بے فاﺋده آرزو

195

بے فاﺋده آرزو

بعض لوگ یه گمان رکھتے هیں که فقط اهل بیت پر عقیده اور امام زمانه کی محبت کافی هے ان لوگوں کے خیال کے مطابق انهیں اپنے گناهوں کے مد مقابل عذاب نہ ہوگا،اس قسم غلط خیال اور گمان کو قرآن اور روایات میں رد کیا گیا هے اور ایسے گمان کو تمنی کاذب یا امید کاذب کا نام دیا گیا هے –
یه لوگ اهل کتاب کی مانند هیں جو یه سمجھتے هیں که یهی که وه بظاهر اس دین و مذهب پر هیں پس اهل سعادت هیں اور انهیں بد عملیوں پر عذاب نه هوگا-
قرآن میں هے :
٫٫و قالوالن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصاری تلک امانیھم قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین (بقره ۱۱۱)
"اور وه کهتے هیں که کوئ بھی جنت میں نهیں جاۓ گا مگر یه که وه یهودی یا عیسائ هو یه ان کی آرزوﺋیں هیں آپ کهیے اگر تم سچے هو تو اپنی دلیلیں لیکر آو"
روایات میں بھی اس گروه کو جھٹلایا گیا هے اور انهیں کذب المتمنون (غیبت نعمانی باب ۱۱ص۱۹۷) کا عنوان دیا گیا هے که جس کا مطلب هے که(خیالی باتوں میں پڑے آرزومند جھوٹے هیں)

امام صادق (ع)کے فرزند حضرت اسماعیل کهتے هیں که میں نے اپنے والد گرامی سے پوچھا:همارے گناه گاروں اور همارے غیر کےگنہاروں کے بارے میں آپ کی کیا فرماتے هیں ؟تو امام نے یه آی تلاوت فرمائ ٫٫لیس بامانیکم و لا امانی اھل الکتاب من یعمل سوءا یجز به ۔ ۔ ۔(سوره نسا ۱۲۳)

تمهاری آرزوں کو اهل کتاب کی آرزوں پر فضیلت حاصل نهیں هے جو بھی برا عمل کرے گا اس کی سزا پاۓ گا ۔ ۔ ۔ تو اسماعیل کهتے هیں که میں نے امام صادق (ع)کی خدمت میں عرض کی :

ایک گروه گناه کرتے هیں اور کهتے هیں که همیں امید و رجا هے اور وه اسی طرح رهتے هیں یهانتک که مر جاتے هیں امام نے فرمایا:یه وه هیں جو اپنی آرزوں میں غرق رهے اور انکی آرزوں نے انهیں راه حق سے منحرف کردیا وه جھوٹ بولتے هیں وه اهل رجاء اور امید نهیں هیں-

یقینا جو کسی چیز کی امید میں هوں اسکی طلب میں رہتا ہےاور جو کسی چیز سے (رتا ہے اس سے پرھیز کرتا ہے(اصل کافی جلد۲ص۶۸

حقیقی امید اور رجا ایک اور چیز هے مفضل کهتے هیں امام صادق(ع) نےفرمایا:

ایاک و السفلۃ فانما شیعۃ علی من عف بطنہ و فرجه و اشتد جهاده و عمل لخالقه و رجا ثوابہ و خاف عقابه فاذ ارأیت اولﺋک فاولﺋک شیعۃ جعفر (وساﺋل الشیعه ج۱ باب۲۰ ص۸۶)

پست لوگوں سے پرهیز کرو فقط وه علی(ع) کے شیعه هیں که جو شکم و شهوت کے مسائل میں عفت رکھتے هیں کو شش و زحمت کرتے هیں٬الله کیلئےعمل کرتے هیں اسی کے ثواب کی امید رکھتے هیں اور اسکے عذاب سے ڈرتے هیں جب تم ایسے افراد کو دیکھو تو جان لو یه لوگ جعفر بن محمد صادق(ع) کے شیعه هیں۔

لیکن افسوس کی بات هے که بعض لوگ اھل بیت کی طرف توسل اور انکی شفاعت کے موضوع کی طرف توجه و دقت کیے بغیر یه غلط فکر خطابت یا شعر کے ذریعے لوگوں کے ذهن میں منتقل کر رهے هیں۔

ایسی طرز فکر کے نتائج:

۱۔اپنے فردی اور اجتماعی وظائف اور تکالیف(واجبات و محرمات) پر عمل نه کرنا

۲۔منفی قسم کا انتظار کرنا که جس میں امام کےحوالے سےنہ کوئی علمی قدم اٹھایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی وظیفہ انجام دیا گیا ہے۔

۳۔فضول وهم(که جس میں انسان اپنے طرز عمل سے خواه مخواه ناراض رهتاهے اور حقیقت سے آنکھیں بند رکھتا هے)

ایسی فکر کے اسباب:

۱۔همیشه خیالات اور آرزوں میں رهتے هوئے حقیقی امید و رجا اور توهمات میں فرق نه سمجھنا

۲:نفسانی خواھشات جیسا کہ سورہ قیامت کی آیہ ۵ میں ہے (بل یرید الانسان لیفجر امامه) انسان معاد میں شک نهیں رکھتا بلکه وه چاھتا هے که آزاد رهے اور بغیر کسی حساب و کتاب کے ڈر کے ساری عمر گناه کرے

۴۔الله تعالی کی صحیح معرفت نه هونا اگر چه وه مھربان هے لیکن حکیم اور عادل بهی هے

۵۔آئمه علیھم السلام کی نسبت جذباتی اور غیر منطقی نگاه رکھنا۔

علاج:۔

۱۔ آیات و روایات میں غور و فکر اور تدبر مثلایه آیت:ان اکرمکم عند الله اتقیکم (حجرات۱۳) اللہ تعالی کے نزدیک تم میں سے سب سے زیاده با فضیلت شخص وه هے جو سب سے زیاده متقی هے

۲۔ اس نکته کی طرف توجه رکھنی چاهیے که اعمال کا معیار و ملاک خالص نیت کے ساتھ ساتھ فردی اور اجتماعی و ظائف کو انجام دینے میں هیں

:بسم الله الرحمن الرحیم و العصر ٬ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنو و عملو الصالحات و تو اصو بالحق و تواصو بالصبر(سوره العصر)

شروع کرتا هوں الله کے نام سے جو بڑا مهربان اور رحم کرنے والا هے

زمانه کی قسم تمام انسان خسارے میں هیں مگر وه لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیےاور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے هیں اور صبر کی تلقین کرتے هیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.