غیرانبیا ء علیہم السلام کا معصوم ہو نا

293

 اس سلسلہ میں کچھ شکوک بھی تھے جن کی حتی المقدور وضاحت کے ساتھ ہم نے جواب بھی عرض کر دیئے ہیں :اب اس مقا م پر ایک دوسرا سوا ل یہ پیش آ تا ہے :کیا عصمت، انبیا ء علیہم السلام سے مخصوص ہے ؟ یا انبیا ء علیہم السلام کے علا وہ بھی کچھ لو گ معصو م ہو سکتے ہیں ؟ اور کیا قر آ ن مجید کی آ یا ت اس سلسلہ میں ہما ری کچھ رہنما ئی کر تی ہیں یا نہیں؟اس بحث کو چھیڑ نے سے پہلے خود عصمت کے مفہوم کی وضا حت کر نا ضرو ری ہے ۔ عصمت سے مرا د صرف گناہ کا ترک کرنا نہیں ہے ۔ اگر کسی انسان سے کوئی گناہ سر زد نہ ہو تو کافی نہیں ہے کہ ہم اس کو معصوم کہہ بیٹھیں ۔اس لئے کہ اولاً انسان مکلف ہونا چا ہئے یعنی اس عمر کو پہنچ چکا ہو کہ اس پر شرعی فریضہ عا ئد ہو تا ہواور اس وقت وہ فریضہ کی مخالفت نہ کرے ورنہ اگر کوئی انسان ابھی مکلّف نہیں ہو اہے تو وہ اس مقام پر نہیں ہے کہ اس کے لئے کہیں معصو م ہے کہ نہیں ؟ مثلاً بچے کے لئے بالغ ہونے سے پہلے (معصوم ہونے یا نہ ہونے کی)بحث نہیں اٹھتی اگر ان کو معصوم کہاجاتا ہے تویہ ایک تسامح ہے معلوم ہواان کے اندر گنا ہ کرنے کی قوت ہونی چاہئے یعنی مکلف ہوں البتہ سب انسانوں کے لئے احکام یکسان نہیں ہوتے ہمارے پاس ایسے دلایل موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ممکن ہے کچھ لوگ قانونی سن سے پہلے ہی مکلف ہوجائیں جیسے ائمہ اطہار رسمی اور ظاھری بلوغ سے پہلے ہی مکلف ہیں اور ان بلند مرتبوں پر فائز ہونے کی بنا پر اپنی ذمہ داریوں کی بہ نسبت متعہد اور ملتزم ہیں امام پانچ سال یا اس سے کم و بیش عمرمیں امام ہوسکتاہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ذمہ داریوں کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔ بہر حال عصمت کا مسئلہ اس شخص سے متعلق ہوتاہے جو مکلف ہو،چاہے وہ معمو لی اعتبار سے مکلف ہو جیسے عام طو ر سے لو گ ایک مخصو ص عمر میں مکلف ہو تے ہیں چا ہے مخصوص طو ر پر مکلف ہو جیسے انبیا ء اور ائمہ علیہم السلام غیر متعارف عمر میں مکلف ہو تے ہیں ۔دو سرے اگر مکلّف شخص میں معصیت کر نے کی طا قت نہ ہو جس کی بنا ء پر اس سے گنا ہ سرزد نہیں ہو تا تو اس کو بھی معصو م نہیں کہا جاتا ۔ عصمت کا مطلب یہ ہے کہ انسا ن کے اندر گنا ہ کر نے کی طا قت اور تمام شر طیں مو جو د ہو ں اس کے با و جود بھی وہ گنا ہ نہ کر ے ۔ چا ہے معمو لی اور متعا رف شرطیں ہو ں یا استثنا ئی شر طیں ہو ں ۔ اس کی وضا حت کچھ اس طرح ہے :ہر انسان کچھ ایسے ملکہ کا ما لک ہو تا ہے جس کی وجہ سے اس سے کچھ مخصو ص کام صا در ہو تے ہیں مثلاً بہا در آدمی کے اند ر ایک ملکہ ہو تا ہے یعنی اس میں ایک ایسی کیفیت را سخ ہو جا تی ہے جو اس سے کچھ کا مو ں کے انجا م دینے اور دوسرے کا مو ں کے تر ک کر نے کا تقا ضا کر تی ہے ۔ پس ملکۂ عفت اور ملکۂ سخا وت بھی ایسے ہی ہیں معمولی طور پر یہ ملکا ت جن کے متعلق اخلا ق میں بحث کی جا تی ہے اسی طرح کے ہیں جو متعا رف و معمولی حا لات و شر طو ں میں کچھ کا مو ں کے انجام دینے کا منشاء ہوتے ہیں لیکن ان پر عمل نہ کرنا محال نہیں ہو تا یعنی بہا در آ دمی اس کو کہا جا تا ہے جو معمو لی حالات و شرطوں میں نہیں ڈرتا لیکن اگر کو ئی غیر معمو لی وا قعہ پیش آ جا ئے تو ممکن ہے وہ ڈرجائے ۔ہا ں اگر انسان کے اندر یہ ملکہ بہت زیا دہ راسخ ہو جا ئے اور در جۂ کما ل تک پہنچ جا ئے تو غیر معمو لی اور استثنا ئی حو ا دث بھی اس پر اثر اندا ز نہیں ہو سکتے ۔ مثا ل کے طور پر ملکۂ عفت اتنا مستحکم و قوی ہو جا ئے کہ اگر وہ حالات جو حضرت یوسف علیہ السلام کو پیش آئے اس کے سامنے آجا ئیں تو بھی گنا ہ نہیں کر تا، اسی طرح دو سرے تمام ملکا ت اس قدر قو ی ہو ں کہ کسی بھی حال میں گنا ہ سر زد نہ ہو اگر چہ غیر معمولی حا لات ہی کیو ں نہ پیدا ہوجائیں۔ اگر کسی انسان کے اندر ایسا ملکہ پیدا ہو جا ئے تو اس کو معصو م کہاجا تا ہے ۔عصمت کی تعریف یوںکر سکتے ہیں ”عصمت انسا ن میں پا یا جا نے وا لاوہ ملکہ ہے جو انسان کو ہر حا ل میں گناہ سے محفو ظ رکھتا ہے ”البتہ ہما را یہ کہنا کہ یہ ملکہ انسا ن کی حفا ظت کر تا ہے اس بات سے منا فات نہیں رکھتا کہ خدا انسان کی حفا ظت کر تا ہے اس لئے کہ تو حید افعا لی تقا ضا کر تی ہے کہ کسی بھی مو جو د کے پاس جو کچھ ہے اور جوکام بھی وہ انجام دیتا ہے اس کی انتہا ء اور بنیادی با زگشت خدا کی طرف ہے ۔ خدا ہی اس کے اندر موجود ملکہ عصمت کے ذریعہ اس کی حفا ظت کر تا ہے۔اب ہمیں یہ دیکھناہے کہ کیا یہ ملکہ صر ف انبیا ء علیہم السلام سے مخصو ص ہے یا غیر ا نبیا ء علیہم السلام میں بھی اس کے پا ئے جا نے کا امکان ہے، اس کے بھی دو مر حلے ہیں ایک مر حلۂ ثبو ت دوسرا مر حلۂ اثبات ،یعنی پہلے یہ ثابت ہو نا چا ہئے کہ ایک شخص میں اس طرح کا ملکہ پا یا جا نا کیاممکن ہے؟ اور دوسرے مر حلے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا غیر انبیاء میں اس طرح کا ملکہ ثابت کر نے کی ہما رے پا س کو ئی دلیل ہے یا نہیں ؟ جہاں تک ایک انسان کے اندر اس طرح کاملکہ پائے جانے کی بات ہے تو ہمیں کوئی مشکل نہیں ہے اور نہ ہی اس مفروضہ میں کوئی محا ل عقلی لا زم آ تا ہے ۔ ہما رے پا س ایسی دلیلیں اور ثبوت مو جو د ہیں جن سے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ یہ ملکہ انبیا ء سے مخصو ص نہیں ہے مثال کے طور پر آ یۂ کر یمہ (الّا عِبَا دَ اﷲِ الْمُخْلَصِیْنَ )یعنی ”شیطا ن اﷲ کے مخلص بندوں کو گمرا ہ کرنے کی ہوس نہیں کر سکتا” عام ہے اورمخلصین میں غیر انبیا ء بھی شامل ہو سکتے ہیں اس اخلا ص اور عصمت کوصرف انبیاء میں مخصو ص کر دینے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے ۔ جو شخص بھی مخلَص ہو اس آ یۂ کریمہ کے مطابق معصوم ہو گا چونکہ شیطان اس کو فریب نہیں دے سکتا ۔رہی یہ بات کہ معصو مین کو ن لو گ ہیں ؟ اورکیا صرف انبیا ء علیہم السلام ہی معصوم ہیںیا نہیں ؟ اس کے لئے الگ سے دلیل کی ضر و رت ہے خود آ یۂ کریمہ اس با ت کا انکا ر نہیں کر تی کہ غیر انبیاء بھی معصوم ہو سکتے ہیں حتی ذہن کو مطمئن اور ما نوس کر نے کے لئے ہم نمو نہ کے طو ر پر کچھ ایسے مقامات بیان کر رہے ہیں کہ جن میں قرآن کریم نے غیر انبیا ء کے معصو م ہو نے کی طرف اشا رہ کیا ہے :مثال کے طو ر پر خدا وند عا لم حضر ت مریم سلا م اﷲ علیہا کے با رے میں فر ما تا ہے:( وَاِذْقَالَتِ الْمَلَا ئِکَةُ یَامَرْیَمُ اِنَّ اللَّہَ اصْطَفٰیکِ وَطَھَّرَکِ وَاصْطَفٰیکِ عَلَیٰ نِسَآئِ الْعَالَمِیْنَ )(١)”اور جب فرشتو ں نے کہا اے مر یم بیشک اﷲ نے آپ کو منتخب کیاہے اور آپ کوپا ک و پا کیزہ بنا یا ہے اور عا لمین کی تمام عو رتوں پر آپ کو بر تری عطا کی ہے ”۔ہما ری بحث کلمۂ (طَھَّرَکِ )سے ہے کہ لفظ تطہیر تقا ضا کر تا ہے کہ کسی طرح کی آ لو دگی ان کے قریب نہیں آسکتی وہ گناہان صغیرہ اور کبیرہ کی ہر برائی سے پاک ہیں پس یہ ثابت ہے کہ غیر انبیا ء بھی عصمت و طہا رت کے اس در جہ پر فا ئز ہو تے ہیں کہ تمام عمر ان سے کو ئی بھی گنا ہ صغیرہ اور کبیرہ سر زد نہیں ہو سکتا ۔…………..١۔سورئہ آل عمران آیت ٤٢۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.