نماز

135

خدائے متعال فرماتا ہے :(ماسلککم فی سقر،قالوا لم نک من المصلّین )(مدثر٤٣٤٢)’جب اہل جہنم سے پوچھا جائے گاآخرتمھیں کس چیز نے جہنم میں پہنچادیا ہے ؟تووہ کہیں گے ہم نمازگزارنہیں تھے ۔’پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’نماز دین کاستون ہے ،اگر بارگاہ الہٰی میں یہ قبول ہو جائے گی تودوسری عبادتیں بھی قبول ہوں گی اوراگر یہ قبول نہ ہوئی ،تودوسری عبادتیں بھی قبول نہیں ہوں گی’جس طرح ایک انسان ،دن رات میں پانچ بارایک نہر میں نہائے تواس کے بدن میں کسی قسم کا میل کچیل باقی نہیں رہے گا ،اسی طرح پانچ وقت کی نمازیں بھی انسان کوگناہوں سے پاک کرتی ہیں ،جاننا چاہئے کہ جو نماز پڑھتا ہے لیکن اسے اہمیت نہیں دیتا،وہ اس شخص کے مانندہے ،جو اصلاًنمازنہیں پڑھتا ہے ۔خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے :(فویل للمصلّین،الّذین ہم عن صلاتہم ساہون )(ماعون ٥٤)’تو تباہی ہے ان نمازیوں کے لئے جواپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔’ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ،اور دیکھاکہ ایک شخص نمازپڑھ رہا ہے ،لیکن رکوع وسجود کو مکمل طورپر بجا نہیں لارہا ہے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’یہ شخص جس طرح نماز پڑھ رہا ہے اگر اسی حالت میں اس دنیا سے گزر گیا تو مسلمان کی حیثیت سے دنیاسے نہیں گیا ہے ۔’اس بناپرنما ز کو خضوع و خشوع کی حالت میں پڑھنا چاہئے اور نماز پڑھتے وقت اس بات کا خیال رکھے کہ کس ذات سے محو گفتگوہے او ر رکوع و سجود اور دوسرے تمام اعمال کو صحیح طور پر انجام دے تا کہ نماز کے عالی نتائج سے بہرہ مند ہوجائے۔ خدائے متعال قرآن مجید میںنماز کے بارے میں فرماتاہے:(انَّ الصَّلوة تنہیٰ عن الفحشاء و المنکر…) (عنکبوت٤٥)’…نماز ہر برائی اور بدکار ی سے روکتی ہے…’یقینا ایسا ہی ہے، کیونکہ نماز کے آداب اس طرح ہیں کہ اگر نماز گزاران کا لحاظ رکھے تو کبھی برائی کے پیچھے نہیں جائے گا۔ مثلا آداب نماز میں سے ایک یہ ہے کہ نماز گزار کی جگہ او رلباس غصبی نہ ہوں، اگر اس کے لباس میں حتی ایک دھاگابھی غصبی ہو تواس کی نماز صحیح نہیں ہے۔ تو جو نماز گزار اس حد تک حرام سے پرہیز کرنے پر مجبور ہے تو ممکن نہیں ہے کہ وہ حرام مال کو استعمال کرے یاکسی کا حق ضائع کرے!نیز نماز اس صورت میں قبول ہوتی ہے کہ انسان ، حرص، حسد اور دوسری بری صفتوں سے دور رہے اور مسلّم ہے کہ تمام برائیوں کا سرچشمہ یہی بری اور ناشائستہ صفتیں ہیں اورنماز ی جب اپنے آپ کو ان صفتوں سے دور رکھے گا، تووہ یقینا تمام برائیوں سے دور رہے گا۔اگر بعض لو گ نماز پڑھنے کے با وجود ناپسند کاموں کے مرتکب ہوتے ہیں، تو اس کاسبب یہ ہے کہ وہ نماز کے ضروری احکام کے مطابق عمل نہیں کرتے اور نتیجہ میں ان کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے اور وہ اس کے عالی نتائج سے محروم رہتے ہیں۔دین اسلام کے شارع مقدس نے نمازکو اس قدر اہمیت دی ہے کہ ، ہر حال میں حتی جان کنی کی حالت میں بھی انسان پر نماز کو واجب قرار دیا ہے، اگر وہ نماز کو زبان پر جاری نہیں کرسکتا ہے تو دل پرجاری کرنا چاہئے او راگر جنگ ، دشمن کے خوف یا اضطرار اور مجبور ی کی وجہ سے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز نہ پڑھ سکے تو اس کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا واجب نہیں ہے اور جس طرف بھی ممکن ہو نماز پڑھے۔
واجب نمازیںواجب نمازیں چھ ہیں:١۔ پنجگانہ نمازیں (١)٢۔ نماز آیات٣۔ نماز میت٤۔ واجب طواف کی نماز٥۔ ماں باپ کی قضا نمازیں جو بڑے بیٹے پرو اجب ہوتی ہیں۔٦۔ وہ نمازیں جو اجارہ، نذر، قسم اور عہد کی وجہ سے واجب ہوتی ہیں۔…………..١۔ یومیہ نمازوں سے مراد: صبح کی دو رکعتیں، ظہر و عصر کی چار چار رکعتیں، مغرب کی تین رکعتیں اور عشا کی چاررکعتیں ہیں۔
مقدمات نمازنماز بجالانے، یعنی پروردگار عالم کی خدمت میں حاضر ہونے اور ذات مقدس الہٰی کی اظہار بندگی او رپرستش ، کے لئے کچھ مقدمات ضروری ہیں ۔ جب تک یہ مقدما ت فراہم نہ ہو جائیں نماز صحیح نہیں ہے اور یہ مقدمات حسب ذیل ہیں:١۔ طہارت٢۔ وقت٣۔ لباس٤۔ مکان٥۔ قبلہان مقدمات کی تفصیل درج ذیل ہے:
١۔ طہارتنماز ی کونماز کی حالت میں با طہارت ہوناچاہئے، اپنے فریضہ کے مطابق نماز کو با وضو یا غسل یا تیمم کے ذریعہ بجالائے اور اس کا بدن ا ور لباس نجاست سے آلودہ نہ ہوں۔
٢۔ وقتنماز ظہر و عصر میں سے ہر ایک کا ایک مخصوص وقت او ر مشترک وقت ہے، نماز ظہر کا مخصوص وقت اول ظہر( ١)سے نماز ظہر پڑھنے کا وقت گزرنے تک ہے۔ اگر کوئی شخص اس وقت میں سہواً بھی نماز عصر پڑھے، تو اس کی نماز باطل ہے۔نماز عصر کا مخصوص وقت، اس وقت ہوتا ہے جب مغرب سے پہلے صرف نماز عصر پڑھنے کے برابر وقت بچاہو۔ اگر کسی نے اس وقت تک ظہر کی نماز نہ پڑھی ہو تو اس کی نماز ظہر قضا ہو جائے گی۔ اسی طرح نماز ظہر کے مخصوص وقت اور نماز عصر کے مخصوص وقت کے درمیان کا وقت نماز ظہر وعصر کامشترک وقت ہے ۔اگر کوئی شخص غلطی سے اس و قت کے اندر نماز عصر کو نماز ظہرسے پہلے پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اسے ظہر کی نماز اس کے بعد پڑھنی چاہئے۔…………..١۔ اگر ایک لکڑی یا اس کے مانند کوئی چیز سیدھی زمین میں نصب کی جائے تو، سورج چڑھنے پر اس کا سایہ مغرب کی طرف پڑے گا جس قدر سورج او پرچڑھے گا، یہ سایہ کم ہوتاجائے گا اور اول ظہر میں اس کی کمی آخری مرحلہ پر پہنچ جائے گی، جب ظہر کا وقت گزرے گا تو سایہ مشرق کی طرف پلٹ جاتا ہے او رسورج جس قدر مغرب کی طرف بڑھے گا سایہ زیادہ ہوتا جائے گا۔ اس بنا پر جب سایہ کم ہوتے ہوئے کمی کے آخری درجہ پر پہنچ جائے اور پھرسے بڑھنا شروع ہوجائے تو معلوم ہو تاہے کہ ظہر کا وقت ہے۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض شہروں جیسے مکہ مکرمہ میں ظہر کے وقت سایہ بالکل غائب ہوتاہے، ایسے شہروں میں سایہ کے دوبارہ نمودار ہونے پر ظہر کا وقت ہوتاہے۔نماز مغرب کا مخصوص وقت( ١)اول مغرب سے تین رکعت نماز پڑھنے کے وقت کے برابر ہے۔نمازعشاکا مخصوص وقت وہ وقت ہے جب نصف شب( ٢)سے پہلے نمازعشاپڑھنے کے برابر وقت بچا ہو ۔اگرکسی نے اس وقت تک نماز مغرب نہیں پڑھی ہے تو اسے پہلے نماز عشا پڑھنی چاہئے پھر اس کے بعدنماز مغرب پڑھے۔نماز مغرب کے مخصوص وقت اور نماز عشاء کے مخصوص وقت کے درمیان نماز مغرب و عشا کا مشترک وقت ہے۔ اگر کوئی شخص اس وقت میں غلطی سے نماز مغرب سے پہلے نماز عشا کو پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اسے نماز مغرب کو اس کے بعد بجالاناچاہئے۔نماز صبح کا وقت اول فجر(٣)صادق سے سورج نکلنے تک ہے۔…………..١۔ سورج ڈوبنے کے تقریباً پندرہ منٹ بعد مغرب ہوتی ہے۔ اس کی علامت یہ ہے کہ سورج ڈوبنے کے بعد مشرق کی طرف رونماہونے والی سرخی غائب ہو جائے۔٢۔ نصف شب ،شرعی ظہر کے بعدگیارہ گھنٹے اور پندرہ منٹ گزرنے کے بعد ہو تی ہے۔٣۔ فجر کی اذان کے قریب مشرق کی طرف ایک سفیدی اوپر کی طرف بڑھتی ہے اسے فجر اول یا فجر کاذب کہتے ہیں۔ جب یہ سفیدی پھیل جاتی ہے، تو فجر دوم یعنی فجر صادق ہے اور صبح کی اذان کا وقت ہے ۔
٣۔ لباسنمازی کے لباس میں چند چیزیں شرط ہیں:١۔ لباس مباح ہو، یعنی نمازی کا اپنا لباس ہو یا اگر اپنا لباس نہ ہو تو اس لباس کا مالک اس میں نماز پڑھنے پر راضی ہو۔٢۔ لباس نجس نہ ہو۔ ٣۔ مردار کی کھال کا نہ ہو، خواہ حلال گوشت حیوان کی کھال ہو یا حرام گوشت کی۔٤۔ حرام گوشت حیوان کے اون یا بالوں کا نہ ہو۔ لیکن سمور کے کھال سے بنے ہوئے لباس میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔٥۔ اگر نماز ی مرد ہے تو ریشمی اور زرباف لباس نہیں ہونا چاہئے اور خود کو بھی سونے سے زینت نہ کرے۔ نمازکے علاوہ بھی مر دوں کے لئے ریشمی لباس پہننا او رسونے سے زینت کرناحرام ہے۔
٤۔مکاننمازی کے مکان۔ یعنی وہ جگہ جہاں پر وہ نماز پڑھتا ہے۔ کے کچھ شرائط ہیں:١۔ مباح ہو۔٢۔ ساکن ہو۔ اگر ایک ایسی جگہ جو متحرک ہو، جیسے گاڑی میں اور متحرک کشتی میں نماز پڑھنے پر مجبور ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، البتہ گاڑی وغیرہ قبلہ کے مخالف سمت میں چل رہی ہوں تو نماز ی کو قبلہ کی طرف گھومنا چاہئے۔٣۔ اگر مکان نجس ہو تو اس قدر ترنہ ہو کہ اس کی رطوبت نماز ی کے بدن یا لباس تک پہنچ جائے۔ لیکن پیشانی رکھنے کی جگہ اگر نجس ہو تو خشک ہونے کی صورت میں بھی نماز باطل ہے۔٤۔ پیشانی رکھنے کی جگہ گھٹنوں کی جگہ سے ، ملی ہوئی چار انگلیوں سے زیادہ پست یا بلند نہیں ہونی چاہئے۔
٥۔ قبلہخانہ کعبہ ،جو مکہ مکرمہ میں ہے، قبلہ ہے اور اسی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنی چاہئے۔ البتہ جو لوگ دور ہیں وہ اگر اس طرح کھڑے ہو جائیں یا بیٹھ جائیں کہ کہا جائے کہ قبلہ کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں ، تو کافی ہے، اسی طرح دوسری چیزیں جیسے حیوانات کا ذبح کرنا بھی قبلہ کی طرف رخ کرکے انجام دیا جاناچاہئے۔جو شخص بیٹھ کر بھی نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو اسے دائیں پہلو پر ایسے لیٹ کرنماز پڑھنا چاہئے کہ اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلہ کی طرف ہو،اور اگر ممکن نہ ہو تو بائیں پہلو پر اس طرح لیٹے کہ اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلہ کی طرف ہواور اگریہ بھی ممکن نہ ہو تو اسے پشت پر اس طرح لیٹنا چاہئے کہ اس کے پاؤں کے تلوے قبلہ کی طرف ہوں۔ اگر انسان تحقیق کے بعد نہ سمجھ سکے کہ قبلہ کس طرف ہے تو اسے مسلمانوں کے محرابوں ، قبروں یا دوسرے راستوں سے پیدا ہوئے گمان کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔
واجبات نمازواجبات نماز یعنی وہ چیزیں جو نماز میں واجب ہیں، گیارہ ہیں:١۔ نیت٢۔ تکبیرة الاحرام٣۔ قیام٤۔ قرات٥۔ رکوع٦۔ سجود٧۔ تشہد٨۔ سلام٩۔ ترتیب، یعنی نماز کے اجزاء کو معین شدہ دستور کے مطابق پڑھے، آگے پیچھے نہ کرے۔١٠۔ طمانیت، یعنی نماز کو وقار اور آرام سے پڑھے۔١١۔ موالات: یعنی نماز کے اجزاء کو پے در پے بجالائے اور ان کے درمیان فاصلہ نہ ڈالے۔مذکورہ گیارہ چیزوں میں سے پانچ چیزیں ارکان ہیں کہ اگر عمداً یا سہواً کم و زیاد ہو جائیں، تو نماز باطل ہے اور باقی چیزیں رکن نہیں ہیں، صرف اس صو رت میں نماز باطل ہوگی کہ ان میں عمداً کمی وزیاد تی کی جائے۔
ارکان نمازارکان نماز حسب ذیل ہیں:١۔ نیت٢۔ تکبیرة الاحرام٣۔ قیام ۔ تکبیرة الاحرام کے وقت پر قیام اور متصل بہ رکوع٤۔رکوع٥۔دوسجدے
١۔نیت’نیت’سے مراد یہ ہے کہ انسان نماز کو قصد قربت سے، یعنی خدائے متعال کے حکم کو بجا لانے کے لئے انجام دے ۔ضروری نہیں ہے کہ نیت کو دل سے گزارے یا مثلاًزبان سے کہے :’ میںچار رکعت نماز ظہر پڑھتا ہوں قربةً الی اللّہ ‘
٢۔تکبیر ة الاحراماذان واقامت کہنے کے بعد، نیت کے ساتھ’اللّٰہ اکبر’کہنے سے نماز شروع ہوتی ہے اور چونکہ اس تکبیر کے کہنے سے کچھ چیزیں جیسے کھانا،پینا ،ہنسنااور قبلہ کی طرف پشت کرنا،حرام ہو جاتی ہیں،اس لئے اسے تکبیرةالاحرام کہتے ہیں۔اور مستحب ہے کہ تکبیرةالاحرام کہتے وقت ہاتھوں کو بلندکریں،اس عمل سے خدائے متعال کی بزرگی کو مدنظر رکھ کر غیر خدا کو حقیرسمجھ کر چھوڑ دیں ۔
٣۔قیامتکبیرة الاحرام کہتے وقت میں قیام اورقیام متصل بہ رکوع ،رکن ہے ،لیکن حمد اورسورہ پڑھتے وقت قیام اور رکوع کے بعدوالا قیام رکن نہیں ہے .اس بناء پر اگر کوئی شخص رکوع کو بھول جائے اور سجدے میں پہنچنے سے پہلے اسے یاد آجائے اسے کھڑاہونے کے بعدرکوع میں جانا چاہئے ، لیکن اگرجھکے ہوئے رکوع کی حالت میں ہی سجدہ کی طرف پلٹے،تو چونکہ قیام متصل بہ رکوع انجام نہں پایا ہے اس لئے اسکی نماز باطل ہے ۔
٤۔رکو عنمازی کو قرائت کے بعداس قدر جھکنا چاہئے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں اور اس عمل کو رکوع کہتے ہیں ۔رکوع میں ایک مرتبہ ‘سبحان ربّی العظیم وبحمدہ ‘یا تین مرتبہ’ سبحان اللہ’ کہنا چاہئے ۔رکوع کے بعدمکمل طور پر کھڑا ہونا چاہئے اس کے بعدسجدے میں جانا چاہئے ۔
٥۔سجدہ’سجدہ’ یہ ہے کہ پیشانی ،دونوں ہتھیلیاں ،دونوں گھٹنے اور دونوں پائوں کے انگوٹھوں کے سرے کو زمین پر رکھے اورایک مرتبہ’ سبحان ربّی الاعلی و بحمدہ ‘ یا’ سبحان اللّہ’ تین مرتبہ پڑھے۔اس کے بعد بیٹھے اورسجدہ میں جاکر مذکورہ ذکر پڑ ھے۔جس چیزپرپیشانی رکھتاہے وہ زمین یازمین سے اگنے والی چیز ہونی چاہئے،کھانے پینے،پوشاک اورمعدنی چیزوں پر سجدہ جائز نہیں ہے ۔
تشہد وسلاماگرنمازدورکعتی ہے، تو دو سجدے بجالانے کے بعد کھڑا ہو جائے اور حمد و سورہ کے بعد قنوت( ١)بجالائے پھر رکوع اور دو سجدوں کے بعد تشہد (٢) پڑ ھے پھر سلام( ٣) پڑھ کر نماز تمام کرے۔اگر نماز تین رکعتی ہوتو تشہد کے بعد اٹھے اور صرف ایک بار حمدیا تین مرتبہ سبحان اللّہ و الحمد لِلّٰہ و لا الہ اِلاَّ اللّٰہ و اللّٰہ اکبر پڑھے، پھر رکوع ، دو سجدے، تشہد اور سلام پڑھے۔اور اگر نماز چار رکعتی ہے تو چو تھی رکعت کو تیسری رکعت کی طرح بجالا کر، تشہد کے بعد سلام پڑھے ۔…………..١۔ حمد وسورہ کے بعد ہاتھوں کو اپنے چہرے کے روبرو بلند کرکے قنوت میں جو بھی ذکر چاہے کہے، مثلاً : ‘ربنا آتنا فی الدنیا حسنة و فی الاخرة حسنة و قنا عذاب النار’٢۔ تشہد سے مراد یہ ہے کہ ان جملات کو کہے : ‘اشہد ان لا الہ الا اللہ و حدہ لا شریک لہ واشہد ان محمد اً عبدہ و رسولہ، اللہم صل علی محمد وآل محمد’٣۔ سلام کو اسطرح بجالائے: السلام علیک ایّھا النَّبی و رحمة اللّٰہ و برکاتہ، السَّلام علیناو علی عباد اللّٰہ الصّالحین، السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ.
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.