اَئمہ علیہم السلام کی عصمت

311

ان چو دہ ہستیو ں کے لئے عصمت کا مخصو ص ہونا اس معنی میںہے جو پیغمبر اسلا م ۖکے لئے ثابت ہے اورجس کا لا زمہ خطا اور نسیان سے بھی محفو ظ ہونا ہے ۔ پس یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ حضر ت سلما ن بھی ملکۂ عصمت پر فا ئز ہوں اور مختلف حالات میں ان سے کوئی گناہ سر زد نہ ہو اہو اور اگر اس سے بھی زیا دہ سخت حا لات ان کے لئے پیش آ جا تے تب بھی ان سے کو ئی گنا ہ سرزد نہ ہو تا لیکن ممکن ہے کہ کسی مقام پر اپنے فیصلے میں غلطی کر گئے ہو ں کیونکہ اپنے تمام فیصلوں میں خطا سے محفو ظ رہنے کا چو دہ معصو مو ں کے علا وہ کسی اور کے لئے اثبا ت نہیں کیا جا سکتا اگرچہ ممکن ہے وہ ملکۂ عدالت کے ایک ایسے بلند مر تبہ پر فا ئز ہو ں کہ اس کو بھی عصمت کا نام دیا جاسکے اور اس کی نفی کے لئے بھی ہمارے پاس کو ئی دلیل نہیں ہے اور شاید پیغبر اسلام ۖ کا یہ قول (سَلْمَا نُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْت) اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ بعض خصو صیا ت جو اہل بیت علیہم السلام کے لئے ثابت ہیں ان کے لئے بھی ثابت ہو ں ، اورشاید علما ء ، فقہا ء اور شیعوں کی عظیم شخصیتو ں کے درمیا ن ایسے افرا د مو جو د رہے ہو ں اور اب بھی مو جو د ہو ں جو عدالت اور تقوےٰ کے اس بلند درجہ پر فا ئز ہو ں کہ کسی بھی طرح کے حالات میںہوں معصیتِ خدا سے پر ہیز کر تے ہو ں ۔ مرحوم سید رضی اور سید مر تضیٰ کا مشہو ر و معرو ف واقعہ ہے ( البتہ یہ داستا ن سوفیصدی صحیح ہے میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا ) لیکن ان دو بزرگوں کا شما ر ان افراد میں ہو تا ہے جو عدالت اور تقویٰ کے اعتبا ر سے غیر معمولی مرتبہ پر فا ئز تھے واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک دن طے پایا یہ دو نوں متقی عا لمو ں میں سے ایک نما ز جما عت میں امام بنے اور دوسرا ما مو م، اب یہ کہ گھر میں تھے اور ان کی ما در گرا می کی پیشکش تھی یا کچھ اور ،میں نے جزئیات قلمبند نہیں کی ہیں اور یقین سے نہیں کہہ سکتا) مر حوم سید مرتضیٰ نے امامت کے لئے اشا رتاً او لو یت کا اظہا ر کر تے ہو ئے فر مایا : ٹھیک ہے وہ شخص پیش امام بنے جس نے اب تک کو ئی گنا ہ نہ کیا ہوتواس وقت سید رضی نے فر مایا : بلکہ بہتر ہے وہ شخص پیش امام ہو جس نے گنا ہ کا خیا ل تک نہ کیاہو، یہ اس بات کی طرف اشا رہ تھا کہ انھو ں نے اپنی عمر بھی گناہ کا تصو ر تک نہیں کیا ہے، اور یہ بعید بھی نہیں ہے خدا کے بہت سے ایسے لا ئق بندے ہیں اگر ہم اس کے اہل نہیں ہیں تو ہمیں اس کا انکا ر بھی نہیں کر نا چاہۓ۔ پس وہ عصمت کہ جس کی ہم ان چو دہ معصو مو ں کی طرف نسبت دیتے ہیں وہی عصمت ہے جو خو د پیغمبر اکرم ۖمیں پا ئی جا تی ہے جس کی وجہ سے وہ ہرطرح کی غلطی اور سہوو نسیان سے بھی محفوظ تھے ۔ اسی طرح ہما ری مراد اس عصمت سے ہے جو مقامِ اثبا ت میں دلیل رکھتی ہو ممکن ہے کو ئی شخص اپنی زند گی میں گنا ہ کاخیال تک نہ کرے لیکن اس کے پاس اس کی کو ئی ضمانت نہ ہو اور وہ دوسروں کے سامنے یہ ثابت نہ کر سکے کہ اس کے دل میں کبھی گنا ہ کا تصورآیاہے یا نہیں ؟ آیا کسی کے حق میںسو ء ظن کیا ہے یا نہیں ؟ لیکن چو دہ معصو مو ں کے سلسلے میں عصمت ثابت کرنے کی دلیل مو جو د ہے۔بہت سی روا یات اس بات کو ثا بت کر تی ہیںپس معلوم ہوا چو دہ معصو موں کی عصمت اور ان افرادکے درمیان کہ جن سے کو ئی گنا ہ سرزد نہ ہوا ہوحتی انھوں نے گنا ہ کا تصور بھی نہ کیا ہو دو فر ق ہے :١۔ائمہ علیہم السلام کی عصمت اس حد کو پہنچی ہوئی ہے کہ وہ خطاا ورسہوو نسیان سے بھی محفو ظ ہیں ۔٢۔ ان کی عصمت پر ہما رے پاس دلیلیں مو جو د ہیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.