے ہیں، حضرت امام مہدی(علیہ السلام) محسوس کر لیں گے کہ جناب عیسی علیہ السلام تشریف لے آئے ہیں، حضرت امام مہدی(علیہ السلام) پیچھے ہٹیں گے تاکہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) آگے بڑھیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام انہیں آگے کردیں گے اور حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کے پیچھے نماز پڑھیں گے اس امت کے واسطے اس شرف اور برتری سے بڑھ کر اور کون ساشرف ہو سکتا ہے ۔(حوالہ فیض القدیر المناوی ۶/ج۶ ص۷۱)۴۔ ابن برہان شافعی نے حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول سے متعلق اس طرح تحریر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کانزول صبح کی نماز کے وقت ہوگا، آپ حضرت مہدی (علیہ السلام)کے پیچھے نماز پڑھیں گے، جب کہ حضرت امام مہدی(علیہ السلام) ان سے یہ گذارش کریں گے کہ اے روح اللہ: آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں تو حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) عرض کریں گے، آپ علیہ السلام آگے بڑھیں یہ نماز آپ ؑ کے لئے کھڑی ہوئی ہے…. آگے چل کر لکھتے ہیں بتحقیق حضرت امام مہدی(علیہ السلام) جناب عیسیٰؑ کے ساتھ خروج کریں گے، حضرت عیسی علیہ السلام دجال کے قتل کرنے میں حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کی مدد کریں گے اور یہ روایت بیان ہو چکی ہے کہ حضرت امام مہدی(علیہ السلام) عترت نبی سے ہیں اور وہ بھی جناب فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کی اولاد سے ہیں ۔(حوالہ: السیدة الحلبیہ ابن برہان الشافعی:ؒ ج۱/۶۲۲۔۷۲۲)۵۔ فتح الباری شرح بخاری میں اس طرح بیان ہوا ہے “ابو الحسن الخسعی الآبدی نے مناقب الشافعی میںلکھاہے، روایات متواترہ موجود ہیں کہ امام مہدی(علیہ السلام) اس امت سے ہیں اور یہ کہ عیسی علیہ السلام مہدی(علیہ السلام) کے پیچھے نمازپڑھیں گے اور یہ بات انہوں نے اس حدیث کے جواب میں لکھی ہے جسے ابن ماجہ نے اس سے نقل کیا ہے کہ “مہدی(علیہ السلام) ‘ ‘ سوائے عیسیٰ(علیہ السلام) کے کوئی اور نہیں ہیں، اس کے بعد الطیب ¸ کی اس بات کا بھی حوالہ بھی دیا ہے جس میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام)تمہارا امام ہوگا، وہ آپ علیہ السلام کے دین میں ہوگا، اس نے اس بات کو رد کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)امامت کروائیں گے وہ کہتا ہے…. جو مسلم کے نزدیک ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عیسی (علیہ السلام)سے کہا جائے گا کہ تم ہمارے لئے نماز پڑھاﺅ تو حضرت عیسیٰؑ کہیں گے نہیں، میں نماز نہیں پڑھاتا! کیونکہ ان کے بعض جو ہیں وہ دوسرے بعض پرحاکم ہیں، اس امت کی کرامت اور عزت کی خاطرایسا ہوگا…. اس کے بعد ابن الجوزی سے اس قول کو نقل کیا ہے! اگر عیسی علیہ السلام امام کے عنوان سے آگے بڑھ جائیں تو درحقیقت ایک اشکال پیدا ہو جائے گاکیونکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جب آگے بڑھیں گے تو وہ نائب بن کر یا شرعی طور پر خود ہی امام ہوں گے، ظاہر ہے نائب تب ہوتا ہے جب اصل موجود نہ ہو، اور وہ خود امام ہوں تو یہ اسلامی مسلمات کے خلاف جاتا ہے…. یہی وجہ ہے کہ اس لئے آپ علیہ السلام ماموم بنیں گے تاکہ اشتباہ واقع نہ ہو اور حضورپاک کا جو فرمان ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اس حدیث پر کسی کو بھی اشکال نہ ہو۔(حوالہ: فتح الباری شرح صحیح البخاری، ابن حجر العسقلانی ج۶ص۳۸۳،۵۸۳)۶۔ ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین سے اس بات کو نقل کیاہے “مہدی(علیہ السلام)” اس امت سے ہیں اور آپ علیہ السلام ہی عیسیٰ علیہ السلام بن مریم(سلام اللہ علیہا) کی امامت کرائیں گے۔(حوالہ المصنف بن ابی شیبہ ۵۱/۸۹۱،حدیث نمبر۵۹۴۹۱)
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.